متفرق مضامین

وسعتِ حوصلہ کی ضرورت و اہمیت

(ظہیر احمد طاہر ابن مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔جرمنی)

انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اُس کے اخلاق نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جو انسان جس قدر اعلیٰ اخلاق سے متصف ہوگا وہ اُسی قدر ہر دلعزیز اور پروقار شخصیت کا حامل ہوگا۔اخلاق کے معنی پختہ عادت کے ہیں یعنی کسی انسان کی ایسی کیفیت یا عادت اخلاق کہلائے گی جس کی بنا پر بلا غوروفکر اُس سے اعمال سرزد ہوں۔اگر اس سے اچھے اعمال سرزد ہوں گے تو اعلیٰ اخلاق کا حامل انسان کہلائے گا۔اس کے برعکس اگر اُس کے اعمال ناپسندیدہ اور تکلیف دینے والے ہوں گے تو ایسے انسان کو بدخلق کہیں گے۔ رسول کریم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: اِنَّمَابُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ(السنن الکبیر للبیھقی، کِتَابُ الشَّھَادَاتِ، بَابُ: بَیَانُ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ وَمَعَالِیھَا الَّتِی مَنْ کَانَ مُتَخَلِّقًا بِھَا،حدیث نمبر۱۹۰۹۶)میں تو اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کروں۔آنحضرتﷺکاایک اورارشاد مبارک ہے:بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق(السنن الکبیرللبیھقی کِتَابُ الشَّھَادَاتِ، بَابُ:بَیَانُ مَکَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَمَعَالِیھَاالَّتِی مَنْ کَانَ مُتَخَلِّقًا بِھَا،حدیث نمبر۱۹۰۹۸)مَیں صالح اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔آنحضرت ﷺکی زندگی مکارم اخلاق سے متصف تھی یعنی آپؐ کی ذات اقدس اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز تھی۔ بعثت کے ابتدائی دور کی بات ہے حضرت ابوذر ؓ نے اپنے بھائی کو تحقیق حق کے لیے مکہ بھیجا تو انہوں نے واپس جاکرآنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ اطلاع دی :رَأَیْتُہٗ یَأْمُرُبِمَکَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَکَلَامًامَا ھُوَ بِالشِّعْرِ(صحیح البخاری، کتاب مناقب الأنصار،بَابُ اِسْلَامُ أَبِی ذَرٍّ الْغِفَارِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ،حدیث:۳۸۶۱)مَیں نے اُن کو دیکھا ہے کہ وہ عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور ایسا کلام سناتے ہیں جو شاعری ہرگز نہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مذہبی قوموں میں اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”مذہبی قومیں بغیر اخلاقی تعمیر کے تعمیر نہیں ہوسکتیں اور یہ تصور بالکل باطل ہے کہ انسان بداخلاق ہو اور باخدا ہو۔ اس لیے مذہبی قوموں کی تعمیر میں سب سے اہم بات ان کے اخلاق کی تعمیر ہے اور یہ تعمیر جتنی جلدی شروع ہو اتنا ہی بہتر ہے اور اتنی ہی آسان ہوتی ہے۔“ (مشعل راہ جلد سوم صفحہ ۴۶۱،شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ)پس جو مومن اپنے اخلاق کی تعمیر میں جس قدر محنت اور کوشش کرے گا اور اُن کو سنوارنے کے لیے کوشاں ہوگا وہ انسان اسی قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جائے گا۔ انسان کے اعلیٰ اخلاق میں سے ایک اہم خلق وسعت حوصلہ ہے۔ یہ ایک ایسا خلق ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے انسان نہایت مشکل اور کٹھن حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے وسعت حوصلہ کو پانچ بنیادی اخلاق میں شمار کیا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:”تیسری چیز وسعت حوصلہ ہے۔ بچپن ہی سے اپنی اولاد کو یہ سکھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی نے تھوڑی سی کوئی بات کہی ہے یا تمہارا کچھ نقصان ہوگیا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اپنا حوصلہ بلند رکھو اور حوصلے کی یہ تعلیم بھی زبان سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے عمل سے دی جاتی ہے۔ بعض بچوں سے نقصان ہوجاتے ہیں۔ گھر کا کوئی برتن ٹوٹ گیا۔ سیاہی کی کوئی دوات گرگئی۔ کھانا کھاتے ہوئے پانی کا گلاس الٹ گیا اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر مَیں نے دیکھا ہے کہ بعض ماں باپ برافروختہ ہوکر بچوں کے اوپر برس پڑتے ہیں، ان کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ چپیڑیں مارتے ہیں اور کئی طرح کی سزائیں دیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ جن قوموں میں یا جن ملکوں میں ابھی تک ان کا ایک طبقہ یہ توفیق رکھتا ہے کہ وہ نوکر رکھے، وہاں نوکروں سے بدسلوکیاں ہورہی ہوں، ان گھروں میں جہاں بچوں سے بدسلوکیاں ہورہی ہوں وہاں آئندہ قوم میں بڑا حوصلہ پیدا نہیں ہوسکتا…محض زبان میں نرمی پیداکرنا کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ حوصلہ بلند نہ کیاجائے اور وسیع حوصلگی جماعت کے لیے آئندہ بہت ہی کام آنے والی چیز ہے جس کے غیر معمولی فوائد ہمیں اندرونی طورپر بھی اور بیرونی طور پر بھی نصیب ہوسکتے ہیں لیکن وسیع حوصلگی کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نقصان کو برداشت کیا جائے اور نقصان کی پرواہ نہ کی جائے۔یہ ایک فرق ہے جو مَیں کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اس کو سمجھ کر ان دونوں باتوں کے درمیان توازن کرنا پڑے گا۔ نقصان ایک بُری چیزہے۔ اگر نقصان کا رجحان بچوں میں پیدا ہوتو ان کو سمجھانا اور عقل دینا اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں وہ ہمارے فائدے کے لیے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی نقصان نہ ہو…حوصلے سے مراد یہ ہے کہ اگر اتفاقاً کسی سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس پر برداشت کیاجائے اور اُسے کہا جائے کہ اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور جن کے حوصلے بلند ہوں وہ پھر بڑے ہوکر بڑے نقصان برداشت کرنے کے بھی زیادہ اہل ہوجاتے ہیں۔“(مشعل راہ جلد سوم صفحہ ۴۶۴-۴۶۵، شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ)حوصلہ کا لفظ اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے۔ اس لفظ کے اندر عفو ودرگزر،جرأت واستقلال، عزم وہمت، شجاعت و بہادری،بلند ارادی اور قوتِ برداشت جیسی اعلیٰ صفات شامل ہیں۔اس کا مفہوم کسی کام کو کرنے کا عزم، جذبہ یا اندرونی طاقت ہے۔ اپنے غصے پر قابو پانا اور درگزر سے کام لینا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے گویا وسعت حوصلہ انسان کی شخصیت کا نہایت اہم پہلو ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دوسرے لوگ ہماری مرضی کے مطابق رویہ اختیار نہ کریں یا ہمیں اختلاف رائے کا سامنا ہو تو ان مواقع پر تحمل، بردباری اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش آمدہ مسائل کا سامنا کرنا اور اُن کا کوئی مناسب حل نکالنا وسعت حوصلہ کہلائے گا۔ وسعت حوصلہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے اعلیٰ اخلاق کو لوگوں کے سامنے نمایاں کرکے دکھا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاہے: وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (النور:۲۳) پس چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جوزندگی کے ہر شعبے میں اپنے ماننے والوں کی مکمل راہنمائی کرتاہے۔ ہمارے نبی ﷺنے وسعت حوصلہ جیسے اعلیٰ خلق کو اپنے عمل سے بلند ترین مقام ا ورمرتبہ عطا کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: اَلْمُسْلِمَ اِذَا کَانَ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی اَذَاھُمْ خَیْرٌ مِنَ الْمُسْلِمِ الَّذِی لَا یُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی اَذَاھُمْ(الجامع الکبیر للترمذی أبواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع باب۱۲۰حدیث۲۵۰۷دارالعرب الاسلامی بیروت،الطبعۃ الاولی ۱۹۹۶ء)وہ مسلمان جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے۔ وہ اُس مسلمان سے بہتر ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔
نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کے اندر وسعت حوصلہ کی صفت بدرجہ اتم موجود تھی۔آپ ؐ کے اسوۂ حسنہ سے ثابت ہے کہ جن لوگوں نے آپؐ اور آپؐ کے ماننے والوں پر ظلم وستم ڈھائے اورہر طرح کی ایذارسانی سے کام لیا۔ آپ ؐ ان لوگوں کی تکلیفوں کو عملی طورپر دورکرنے کی کوشش کرتے اور ان کے لیے دعا بھی کرتے۔ واقعات گواہ ہیں اور تاریخ کی چشم کشا آنکھ نے یہ گواہیاں محفوظ کرلی ہیں کہ اہل مکہ کی طرف سے انتہادرجہ تکلیفوں، اذیتوں اور دکھوں کے باعث آپ کو اپنا گھر بار،عزیز واقارب،اپنا شہراوراُس سے وابستہ یادوں اورسب سے بڑھ کر کعبۃ اللہ کو چھوڑنا پڑا لیکن شرفِ انسانیت کے قیّم نے ہمدردیٔ خلق اور صلہ رحمی کے وصف کو ایک لمحہ کے لیے بھی پسِ پشت نہ ڈالابلکہ جب بھی اہل مکہ کسی تکلیف میں مبتلا ہوئے، آپ ؐنے اپنے دکھوں اور تکلیفوں کو درمیان میں لائے بغیر اُن کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ یہ آپؐ کا وسعت حوصلہ ہی تھا کہ جس کے نتیجہ میں آپ ؐنے اپنے جانی دشمنوں تک کو معاف کردیا۔ آنحضرت ﷺکے عفو وکرم کے بے شمار نمونے دوستوں اور دشمنوں کے حق میں ظاہر ہوئے اور دنیا نے دیکھا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کی صفت ”العفو “کے بہترین مظہر ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ کسی عورت کو، نہ کسی خادم کو سوائے اس کے کہ آپؐ اللہ کی راہ میں جہاد کررہے ہوں۔ نہ ہی کوئی تکلیف پہنچنے پر آپؐ نے کبھی اس کے پہنچانے والے سے کوئی انتقام لیا۔ ہاں مگر اللہ کی محرمات کی بے حرمتی کی جاتی تو آپؐ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لیتے۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل بَاب:مُبَاعَدَتُہُ ﷺ لِلْآثَامِ وَاِخْتِیَارُہُ مِنَ الْمُبَاحِ أَسْھَلَہُ …حدیث:۴۲۸۲)
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنے بندوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایاہے :وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(اٰل عمران:۱۳۵) اور غصہ دبا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
پس وسعت حوصلہ صبر و استقا مت،عزم وہمت ا ور شجا عت ایک دوسرے کے ساتھ لا زم وملزوم ہیں۔ ہمارے آقا ومطاع حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺکی بے نظیر شجاعت اورآپؐ کی بے مثل صبر واستقامت مکہ کی گلیوں،غار ثور کی راتوں، شعب ابی طا لب کی بندشوں، طا ئف کی گھا ٹیوں،بدر کے میدان،احد کی پہا ڑیوں، غزوہ احزاب کی خندق، حدیبیہ کے میدان،حنین کی وادی اورتبوک کی سا عۃ العسرۃ میں اس طرح چمکی کہ اپنے تو اپنے بیگانے بھی اس کے گواہ بن گئے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہاتھا اور آپؐ نجران کی چادر پہنے ہوئے تھے جس کا حاشیہ موٹا تھا اتنے میں ایک اعرابی آپؐ سے ملا اور اُس نے آپؐ کی چادر پکڑ کر زور سے کھینچا۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے اس حصے کو دیکھا جو کندھے کی طرف ہوتی ہے اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے اس چادر کے حاشیہ نے نشان ڈال دیا تھا۔ (کھینچ کر) کہنے لگا: محمدؐ! مجھے اللہ کے اس مال سے دینے کے لیے حکم دو جو تمہارے پاس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مڑکر دیکھا اور آپؐ ہنس پڑے پھر آپؐ نے اس کو کچھ دینے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری کتاب اللباس بَاب:الْبُرُودُ وَالْحِبَرُ وَالشَّمْلَۃُ حدیث:۵۸۰۹)
ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے حطیم مقام میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی مُعَیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپ کی گردن میں ڈال کر آپؐ کاگلا زور سے گھونٹا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے اور آکر انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑا اور اسے دھکیل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹا دیا اور کہا:اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ(المؤمن:۲۹)کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو کہتا ہے:میرا ربّ اللہ ہے؟ (صحیح البخاری کتاب مناقب الأنصاربَاب:مَا لَقِیَ النَّبِیُّ ﷺ وَأٓصْحَابُہُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ بِمَکَّۃَحدیث:۳۸۵۶)
