دعائے مستجاب
حالتِ سجدہ کی ایک دعا
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات مَیں نے نبی کریمﷺ کو موجود نہ پایا تلاش کرتے ہوئے مسجد پہنچی تو آپؐ سجدہ کی حالت میں تھے پاؤں زمین پر سیدھے گڑے ہوئے تھے اور آپؐ یہ دعا کر رہے تھے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ،
وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
(مسلم کتاب صلوٰۃباب ما يقال في الركوع والسجود)
ترجمہ:اے اللہ! مَیں تیری ناراضگی سے تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور مَیںتیری (ناراضگی سے)تیری ہی پناہ مانگتا ہوں مَیں تیری تعریفوں کا شمار نہیں کرسکتا۔ تو ویسا ہے جیسے تو نے خود اپنی ذات کی تعریف کی ہے۔
(خزینۃ الدعا، مناجاتِ رسولﷺ صفحہ ۶۴-۶۳)
مزید پڑھیں: ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے




