آنحضرتﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی محبتِ الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ نیز رمضان المبارک کی مناسبت سے دعاؤں کی تحریک:خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰؍فروری ۲۰۲۶ء
٭… ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب رمضان کے بعد بھی ہم محبّتِ الٰہی اور عبادت کے معیار قائم رکھنے بلکہ بلند کرنے کی کوشش کریں، تبھی ہم اپنے مقصدِ پیدائش کو بھی پُورا کرنے والے ہوں گے
٭… آجکل (یوم مصلح موعود کے)جلسے بھی جماعت میں ہو رہے ہیں اور اُس سے تاریخ کا بھی پتا لگ جاتا ہے، ایم ٹی اے پر بھی پروگرام آ رہے ہیں، اُن سے بھی تاریخ کا پتا لگ جاتا ہے، اُنہیں دیکھنا چاہیے
٭… آنحضرتؐ کی سُنّت اور آپؐ کے غلامِ صادقؑ کا طریق تو یہی ہے کہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھی جائے۔اِس لیے چاہے تراویح پڑھ بھی لی ہو، کوشش یہ کرنی چاہیے کہ دو نفل یا چار نفل ہی سہی، لیکن نمازِ تہجد ضرور پڑھیں
٭… رمضان المبارک کی مناسبت سے دعاؤں کی تحریک
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۰؍فروری ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۰؍تبلیغ ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۰؍فروری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
الله تعالیٰ کے فضل سے کل سے رمضان شروع ہے، یہ روزوں کا مہینہ الله تعالیٰ نے ہمیں خاص طور پر الله تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور اپنی روحانی اصلاح کے لیے مہیا فرمایا ہے، الله تعالیٰ اِس مہینے سے ہر احمدی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی توفیق دے۔لیکن
ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب رمضان کے بعد بھی ہم محبّتِ الٰہی اور عبادت کے معیار قائم رکھنے بلکہ بلند کرنے کی کوشش کریں، تبھی ہم اپنے مقصدِ پیدائش کو بھی پُورا کرنے والے ہوں گے۔
گذشتہ چند جمعوں سے مَیں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی محبّتِ الٰہی، عبادت کے طریق اور معیار اور مؤمنین کو اِس پر عمل کرنے کی جو آپؐ نے نصائح و ہدایات فرمائیں ، اُن کے بارے میں بیان کرتا رہا ہوں۔ پھر آپؐ کے غلامِ صادق ؑکے آپؐ کے اُسوۂ حسنہ ہی کی پیروی میں واقعات بیان کیے تھے۔ تویہ مضمون ابھی بھی چل رہا ہے اور آج رمضان کی مناسبت سے بھی یہی چلتا رہے گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کےاِسی حوالے سے کچھ واقعات بیان کروں گا، جن سےالله تعالیٰ سے تعلق اور دعاؤں کا اظہار ہوتا ہے۔
صرف یہی نہ ہو کہ ہم اِن واقعات کو سنیں اور محظوظ ہوں بلکہ یہ ہمارے لیے راہنما ہونے چاہئیں۔
حضورِ انور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واقعات میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی الله عنہ کی مولوی محمد عبدالله بوتالوی صاحبؓ کے ایک بیان سے متعلق روایت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اُنہوں نے بتایا کہ غالباً۱۹۰۷ء کی بات ہے کہ ایک دفعہ امۃالرحمٰن صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم ، جو کہتے ہیں کہ میری ننھیالی رشتہ دار بھی تھیں، اُنہوں نے ایک کاغذ کا پُرزہ مجھے دیا، جو ردّی کے طور پر تھا۔ لیکن اُس پر چونکہ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت اُمّ المومنین کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی عبارتیں تھیں، اِس لیے مَیں نے اُن کو تبرکاً نہایت شوق سے حاصل کیا اور محفوظ رکھا۔ پھر کہتے ہیں کہ مجھ سے کسی وقت اِدھر اُدھر ہو گیا۔ لیکن چونکہ اِس کے ساتھ ایک واقعہ کا تعلق ہے، جو مجھے امۃ الرحمٰن صاحبہ نے خود سنایا تھا، اِس لیے اِس بے تکلفانہ لکھی ہوئی عبارت میں حضرت مسیح موعودؑ کے تعلق بالله، تقویٰ، طہارت اور عبادت میں شغف پر روشنی پڑتی ہے۔ اِس لیے مَیں اِس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
