صنعت و تجارت: ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کی بجائے اگر تجارت سے ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے غریب ملکوں کو بھی اس تحفظ کا احساس ہو کہ میرے وسائل، جو ہمارے ملک کے وسائل ہیں ہماری ترقی کے لئے خرچ ہوں گے، استعمال ہوں گے۔ اگر بین الاقوامی مدد ہے تو ملکوں کو یہ احساس ہو کہ یہ ہماری بھلائی کے لئے ہے نہ کہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے۔ پھر لیڈرز اپنے ملک کی دولت پر، مجموعی طور پر جو ملک کی دولت ہے، اس کو ایمانداری سے ملک کے مفاد کے لئے استعمال کریں تو فساد ختم ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے حقدار کو اس کا حق ادا کیا جائے تو شیطان کے مَس سے بچ سکتے ہیں۔ سودی نظام سے بچیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکتے ہیں۔ اگر دنیا اسے ہر سطح پر نہیں سمجھے گی تو پھر جنگ کی صورت رہے گی۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۰۸ء، خطبات مسرور جلد ۶صفحہ ۴۵۶)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




