متفرق مضامین

ایپسٹائن فائلز ۔ دجال کا ایک فتنۂ عمیق

ان ہتھکنڈوں کے خلاف بہترین تدبیر یہی ہے کہ ہم ہر طرح کی برائی سے دور رہیں اور اس کے لیے دل میں شدید نفرت رکھیں۔ اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں۔ اب یہ وقت اور یہ تدبیرصرف اس ایک معاملے کے ہی اثرات سے بچنے کو نہیں، بلکہ مکمل طور پر ہر قسم کی برائی سے بچنے کے لیےہے

یوں تو اس مضمون کی غرض یہ سمجھانا ہے کہ مذکورہ فتنےکی گہرائیوں میں اترنے سے باز رہا جائے اور اس سے بے خبری ہی اس فتنے کے خلاف ایک اچھی تدبیر ثابت ہوگی مگر اصل مدعا پہ آنے سے پہلے جو لوگ اس بارے بالکل نہیں جانتے انہیں یہاں اس فتنے سے متعلق اتنا باخبر کرنا لازم اور بہت ضروری ہے جتنا کہ کہیں اور سے ہو کر اس فتنے کے اصل جال میں ہی نہ جا پھنسیں۔ اور جیسا کہ آج جس قدر ذرائع ابلاغ موجود ہیں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص ایسا بھی رہ جائے جسے اس بارے میں کسی ذریعہ کوئی خبر نہ پہنچے۔ لہٰذا اس میں تضاد نہیں کہ کسی فتنے کے حتمی عزائم کو روکنے کے لیے اس فتنےکا وہ حصہ جو سب تک پہنچ کر رہنا ہے، اس کا ذکر کرکے اس سے بے خبر ہو جانے کا رستہ بتا دیا جائے۔

جیفری ایپسٹائن، فائلز اور کیس کا تعارف

جیفری ایپسٹائن محض ایک سرمایہ کار نہیں تھا؛ وہ جدید دور کے اخلاقی انحطاط کی ایک تاریک علامت بن کر ابھرا۔ ۱۹۵۳ء میں نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ شخص ابتدا میں تدریس کے شعبے سے وابستہ رہا، مگر جلد ہی مالیاتی دنیا میں داخل ہو کر غیر معمولی دولت اور اثر و رسوخ کا مالک بن بیٹھا۔ اس کی دولت کے ذرائع ہمیشہ پردۂ ابہام میں رہے، مگر اس کی سماجی رسائی غیر معمولی تھی۔سیاست دان، صنعت کار، دانش ور اور عالمی سطح کی شخصیات اس کے حلقۂ تعلقات میں دکھائی دیتی تھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس نے امریکی ریاست ورجین آئی لینڈز میں ایک نجی جزیرہ خریدا جو بعد ازاں کم سن لڑکیوں کے مبینہ جنسی استحصال کا مرکز قرار پایا۔ استغاثہ کے مطابق ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے نابالغ بچیوں کو بہلا پھسلا کر لایا جاتا اور انہیں بااثر افراد کے سامنے پیش کیا جاتا۔ ذرائع ابلاغ اور عوامی حلقوں میں اس جزیرے پہ نہ صرف کم عمر بچیوں کا جنسی استحصال بلکہ کئی بالکل ناقابل ذکر امور بھی ہونے کا چرچا پایا جا رہا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں اسے پہلی بار سزا ہوئی، مگر ایک متنازع معاہدے کے تحت وہ معمولی قانونی گرفت سے بچ نکلا۔

۲۰۱۹ء میں دوبارہ گرفتاری کے بعد جب وفاقی سطح پر سنگین الزامات عائد ہوئے تو اس کے روابط کی فہرست نے دنیا کو چونکا دیا۔ اس کے سماجی و کاروباری تعلقات میں امریکی صدر Donald Trump، مائیکروسافٹ کے شریک بانی Bill Gates، اور برطانوی شاہی خاندان کے رکن Prince Andrew سمیت متعدد بااثر نام سامنے آئے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ مختلف افراد کے خلاف الزامات کی نوعیت اور قانونی حیثیت مختلف رہی ہے، اور ہر نام کا ذکر کسی جرم کے ثبوت کے مترادف نہیں۔

