عیسٰی نبی اللّٰہ کے تائیدی شواہد
امت محمدیہؐ میں آنے والا موعود مسیح نبی ہو گا یا نہیں ؟قرآن و حدیث سے صحیح مسلم کی حدیث
رسول اللہ ﷺ نےامت محمدیہ میں مسیح کے رنگ میں آنے والے ایک موعود کی خبر دی جس نے کثرت مکالمہ و مخاطبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے امتی نبی کا نام پایا
مسلم دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان میں سب سے بڑا یہ غلط عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسیٰ کو زندہ جسم سمیت آسمان پر اٹھا لیاوہ دو ہزار سال سے آسمان پر ہیں اور آخری زمانہ میں اسی مادی جسم سمیت آسمان سے نازل ہوں گے۔ جبکہ قرآن شریف اس عقیدہ کی سختی سے تردید کرتا ہے مسیح کی وفات کا اعلان فرماتا ہے اور تمثیلی طور پر ان کی آمد کا اشارہ کرتا ہے۔ جس کی وضاحت کثرت سے احادیث رسول میں موجود ہےاور یہ حدیثیں گویا تواتر کا رنگ رکھتی ہیں کیونکہ ہر فرقے اور مسلک اور ہر طبقے میں موجود ہیں اور سبھی ان کا انتظار کر رہے ہیں۔
حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے بعد ان کے منصب کے متعلق مسلمانوں میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ماضی میں ۱۰۰ سال پہلے تک اکثریت کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ نزول کے وقت بھی نبی ہوں گے جبکہ زمانہ حال میں یہ عقیدہ بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے کہ ختم نبوت کی وجہ سے ہر قسم کی نبوت بند ہے لہٰذا مسیؑح نبی نہیں ہوں گے بلکہ محض امتی یعنی امت محمدیہ کے ایک فرد ہوں گے۔ اس عقیدہ نے گذشتہ عرصہ میں کافی مقبولیت حاصل کی ہےجو خلاف قرآن و حدیث ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اسی سوال کا جواب تلاش کریں گے کہ مسیح کی جسمانی یا تمثیلی آمد سے قطع نظر مسیحؑ جب بھی اور جس طرح بھی نازل ہوں گے وہ نبی ہوں گے یا نہیں۔
قرآن کریم کا اعلان
۱۔ قرآن کریم میں مسیحؑ کا یہ قول نقل کیا گیاہے کہ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ؕ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا۔ وَّجَعَلَنِیۡ مُبٰرَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ ۪ وَاَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا۔(مریم ۳۱-۳۲) یقیناً میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ نیز مجھے مبارک بنا دیا ہے جہاں کہیں میں ہوں اور مجھے نماز کی اور زکوٰة کی تلقین کی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے مسیح کو خدا نے نبی بنایا ہے اور وہ جہاں کہیں ہوں گے مبارک ہوں گے اور خدا کے حکموں پر کاربند رہیں گے وہ پہلی بعثت میں بھی نبی تھے اور جب بھی ا ن کی بعثت ثانی ہو گی وہ تب بھی نبی ہوں گے۔
۲۔ کیا سارے قرآن میں کوئی ایسی آیت ہے جو مسیح کے محض امتی ہونے کی خبر دیتی ہو؟
۳۔ کیا کوئی ایسی مثال موجودہے کہ کسی نبی کو منصب نبوت سے معزول کیا گیا ہو۔ بلکہ حضرت آدم ؑ اور یونسؑ سے جب اجتہادی غلطی ہوئی تب بھی وہ نبی ہی تھے اور بعد میں بھی نبی رہے؟
۴۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ (الانفال:۵۴) یعنی اللہ کبھی وہ نعمت تبدیل نہیں کرتا جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو تبدیل کر دیں۔ کیا حضرت مسیح نے اپنی حالت کو بدل دیا جس کی وجہ سے ان سے یہ نعمت چھین لی گئی؟