امۃ الرحمٰن صاحبہ نے بیان کیا کہ ایک دن حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت اُمّ المومنین نے یہ تجربہ کرنا چاہا کہ دیکھیں کہ آنکھیں بند کر کےکاغذ پر لکھا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ چنانچہ وہ پُرزۂ کاغذ پکڑ کر اُس پر حضرت مسیح موعودؑ نے یہ عبارت لکھی، جو مجھے حرف بہ حرف یاد ہے۔حضورؑ نے آنکھیں بند کرنے کی حالت میں جو لکھا، وہ یہ تھا کہ انسان کو چاہیے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنج وقت اُس کے حضور دعا کرتا رہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ پس یہ وہ معیار ہے، جس کی آپؑ نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو تلقین کی، آپؑ کو ہر وقت صرف یہی خیال رہتا تھا کہ میرے ماننے والے بلکہ ہر مومن انسان ، ایسا ہو جس میں خدا خوفی ہو اور وہ ہمیشہ عبادت کی طرف توجہ رکھنے والا ہو۔
اِسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک اور واقعہ بیان کیا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ نے بتایا کہ حضرت صاحبؑ نے ۱۸۸۴ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ قادیان سے باہر جا کر چلّہ کشی کریں اور ہندوستان کی سیر بھی کریں۔ پہلے سوجان پور ضلع گورداسپور میں جا کر خلوت میں رہنے کا ارادہ کیا لیکن بعد میں الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔ چنانچہ جنوری ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جانے سے پہلے مجھے قادیان بلا لیا گیا اور شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا گیا کہ مَیں دو ماہ کے لیے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں، شہر کے کنارے پر بالا خانہ والے مکان کا انتظام کیا جائے، اُنہوں نے اپنا ایک طویلے کے نام سے مشہور مکان خالی کر دیا۔ حضوربہلی میں بیٹھ کر دریائےبیاس کے راستے تشریف لے گئے۔ ساتھ میاں عبداللہ، شیخ حامد علی اور فتح خان تھے۔ دریا عبور کرنے کے لیے کشتی لی، جب کشتی چل رہی تھی، تو حضور ؑنے فرمایا کہ میاں عبداللہ کامل کی صحبت اس سفرِ دریا کی طرح ہے جس میں پار ہونے کی بھی اُمید ہے اور غرق ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ کہتے ہیں کہ مَیں نےحضور کی یہ بات سرسری طور پر سنی لیکن بعد میں جب فتح خان مرتد ہوا تو یہ بات یاد آئی۔
حضورؑ نے بذریعہ دستی اشتہاراعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آئیں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لیے بُلائیں۔ ان چالیس دن کے گزرنے کے بعد مَیں بیس دن اور ٹھہروں گا، اِن بیس دنوں میں ملاقات اور سوال جواب کی اجازت ہوگی۔ ہمیں بھی حکم دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں بھی کوئی شخص مجھے نہ بُلائےکوئی اُوپر نہ آئے ، نماز بھی اُوپر ادا کروں گا، جُمعے کے لیے آپؑ نے یہ فرمایا کہ کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو، جو شہر کے ایک طرف ہو، جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔
ایک دفعہ حضرت صاحبؑ نے مجھے فرمایا کہ میاں عبدالله! اِن دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے، اگر اِن واقعات کو لکھا جاوے، تو وہ کئی ورق ہو جاویں۔ چنانچہ میاں عبدالله صاحب کہتے ہیں کہ پسرِ موعود کے متعلق الہامات بھی اِسی چلے میں ہوئے تھے اور بعد چلے کے ہوشیارپور سے ہی آپؑ نے اِس پیشگوئی کا اعلان فرمایا تھا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کا اشتہار ہے، جو جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک خاص توارد ہے کہ آج ۲۰؍ فروری ہے اور پسرِ موعود کی پیشگوئی کے بڑی شان سے پُورا ہونے کا دن بھی ہے۔ وہ پسرِ موعود جوپیشگوئی کے مطابق پیدا ہوا، باون سالہ خلافت اُس کی قائم رہی اور الله تعالیٰ نے اُسے کامیابیوں سے نوازا۔ وہ ساری پیشگوئیاں، الہامات اور باتیں ، جو پیشگوئی مصلح موعود میں تھیں، وہ سب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ میں پُوری ہوئیں۔اور یہ توارد مَیں اِس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ واقعہ آج ہی کے دن میرے سامنے آ گیا، ورنہ آگے پیچھے بھی آسکتا تھا، لیکن الله تعالیٰ کی اِسی میں یہ حکمت تھی کہ آج کے دن ہی آئے اور مَیں بیان بھی کردوں۔اِس کے
