سالکِ روم کی نوٹ بک
غلبۃ الروم کا نظارہ تواب ایک اور رنگ میں ظاہر بھی ہوچکا۔ اب جو اس گنبد پر لگی صلیب ہے، یہ علامتی ہے۔ جیسے دل ٹوٹ جانے سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ انسانی جسم میں لگا دل واقعی ٹوٹ گیا۔ نہ ہی ارادہ یوں ٹوٹا کرتا ہے کہ اس کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ملیں۔ وہ تو بس ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ اور صلیب بھی بس ٹوٹ چکی
[کچھ عرصہ قبل ہم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سفر کا ایک احوال شائع کیا تھا۔ اس نوٹ کے ساتھ کہ اس سالک کا نام بتانا ضروری نہیں، لہٰذا اسے سالک ہی کہہ لیتے ہیں۔ اب پیش ہے اسی سالک کی ایک اور نوٹ بک، جو سالک اس گزارش کے ساتھ شائع کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ اسے کوئی سفرنامہ خیال نہ کیا جائے۔ یہ محض ذاتی جذبات اور احساسات ہیں، جو رقم ہوتے چلے گئے۔ آصف محمود باسط۔ یوکے]لندن سے روم تک کی پروازقریب اڑھائی گھنٹے کی تھی۔ مگر اس دوران کوئی اگر اڑھائی صدیوں کے مختلف زمانوں کی بازگشت سنائی دیتی رہے اور مختلف ادوار کی جھلکیاں آنکھوں کے آگے کھیلتی رہیں، تو یہ وقت پلک جھپکتے میں گزرجانا کوئی بہت عجیب بات نہ تھی۔

ایک مسئلہ سالک کے لیے یہ ضرور تھا کہ پیچھے پوری دو صدیاں تھیں، مگرسامنے صرف دو دن۔ ان دو دنوں میں سے بھی روزانہ اسے کام کے لیے تین مختلف آرکائیوز میں جانا تھا۔ یوں دوپہر سے لے کر شام اور رات تک روم نوردی کے لیے چند گھنٹے بچتے تھے۔ مگر سالک کے لیے روم صرف کولوسیم اوررومن فورم کے سامنے کھڑے ہو کر سیلفی کھینچ لینے کا نام نہیں تھا۔ سفر سے پہلے کے کچھ ہفتے سالک نے اپنے کام کے سلسلے میں تیاری کرتے ہوئے گزارے تھے۔ کس ریکارڈ سے کیا حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کیسے؟
مگر ساتھ ساتھ اس نے روم کے بارے میں بہت کچھ پڑھا بھی تھا اور بہت سی معلوماتی ویڈیوز بھی دیکھی تھیں تا دوپہروں اور سہ پہروں کا محدود وقت بہتر طور پر استعمال ہوسکے۔ یوں ہر دو تیاریوں میں سے گزر کرروم اس کے لیے ایک الگ جہان بن چکا تھا۔ سو ایک جہان تھا جو دو دن میں دیکھنا تھا۔
روم کی خوبصورتی اور حسن و جمال کے قصے سب ایک طرف، جس خیال نے سالک کے دل کو گرفت میں لے لیا تھا وہ یہ تھا کہ روم کا ذکر قرآن کریم میں بھی مذکور ہے اور ایک سورت اس نام سے نازل ہوئی۔ یہ اور بات کہ اس سورت کے نزول کے وقت سلطنتِ روم کا ناطہ روم سے ٹوٹ چکا تھا اور سلطنتِ روم کی مشرقی باقیات اپنے جوبن پر تھیں۔ بالعموم اس سورت کا تعلق بھی سلطنتِ روم کی بازنطینی باقیات سے متعلق خیال کیا جاتا ہے، مگر سالک کے لیے یہ خیال ایسا تھا جس نے کئی ہفتے اس کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ اور روم میں وارد ہوجانے کے بعد اس خیال کی گرفت اور بھی مضبوط ہوتی گئی۔ کیا شان و شوکت والا شہر تھا۔ کیا ثروت و سطوت و الی سلطنت تھی۔ مگر پھر یہ کلمہ بھی تو کم پر ہیبت اور پر جلال نہ تھا کہ ’’غُلِبَتِ الرُّوۡم‘‘۔وہ بھی ایسے وقت میں جب روم کا سورج بڑی شان و شوکت سے چمک رہا تھا۔