احادیث نبویؐ کا اعلان۔ وہ نبی ہے
احادیث نبویہ میں واضح طور پر مسیح ؑ کی آمد ثانی کے وقت انہیں نبی اللہ کہا گیا ہے۔ احادیث کی کئی اہم کتب میں ایک سے زیادہ اسناد کے ساتھ روایات موجود ہیں ان میں سب سے صحیح اور اہم حدیث صحیح مسلم کی ہے جو حدیث کی۶ صحیح ترین کتابوں یعنی صحاح ستہ میں بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اس میں ۲ اسناد کے ساتھ مسیح کو ایک ہی حدیث میں ۴ دفعہ نبی اللہ کہا گیا ہے یہ روایت صحابی رسول حضرت نواس بن سمعانؓ سے ہےطویل عبارت میں سے صرف متعلقہ حصہ پیش ہے۔
۱۔ ۲۔ يُحْصَرُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ،… فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ،… ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ… فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ۔ (صحیح مسلم۔ المؤلف: مسلم بن الحجاج النيسابوري (المتوفى: ۲۶۱ھ) كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ۔ حدیث نمبر ۲۹۳۷)
یہ حدیث امام مسلم نے ۲ سندوں سے لکھی ہے اس لیے علم حدیث کی اصطلاح میں یہ ۲ روایات ہیں اور روایت کے اصولوں پر علماء نے ان کو صحیح قرار دیا ہے۔
۳۔ تیسری حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے یہ کتا ب بھی صحاح ستہ میں شامل ہے اور اس نے اپنی سند سےروایت کی ہے اس کے پہلے ۲ راوی مسلم سے مختلف ہیں اوپر جا کر مسلم کی سند سے مل جاتی ہے اور الفاظ کم و بیش ایک ہی ہیں۔ (سنن ابن ماجه۔ المؤلف: ابن ماجة محمد بن يزيد القزويني، (المتوفى: ۲۷۳ھ) كتاب الْفِتَنِ۔ بَابُ فِتْنَةِ الدَّجَالِ، وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ۔ حدیث نمبر ۴۰۷۵)
۴۔ تفسیر طبری تفسیر کی کتاب ہے انہوں نے سورۃ انبیاء کی آیت نمبر ۹۷ کی تفسیر دربارہ یاجوج ماجوج میں اپنی سند سے یہی حدیث درج کی ہے۔ (جامع البيان في تأويل القرآن۔ المؤلف: محمد بن جرير أبو جعفر الطبري (المتوفى: ۳۱۰ھ)
۵۔ ۶۔ ۷۔ ۸۔ حدیث کے مشہور امام ابن مندہ نے الایمان میں اسی حدیث کواپنی ۴ سندوں سے درج کیا ہے اور اس میں ۴ کی بجائے ۵ بار نبی اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کی سند میں صحاح ستہ کی مشہور کتاب سنن نسائی کے مصنف ابو عبد الرحمان نسائی کا نام بھی ہے۔ ( الإيمان۔ المؤلف: محمد بن إسحاق بن مَنْدَه (المتوفى: ۳۹۵ھ) ذِكْرُ وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ، وَيَأْجُوجَ، وَمَأْجُوج حدیث نمبر ۱۰۲۷)
۹۔ امام حسین بن مسعود نے بھی اس حدیث کو اپنی سند سے لکھا ہے جس میں امام مسلم کا نام بھی ہے۔ (شرح السنة۔ المؤلف: محيي السنة، أبو محمد الحسين بن مسعود الشافعي (المتوفى: ۵۱۰ھ) بَابُ الدَّجَّالِ حدیث نمبر ۴۲۶۱) انہوں نے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں بھی اسی سند سے لکھا ہے۔ ( معالم التنزيل۔ تفسير البغوي۔ جلد۳ صفحہ۲۱۹۔ زیر آیت کہف ۹۷)
اس طرح ۴کتب حدیث اور ۲تفاسیر میں ۹ سندوں کے ساتھ مسیح کو نبی اللہ قرار دیا گیا ہے۔
میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں
رسول اللہ ﷺ نے ایک اور طریق سے آنے والے مسیح کو نبی اللہ کہا ہے۔ اور کئی جگہ یہ وضاحت بھی ہے کہ اس سے مراد آنے والا مسیح ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