اگست ۲۰۱۹ء میں وہ نیویارک کی وفاقی جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری موقف کے مطابق اس نے خودکشی کی، مگر اس واقعے نے دنیا بھر میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ کچھ وجوہات، جن کا باعث طوالت ذکر کرنا مناسب نہیں، یہ افواہیں بھی گردش میں آ رہی ہیں کہ ایپسٹائن اب بھی زندہ ہے یا زندہ نہیں تو اسے قتل کیا گیا ہے تاکہ مزید کوئی پول نہ کھل سکے۔ بعدازاں منظرِ عام پر آنے والی عدالتی دستاویزات، بیانات اور روابط کی تفصیلات کو عمومی طور پر ’’ایپسٹائن فائلز‘‘ کہا جانے لگا۔ یہ فائلیں محض ایک فرد کی مجرمانہ سرگرمیوں کا ریکارڈ نہیں بلکہ اس امر کی علامت ہیں کہ طاقت، دولت اور شہرت کے پردے میں کس طرح ایک فتنہ انگیز نیٹ ورک پنپ سکتا ہے۔ ایسا نیٹ ورک جو کمزوروں کا استحصال کرے اور برسوں تک احتساب سے محفوظ رہے۔ ابھی بھی یہ دستاویزات مکمل طور پہ نہیں بلکہ ادھوری شائع کی گئی ہیں۔

جالِ خفی

اس سوال پر غور کرنا اور اس کا جواب تلاش کرنا نہایت ضروری ہے کہ ایپسٹائن کی دستاویزات ساری دنیا کے سامنے عام کیوں کر دی گئیں؟ اس ضمن میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ان فائلز کو ساری دنیا کے سامنے صرف اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ وہ برائیاں جو اہلِ شیطان چھپ کے کر رہے تھے اب کھلے عام بھی کر پائیں اور باقی دنیا بھی اس میں ملوث ہونا شروع ہو سکے۔

پھر ایک فائدہ ناہنجار ابلیسوں کو یہ تو ہو ہی چکا ہے کہ ان کے وہ افکار جو ان برائیوں کو چھپانے میں خرچ ہورہے تھے، اب اگلے اقدام میں پیش ہوسکیں گے، سواب اپنے اصل عزائم یعنی سنگین برائیوں کو عام کرنے اور لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے میں آسانی سے کامیاب ہو پائیں گے جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔

اس بات کے ثبوت کے لیے آپ غور کیجیے کہ اگر تو اس سب سے دنیا میں کسی قسم کا انصاف قائم کرنا مقصود تھاتو اس بدعنوان نیٹ ورک کو کیفرِکردار تک پہنچانے کی بجائے اس کیس کا اس قدر سنگین مواد عوام کے سامنے کیوں پیش کردیا گیا؟ پھر وہی لوگ کہ جنہیں یہ دستاویزات مجرم بنا کر پیش کرتی ہیں، اگر چاہتے تو ان فائلز کو کبھی بھی سامنے نہ آنے دیتے لیکن اس کے بالکل برخلاف ہوا۔ پھر کچھ متاثرہ لوگ جو زیادتی کا نشانہ بنے تھے، فائلز سامنے آنے کے بعد ہی کیوں منظر عام پہ آنے لگے۔ ان اشکالات سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا برائی صرف وہی تھی جو ہوچکی اور ہمارے سامنے لائی گئی یا کہ کچھ برائی آگے کے لیے تیار کی جا رہی ہے؟ اور اتنی حساس دستاویزات کا شائع کیا جانا، آخر اس کے پیچھے وجہ کیا بنی اور ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی کہ یہ مواد عوام میں عام کیا گیا؟