انبیاء ومرسلین بطورہادی وراہنما بھیجے جاتے ہیں تاکہ اُن کے ماننے والے اُن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اُن راہوں کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والی ہیں۔ چونکہ انبیاء ومرسلین کے دلوں میں مخلوق کی ہمدردی کا جذبہ بدرجہ اتم پایا جاتا ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دُور اُفتادہ بندے اُس کے قریب ہوں اور حقیقی عبودیت کے مقام پر فائز ہوکر حیاتِ جاوداں سے ہمکنار ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گالیاں سنتے، دکھ دیئے جاتے اورہر طرح کی ایذاء رسانیوں کا سامنے کرتے ہیں لیکن اُن کی پاک فطرت اصلاح خلق سے ذرہ برابر پیچھے نہیں ہٹتی یہاں تک کہ وہ اس راہ میں اپنی جان تک نچھاور کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں لیکن اپنے مقصد کو کبھی پس پشت نہیں ڈالتے۔ اللہ تعالیٰ نے محسن انسانیت ﷺ کی اسی پاک فطرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(الشعراء:۴) کیا تو اپنی جان کو اس لیے ہلاک کردے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔
خدا تعالیٰ کے ان پاک فطرت بندوں کی ہمدردی خلق ان کے ماننے والوں کے لیے ایک نمونہ اور بطور اُسوہ حسنہ ہوتی ہے۔
اسلام کی تیز ترین ترقی اور اُس کے بسرعت اکناف ِعالم میں پھیلنے میں یہی راز مضمر ہے کہ بانی اسلام ﷺ اور آپ ؐکے ماننے والوں نے اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی بجائے وسعت حوصلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عفو و درگزر سے کام لیا جس کی بنا پر دشمن بھی اُن کے گرویدہ ہوگئے۔ اُس بڑھیا کے واقعہ کو یاد کریں جس کے لیے سامان کے بوجھ کی وجہ سے چلنا دشوار ہو رہاتھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کا بوجھ اُٹھا کر اُسے منزل تک پہنچادیا۔ وہ انجانے میں سارا راستہ آپ کو بُرا بھلا کہتی رہتی۔ منزل پر پہنچ کر جب اُسے پتا چلا کہ اُس کا بوجھ اُٹھانے والے اور اُس کی تکلیف دہ باتوں کو سن کر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے والے دراصل محمد ﷺہیں تو اُس کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے حسن خلق نے اُس بڑھیا کے دل کو فتح کرلیا۔اوراُس نے اُسی وقت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کا اقرار کرلیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اس زمانے کاامام بناکر بھیجا ہے۔آپ اپنی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اُس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہِ راست پر چلاؤں۔“(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ ۱۴۳) حضور علیہ السلام کا ایک اور ارشادِ مبارک ہے:”میں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں …میں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہوسکے ان تمام غلطیوں کو مسلمانوں میں سے دُور کردوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راستبازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلاؤں۔“ (اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۳۴۴-۳۴۳)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے پتاچلتا ہے کہ معاندین احمدیت نے جب بھی آپؑ پر کسی قسم کا غلیظ اور نازیبا حملہ کیا اُس کے جواب میں آپؑ نے ہمیشہ پورے حلم اور حوصلہ اور صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ گویا دشمن کی کوئی بھی بیہودہ حرکت اس کوہ وقار کے سکون خاطر کو جنبش نہ دے سکی۔ آپؑ فرماتے ہیں:”میں نوع انسان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ ہاں ان کی بدعملیوں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور فسق اور بغاوت کا دشمن ہوں کسی کی ذات کا دشمن نہیں۔ اس لئے وہ خزانہ جو مجھے ملا ہے جو بہشت کے تمام خزانوں اور نعمتوں کی کنجی ہے وہ جوش محبت سے نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہوں۔“(اربعین نمبر ۱، روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۳۴۵)
حضور علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ”میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے۔ آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔“(ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۴۱۱، ایڈیشن ۲۰۱۶ء مطبوعہ یوکے)