آجکل جلسے بھی جماعت میں ہو رہے ہیں اور اُس سے تاریخ کا بھی پتا لگ جاتا ہے، ایم ٹی اے پر بھی پروگرام آرہے ہیں، اُن سے بھی تاریخ کا پتا لگ جاتا ہے، اُنہیں دیکھنا چاہیے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے میاں عبدالله سے دریافت کیا کہ حضرت صاحبؑ اِس خلوت کے زمانے میں کیا کرتے تھے اور کس طرح عبادت کرتے تھے؟تو اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ ہمیں معلوم نہیں ، کیونکہ آپ اُوپر بالا خانے میں رہتے تھے، بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب مَیں کھانا رکھنے اُوپر گیا، تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے: بُورِكَ مَنْ فِيهَا وَمَنْ حَوْلَهَااور تشریح فرمائی کہ مَنْ فِيْهَاسے مَیں مُراد ہوں یعنی حضرت مسیح موعودؑاور مَنْ حَوْلَهَا سے تم لوگ مُراد ہو۔
اُن دنوں فتح خان بہت معتقد تھا اور کہتا تھا کہ مَیں حضرت صاحب کو نبی سمجھتا ہوں، لیکن جب اُسے ٹھوکر لگی تو وہ مرتد ہو گیا۔
اِس تناظر میں حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اِس لیے انسان کو ہمیشہ اپنے انجام بخیر کی دعا اور اپنے ایمان کی مضبوطی کی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور اِس کے لیے دعا بھی مانگنی چاہیے اور خاص طور پراِن دعاؤں میں، جو رمضان میں کریں، یہ دعا بھی ہر ایک کو کرنی چاہیے کہ الله تعالیٰ ہمارا انجام بخیر کرے اور ایمان میں مضبوط رکھے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اِسی طرح ایک اور واقعہ آپؑ کے نماز پڑھنے کے بارے میں ہے۔ بعض لوگ نماز کے فقہی مسائل کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کس طرح ہاتھ باندھنے چاہئیں اور نماز کی مختلف حرکات کس طرح ہوں؟ میاں علی محمد صاحب، حضرت مسیح موعودؑ کے نماز کا طریق بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے حضور کو نماز سُنّت پڑھتے ہوئے دیکھا، حضور علیہ السلام نے ہاتھ ناف سے اُوپر باندھے ہوئے تھے اور دائیں ہاتھ کی درمیانی اُنگلی کُہنی تک پہنچتی تھی بلکہ کچھ پیچھے ہی رہتی تھی، سجدہ کرتے وقت آپؑ دونوں ہاتھوں کے درمیان ماتھا اور ناک زمین پر رکھتے تھے اور اُنگلیاں سیدھی کعبے کی سمت ہوتی تھیں اور جب آپؑ سجدے سے اُٹھتے تھے، تو کیونکہ آپؑ کی دستارِ مبارک ڈھیلی ہوتی تھی، پیچھے ہٹ جاتی تھی، اُس کو اُنگلی سے سیدھا کر لیتے تھے۔
اِسی طرح حضرت بھائی چودھری عبدالرحمٰن صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور تہجد کی نماز بڑی عاجزی سے پڑھا کرتے تھے۔چنانچہ چھوٹی مسجد کے سامنے والی کوٹھڑی میں بھی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضورؑ کا معمول تھا کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کو بار بار دُہراتے تھے۔ پس یہ دعا ہمیں بھی دُہرانی چاہیے تاکہ الله تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہدایت پر قائم رکھے۔
حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب آپؑ کی تہجّد کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رات کے کوئی تین بجے حضور کو دیکھا، تو حضور نماز پڑھ رہے تھے، مَیں بھی وضو کر کے حضور کے پیچھے کچھ فاصلے پر نماز پڑھنے لگ گیا۔ اور مَیں نے بہت کوشش کی کہ حضور جتنا قیا م یا رکوع یا سجدہ کرنے کی کوشش کروں ، مگر نہ کر سکا، صرف دو رکعتوں میں ہی مَیں سخت تھک گیا اور حضور ابھی اُسی رکعت میں ہی تھے، جس میں خاکسار شامل ہوا تھا۔کہتے ہیں کہ دن کے وقت جب حضور کے گرد ہم بیٹھے ہوئے تھے اور حضور جماعت کو تہجّد پڑھنے کی تاکید فرما رہے تھے، تو خاکسار نے عرض کیا کہ اگر تہجد نہ پڑھی جائے، تو پھر کم از کم کیا کیاجائے؟ اِس پر حضور نے فرمایا کہ اُس وقت اِستغفار کثرت سے پڑھے، خدا کی تسبیح و تحمید کثرت سے کرے، اِس سے پھر تہجّد پڑھنے کی توفیق مِل جاتی ہے۔
حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اب یہ جو دعائیں آپؑ نے سکھائیں ، اِس لیے نہیں کہ تہجد کا متبادل ہو جائیں گی، بلکہ اِس لیے کہ اِن سے تہجد پڑھنے کی توفیق ملے گی۔ پس یہ وہ نسخہ ہے کہ جسے ہمیں بھی سُستی کے دنوں میں اپنانا چاہیے۔
آجکل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں اور تہجد کی کچھ نہ کچھ توفیق تو مِل ہی جاتی ہے، اگر نہیں بھی ملتی تو کوشش کرنی چاہیے، بے شک مسجد میں تراویح بھی پڑھائی جاتی ہے اور یہ کمزوروں یا ایسے لوگوں کے لیے جو صبح صحیح وقت پر اُٹھ نہیں سکتے یا زیادہ وقت نہیں دےسکتے، متبادل کے طور پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایسا متبادل نہیں، جو پُورا حق ادا کر سکے، آنحضرتؐ کی سُنّت اور آپؐ کے غلامِ صادقؑ کا طریق تو یہی ہے کہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھی جائے۔اِس لیے چاہے تراویح پڑھ بھی لی ہو، کوشش یہ کرنی چاہیے کہ دو نفل یا چار نفل ہی سہی، لیکن نمازِ تہجد ضرور پڑھیں۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ مجھے الله تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا ہے یا فرمایا کہ الله تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سبحان اللّٰه و بحمدہ سبحان اللّٰه العظیم بہت پڑھنا چاہیے۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اِس وجہ سے آپؑ اِسے بہت کثرت سے پڑھتے تھے حتّٰی کہ رات کو بستر پر کروٹ بدلتے ہوئے بھی یہی کلمہ آپؑ کی زبان پر ہوتا تھا۔
آپؑ نے فرمایا کہ اگر الله تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تُو کس کو پسند کرتا ہے، تو اُس پاک ذات کی قسم ہے کہ مَیں خلوت کو اختیار کروں، مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عمل میں اُنہوں نے نکالا ہے۔ جو لذّت مجھے خلوت میں آتی ہے، اِس سے بجز خدا کے کون واقف ہے، مَیں تقریباً ۲۵؍ سال تک خلوت میں بیٹھا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لیے نہیں چاہا کہ دربارِ شہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔
حضورِ انور نے آخر پر فرمایا کہ آپؑ نے دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ دنیاداری بالکل ترک بھی نہیں کرنی، جو الله تعالیٰ نے انعامات دیے ہیں، اُن کی قدر بھی کرنی ہے، ہر ایک کو اپنے حالات بھی دیکھ کر دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں اِتنے نہ ڈوب جائیں کہ بالکل ڈوب جائیں اور اِتنا تارک الدنیا بھی نہ ہوں کہ جو دنیا کے حقّ ہیں ، وہ بھی ختم ہو جائیں۔ ایک سموئی ہوئی اسلام کی تعلیم ہے، اُس کو اختیار کرنا چاہیے، لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ الله تعالیٰ کو کبھی نہیں چھوڑنا، اِس پہلو سے ہمیشہ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
الله تعالیٰ اِس رمضان میں ہمیں حقیقت میں عبادت کا بھی صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور الله تعالیٰ اپنی محبّت میں بھی ہمیں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ اِس رمضان کا فیض اُٹھاتے رہیں اور بعد میں بھی اِس فیض کے اثرات ہم پر قائم رہیں۔ الله تعالیٰ ہمیں وہ بنائے، جو حقیقی مومن اور ایک مسلمان کی نشانی ہے۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضورِ انورنے
رمضان المبارک کی مناسبت سے دعاؤں کی تحریک فرمائی
جس کی تفصیل صفحہ اول پر موجود ہے۔
٭…٭…٭




