احمدیہ جماعت کی قدر وقیمت(قسط دوم۔ آخری)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء)
۱۹۲۶ءمیں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے مسلمانوں کی ابتر دینی حالت اور پھر اس کے نتیجے میں احمدیوں پر عائد ذمہ داریوں کے فلسفہ کو بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
اے احمدی قوم کے لوگو! وہ خدا جس کے اختیار میں سب کچھ ہے وہ اپنے فضل و کرم سے پھر وہی دن لایا ہے۔ اور ایک شخص ظاہر ہواہے جس کی آواز پر لبیک کہنے والے آپ ہیں۔ اس لئے اپنی قدر کو پہچانو۔ اور اپنے اوقات کو ایسے رنگ میں خرچ کرو کہ دین پھیل جائے۔ اگر اب سُستی کروگے تو سمجھ لو ہمارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔ پس تم اپنے علوم کو، اپنے اموال کو، اپنی طاقتوں کو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کرو تا ترقی ہو
[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۱۲؍فروری ۲۰۲۶ء]تیمور کی طرف دیکھو جس نے سارا ہندوستان فتح کر لیا وہ مسلمان بادشاہ تھا۔ دین کی خدمت بھی کرتا تھا مگر کیا وہ اس اجر کو پا سکا جو ایک ادنیٰ سے صحابی نے اپنی حقیر سی خدمت کے ذریعے پایا؟سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیکھو۔ دین کی خاطر عیسائیوں اور دین کے دشمنوں کے ساتھ کس قدر اس نے جنگیں کیں۔ اور پھر اس حالت کو بھی مدنظر رکھو کہ بادشاہ سب کچھ ہی کرسکتا ہے لیکن باوجود اس کے وہ اجر میں صحابہ ؓکے برابر نہ ہو سکا۔ بادشاہ کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا کچھ نہ کیا۔اگر یہ ہو سکتا کہ بادشاہت دے کر محمد رسول اﷲﷺ کے صحابہؓ اور غلاموں کا سااجر مل سکتا تو وہ یہ بھی کر گزرتا۔ مگر و ہ جانتا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔ نہ صلاح الدین ایوبی اور نہ تیمور اور نہ کوئی اَور بادشاہ باوجود سب کچھ کرنے کے محمد رسول اﷲ ﷺ کے صحابہ ؓکے برابر ہو سکا۔ لیکن
اے احمدی قوم کے لوگو! وہ خدا جس کے اختیار میں سب کچھ ہے وہ اپنے فضل و کرم سے پھر وہی دن لایا ہے۔ اور ایک شخص ظاہر ہواہے جس کی آواز پر لبیک کہنے والے آپ ہیں۔ اس لئے اپنی قدر کو پہچانو۔ اور اپنے اوقات کو ایسے رنگ میں خرچ کرو کہ دین پھیل جائے۔ اگر اب سُستی کرو گے تو سمجھ لو ہمارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔ پس تم اپنے علوم کو، اپنے اموال کو، اپنی طاقتوں کو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کرو تا ترقی ہو۔
میں کس طرح اور کن الفاظ میں بیان کروں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے راستے کھولے گئے ہیں۔ اس نے تمہاری رہبری کے لئے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔ اس نے تمہاری رہبری کے لئے ایک شخص کو بھیج دیا ہے۔ اس نے تمہیں دین کی خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ پس تم غفلت نہ برتو۔ اُس کی نعمتوں کی بے قدری نہ کرو۔ تا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بے قدری ان نعمتوں کے چھن جانے کا باعث بنے۔کوئی شخص دنیا میں نہ پاؤ گئے کہ وہ کسی کو چیز دے اوروہ اس کی بے قدری کرے، تو وہ ناراض نہ ہو۔ یا کوئی کسی کو کہے کہ آتجھے کھانا دیں اور وہ آگے سے کہہ دے نہیں میں نہیں لیتا تو وہ پھر بھی اسے دے۔ یا کوئی کسی کو کہے آتجھے عمدہ ساکپڑا دیں اوروہ کہہ دے مجھے تمہارے کپڑے کی ضرورت نہیں۔ اور وہ پھر بھی اسے دینے کی کوشش کرے۔ یا کوئی کسی سے کہے آتجھے مکان دیں اور وہ کہہ دے کہ نہیں میں تمہارا مکان نہیں لینا چاہتا تو وہ پھر بھی زبردستی اسے دے۔ پھر یہ بھی کبھی نہ دیکھو گے کہ کسی شخص نے کسی کو کچھ دیا اور اس نے اس کی بے حرمتی اور بے قدری کی ہو تو اسے طیش نہ آئے اور وہ آگے اسے کچھ دینے سے ہاتھ نہ کھینچ لے۔ پس جب انسان کو اپنی دی ہوئی چیز کی بے قدری اور بے حرمتی پر طیش آسکتا ہے تو اگر کوئی چیز خدا کی طرف سے دی گئی ہو اور اس کی بے قدری اور بے حرمتی کی گئی ہو تو خدا کو طیش کیوں نہ آئے۔ پس سنو اور سمجھو کہ یقینا خدا کو بھی طیش آجاتا ہے اور وہ بھی ناراض ہو جاتا ہے۔ اور اس کی ناراضگی یہی ہے کہ وہ دی ہوئی چیز چھین لیتا ہے اور آگے دینا بند کر دیتا ہے۔ اُس کے طیش کے مقابل میں دنیا کے طیش ہیچ ہیں۔ خدا کے طیش کو جو انسان پر بے قدری اور بے حرمتی سے اسے آتا ہے اس طیش کے مقابل میں انسان کا طیش کچھ شے نہیں۔ ایک مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں۔ پس
اگر تم اُس کی نعمتوں کو پانا چاہتے ہو، اگر تم اس کی رحمت کے دروازے اَور بھی اپنے اوپر کھلے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی ان نعمتوں کی قدر کرو جو اس نے تمہیں دی ہیں۔ اس کی تعلیم پر عمل کرو، اس کے احکام کو مانو۔ فسادوں، لڑائیوں، جھگڑوں، فتنہ انگیزیوں اور شورشوں کو چھوڑ دو۔ کیونکہ یہ سب ناشکری کی علامتیں ہیں اور بےقدری و بے حرمتی کی نشانیاں ہیں۔
دیکھو! خدا جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔محمد رسول اﷲﷺ کو اُس نے کہا میں تمہیں بلند کروں گا اور اس نے آپ کو بلند کردیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہا کہ میں تیرے نام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچاؤں گا اور تیرے ذکر کو بلند کروں گا۔ اس نے آپ کا نام دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچا دیا اور آپ کا نام بلند کردیا۔ چنانچہ آج آپ کا نام دنیا کے ہر گوشہ اور دنیا کی ہر قوم میں پہنچ رہا ہے۔ قومیں اور نسلیں آپ کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں اور دنیا میں کُوبکُوآپ کا چرچا ہورہا ہے۔ اور یہ وہ باتیں ہیں جو اندھوں کو بھی نظر آرہی ہیں۔ پس جب یہ باتیں اندھوں کو بھی نظر آرہی ہیں تو ہم جو ماننے والے ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھ سکتے۔ ایک ایک کرکے، دودو کرکے، تین تین کرکے، چار چار کرکے تمام ممالک کے لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اور لوگ ان میں سے نکل کر آپ کے پاس جمع ہو رہے ہیں۔ پس یقین رکھو کہ خدا جو کہتا ہے اسے ضرور پورا بھی کرتا ہے۔
بڑی قوم جو اسلام کے مقابل پر ہے اور جو شدت سے اسلام کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے وہ عیسائیوں کی قوم ہے۔ مگر یہی عیسائیوں کی قوم مُٹھی بھر احمدیوں سے ڈرتی ہے۔ کیا بات ہے جس سے وہ اس چھوٹی سی جماعت سے تو ڈرتی ہے مگر تمام مسلمانوں سے خوف نہیں کھاتی ؟یہی ہے کہ