سالک روم کے ہوائی اڈے سے کوئی پون گھنٹے کی مسافت طے کر کے ہوٹل پہنچا تو شام ڈھل رہی تھی۔ اس نے بغیر آرام کیے رات کے گہرا ہوجانے سے پہلے پہلے ان چند گھنٹوں کو بھی استعمال کرنے کا ارادہ کیا اور کمرے میں سامان رکھ کر ہوٹل سے باہر بغیر کچھ ارادہ کیے گلیوں میں بھٹکنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔
فروری کا مہینہ تھا اور یوں یہ کسی بھی سیاحوں کی بھرمار کا زمانہ نہ تھا۔ یورپ کے ممالک میں تعطیلات بالعموم ایک ہی وقت پر آتی ہیں۔ اور یورپ کے اندر ہی سیاحت کے لیے کسی اور ملک میں جانے کے لیےموسمِ بہار یا گرما کی تعطیلات موزوں خیال کی جاتی ہیں۔ فروری میں نہ تو بہار کا موسم تھا، نہ تعطیلات کا۔ مگر گلیوں میں لوگوں کا ہجوم اس بات کا پتا دیتا تھا کہ تعطیلات میں تو روم میں تِل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی ہوگی۔
جابجا ریستوران اور قہوہ خانے تھے جن کے بیرے باہر کھڑے ہانک لگاتے اور گاہکوں کو اپنے ڈھابے میں لے جانے کی کوشش کرتے۔ یہ سب ریستوران ساتھ ساتھ ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ آپ کسی بیرے کی باتوں میں آکر کرسی کھینچ کر بیٹھنے لگتے تو وہ کہتا کہ نہیں نہیں۔ یہ ساتھ والوں کی ہے۔ ہماری کرسیاں بس یہاں سے یہاں تک ہیں۔

وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں کہ When in Rome, do as the Romans do، تو سالک کے لیے بلکہ کسی بھی مسلمان کے لیے ان کی آدھی سے زیادہ کارگزاریاں تو محرمات میں سے ہیں۔ رہی کھانے کی بات تو آدھے سے زیادہ کھانے بھی مسلمانوں کے لیے ممنوع ہیں۔ مگر سالک طبعاً اس بات کا قائل ہے کہ جس ملک میں ہوں، انہی کا کھانا کھایاجائے۔ روٹی، سالن اور پلاؤ تو گھرمیں ملتا ہی ہے۔
سالک اطالوی مطبخ کے اس مرکز سے چلتا ہوا گزرتا گیا۔ بیروں کی لجاجت بھری دعوتیں اسے قائل نہ کرسکیں۔ سالک لکھتا ہے کہ زندگی کے تجربات نے اسے ایک گہرا سبق یہ سکھایا کہ جہاں خریدار کو لجاجت بھری marketing کی ضرورت ہو، وہ خالص نہیں ہوسکتی۔ وہ لکھتا ہے کہ روما تو اب کہیں ادھیڑ عمر میں جاکر آنا ہوا۔ عین جوانی میں لاہور میں رہتے ہوئے اس نے کئی بار سوچا تھا کہ اندرون شہر میں کوزی حلیم اور لنڈے بازار کے پاس سائیں کے کباب کا نہ کہیں اشتہار دیکھا نہ اس کے ہرکارے باہر کھڑے لوگوں کی داڑھیوں کو ہاتھ لگا لگا کر انہیں اندر آنے کی دعوت دیتے دیکھے۔مگر ان کے گاہکوں کا ہجوم بھی کبھی چھٹتے نہ دیکھا۔