۱۰۔ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَسُولٌ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ فِيكُمْ (الجامع۔ المؤلف: معمر بن راشد (المتوفى: ۱۵۳ھ) جلد ۱۱ صفحہ ۴۰۱ باب نزول عیسیٰ حدیث نمبر ۲۰۸۴۵) یعنی میرے اور اس کے درمیان کوئی رسول نہیں اور وہ تم میں نازل ہو گا۔ یہ کتاب زمانی لحاظ سے مسلم سے کم از کم ۱۰۰ سال پہلے کی ہےیہ روایت مصنف کی اپنی سند سے ہے اس حدیث سے ملتے جلتے الفاظ بہت سی کتب میں موجود ہیں چند بہت ابتدائی کتب کے حوالے زمانی ترتیب سے درج ہیں جو اپنی سند سے روایت کرتے ہیں۔
۱۱۔ كتاب الفتن۔ المؤلف: أبو عبد الله نعيم بن حماد (المتوفى: ۲۲۸ھ) جلد ۲ صفحہ ۵۷۵۔ حدیث نمبر ۱۶۰۸
۱۲۔ مسند ابو داؤد طیالسی میں ہے۔ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ۔ ( مسند أبي داود الطيالسي۔ المؤلف: أبو داود الطيالسي (المتوفى: ۲۰۴ھ) جلد ۴ صفحہ ۳۰۱۔ حدیث نمبر ۲۶۹۸ )یہ صحاح ستہ والے ابوداؤد سے الگ ہیں۔ یہ حدیث کئی کتب میں ہے ۳ اہم ابتدائی کتب درج ہیں۔
۱۳۔ المصنف في الأحاديث والآثار۔ المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، (المتوفى: ۲۳۵ھ) جلد ۷ صفحہ ۴۹۹۔ حدیث نمبر۳۷۵۲۶۔ یہ حدیث بھی کئی کتب میں ہے ۲ کے حوالے درج ہیں۔
۱۴۔ مسند الإمام أحمد۔ المؤلف: أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: ۲۴۱ھ)جلد ۱۵ صفحہ ۱۵۳۔ حدیث نمبر ۹۲۷۰
۱۵۔ الشريعة۔ المؤلف: أبو بكر محمد الآجُرِّيُّ (المتوفى: ۳۶۰ھ) جلد ۳ صفحہ ۱۳۲۱۔ حدیث نمبر ۸۸۸
۱۶۔ مسند إسحاق بن راهويه میں یہ الفاظ ہیں لَیْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ، (المؤلف: أبو يعقوب إسحاق المعروف بہ ابن راهويه (المتوفى: ۲۳۸ھ)جلد ۱ صفحہ ۲۴ حدیث نمبر ۴۳)
۱۷۔ صحاح ستہ کی مشہور ترین کتاب صحیح البخاری میں بھی ہے لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ (صحيح البخاري۔ المؤلف: محمد بن إسماعيل البخاري(المتوفى: ۲۵۶ھ)۔ کتاب احادیث الانبیاء باب واذکر فی الکاب مریم حدیث نمبر ۳۴۴۲)
۱۸۔ صحاح ستہ کی سنن ابو داؤد میں ہے لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ يَعْنِي عِيسَى وَإِنَّهُ نَازِلٌ،یعنی میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ نازل ہو گا۔ (سنن أبي داود۔ المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث (المتوفى: ۲۷۵ھ)کتاب الملاحم باب خروج الدجال حدیث نمبر ۴۳۲۴ )
۱۹۔ صحیح ابن حبان میں ہے لَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ۔ یعنی ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں (صحيح ابن حبان۔ المؤلف: محمد بن حبان البُستي (المتوفى: ۳۵۴ھ) جلد ۱۴ صفحہ ۷۴ حدیث نمبر ۶۱۹۴) اس کی دوسری روایت میں ابو داؤد کے الفاظ ہیں
۲۰۔ یہی الفاظ مسند شامیین میں بھی ہیں ( مسند الشاميين۔ المؤلف:۔ أبو القاسم الطبراني (المتوفى: ۳۶۰ھ) جلد ۴ صفحہ ۲۸۹ حدیث نمبر ۳۳۲۴)
۲۱۔ المعجم میں ہے۔ أَلَا إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَلَا رَسُولٌ، أَلَا إِنَّهُ خَلِيفَتِي فِي أُمَّتِي بَعْدِي (المعجم الأوسط۔ المؤلف: أبو القاسم الطبراني (المتوفى: ۳۶۰ھ) جلد ۵ صفحہ ۱۴۱حدیث نمبر ۴۸۹۸ )میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی رسول اور نبی نہیں۔ سنو وہ میرے بعدمیری امت میں میرا خلیفہ ہو گا(آزاد نبی نہیں ہوگا بلکہ میری شریعت پرعمل پیرا ہو گا )