یہ جماعت خدا کے مسیح کے ماننے والوں کی جماعت ہے جو اس لئے آیا کہ اسلام کے دشمنوں کو نیچا دکھائے اور اسلام کے ذکر کو بلند کرے۔ پس وہ آیا اور اس نے اسلام کے دشمنوں کو نیچا دکھایا۔ اسلام کے ذکر کو بلند کیا۔ اور آج وہ دن ہے کہ عیسائیت کے بت کے پاؤں کانپ رہے ہیں، اُس کے ہاتھو ں پر رعشہ گر گیا ہے اور اُس کا جسم مفلوج ہو رہا ہے اور خود وہ تھرا رہی ہے۔ یہ خدا کے کام ہیں اور اُس کی قدرتیں۔
دشمن بھی ان کو دیکھ رہا ہے۔ پھر کیا افسوس نہیں ہوگا کہ دشمن تو اس ساری کیفیت کو دیکھیں اور جو دیکھنے والے ہیں وہ نہ دیکھیں۔پس ہمارا کام ان کو دیکھنا ہے اور دینِ اسلام کو بلند کرنا۔
ابھی تازہ واقعہ مسجد لندن کا ہوا ہے۔ بڑے بڑے دشمنوں نے اقرار کیا ہے کہ یہ واقعی اس جماعت کے خدمت ِاسلام پر ہر وقت کمر بستہ رہنے کی دلیل ہے۔ کئی اخبارات نے اس کا اپنے کالموں میں تذکرہ کیا ہے۔ ولایت کے اخباروں کی یہ حیثیت نہیں ہے جو ہمارے ملک کے اخبارات کی ہے۔ بعض ان میں سے پچیس پچیس لاکھ چھپتے ہیں۔ بعض کی آمدنیاں حیدر آباد کی ریاست کی آمدنی سے بھی تگنی تگنی اور چوگنی چوگنی ہیں۔ ایک اخبار کی سات آٹھ بلکہ دس لاکھ کی آمدنی ہے۔ ایک موقع پر ایک لڑکے نے ایک اخبار کی ایک دن کی ساری اشاعت خرید لی اور ایک ہی دن میں اس کی فروخت سے ایک لاکھ روپیہ کما لیا۔ اس کو کسی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ یہاں سڑائیک ہو جائے گی اور اُس دن اس شہر میں کوئی اخبار نہیں چھپے گا۔ اس نے ایک دن پہلے ایک دوسرے شہر میں چھپنے والے اخبار کے مالک کو تار دے دیا کہ فلاں تاریخ کوجو اخبار چھپے گا میں اُس کی ساری کاپیاں خریدوں گا۔ چنانچہ اُس نے اس ایک دن کے اخبار کی فروخت سے ایک دن میں ایک لاکھ روپیہ کما لیا۔ تو اس سے ان اخبارات کی عظمت کا اندازہ لگا نا چاہئے۔ ان اخباروں میں اس مسجد کا ذکر آیا ہے اور ان کے ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں نے اور ان کے نمائندوں نے بڑے عمدہ الفاظ میں اس کا ذکر کیا۔ پھر کئی اخبارات میں اس مسجد کے فوٹو بھی چھپے۔ اس طرح ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ کروڑوں آدمیوں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر جا پہنچا۔
اسی قسم کے بڑے طبقے کے ایک نہیں کئی اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ پندرہ سال سے مسلمان کوشش کر رہے تھے، مسلمان حکومتیں ان کی تائید میں تھیں، دولتمند لوگ اس کے لئے تیار تھے مگر باوجود ان سب باتوں کے وہ کچھ نہ کرسکے اور کوئی مسجد وہاں کھڑی نہ کرسکے۔ لیکن احمدی قوم نے جب اس کام کا بیڑا اٹھایا تو کام کر لیا اور ایک مسجد وہاں کھڑی کر دی۔ سلطان عبدالحمید ترکی کے سابق بادشاہ،ہندوستان کے رؤساء اور دوسری مسلمان سلطنتیں اور مسلمان امراء سب ہی اس کی تائید میں تھے کہ ضرور لندن میں ایک مسجد بنانی چاہئے۔ مگر وہ باوجود ہر قسم کے سامان ہونے کے نہ بنا سکے۔ لیکن احمدیوں نے جب اس مسجد کا ارادہ کیا تو اسے کوئی دیر نہ لگی۔ کلکتہ کے ’’انگلشمین‘‘ نے بھی یہی لکھا ہے کہ مسلمانوں کی بیس پچیس سال کی کوشش تھی، حکومتیں بھی اس خیال میں تھیں، لیکن احمدیوں کو اس میں کامیابی ہوئی اور انہوں نے جب ارادہ کیا کہ ایک مسجد لند ن میں بنانی چاہئے تو فوراً بنا لی۔
