متفرق شعراء
اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے وہ
واقف ہے میرے حال سے، سب باخبر ہے وہ
دل پر مرے کمال کی رکھتا نظر ہے وہ
دستک جو دے رہا ہے مرے دل پہ بار بار
اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے وہ
ڈھارس بندھائی دل کی یہ کہہ کر کبھی کبھی
اُس نے کہا تو سچ ہے، بڑا معتبر ہے وہ
پائے گا اب جہاں میں کہاں، کس جگہ اماں
در یار کا جو چھوڑے، ہوا دربدر ہے وہ
دُشمن ستم گری کی لکھے جب بھی داستاں
ہر بار حوصلے کو بنا چارہ گر ہے وہ
بیٹھے ہیں جس پہ آ کے پرندے جہان کے
جس کو خدا نے آپ لگایا شجر ہے وہ
دل مطمئن سا ہو گیا سُن کر جسے مرا
دیکھو طُیُور نے جو دی اچھی خبر ہے وہ
تم پھر رہے ہو ڈھونڈتے طارق کہاں اسے
حبلِ ورید سے کہیں نزدیک تر ہے وہ
(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)
مزید پڑھیں: زیارتِ حجاز