دراصل لوگ اگر برائی کے کسی درجہ سے ناواقف رہیں، تو اسے اس درجہ پہ انجام نہیں دے سکتے، اور یوں دنیا میں اس کا عام ہونا بھی ممکن نہیں۔ اس لیے سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ دنیا اس برائی اور اس کے اعلیٰ ہونے سے مانوس ہو تاکہ اس کا وجود تسلیم شدہ کہلائے اور اس کا کم درجہ تو یوں ہی عام ہو جائے۔ چونکہ جب لوگ برائی کے ایک بڑے درجہ سے واقف ہو جائیں، تو اس کےچھوٹے درجات عام ہو جاتے ہیں۔ پھر جب کبھی وہ برائی ظہور پذیر ہوا کرتی ہے تو اس سے ہونے والی تنگی جو شروع میں صدمہ کی نوعیت کی ہوا کرتی تھی، گھٹتے گھٹتے ختم ہونے کو آ جاتی ہے۔ اور شیطان یوں اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔

ان دستاویزات کو سنسنی خیز بنا کر پھیلایا جانا اس نفسیاتی چال کا مرکزی حصہ ہے۔ انسان کو جو بات جتنا زیادہ حیران کرے وہ اس بارے اتنا ہی متجسس ہوتا ہے اور دماغ ایسی باتوں کی گہرائی تک جانے کی ہر سعی کرنے لگتا ہے۔ جس قدر کوئی بات عجیب ہوتی ہے، دماغ اتنا ہی اس کی تہ تک اتر کر اسے جاننے کی چاہ کرتا ہے۔ پھر جس قدر اس سے واقف ہوتا چلا جائے گا، اس قدر اس کا وجود تسلیم کرتا جائے گا اور جس قدر وہ اسے تسلیم کرلے گا، اس قدر اس کی حقیقت کو محسوس بھی کرنے لگے گا اور جس قدر محسوس کرے گا، اس قدر اسے عام سمجھنے لگے گا۔

ابھی اس معاملے میں دنیا کے لیے مزید تجسس کا خانہ یوں خالی چھوڑا گیا ہے کہ فی الحال یہ دستاویزات مکمل شائع نہیں کی گئیں۔ اور یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اسی لیے کیا گیا ہے کہ ذہن اس کے گرد مزیدجستجو میں رہیں اور پھر سے اس معاملےکو جب کبھی جی چاہے، توجہ کا مرکز بنایا جا سکے۔ برائی کو یوں مسلسل منظرِ عام پہ رکھنا کہ اس کا تجسس قائم رہے،برائی کی بقا کے لیے کام کرتا ہے اور آخر کار معاشرے کی غیرت کو مفقود کرتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو اس سازش کا یہ بھی ہے کہ لوگوں کا اس بات پر سے اعتماد ہی ختم کر دیا جائے کہ انسان برائی سے محفوظ بھی رہ سکتا ہے۔ اور اس کے لیے دنیا کے وہ چہرے تاریک کرکے دکھائے گئے ہیں جنہیں دنیا روشنی کا مرکز خیال کرتی ہے۔اس کے پیچھے یہ نفسیات ہے کہ جب ایسے لوگ جو ساری دنیا پہ ایک اثر رکھتے ہوں، کروڑوں کے لیے نمونہ بن چکے ہوں، دنیا ان کو بہت کامیاب انسان سمجھتی ہو، اور ایسوں کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعلِ راہ جانتی ہو اور اپنی کامیابی کے حصول کی خاطر ان کے نقشِ قدم پہ چلنے کی کوشش کرتی ہو، پھراچانک ایک دن دنیا کو ان کے بارےمیں معلوم پڑے کہ یہ سب کامیاب لوگ اپنی نجی زندگیوں میں انتہائی غلیظ ہیں اور کسی قسم کی خباثت سے پاک نہیں، تو دنیا پہ ایک نفسیاتی اثر ہوگا۔ وہ دنیا جو کامیاب ہونے کی راہ ان لوگوں کے جینے کے طور طریقے کو سمجھتی ہو، کس قدر بے بسی سے یہ سوچنے لگے گی کہ اگر اتنے ذہین سائنسدان، سیاستدان، امراء اور بڑے بڑے کامیاب لوگ بھی اس قدر سنگین خباثت کے مرتکب ہو سکتے ہیں، ہم تو پھر بہت عام لوگ ہیں۔ اگر اتنے بڑے بڑے لوگ ہی ان گناہوں سے پاک نہیں رہ سکتے تو پھر ہم کیا ہی شے ہیں، پھر ہم کیونکر برائیوں سے بچنے کو جان ماریں۔ وہ لوگ جو برائیوں کو ناکامی کا سبب خیال کرکے ان سے باز رہتے تھے، اب اس سبب کو بھول جائیں، اور یہ بھی دجال کی اس تحریک کے عزائم میں سے ہے جس سے عوام کے ذہنوں کو بے ایمانی تک لے جانے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس تمام تر بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حاضر دور میں دجال کی جانب سے کس قدر منظم جال بنے جا رہے ہیں۔