غیر تو اسے کامیابی بتائیں لیکن نہایت افسو س سے کہنا پڑتا ہے کہ اپنوں میں سے بعض نے کہ جن کی خوشیوں کی اس کامیابی کی وجہ سے کوئی حد نہیں ہونی چاہئے تھی فتنہ گروں کی وجہ سے طرح طرح کی بدگمانیاں کرنی شروع کر دیں۔ اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اتنا روپیہ برلن کی مسجد کا تھا، اتنا یہ تھااتنا وہ تھا۔ اتنا روپیہ گیا کہاں ؟حالانکہ متواتر یہ بتایا گیا کہ پچھتر ہزار یا اسّی ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ پر خرچ ہوا تھا۔ لندن کو اپنے شہروں پر قیاس نہ کر لو۔ وہ بہت بڑا شہر ہے اور وہاں جائیداد کی قیمتیں بھی بہت بڑی ہیں۔ یہاں لاہور میں ہم ایک مسجد بنانے لگے تھے۔ اس کے لئے جو زمین خریدی گئی تھی وہ غالباً بیس ہزار روپیہ کی آئی تھی۔ اور لاہور کی لندن سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ چالیس لاہور اگر اکٹھے ہوں تو ایک لندن بنتا ہے۔ وہاں تو اول زمین لینا ہی مشکل ہے۔ یہ تو ایک موقع نکل آیا کہ وہاں بعض وجوہ سے جائیداد کی قیمت گرگئی اور ایک سستا مکان مل گیا۔ لند ن کی مسجد کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا۔ ستّر ہزار روپیہ برلن کی مسجد کے لئے جمع ہوا تھا۔ اس میں سے ستر اسّی ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ کے خریدنے پر صَرف ہوا اور ساٹھ ہزار روپیہ سے تجارتی کام چلایا گیا۔ جس کی غرض یہ ہے کہ اس کی آمد سے وہاں کا مشن چلایا جائے۔ اب کوئی ساٹھ ہزار روپیہ اس کی تعمیر پر لگا ہے۔ یہ روپیہ ایک لاکھ نوے ہزار بنتا ہے۔ اور تیس ہزار روپیہ کی یہاں جائیدادیں خریدی ہوئی ہیں۔ جو اس لئے ہیں کہ اگر ضرورت پڑے تو ان کو نفع پر بیچ لیا جائے۔ جس سے یہ روپیہ بڑھے گا ہی گھٹے گا نہیں۔ لوگوں کے گھر سے تو جا تا ہے لیکن یہاں زیادہ ہو تا جاتاہے۔ ہمیں ایک لاکھ ستّرہزار دیا گیا تھا اب سَوا دو لاکھ رکھا ہوا ہے۔ اگر یہاں کی جائیدادوں کی قیمت خرید نہ لگائی جائے بلکہ رائج الوقت قیمت لگائی جائے تو بجائے تیس ہزار کے ساٹھ ستّر ہزار بن جاتی ہے۔ اور یوں پھر یہ روپیہ سَوا دو لاکھ کی بجائے اڑھائی لاکھ سے بھی اوپر جا پہنچتا ہے۔ اور اگر وہ روپیہ بھی اس میں شمار کیا جائے جو ہم نے بطور نفع حاصل کیا اور وہ اخراجات بھی اس میں شامل کر دیئے جائیں جو اس میں شامل ہونے والے ہیں تو یہ رقم تین پونے تین لاکھ جا بنتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ باوجود اس طرح پیسے پیسے کے محفوظ ہونے کے پھر یہ سوال کیا معنے رکھتا ہے کہ روپیہ کہاں گیا۔
اﷲ تعالیٰ نے کچھ ایسے سامان کر دیئے کہ برلن میں مسجد نہ بن سکی۔ برلن کی مسجد کے لئے جو نقشہ تجویز کیا گیا تھا اُس کے متعلق اندازہ تھا کہ موجودہ روپیہ سے وہ بن جائے گی۔ لیکن جب نقشہ وہاں کی میونسپلٹی میں منظوری کے لئے دیا گیا تو اس نے اس مقام کے لحاظ سے کہ جس پر ہم مسجد بنانا چاہتے تھے ہمارے پیش کردہ نقشہ کو منظور نہ کیا اور اپنے پاس سے ایک نقشہ بنا کر کہا کہ اس کے مطابق مسجد بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اَور نقشہ کے مطابق مسجد بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی اور جو نقشہ اُس نے تجویز کیا اُس کے مطابق مسجد پندرہ لاکھ میں بھی نہ بن سکتی تھی۔ چونکہ جماعت اتنے خرچ کی متحمل نہ ہوسکتی تھی اور نہ ہی یہ مناسب معلوم ہوتا تھا کہ اتنا روپیہ اس ملک میں مسجد بنانے کے لئے صَرف کر دیا جائے اس لئے اس مسجد کے بنانے کا خیال چھوڑ دیا گیا اور یوں وہ مسجد نہ بن سکی۔