۲۲۔ مستدرک حاکم میں ہے لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ نَبِيٌّ (المستدرك على الصحيحين۔ المؤلف: أبو عبدالله الحاكم (المتوفى: ۴۰۵ھ) جلد ۲ صفحہ ۶۴۸ حدیث نمبر ۴۱۵۳)
۲۳۔ السنن الواردة۔ المؤلف: عثمان بن سعيد الداني (المتوفى: ۴۴۴ھ) جلد ۶ صفحہ ۱۲۳۳حدیث نمبر ۶۸۴
اس سے معلوم ہوا کہ ابتدائی زمانہ کی کتب میں متعدد اسناد کے ساتھ مسیح کے نبی اللہ ہونے کی روایت موجود ہے۔
حدیث کی شروح میں ذکر
اس کے بعد کتب حدیث کی شروح کا ذکر ہے۔ جن بزرگوں نے مذکورہ بالا کتب کی شرح لکھی ہے یعنی وضاحت کی ہے ان میں تو ظاہر ہے یہ حدیث موجود ہے۔ لیکن جن کتب حدیث میں یہ حدیث بیان نہیں ہوئی ان کے شارحین نے بھی دجال اور یاجوج ماجوج کے حوالے سے اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔ مثلاًصحیح بخاری کی ایک شرح فتح الباری ہے بخاری میں یہ حدیث نہیں ہے مگر اس کے شارح نے یاجوج ماجوج والی احادیث کی تشریح کے لیے مسلم کی نبی اللہ والی حدیث کو درج کیا ہے۔
۱۔ فتح الباري شرح صحيح البخاري۔ المؤلف: أحمد بن علي بن حجر الشافعي۔ كِتَابُ الْفِتَنِ بَابُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ جلد ۱۳ صفحہ ۱۰۹ حدیث نمبر۷۱۳۵۔
۲۔ مسلم کی شروح میں سے بھی نمونہ کے طور پر ایک شرح کا حوالہ یہ ہے۔ إِكمَالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم۔ المؤلف: عياض بن موسى السبتي، (المتوفى: ۵۴۴ھ)جلد ۸ صفحہ ۴۸۶۔
۳۔ سنن ابن ماجہ کی شرح ہے۔ كفاية الحاجة۔ المؤلف: محمد بن عبد الهادي نور الدين السندي (المتوفى: ۱۱۳۸ھ) جلد ۲ صفحہ ۵۰۸۔ كِتَابُ الْفِتَنِ باب فِتْنَةِ الدَّجَالِ وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ حدیث نمبر۴۰۷۵۔
۴۔ سنن ابو داؤد کی شرح ہے۔ عون المعبود شرح سنن أبي داود،المؤلف: محمد أشرف بن أمير، العظيم آبادي (المتوفى: ۱۳۲۹ھ)کتاب الملاحم باب خروج الدجال جلد ۱۱ صفحہ ۳۰۲)
۵۔ یہ حدیث مشکوٰة المصابيح میں بھی ہے جسے حدیث کا انسائیکلو پیڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ مشكاة المصابيح۔ المؤلف: محمد بن عبد الله الخطيب (المتوفى: ۷۴۱ھ) جلد ۳ صفحہ ۱۵۰۷ کتاب الفتن باب العلامات بین یدی الساعۃ
۶۔ مشكوٰة المصابيح کی شروح میں بھی اس حدیث کی شرح کی گئی ہے۔ مرقاة المفاتيح۔ المؤلف: علي بن (سلطان) محمد الملا الهروي القاري (المتوفى: ۱۰۱۴ھ) كِتَابُ الْفِتَنِ۔ بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ حدیث نمبر۵۴۷۵۔
۷۔ شرح الطيبي على مشكاة المصابيح۔ المؤلف: الحسين بن عبد الله الطيبي (۷۴۳ھ) کتاب الملاحم باب العلامات بین یدی الساعۃ جلد ۱۱ صفحہ۳۴۵۷ )حدیث نمبر۵۴۷۵
دیگرکتب علماء اسلام
مسیح نبی اللہ والی حدیث صدیوں سے نقل در نقل ہوتی آئی ہے اور کسی نے اس کی صحت، اس کے مضمون یا مسیح کے نبی اللہ ہونے پر اعتراض نہیں اٹھایا۔ بڑے بڑے علماء نے اس کو اپنی کتب میں درج کیا ہے ان کی تعداد بیسیوں میں ہے ان میں مفسرین بھی ہیں،محدثین بھی اور علم کلام کے ماہرین بھی۔ قدیم بھی ہیں اور جدید بھی۔ ان میں سے صرف چند مشہور بزرگوں کی کتب پیش ہیں۔ ان کو زمانی لحاظ سے ترتیب دیاگیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ ہر زمانہ میں یہ حدیث مشہور رہی ہے۔
