رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف اور لیلة القدر کی فضیلت و اہمیت(حصہ اول)
رمضان کا مہینہ دیگر مہینوں سے ممتاز اور خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ماہ رمضان تمام مہینوں کا سردارہے۔ یوں تو پورا رمضان بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔لیکن رمضان کے آخری عشرہ کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَعَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَاِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالۡعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ(البقرہ:۱۲۶)ترجمہ: اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھرکو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوںکے لئے خوب پاک و صاف بنائے رکھو۔
اس آیت سے واضح ہے مسجد کو پاک صاف رکھا جائے، وہاں کسی قسم کی گندگی اور بد بودار چیز نہ ہو۔ یہ سنت انبیاء ہے۔ اس آیت سے یہ بھی واضح ہے کہ پہلی امتوں میں بھی رکوع سجود دونوں تھے۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت رسولؐ ہے اور ایک عاشق رسول ﷺ کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہر سال رمضان میں آنحضورﷺ دس دن اعتکاف فرماتے۔ وفات کے سال آپ ﷺنے بیس دن اعتکاف فرمایا۔(صحیح بخاری ۲۰۴۴)
عبادت کی غرض سے مسجد میں رہنا اعتکاف کہلاتاہے۔ اعتکاف کی حقیقت خدا تعالیٰ کے دربار میں پڑ جانے کا نام ہے۔ اعتکاف در اصل انسان کی اپنی عاجزی کا اظہار ہے اور خدا کے سامنے خود کو سپرد کردینے کا اعلان ہے۔
رمضان کی ۲۰؍تاریخ کو مسجد میں اعتکا ف کے لیے بیٹھنا سنت ہے اور جب عید کا چاند نظر آئے تب اعتکاف سے باہر آجا ئیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپﷺنے وفات پائی تو آپﷺ کے بعدآپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ (صحیح مسلم ۲۷۸۴)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ جب اعتکاف فرماتے تو آپؐ سر میرے قریب کر دیتے تو میں آپ کو کنگھی کر دیتی اور آپؐ گھر صرف حوائج ضروریہ کے لیے آتے۔(ابوداؤد کتاب الصیام۔باب المعتکف یدخل البیت لحاجتہ )
تو بعض لوگ اتنے سخت ہوتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ اعتکاف میں اگر عورت کا، بیوی کا ہاتھ بھی لگ جائے تو پتہ نہیں کتنا بڑا گناہ ہو جائے گا اور دوسرے یہ کہ حالت ایسی بنا لی جائے، ایسا بگڑا ہوا حلیہ ہو کہ چہرے پر جب تک سنجیدگی طار ی نہ ہو، حالت بھی بُری نہ ہو اس وقت تک لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ دوسروں کو پتہ نہیں لگ سکتا کہ یہ آدمی عبادت کر رہا ہے۔ تو یہ غلط طریق کار ہے۔تو یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اعتکاف میں اپنی حالت بھی سنوار کے رکھنی چاہیے اور تیار ہو کے رہنا چاہیے۔ اور دوسرے یہ کہ بیوی یا کسی محرم رشتے دارسے اگر آپ سر پر تیل لگوا لیتے ہیں یا کنگھی کروالیتے ہیں اس وقت جب وہ مسجد میں آیا ہو تو کوئی ایسی بات نہیں ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍اکتوبر ۲۰۰۴ءخطبات مسرور جلد۲ صفحہ۷۸۵)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مزید فرماتے ہیں:’’حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ بیمار کی عیادت کے لیے جا سکتے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نہیں نکلنا چاہیے۔ یہ بھی عین آنحضرتؐ کی تعلیم کے مطابق ہے۔حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ‘‘رسول اللہؐ بیمار پرسی کے لیے جاتے اور آپؐ اعتکاف میں ہوتے۔ پس آپؐ قیام کیے بغیر اس کا حال پوچھتے۔(ابو دا ؤد ۔کتاب الصیام باب المعتکف یعود المریض)
پھر اسی طرح ابن عیسیٰ کی ایک ایسی ہی روایت ہے۔ تو تیمارداری جائز ہے لیکن کھڑے کھڑے گئے اور آ گئے۔ یہ نہیں کہ وہاں بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرنا شروع کر دیا یا باتیں بھی شروع ہو گئیں۔ اور یہ بھی اس صورت میں ہے (وہاں مدینے میں بڑے قریب قریب گھر بھی تھے) کہ قریب گھر ہوں اور کسی خاص بیمار کو آپ نے پوچھنا ہو، اگر ہر بیمار کے لیے اور ہر قریبی کے لیے، بہت سارے تعلق والے ہوتے ہیں آپ جانے لگ جائیں تو پھر مشکل ہو جائے گا اور یہاں فاصلے بھی دور ہیں، مثلاً جائیں تو آنے جانے میں ہمیں دو گھنٹے لگ جائیں۔ اور اگر ٹریفک میں پھنس جائیں تو اور زیادہ دیر لگ جائے گی۔ یہ قریب کے گھروں میں پیدل جہاں تک جا سکیں اس کی اجازت ہے،ویسے بھی جانے کے لیے جو جماعتی نظام ہے وہاں سے اجازت لینی ضروری ہے۔ یہ مَیں باتیں اس لیے کر رہا ہوں کہ بعض لوگ اس قسم کے سوال بھیجتے ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍اکتوبر ۲۰۰۴ء خطبات مسرور جلد۲ صفحہ ۷۸۳-۷۸۴)
(جاری ہے)
(فہمیدہ بٹ۔جرمنی)