پس یہ فتنہ گروں کی فتنہ گریاں ہیں جو جماعت کے لوگوں کو سست کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ ان سے بچو۔ دشمن کو تو ایسا کرنا چاہئے شیطان اپنے وعدے کو کس طرح چھوڑ دے۔ لیکن یہ بات کیا عجیب نہیں کہ شیطان تو اپنا وعدہ پورا کرے اور تم اپنے وعدے پورے نہ کرو۔
شیطان کا وعدہ یہ ہے کہ وہ انسان کو ورغلائے گا، دھوکا دے گا اور فتنہ پھیلائے گا۔ اور انسان کا وعدہ یہ ہے کہ وہ اس کے پھندے میں نہ پھنسے گا۔ پس تم کو بھی چاہئے کہ اپنے وعدے پورے کرو اور اس کے پھندے میں ہرگز نہ پھنسو۔
دوسروں کو وعدہ بھول گیا ہے لیکن ہم گمراہ نہیں ہوئے۔ تم ہر ایسے فتنہ گر کو جو فتنہ گری کے لئے تمہارے پاس آئے یہ کہہ دو۔ روپیہ ہمارا، دینے والے ہم، خرچ کرنے والے ہم، تم کون ہو جو اس کے متعلق رائے زنی کرتے ہو اور فتنہ گری کرکے چاہتے ہو کہ ہم کو دین کی خدمت کرنے سے سست کرو۔
پھر جماعت کے مال سے بھی آپ لوگوں کو واقفیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ کہاں سے آتا ہے کتنا آتا ہے اور کیونکر خرچ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا نہ جاننا ہی بعض اوقات اعتراضات کے لئے موقع پیدا کر دیتا ہے۔ اسی معاملہ کو دیکھ لو کہ اگر اس قسم کی تفصیلات کا علم ہو تا تو کبھی یہ سوال نہ اٹھایا جاتا کہ مسجد برلن کا روپیہ کہا ں گیا۔ اس سارے روپے کی تفصیل جو ہم کو دیا گیا تھا آپ لوگوں کے سامنے ۹ کنال زمین، سہ منزلہ مکان اور دوسری جائیداد اس کی موجود ہے۔ پھراس روپیہ میں بڑھوتی بھی ہوئی۔ جو اس طرح ہے کہ یہاں زمین خرید کرکے روپیہ بڑھایا گیا۔ اُدھر پونڈ کی قیمت گری ہوئی تھی۔ غرض خدا نے ایسے سامان پید اکر دیئے کہ ہمیں اس روپیہ سے خاصا منافع حاصل ہوا۔ لوگوں کے مال سُود سے بڑھتے ہیں۔ خدا نے اس سے ہمیں بچایا اور بجائے اس کے ہمیں خاطر خواہ نفع دے دیا۔ ایک لاکھ تیس ہزار عمارت زمین و دیگر مصارف پر خرچ آیا۔ پچھتر ہزار تجارت پر ہے۔ تیس ہزار کی جائیداد قادیان میں خریدی ہوئی ہے۔ اور اگر اس جائیداد کی رائج الْوقت قیمت لگائی جائے تو ساٹھ ہزار سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ اس طرح دو لاکھ ستّراسّی ہزار کے قریب یہ روپیہ بنتا ہے۔ پس اس میں نہ کوئی نقصان کی صورت ہے نہ بد نیتی کا شائبہ۔ یہ محض فتنہ گروں کی فتنہ گریاں ہیں کہ جماعت میں پُھوٹ ڈلوائیں اور اسے آئندہ دینی خدمات کرنے میں سست کردیں۔ ان سے بچنا چاہئے۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے کام کرنے والے مخلص ہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے کوئی غلطی ہوجائے۔
