زیارتِ حجاز

مسیح پاکؑ کے اس خیال سے متاثر ہو کر کہ اگر حرمین جانا نصیب ہو گیا توکیا ہم حرمین کو دیکھ بھی پائیں گے ؟
حریم کعبہ کی وادیوں میں کبھی جو قسمت سے جاؤں گا میں
تو سوچتا ہوں، بچشمِ حیرت حرم کو کیا دیکھ پاؤں گا میں
جو سیلِ اشک آنکھ میں سمائے، سوادِ کعبہ میں جا ہی نکلا
خدائے ستار کی نظر سے، نگاہ کیسے ملاؤں گا میں
غلافِ کعبہ کو تھام کر میں، خدائے کعبہ سے یہ کہوں گا
کہ تُو نے مجھ کو اگر نہ تھاما، تو ٹوٹ کر مِٹ ہی جاؤں گا میں
بچھڑ کے کعبہ سے پھر چلوں گا، بچشمِ نم جانبِ مدینہ
تو شوق کی تیز آندھیوں میں، قدم بھی کیسے اٹھاؤں گا میں
مدینے جا کر لگے گا مجھ کو، مرا نبیؐ بھی یہیں کہیں ہے
ہر ایک کوچے، ہر اک گلی میں، اسی کی خوشبو کو پاؤں گا میں
نبیؐ کی مسجد کو جانے والا، ہر ایک رستہ جو کِھل اُٹھے گا
قدم قدم پر یہ خوف ہو گا، کہ خواب ہے جاگ جاؤں گا میں
نبیؐ کی مسجد میں جا کے جیسے قدم مرے خود بخود اٹھیں گے
یہاں تلک کہ نبیؐ کے روضے کے سامنے خود کو پاؤں گا میں
میں روضۂ خاتم الرسلؐ پر، نگاہ اپنی کا کیا کروں گا
چراؤں گا میں، اٹھاؤں گا میں، جھکاؤں گا میں، بچھاؤں گا میں
مگر یہی کشمکش کا لمحہ، مرا مقدر سنوار دے گا
کہ مرتے دم تک یہ ایک لمحہ، دل و نظر میں سجاؤں گا میں
(آصف باسط۔ یوکے)
مزید پڑھیں: مسیحِ پاک کا فرزند مظہر رب کی رحمت کا