۱۔ الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم۔ المؤلف: محمد بن فتوح (المتوفى: ۴۸۸ھ) جلد ۳ صفحہ ۵۲۵
۲۔ تاريخ دمشق۔ المؤلف: أبو القاسم علي المعروف بابن عساكر (المتوفى: ۵۷۱ھ) جلد ۲ صفحہ ۲۲۰
۳۔ جامع الأصول في أحاديث الرسول۔ المؤلف : ابن الأثير (المتوفى : ۶۰۶ھ) جلد ۱۰ صفحہ ۳۴۱
۴۔ عقد الدرر في أخبار المنتظر۔ المؤلف: يوسف بن يحيى (المتوفى: بعد ۶۵۸ھ) باب ۱۲ في ما يجري من الفتن في خروج يأجوج ومأجوج جلد ۱ صفحہ ۳۶۳
۵۔ التذكرة بأحوال الموتى المؤلف: شمس الدين القرطبي (المتوفى: ۶۷۱ھ)جلد ۱ صفحہ ۱۲۹۱
۶۔ بغية المرتاد۔ المؤلف: امام ابن تيمية (المتوفى: ۷۲۸ھ) جلد ۱ صفحہ ۴۷۹
۷۔ لباب التأويل في معاني التنزيل۔ المؤلف: علاء الدين المعروف بالخازن (المتوفى: ۷۴۱ھ)جلد۳ صفحہ۲۴۳۔ زیر آیت انبیاء ۹۷
۸۔ تهذيب الكمال في أسماء الرجال۔ المؤلف: يوسف الكلبي المزي (المتوفى: ۷۴۲ھ) جلد۱۵ صفحہ ۲۲۵
۹۔ التمسك بالسنن المؤلف: أبو عبد الله محمد الذهبي (المتوفى: ۷۴۸ھ) باب تقسيم السنة إلى حسنة وسيئة من حيث اللغة جلد ۱ صفحہ ۱۱۱۔
۱۰۔ تفسير ابن کثیر۔ المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير (المتوفى: ۷۷۴ھ)جلد۲ صفحہ ۴۶۲۔ زیر آیت نساء ۱۶۰۔ ابن کثیر نے اور بھی کئی کتب میں ذکر کیا ہے۔
۱۱۔ اللباب في علوم الكتاب۔ المؤلف: أبو حفص سراج الدين عمر النعماني (المتوفى:۷۷۵ھ)جلد۱۲ صفحہ ۵۶۹۔ زیرآیت کہف ۸۴
۱۲۔ الفتح الكبير۔ المؤلف: جلال الدين السيوطي (المتوفى: ۹۱۱ھ) جلد ۲ صفحہ ۲۴۵۔ حدیث نمبر ۱۶۴۸۔ امام سیوطی نے کئی کتب میں ذکر کیا ہے۔
۱۳۔ تاريخ الخميس۔ المؤلف: حسين بن محمد بن الحسن الدِّيار بَكْري (المتوفى: ۹۶۶ھ) جلد ۱صفحہ ۱۰۵۔
۱۴۔ كنز العمال۔ المؤلف: علاء الدين الشهير بالمتقي الهندي (المتوفى: ۹۷۵ھ) جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۷۔
۱۵۔ السراج المنير۔ المؤلف: شمس الدين، محمد بن أحمد الخطيب (المتوفى: ۹۷۷ھ)جلد۲ صفحہ۴۰۸۔ زیر آیت کہف ۹۹۔
۱۶۔ دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين۔ المؤلف: محمد علي بن الصديقي الشافعي (المتوفى: ۱۰۵۷ھ)كتَاب الأمُور المَنهي عَنْهَا جلد ۸ صفحہ ۶۲۵۔
۱۷۔ لوامع الأنوار البهية۔ المؤلف: شمس الدين السفاريني (المتوفى: ۱۱۸۸ھ) فَصْلٌ فِي أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَعَلَامَاتِهَا۔ العلامة الرابعة خروج يأجوج ومأجوج جلد ۲ صفحہ ۱۲۰۔
۱۸۔ أحاديث في الفتن والحوادث۔ المؤلف: محمد بن عبد الوهاب التميمي النجدي (المتوفى: ۱۲۰۶ھ) باب: الدجال وصفه وما معه جلد ۱ صفحہ ۱۶۲۔ فرقہ اہل حدیث انہی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
۱۹۔ : التفسير المظهري۔ المؤلف: المظهري، محمد ثناء الله پانی پتی (المتوفى : ۱۲۲۵ھ) جلد۳ صفحہ ۳۱۱۔ زیر آیت انعام ۱۵۹۔
۲۰۔ التصريح بما تواتر في نزول المسيح۔ المؤلف: محمد أنور شاه الكشميري (المتوفى: ۱۳۵۳ھ )حدیث غير الدجال أخوفني عليكم۔ جلد ۱ صفحہ ۱۲۳۔
۲۱۔ معارج القبول بشرح سلم الوصول۔ المؤلف : حافظ بن أحمد الحكمي (المتوفى : ۱۳۷۷ھ) الْإِيمَانُ بِأَمَارَاتِ السَّاعَةِ جلد ۲ صفحہ ۶۹۸۔
۲۲۔ : أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن۔ مسلم کی دونوں سندوں سے درج کی ہے۔