لیکن کون انسان ہے جو یہ کہے کہ میں کبھی غلطی نہیں کروں گا۔ اگر کوئی ایسا ہے تو میں ان کارکنوں کو جو مخلص ہیں بدل سکتا ہوں۔ حضرت یسوع مسیح ؑ کے پاس لوگ ایک مجرم عورت کو لائے اور کہا کہ یہ اس لائق ہے کہ سنگ سار کی جائے۔ آپ نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ ضرور ایسا ہی ہو نا چاہئے۔ لیکن پہلا پتھر اس پر وہ مارے جو یہ کہے کہ میں نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا۔ مگر ایسا کون تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جو عورت کو گناہ کے الزام میں پکڑ کر لائے تھے ایک ایک کرکے چلے گئے اور عورت اکیلی کھڑی رہ گئی۔ آخر یسوع مسیحؑ نے اُس عورت سے کہا اے عورت !چلی جا۔ تجھے پتھر مارنے والا کوئی نہیں۔ (یو حنا باب ۸،آیت ۳ تا ۱۱مطبوعہ لاہور۲۰۱۱ء) اسی طرح میں بھی آج یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا شخص ہے جو یہ کہے کہ میں نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی اور آئندہ کبھی کوئی غلطی نہیں کروں گا تو وہ سامنے آئے۔ میں فوراً اس کے سپرد کام کردوں گا۔ پس میں پھر کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو سامنے لاؤ جو کبھی غلطی نہیں کریں گے۔ میں محض اﷲ کے دین کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلوں کو بدل دوں گا۔ اگر بہتر آدمی مل جائیں تو میں ایک سکینڈ بھی دیر نہ کروں گا اور پہلوں کو بدل کر اِن کو کام پر لگا لوں گا۔ مگر ایسا کرتے ہوئے میں یسوع مسیح ؑکے اِس قول کی طرف کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو یہ کہوں گا کہ سامنے وہ آئے جو یہ کہے میں نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی اور کبھی کوئی غلطی نہیں کروں گا۔
آنحضرت ﷺ ایک دفعہ ایک ایسے مقام سے گزرے جہاں لوگ کھجور لگار ہے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ نے اُن سے کہا کہ نر اور مادہ کو کیا ملاتے ہو؟ اس پر لوگوں نے سمجھا آپ کا شائد یہ منشاء ہے کہ یہ پیوند نہ لگایا جائے۔ چنانچہ اس کے مطابق انہوں نے پیوند لگانا چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے سال ان کھجوروں نے پھل نہ دیا۔ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی۔ آپ نے فرمایا یہ میں نے کب کہا تھا کہ پیوند نہ لگاؤ۔ میں نے تو صرف دریافت کیا تھا۔ اگر تم کو میرے دریافت کرنے سے یہ خیال گزرا تھا کہ میں ایسا کرنے سے منع کر رہا ہوں تو تم کو چاہئے تھا کہ مجھ سے کہہ دیتے کہ اس کے بغیر یہ پھل نہیں لائیں گی۔ میں کوئی زمیندار ہوں کہ مجھے ان باتوں کا علم ہوتا۔ یہ تو تمہارا کام تھا کہ مجھ سے کہہ دیتے۔(مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ماقالہ شَرْعاً(الخ)حدیث نمبر۶۱۲۶تا۶۱۲۸مطبوعہ ریاض ۲۰۰۰الطبعۃ الثانیۃ)تو دنیاوی معاملات کے سمجھنے میں ایک نبی بھی غلطی کر سکتا ہے۔ پھر اور کون ہے جو نہ کرے۔ ہم نبی سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ سو ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں مگر غلطیوں کے موقع پر ہونا یہ چاہئے کہ ان سے آگاہ کیا جائے نہ کہ بدگمانی شروع کر دی جائے۔
میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ خدا کے فضل سے ہمارے سلسلے کے کارکن مخلص، نیک نیت، دیانتدار اور محنتی ہیں۔وہ اپنی عقل، سمجھ اور طاقت کے مطابق کوشش کرتے ہیں کہ غلطی نہ ہو لیکن پھر بھی اگر ہوجائے تو اس کے متعلق کسی قسم کی بدظنی کرنا درست نہیں۔ غلطی کو غلطی کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ملے گا جو غلطیوں سے پا ک ہو۔