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ تحریر کرتے ہیں :”حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بالمشافہ زبانی گندے حملے ہی نہ ہوتے تھے اور آپؑ کی جان پر اس طرح کے بازاری حملوں پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا تھا۔ آپؑ کے قتل کے فتووں اور منصوبوں اور پھر اس کے لیے کوششوں کو ہی کافی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اخبارات اور خطوط میں بھی گالیوں کی بوچھاڑ کی جاتی تھی۔ اور پھر اسی پر بس نہیں ایسے خطوط عموماً بیرنگ آپؑ کو بھیج دیئے جاتے تھے۔ خدا کا برگزیدہ ان خطوط کو ڈاک کا محصول اپنی گرہ سے ادا کرکے لیتا تھا۔ اور جب کھولتا تھا تو ان میں اوّل سے آخر تک گندی اور فحش گالیوں کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔ آپؑ ان پر سے گزر جاتے اور ان شریروں اور شوخ چشموں کے لیے دعا کرکے ان کے خطوط ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے۔ مولوی محمد حسین بٹالوں ان ایام میں اپنی مخالفت میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔ اور اس نے اپنی گالیوں پر اکتفا نہ کرکے سعداللہ لدھیانوی جعفرزٹلی اور بعض دوسرے بے باک آدمیوں کو اپنا رفیق اور معاون بنا رکھاتھا۔ وہ ہر قسم کی اہانت کرتے مگر خدا کے برگزیدہ کو اس کا شیریں کلام اِنِّی مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ تسلی دیتا اور کامل صبر سے ان گندی تحریروں پر سے گزر جاتے۔
ایک مرتبہ ۱۸۹۸ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا ایک گالیوں کا بھر ا ہوا رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بھیجا میں نے ۲۷/جولائی ۱۸۹۸ء کے الحکم میں اس کی کیفیت کو درج کردیا ہے۔ اور آج قریباً تیس سال ہوئے جب اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوتِ حوصلہ ضبط نفس اور توجہ الی اللہ پر غور کرتے ہوئے پڑھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل جاتے ہیں۔“
(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۴۳-۴۴۴، شائع کردہ نظار اشاعت صدرانجمن احمدیہ،اگست ۲۰۱۶ء)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ سیرت المہدی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وسعت حوصلہ کے متعلق ایک روایت درج کرتے ہوئے لکھا ہے :”رسول بی بی بیوہ حافظ حامدعلی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ بعض دفعہ مرزا نظام الدین کی طرف سے کوئی رذیل آدمی اس بات پر مقرر کردیا جاتا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے۔ چنانچہ بعض دفعہ ایسا آدمی ساری رات گالیاں نکالتا رہتا تھا۔ آخر جب سحری کا وقت ہوتا تو حضرت جی دادی صاحبہ کو کہتے کہ اب اس کو کھانے کو کچھ دو۔ یہ تھک گیا ہوگا۔ اس کا گلا خشک ہوگیا ہوگا۔ میں حضرت جی کو کہتی کہ ایسے کم بخت کو کچھ نہیں دینا چاہئے۔ تو آپ فرماتے۔ ہم اگر کوئی بدی کریں تو خدا دیکھتا ہے۔ ہماری طرف سے کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔“(سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ ۱۰۳۔روایت نمبر ۱۱۳۰۔ایڈیشن ۲۰۰۸ء)


گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے
تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے
(آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۲۲۵)


حضرت یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ضبط، تحمل اور بردباری سے متعلق ایک واقعہ تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے :”میر عباس علی صاحب کے نام سے سلسلہ میں نئے آنے والے لوگ بہت ہی کم واقف ہوسکتے ہیں۔ میر صاحب ایک انگریزی خواں لودھانہ کے صوفی تھے۔ اور شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نہایت محبت اور اخلاص کا دعویٰ رکھتے تھے۔ براہین احمدیہ کے اشاعت میں انہوں نے بہت محنت کی مگر دعوائے مسیحیت کے ساتھ ان کو بدظنی ہوئی۔ اور کوئی پنہانی معصیت انہیں انکار وتکذیب کی طرف لے گئی۔ جالندھر کے مقام پر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بیٹھے ہوئے اعتراضات کررہے تھے۔ حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ اور مجھے خود انہوں نے ہی یہ واقعہ سنایا۔ مولانا نے فرمایا کہ مَیں دیکھتا تھا کہ میر عباس علی صاحب ایک اعتراض کرتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت شفقت و رافت اور نرمی سے اس کا جواب دیتے تھے اور جوں جوں حضرت صاحب اپنے جواب اور طریق خطاب میں نرمی اور محبت کا پہلو اختیار کرتے میر صاحب کا جواب بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی اور بے ادبی پر اُتر آیااور تمام تعلقات دیرینہ اور شرافت کے پہلوؤں کو ترک کرکے تُو تُو مَیں مَیں پر آگیا۔ مَیں دیکھتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حالت میں اسے یہی فرماتے۔ جناب میر صاحب! آپ میرے ساتھ چلیں میرے پاس رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کوئی نشان ظاہر کردے گا۔ اور آپ کو راہنمائی کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر میر صاحب کا غصہ اور بے باکی بہت بڑھتی گئی۔
مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مَیں حضرت کے حلم اور ضبط نفس کو دیکھتے ہوئے بھی میر عباس علی صاحب کی اس سُبک سری کو برداشت نہ کرسکا۔ اور میں جو دیر سے پیچ وتاب کھا رہا تھا۔ اور اپنے آپ کو بے غیرتی کا مجرم سمجھ رہا تھا کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ اس طرح پر حملہ کررہا ہے۔اور میں خاموش بیٹھا ہ وں مجھ سے نہ رہا گیا۔ اور مَیں باوجود اپنی معذوری کے اُس پر لپکا اور للکارا اور ایک تیز آوازہ اُس پر کسا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اٹھ کر بھاگ گیا۔ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ضبط نفس اور حلم کا جو نمونہ دکھایا۔ مَیں اسے دیکھتا تھااور اپنی حرکت پر منفعل ہوتا تھا۔ مگر مجھے خوشی بھی تھی کہ مَیں نے اپنے آپ کو بے غیرتی کا مجرم نہیں بنایا۔ کہ وہ میرے سامنے حضرت کی شان میں ناگفتنی بات کہے اور میں سنتا رہوں۔ گو بعد کی معرفت سے مجھ پر یہ کھلا کہ حضرت کا ادب میرے اس جوش پر غالب آنا چاہیے تھا۔
یہ واقعہ اپنی سادگی کے لحاظ سے بالکل معمولی معلوم ہوتا ہے، مگر ہم اپنے نفس پر غور کریں کہ کیا ہم اپنے نفس پر ایسا ہی قابو رکھ سکتے ہیں جبکہ ایک شخص جو مخالف الرائے ہو ہمارے خلاف کوئی بات ہمارے ہی منہ پر کہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اس میں حق کی نہیں بلکہ غضب اور تاریک عداوت کی مرارت بھی ملی ہوئی ہو۔ اور اس کا انداز سخن شرافت اور اخلاق کے عام معیار سے بھی گر گیا ہو۔“
(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۲۷-۴۲۸، شائع کردہ نظارت اشاعت صدرانجمن احمدیہ۔ سن اشاعت اگست ۲۰۱۶ء)
حضور علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے :


نفس کو مارو کہ اُس جیسا کوئی دشمن نہیں
چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامانِ دِمار
جس نے نفس دُوں کو ہمت کرکے زیر پا کیا
چیز کیا ہیں اُس کے آگے رُستم و اِسْفَند یار
گالیاں سُن کر دعا دو پاکے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۱۴۴)


ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:”آج کل مادیت کا زیادہ زور ہے یا کیا وجہ ہے؟بے صبری کا اظہار زیادہ ہے۔ صبر کم ہوچکا ہے لوگوں میں۔ برداشت کم ہوچکی ہے کہ ذرہ ذرہ سی بات پر لڑائیاں بھی ہوتی ہیں، رنجشیں بھی پیدا ہوتی ہیں اور پھر ان کی نوبت یہاں تک آتی ہے کہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں …بعض جھگڑے میرے پاس آتے ہیں، ساسیں بھی، بہوئیں بھی، بیویاں بھی، خاوند بھی کہ کیا کریں؟ کس طرح ہم اپنے رشتوں کو بہترین زندگیوں میں گزار سکتے ہیں۔ تو میں ان کو یہی کہا کرتا ہوں کہ کان، آنکھ اور زبان ایک دوسرے کے لیے اور ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کے لیے بند کرلو۔تمہاری زندگیاں امن سے گزرنے لگ جائیں گی۔ یہ مشکل کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہوئے، اگر آپ کریں اور یہ کرنے کی ضرورت ہے۔“(روزنامہ الفضل ربوہ،۷/جولائی ۲۰۱۱ء صفحہ ۶)
خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے ہادی وراہنما ﷺ اور آپؐ کے عاشق صادق زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مبارک نمونہ ہمارے سامنےپیش فرمایا ہے اُسے مشعل راہ بناتے ہوئے اخلاق حسنہ اپنائے جائیں اور اُن کی روشنی میں ہر عمل کیا جائے تاکہ اس ذریعہ سے ہمیں نیکی اور تقویٰ میں بڑھنے کی توفیق ملے اور خاتمہ بالخیر ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی وسعت حوصلہ جیسے اہم خلق کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم بھی اپنے تمام معاملات میں درگزر اور معاف کرنے کی عادت اپنالیں۔ اللہ کرے کہ اس ذریعہ سے ہمارے گھروں اور ہمارے معاشرے میں امن وسکون اور پیارومحبت کی فضا قائم ہوجائے۔ آمین۔

مزید پڑھیں: وسعتِ حوصلہ ایک عظیم خُلق ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button