المؤلف : محمد الأمين بن محمد الجكني الشنقيطي (المتوفى : ۱۳۹۳ھ) جلد۳ صفحہ۳۴۴۔ زیر آیت کہف ۹۹۔
۲۳۔ : إتحاف الجماعة بما جاء في الفتن والملاحم۔ المؤلف: حمود بن عبد الله التويجري (المتوفى: ۱۴۱۳ھ) ما جاء في فتنة الدجال جلد ۳ صفحہ ۵۳۔
۲۴۔ صحيح الجامع الصغير وزياداته۔ المؤلف: أبو عبدالرحمٰن محمد ناصر الدين الألباني (المتوفى: ۱۴۲۰ھ) جلد ۲ صفحہ ۷۶۶۔ علامہ البانی نے کئی کتب میں ذکر کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔
۲۵۔ : تعليق مختصر على كتاب لمعة الاعتقاد۔ المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين (المتوفى: ۱۴۲۱ھ) فصل: الإيمان بكل ما أخبر به الرسول جلد ۱صفحہ باب۱۰۹۔
یہ آخری حوالہ ۱۴۲۱ھ کا ہے یعنی ۱۵ ویں صدی ہجری اسلامی کے پہلے ۲۱ سالوں تک یہ عقیدہ تھا کہ مسیح نبی اللہ ہوں گے مگر اب ان کے امتی ہونے یعنی بغیر نبوت کے آنے کا عقیدہ تیزی سے پرورش پا رہا ہے لیکن اس زمانہ میں بھی جو لوگ احادیث پر نظر رکھتے ہیں وہ مسیح کے نبی اللہ ہونے کی احادیث درج کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کئی جماعت احمدیہ کے سخت مخالف ہیں۔ اس طویل ذخیرہ میں سے چند کتب کے نام درج ہیں
۲۶۔ الجموع البهية، المؤلف۔ أبوالمنذر محمود المنياوي۔ القيامة الصغرىٰ المؤلف: عمر بن سليمان الأشقر۔ أشراط الساعةالمؤلف: عبد الله بن سليمان الغفيلي۔ صحيح أشراط الساعة۔ المؤلف: عصام موسى هادي۔… أَركانُ الإيمانِ۔ جمع وإعداد: علي بن نايف الشحود۔ ۔ شرح لمعة الاعتقاد۔ المؤلف: أبو عبد الله، أحمد الحازمي۔ التفسير الحديث المؤلف: دروزة محمد عزت۔ موسوعة الصحيح المسبور من التفسير بالمأثور۔ المؤلف حكمت بن بشير۔ مندرجہ بالا تمام کتب کے حوالے حدیث کے آن لائن مجموعہ المکتبۃ الشاملہ میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
مسیح ؑ کس طرح کےنبی ہیں
یاد رہے کہ مسیح کا امت محمدیہ میں بطور نبی آنا ختم نبوت کے مخالف نہیں کیونکہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺپر کمالات نبوت تمام ہو گئے شریعت مکمل ہو گئی اخلاق عالیہ انتہا کو پہنچ گئے، آپ کا دور عالمگیر اور قیامت تک ہے۔ سب نبیوں کے فیض بند ہو گئے مگر آپ کے فیوض پہلے سے بڑھ کر جاری ہیں۔ اب ہر روحانی برکت آپ کے فیض اور اطاعت سے ملے گی۔ جن میں وحی اور الہام کا سلسلہ بھی ہے۔
جماعت احمدیہ کے عقیدے کے مطابق حضرت مسیح ناصریؑ جو بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے فوت ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نےامت محمدیہ میں مسیح کے رنگ میں آنے والے ایک موعود کی خبر دی جس نے کثرت مکالمہ و مخاطبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے امتی نبی کا نام پایا یعنی اللہ نے اس پر رسول اللہﷺ کی برکت سے کثرت سے وحی کی جس میں کثرت سے غیب کی خبریں شامل تھیں اور یہی نبی کے بنیادی معنی ہیں۔ اس نے یہی دعویٰ کیا کہ میں بغیر نئی شریعت کے دین محمدی کا خادم ہوں۔ رسول اللہ ﷺکا روحانی فرزند اور غلام۔ اور مسیح موعود کا یہی مقام بزرگان سلف بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو کتابچہ آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک بزرگان سلف کے ارشادات کی روشنی میں)
( www.alislam.org/ urdu.)