سالک لکھتا ہے کہ اس نے یہی بات ہر سلسلے پر اطلاق پاتے دیکھی ہے۔ وہ Via del Lavatoreپر واقع ریستوران ہوں یا کوئی مذہبی یا فکری تحریک۔ جب اس کے حامی اور داعی سیلزمین بن جائیں، تو جان لیں کہ ان کی تمام دعوتیں محض اپنے مالک کی جیب بھرنے اور یوں اپنی تنخواہ کھری کرنے کی سعی ہیں۔ ورنہ ان کی ہانکوں میں کچھ روح ہے، نہ مغز۔
مگر ایک بیرے کا وار کارگر ہوگیا۔ وہ یوں کہ گلی ختم ہوئی اور سالک کو سامنے بڑا سا فوارہ نظر آیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ Trevi Fountain کے اس قدر قریب ہے کہ ایک ہوٹل سے دو چار موڑ اور ایک سیدھی گلی اس فنی شاہکار کے سامنے لا کھڑا کرے گی۔ فنِ تعمیر اور تخیل بلکہ فطرت اور ہنر کے اس حسین امتزاج نے سالک کی توجہ کو جذب کر لیا۔ ایسے میں ایک شخص اس کے قریب آکر آہستہ سے بولاکہ ’’اوپر ہماری چھت سے بہت اچھا نظارہ ہے۔ اور ساتھ پیزا ہم بہت اچھا بناتے ہیں۔ لیکن اگر بھوک نہیں ہے تو کافی پیو اور اس شاہکار کا جی بھر کے نظارہ کرو‘‘۔

یوں یہ بیرا، جو اپنے خریدار کو التجاؤں اور لجاجتوں کے ساتھ اپنے ریستوران میں نہیں کھینچ رہا تھا، سالک کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس بیرے کو معلوم تھا کہ اس کے مال میں دم ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ جو شخص فوارے اور فوارے کے مجسموں کو خود بُت بنا تکتا چلا جاتا ہے، اس کو کیا چھوٹی سی بات کہنی ہے کہ وہ دلیل تک مانگے بغیر قائل ہوجائے۔پس جہاں خالص مال ہو، سچی دولت ہو، وہاں صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں رہا کرتی۔ وہاں داعی ہرکارے اور سیلزمین نہیں بنا کرتے۔ بلکہ وقار سے اپنی بات بتاتے ہیں اور قائل کر لیتے ہیں۔
سالک لکھتا ہے کہ اگلی صبح اس نے بہت جلدی تیار ہوکر ویٹیکن آرکائیوز میں کام کے لیے جانا تھا۔ وہاں کا احوال الگ درج ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے بیان نہ کیا جائے کہ وہ وقت آنے پر خود بیان کرلے گا۔ فی الحال تو سالک اور روما کے رومان کا ذکر ہے، سو اسی تک رہتے ہیں۔

سالک ویٹیکن میں پہنچا اور لائبریری اور آرکائیو کا رخ کیا۔ مگر جہاں ٹیکسی نے اتارا تھا، وہاں پر سب سے پہلے اس کی نظر اس عظیم الشان عمارت پر پڑی جو St Peter’s Basilica کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سالک چلتا جاتا اور اس کے گرداگرد بنے برآمدے کے ستونوں میں سے اس کلیسا کا گنبد کبھی نظر آتا اور کبھی چھپ جاتا۔ ابھی صبح کے سات ہی بجے کا وقت تھا مگر وہاں لوگوں کا ہجوم بننا شروع ہوچکا تھا۔ سالک نے سوچا کہ جب تک وہ فارغ ہو کر یہاں آئےگا، معلوم نہیں وہ اس کے اندر جا بھی سکے گا یا نہیں۔ مگر اسے جو اپوائنٹمنٹ ملی تھی، وہ کئی ماہ کی کوششوں سے ملی تھی اور وہ اس پر کسی قسم کی بازی کھیلنے کو تیار نہیں تھا۔ سو وہ ویٹیکن کے مرکزی دفاتر کے گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