مفسدوں نے تو یہ کوشش بھی کی تھی کہ مسجد لندن ہی نہ بنے۔ لیکن خدا نے ان کا منہ کالا کرنے کے لئے نہ صرف یہ کیا کہ مسجد بنانے کی توفیق دی بلکہ ایسے سامان بھی پیدا کر دیئے کہ تکمیل کے بعد اس کا شاندار افتتاح بھی ہو گیا۔ جو ایسا شاندار تھا کہ ہر ایک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس کی مثال پہلے موجود نہیں تھی۔ تقریباً دو سو سے زیادہ ولائتی اخبارات میں زبردست الفاظ کے ساتھ اس کا ذکر آیا۔ یہ اخبار انگلستان کے ہیں۔ ان کے علاوہ اور اخبارات ہیں جو دوسرے ملکوں سے نکلتے ہیں اور جن میں اس کا ذکر ہو رہا ہے اور جن کے کٹنگز(Cuttings) آرہے ہیں۔ اس طرح اس وقت تک تقریباً بیس پچیس کروڑ انسان یہ بات سن چکے ہیں کہ لندن میں ایک مسجد بنی ہے جس کا افتتاح ہوا اور جسے اس احمدی جماعت نے بنایا۔ جس کے امام مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔ جنہیں خدا نے مسیح موعود اور نبی بناکے بھیجا۔ اور جس کا کام اشاعت اسلام ہے۔ دنیا کے ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی کو یہ بات پہنچ چکی ہے اور خود انگلستان کے اخبار نویسوں اور دیگر سربرآوردہ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ
اگر ہم دو کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی اشاعت نہ ہوتی جتنی اب ہو گئی ہے۔
بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ دو کروڑ روپیہ نہیں دو کروڑ پونڈ بھی یہ کام نہ کرتا جو اس روپیہ نے کر دیاہے جو مسجد پر خرچ ہوا۔ پھرا س مسجد کے افتتاح میں بڑے بڑے لوگ شامل ہوئے۔ تین لارڈ، تیرہ ممبر پارلیمنٹ اور مختلف ممالک کے سفراء، وزراء، نواب اور دیگر معزز اور سربرآوردہ لوگوں نے ایک کافی تعداد میں شمولیت اختیار کی۔ اور نہ صرف یہ کہ شمولیت ہی اختیار کی بلکہ ان اعلیٰ طبقہ کے لوگوں نے پرلے درجے کی دلچسپی بھی لی اور خوشی محسوس کی۔ بعض نے تو کام کرنے میں بھی فخر سمجھا اور بڑے شوق سے انہوں نے ہر کام میں حصہ لیا۔ پھر ہندوستان کے بڑے بڑے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے۔ حتّٰی کہ مہاراجہ بردوان بھی شامل ہوئے۔ جنہوں نے اس موقع پر تقریر کرنے کی اجازت مانگی اور خوشی کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ گو میں ہندو ہوں مگر میں اس میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ پھر گیارہ حکومتوں کے قائم مقام بھی اس موقع پر آئے۔ جرمنی، اٹلی،چین وغیرہ ملکوں کے وزیر بھی تھے۔ پس یہ جواب ہے اُن لوگوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ کہاں گیا وہ روپیہ جو مسجد کے لئے جمع ہوا تھا۔ وہ سن لیں وہ روپیہ یہاں گیا۔
میں ایسے لوگوں سے پھر کہتا ہوں کہ یہ روپیہ ضائع نہیں گیا بلکہ محفوظ ہے اور نفع کے رنگ میں اصل سے بھی بڑھ گیا ہے۔ مکان اور زمین پر ستّر ہزار کے قریب خرچ ہوا ہے۔ ساٹھ ہزار مسجد کی تعمیر اور سامان وغیرہ پر صَرف ہوا۔ ستّر ہزار وہاں تجارت پر لگا ہواہے۔ جو اس لئے وہاں لگایا گیا ہے کہ اس کے نفع سے وہاں کے مشن کے اخراجات پورے کئے جائیں۔ ساٹھ ستّر ہزار کی زمین قادیان میں موجود ہے۔ پس جس محنت، محبت اور دانائی کے ساتھ یہ روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔ اگر اس سے کام نہ لیا جاتا تو اس سارے روپے سے جو ہمیں دیا گیا اتنا کام بھی نہ ہوتا جتنا کہ اب ہوا ہے۔ مگر اب یہ حالت ہے کہ یہ کام بھی ہو گیا ہے اور ہمارے پاس کافی جائیداد بھی موجود ہے۔ تجارت پر جو روپیہ لگا ہوا ہے وہ الگ ہے۔ قادیان کی زمین الگ ہے۔
