خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری عسکری تصادم میں اس کے تین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جو اس تنازعے میں پہلی امریکی ہلاکتیں ہیں۔سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ مزید فوجی معمولی زخموں کے ساتھ دوبارہ ڈیوٹی پر جا رہے ہیں، جبکہ لڑائی جاری ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک اسرائیلی حملے میں دیگر اعلیٰ شخصیات سمیت مارے گئے۔ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اہداف پر راکٹ اور میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
٭…ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق صدر محمود احمدی نژاد تہران میں اسرائیلی و امریکی فضائی حملے میں اپنے محافظ سمیت ہلاک ہو گئے۔ ۶۹؍سالہ احمدی نژاد ۲۰۰۵ءسے ۲۰۱۳ء تک دو مرتبہ صدر رہے اور ابتدا میں قدامت پسند حلقوں کے پسندیدہ تھے، مگر دوسری مدت میں ان کی پالیسیوں پر مذہبی قیادت کو شکوک ہوئے۔ ان کی جوہری پالیسیوں کے باعث ایران پر عالمی پابندیاں لگیں اور معیشت متاثر ہوئی۔
٭…ایران کے سیکیورٹی چیف کے مطابق ایران اپنے جوابی حملوں میں خطے کے ممالک نہیں بلکہ خلیجی ریاستوں میں موجود امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ کارروائیاں اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد تیز ہوئی ہیں۔ سعودی عرب نے ایرانی میزائل حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے سفیر طلب کر لیا جبکہ متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک ہنگامی آن لائن اجلاس کر رہے ہیں۔ حملوں میں ایرانی انٹیلیجنس سربراہ غلام رضا رضائیان کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
٭…اسرائیل نے ایران پر دوسرے روز بھی فضائی حملے جاری رکھے، جن سے تہران میں زور دار دھماکے سنے گئے اور سرکاری عمارتوں کے قریب دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اسرائیل نے اعلان کیا کہ ایرانی قیادت اور فوج پر اس کے حملے نہیں رکیں گے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکہ کے فوجی اہداف پر میزائل حملے بڑھا دیے۔ ایرانی حکام کے مطابق تازہ حملوں میں ہلاکتیں ۲۰۰؍سے تجاوز کر گئیں۔ مسعود پزشکیان نے بتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عبوری تین رکنی قیادت نے کام سنبھال لیا ہے۔
٭…کراچی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کے دوران سینکڑوں افراد نے امریکی قونصل خانہ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس کی فائرنگ سے کم از کم نو مظاہرین ہلاک اور تقریباً بیس زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے عمارت کی کھڑکیاں توڑ دیں جبکہ پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ اسی معاملے پر لاہور، اسکردو اور اسلام آباد میں بھی احتجاج ہوئے، جہاں سیکیورٹی سخت کر کے سفارتی علاقے کی سڑکیں بند کر دی گئیں۔
٭…پینٹاگون نے امریکی کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر پہلے حملے کے کوئی واضح انٹیلی جنس شواہد موجود نہیں تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکام نے اعتراف کیا کہ پیشگی ایرانی حملے کے دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی، جس سے جنگ کے حق میں پیش کیا گیا ایک اہم موقف کمزور پڑ گیا۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ حملوں کا فیصلہ جزوی طور پر ممکنہ ایرانی پیشگی حملے کے خدشات پر کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اعلیٰ حکام کانگریس کو مزید تفصیلی بریفنگ دینے والے ہیں۔
٭…٭…٭