اس زمانہ میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑنے خدا سے حکم پا کر مسیح موعود اورعیسیٰ نبی اللہ ہونے کا اعلان کیا۔ آپ نے ختم نبوت اور مسیح کے نبی اللہ ہونے کے درمیان بظاہر نظر تضاد کو دور کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنین، خاتم العارفین اور خاتم النّبیّین ہے اور اسی طرح وہ کتاب اُس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپؐ پر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ یعنی وہ تمام کمالاتِ متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک نبیوں کو دیے گئے تھے۔ کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دیے گئے اور اس طرح پر آپ طبعاً خاتم النّبیّین ٹھیرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں، وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہوگئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھیرا۔ ( ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۱۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء )
مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے۔ مگر ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں۔(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰)
پھر فرمایا: ہزاروں اس امت سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔ سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو۔ آنحضرت کے بعد بھی آپ کی امت میں نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمت نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض موجود ہیں (الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۶ صفحہ ۳۸۸۔ ۳۸۹۔ زیر آیت خاتم النبیین )
اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت سید عبد القادر شعرانیؒ فرماتے ہیں: انبیاء کو نبی کا نام دیا گیا ہے اور ہم امتی لقب نبوت پاتے ہیں ہم سے النبی کا نام روکا گیا ہے باوجود یکہ خدا تعالیٰ ہمیں خلوت میں اپنے کلام اور اپنے رسول کے کلام کے معانی سے خبر دیتا ہے اور یہ مقام رکھنے والا انبیاء الاولیاء میں سے ہوتا ہے۔ (الیوقیت والجواھر جلد ۲ صفحہ ۳۹)
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے… میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشینگوئی کرنے والا اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے جیسا کہ صرف ایک پیسہ سے کوئی مالدار نہیں کہلا سکتا۔ سوخدا نے مجھے اپنے کلام کے ذریعہ سے بکثرت علم غیب عطا کیا ہے اور ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں اور کر رہا ہے۔ …عقل سلیم خود چاہتی ہے کہ جس کی وحی اور علم غیب اس کدورت اور نقصان سے پاک ہو اس کو دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ نہ ملایا جائے بلکہ اس کو کسی خاص نام کے ساتھ پکارا جائے تا کہ اس میں اور اس کے غیر میں امتیاز ہو۔ اس لیے محض مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لیے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا اور یہ مجھے ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے تا کہ ان میں اور مجھ میں فرق ظاہر ہو جائے۔ ان معنوں سے میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہو تاکہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا۔(مجموعہ اشتہارات جلد۳ صفحہ ۴۷۶۔۴۷۸)
الغرض وہ مسیح آ گیا جس کی محمد رسول اللہ ﷺ نے پیشگوئی کی تھی اور اس کی نبوت کامعاملہ بھی قرآن و حدیث سے حل ہو گیا کہ وہ ختم نبوت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی خادم اور متبع اور شان محمدی کو نمایاں کرنے والی ہے۔ وھو المقصود
مزید پڑھیں: نماز تراویح۔ طُول القُنوت کا آسان طریق