پس یہ کام نہایت ہی اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ورنہ نہ تو مسجد بن سکتی تھی اور نہ ہی اس قدر جائیداد ہاتھ میں رہ سکتی تھی۔ اس نمونہ کی عمارت کا اندازہ ڈیڑھ لاکھ سے کم نہ تھا۔ اور جب بھی مجھے ہمارے لندن کے دوست اس سے اطلاع دیتے میں انہیں لکھتا کہ اَور اندازہ کراؤ اَور اندازہ کراؤ۔ شاید کسی جگہ سے اس اندازے سے کم رقم کا اندازہ لگایا جاسکے۔ تو ہمارے لندن کے دوستوں نے رات دن محنت سے کام کیا اور کوئی ایسی کمپنی نہ تھی جو عمارات کا کام کرتی اور ایسے اندازے لگاتی ہو جسے ہمارے دوستوں نے چھوڑا۔ آخر ان کی کوششوں اور محنتوں سے ایک کمپنی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ اتنے روپے میں کہ جتنا اس پر اب خرچ آیا یہ عمارت بنوا دے گی۔ پس اگر معمولی طور پر اس کام کو کیا جاتا تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ تو اسی پر لگ جاتا۔ اسی طرح مکان اور زمین کی خرید کا حال ہے۔ یہ سب کارکنوں کے اخلاص اور محنت اور محبت کا نتیجہ ہے۔ اتنے روپے میں مسجد تیا ر ہوگئی۔
ہر وقت اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ
آدم کے ساتھ شیطان کا ہونا ضروری ہے۔ خدا کا مسیح آدم تھا تو یہ ضروری تھا کہ اس کے ساتھ کوئی شیطان بھی ہو۔
مگر افسوس کہ تم بھول جاتے ہو کہ اس آدم کے ساتھ کوئی شیطان بھی ہے۔ پس اس بات کو مدنظر رکھو اور ہر وقت اس شیطان سے بچو جو اس آدم کے ساتھ ہے جو لوگوں کو ورغلاتا پھرتا ہے اور ان کے دلوں میں وساوس ڈال رہا ہے۔ پس اگر آدم تمہارے سامنے ہے تو شیطان بھی تمہارے سامنے ہونا چاہئے۔ اور یہ شیطان اگر اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے تو تمہیں بھی اپنا وعدہ پورا کرنا چاہئے۔ وہ تمہیں ورغلائے تو تم اس کے پھندے میں نہ پھنسو اور کہو چل ہٹ دور۔ ہم اپنا وعدہ ایفاء کریں گے۔
دیکھو! یہ وقت بڑا نازک ہے۔ دنیا تاریکی کے گڑھے میں گر رہی ہے۔ تمہیں خدا نے روشنی کے کنارے پر کھڑا کیا ہے۔ تم بچو کہ کہیں اندھیرے میں نہ جاپڑو۔ فتنہ فسادوں سے بچو۔ بیہودہ گوئیوں سے کنارہ کر و۔ اور اپنی اس عظمت کو قائم رکھو جو مامور کی شناخت سے تمہیں ملی ہے۔
خدا ہم سب کو ان مُضِرباتوں سے بچائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہمارے کندھوں پر جو بوجھ ہے وہ اٹھا سکیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور فتنہ و فسادوں سے بچیں۔ ہم خدمتِ دین میں پہلے سے بھی زیادہ کمر بستہ ہوں تا خدا کا نام بلند ہو اور دنیا سے تاریکی اور ضلالت دور ہو۔ خدا ہمیں فتنہ گروں کی فتنہ گریوں سے بھی بچائے۔ میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا ہمیں نیکی کو سمجھ کر کرنے کی توفیق دے۔ اور جب ہم نیکی کریں تو کسی نا سمجھی سے ضائع نہ ہو جائے۔ خدا ہم سب کا مددگار ہو۔ آمین
(الفضل ۹؍نومبر ۱۹۲۶ء)
مزید پڑھیں: احمدیہ جماعت کی قدر وقیمت(قسط اول)