بچاؤ

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمیں اس سب پہ کیا کرنا ہے؟ تو اس سلسلے میں سب سے پہلے تو ہم کو یہ جان لینا ہے کہ یہ سب کچھ جو ان دستاویزات کے ذریعہ سامنے آیا ہے، اس کی ابتدا اب سے نہیں ہوئی بلکہ اس قسم کی برائیاں جہان میں قدیم سے ہوتی آئی ہیں۔ جس جس دور میں اور جس جس جگہ خبیث صفت درندوں کو خباثت کا موقع ملا ہے، تب تب اور اس اس جگہ برائی کی تمام حدود پہلے بھی پار ہوتی رہی ہیں۔ لہٰذا اس پہ اتنی حیرانی و پریشانی جو دنیا میں پھیل رہی ہے، بےسود ہے۔ اور ان فائلز کا سنسنی خیز بنا کر پھیلایا جانا بڑے درجہ کی برائیوں کو عام کر دینے کے لیے ایک سوچی سمجھی چال ہے تاکہ دنیا ان برائیوں سے زیادہ تر مانوس رہے اور اس کے خلاف ردِ عمل پہلے آہستہ آہستہ کم ہو اور پھر ختم ہی ہو جائے۔ یوں تو دجال اس چال میں کافی کامیاب بھی ہو رہا ہے مگر اب بھی ہم یہ قدم اٹھا سکتے ہیں کہ بجائے ان باتوں کی مزید تہ میں اتریں اور مزید سنسنی پھیلائیں، چاہیے کہ اپنے ربّ کی طرف رجوع کریں کیونکہ مومن کا کام برائی سے دور رہنا ہے نہ کہ اس کی تمام تر جہتوں کو جاننا شروع کر دینا۔ برائی کو تو جس قدر ٹٹولا جائے، اتنا ہی نفس میں شمولیت کی جگہ بناتی ہے۔ دجال کے ان ہتھکنڈوں کے خلاف بہترین تدبیر یہی ہے کہ ہم ہر طرح کی برائی سے دور رہیں اور اس کے لیے دل میں شدید نفرت رکھیں۔ اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں۔ اب یہ وقت اور یہ تدبیرصرف اس ایک معاملے کے ہی اثرات سے بچنے کو نہیں، بلکہ مکمل طور پر ہر قسم کی برائی سے بچنے کے لیےہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دجال کے ہر فتنہ سے نہ صرف بچائے بلکہ اس کا خاتمہ کرنے والوں میں سے بنائے۔ آمین

(ثاقب محمود)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تربیتِ اولاد اور رمضان ۔ تقویٰ کی عملی بنیاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button