رمضان کے بعض فقہی مسائل کا بیان
ایک شخص کا سوال حضرت صاحبؑ کی خدمت میں پیش ہوا کہ روزہ دار کو آئینہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں۔
فرمایا: جائز ہے۔
اسی طرح ایک اور سوال پیش ہوا کہ حالت روزہ میں سر کو یا ڈاڑھی کو تیل لگانا جائز ہے یا نہیں۔
فرمایا: جائز ہے۔
سوال پیش ہوا کہ روزہ دار کو خوشبو لگانا جائز ہے یا نہیں۔
فرمایا: جائز ہے۔
سوال پیش ہوا کہ روزہ دار آنکھوں میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے۔
فرمایا: مکروہ ہے اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے۔رات کو سرمہ لگا سکتا ہے۔
( بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۴ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد ۲ صفحہ ۳۰۶)
ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور میرا یقین تھا کہ ہنوز روزہ رکھنے کا وقت ہے اور میں نے کچھ کھا کر روزے کی نیت کی۔مگر بعد میں ایک دوسرے شخص سے معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہو گئی تھی اب میں کیا کروں؟ حضرت نے فرمایا کہ ایسی حالت میں اس کا روزہ ہو گیا۔دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں صرف غلطی لگ گئی اور چند منٹوں کا فرق پڑ گیا۔
(بدر جلد ۶ نمبر۷ مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۸ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد ۲ صفحہ ۳۰۷)
مزید پڑھیں: رمضان کا پہلاعشرہ رحمت کی مناسبت سے حضرت مسیح موعودؑ کی چند دعائیں




