متفرق مضامین

نماز تراویح۔ طُول القُنوت کا آسان طریق

(غلام مصباح بلوچ۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

قیام رمضان کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان رات کے پچھلے پہر اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حالت نماز میں کھڑا ہو۔ پھر اُس کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے نماز میں حالت قیام کو لمبا کرے

رمضان المبارک عبادات کا مہینہ ہے اور ایک مومن اس مہینے میں اپنے نفس ، اپنے وقت ، اپنے مال اور اپنے جذبات کو قربان کرتے ہوئے احکام خداوندی کو بجالا نے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کو کھینچنے کے سامان کرتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں جہاں مختلف طریقوں سے عبادت بجالانے کی تلقین بیان ہوئی ہے وہاں ایک طریق قیام رمضان کے الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ روایات میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى اللّٰه عنه أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم قَالَ ’’مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ‘‘ (صحیح البخاری كتاب صلاة التراويح باب نمبر ۱ باب فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان لاتے ہوئے اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے قیام رمضان کیا تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

قیامِ لیل کا آسان مطلب ہے کہ رات کے پچھلے پہر اُٹھ کر نوافل ادا کرنا۔ اس کا ایک اور مطلب یہ ہے کہ تہجد کے نوافل میں لمبا قیام کرنا۔ گوکہ اسی لفظ کے اندر یہ مفہوم موجود ہے لیکن ائمہ حدیث نے اس کو واضح الفاظ میں بھی بیان فرمایا ہے ۔چنانچہ امام بخاری نے کتاب التہجد میں نواں باب ان الفاظ میں باندھا ہے باب طُوْلِ الْقِيَامِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ یعنی رات کی نماز میں طویل قیام کرنے یا دیر تک کھڑے رہنے کا باب۔احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے لمبے قیام والی نماز کو افضلیت والی نماز قرار دیا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ نوافل کی بات ہو رہی ہے۔ فرض نماز کے متعلق تو آپؐ کی تاکیدی ہدایت موجود ہے کہ اِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلَاةَ … وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ یعنی تم میں جب کوئی لوگوں کو امامت کرائے تو ہلکی نماز پڑھائے …اور جب اکیلے نماز پڑھے تو پھر جتنی مرضی چاہے لمبی کرے۔ (مسلم کتاب الصلوٰۃ) چنانچہ روایت میں آتا ہے: عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم أَىُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ طُوْلُ الْقُنُوْتِ۔ (صحیح مسلم كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب نمبر ۲۲ باب أَفْضَلُ الصَّلاَةِ طُولُ الْقُنُوتِ) ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا:طُوْلُ الْقُنُوْتِ یعنی وہ نماز جس میں لمبا قیام ہو۔ علامہ النوویؒ نے اس کی شرح میں لکھا ہے: المراد بالقنوت ھُنا القیامیعنی اس جگہ قنوت سے مراد لمبا قیام یا دیر تک کھڑے رہنا ہے۔

سوال یہ ہے کہ دیر تک کھڑا رہ کر انسان کیا کرے؟ کیا خاموش کھڑا رہے یا پھر دعائیں کرے؟ اگر دعائیں کرنی ہیں تو اس کے لیے بہترین حالت رکوع یا سجدہ ہے کیونکہ یہی وہ حالتیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سائل کے زیادہ قریب ہوتا ہے، اسی وجہ سے فقہاء میں یہ بحثیں بھی آئی ہیں کہ رات کی نماز میں طُول قیام افضل ہے یا کثرت سجود؟ اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ اگر باری تعالیٰ سے دعا مانگنی ہو تو کثرت سجود یا طول سجدہ بہتر ہے اِلّا حالت قیام افضل ہے۔طول قنوت یا طول قیام یہی ہے کہ انسان سورۃ الفاتحہ کے بعد لمبی تلاوت کرے۔ آنحضرت ﷺ کے قیام لیل کے متعلق بھی روایات میں یہی ذکر ہوا ہے کہ آپؐ سورۃ الفاتحہ کے بعد لمبی تلاوت کرتے تھے، ایک روایت میں تو آپؐ کے سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ البقرہ، آل عمران اور سورۃ النساء تلاوت کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔ آپؐ نے جہاں خود لمبی تلاوت کر کے قیام لیل کیا ہے وہاں امت کو بھی نفل نماز میں سورۃ الفاتحہ کے بعد لمبی تلاوت کی ترغیب دی ہے۔ سنن ابی داؤد میں ایک روایت ہے: عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم: مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطَرِيْنَ۔ (سنن ابی داؤد کتاب شہر رمضان باب نمبر ۹ باب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی نماز کے قیام کی حالت میں دس آیتیں تلاوت کیں تو وہ غافلوں میں سے نہیں شمار کیا جائے گا، جس نے نماز میں سو آیات تلاوت کیں وہ قنوت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا اور جس نے نماز میں ایک ہزار آیات تلاوت کیں وہ مُقَنْطَرِیْنَیعنی ڈھیروں ڈھیر خرچ کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔

قیام لیل آنحضرت ﷺ کی ایک عادت مستمرہ تھی اور رمضان المبارک میں تو یہ قیام اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ ہوتا تھا جس کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ یعنی ان نوافل کی خوبصورتی اور طوالت کے متعلق نہ پوچھ (کہ الفاظ اُن کا احاطہ نہیں کرسکتے) ۔ رمضان المبارک میں جبرائیل علیہ السلام بھی آپؐ کو قرآن کریم کا ایک دور کروایا کرتے تھے۔

پس قیام رمضان کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حالت نماز میں کھڑا ہو۔ پھر اس کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے نماز میں حالت قیام کو لمبا کرے جیسا کہ اوپر احادیث میں ظاہر ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب انسان کو قرآن کریم کا ایک مناسب حصہ یاد ہوگا۔ ظاہر ہے قرآن کریم کا جتنا حصہ حفظ ہوگا اسی کے مطابق ہی انسان دیر تک کھڑا رہ کر تلاوت کر سکتا ہے، قرآن کریم کی آخری چند سورتیں یاد ہونے سے یہ سعادت نصیب نہیں ہوسکتی۔ اگر کسی شخص کو زیادہ قرآن حفظ نہیں اور تہجد کے وقت اٹھنے میں بھی دشواری محسوس کرتا ہے تو اس شخص کے لیے قیام لیل یعنی نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کا بہترین موقع نماز تراویح میں موجود ہے جو کہ عمومًا حفاظ کرام کی امامت میں ادا کی جاتی ہے اور حافظ صاحب (یا کسی زیادہ قرآن جاننے والے) کی تلاوت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مقتدی قیام لیل اور طول القنوت کی حالت کو پاسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اصلاحِ نفس

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button