بڑی ترنگ میں قدم اٹھاتا گیٹ پر پہنچا ہی تھا کہ اسے ایک گارڈ نے روک لیا اور پوچھا کہ کہاں بھئی۔ اس سے آگے جانے کی اجازت نہیں۔ سالک نے اسے وہ ای میل دکھائی جس میں اسے اپوائنٹمنٹ دی گئی تھی۔ اس پر گارڈ نے اسے ایک کمرے کی طرف بھیج دیا۔ یہاں سالک کا پاسپورٹ رکھ لیا گیا اور اسے ایک کارڈ جاری کردیا گیا اور ساتھ ہی آرکائیو کا راستہ بھی بتادیا گیا۔

ساڑھے تین گھنٹے کام کرنے کے بعد سالک آرکائیو کی عمارت سے نکلا تو چند قدم دور سینٹ پیٹر سکوائر کا رخ کیا۔ یہاں جو ہجوم صبح جمع ہوتا نظر آیا تھا، وہ اب ایک بہت بڑے ہجوم اور ساتھ ہی ایک بے حد لمبی قطار میں تبدیل ہوچکا تھا۔ قطار اندر جانے کے خواہش مند سیاحوں کی تھی اور سالک بھی ان کی خواہش میں برابر کا شریک تھا۔ ایک کارندے نے بتایا کہ اس قطار میں دو سے تین گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔مگر سالک کے پاس باقی بچے ہوئے ڈیڑھ دن میں سے اتنے گھنٹے صرف ایک قطار کے لیے نکال لینا مناسب نہ تھا۔ یہ جان کر اس کارندے نے بتایا کہ تھوڑے سے پیسے خرچ کرلو اور ٹکٹ لے لو۔ اس قطار میں کوئی انتظار نہیں۔
ٹکٹ خریدنے کھڑکی پر پہنچا تو کارندے نے پوچھا : ’’گنبد میں بھی جاؤ گے؟ ‘‘
اثبات میں جواب سن کر اس حساب سے ٹکٹ بنا دیا گیا۔ اب کوئی قطار نہیں تھی۔ البتہ سالک کی ترجیحات بدل چکی تھیں۔ سینٹ پیٹر کا عظیم الشان کلیسا دیکھنے کی تمنا اب دوسرے درجے پر تھی۔ پہلی ترجیح اس بلند و بالا کلیسا کے گنبد پر پہنچنے کی بن چکی تھی۔ سالک نے صبح پہلی نظر جب اس کلیسا کی دھوپ میں چمکتی گراںڈیل عمارت پر ڈالی تھی، تو اس کی نظر گنبد پر لگی صلیب پر اٹک گئی تھی۔ اور جب کام ختم کر کے دوبارہ اس کلیسا کے سامنے آیا تھا تو اس کی نظر وہیں جا کر اٹک جاتی رہی۔ صلیب عیسائیت کی سب سے معروف علامت تو ہے ہی،مگر وہ صلیب جو پاپائے روم کے محل اور کلیسا پر لگی ہے، وہ عیسائیت کا فخر اور سر کا تاج ہے۔ مگر اس صلیب میں کیا تھا جو سالک کو اپنی طرف بلاتا تھا۔
سالک کے قدم اسے کلیسا میں لے گئے۔ وہ فوراً گنبد پر جانا چاہتا تھا مگر کلیسا کے اندر قدم کیا پڑا، گویا دبستاں کُھل گیا۔ داخل ہوتے ہی چھت کی طرف نظر اٹھی تو واپس آنے سے انکار کرنے لگی۔ کیا ہی خوبصورت فنِ نقاشی کا نمونہ تھی پوری چھت۔ داخلی دروازے کے داہنے ہاتھ La Pieta کا مشہورِ زمانہ مجسمہ تھا۔ جسے مائیکل اینجلونے بنایا تھا۔ گویا حضرت مریمؑ اپنی گود میں اپنے بیٹے عیسیٰ ؑکے صلیب سے اترے جسم کو لیے بیٹھی ہیں۔ ماں کا دکھ۔ معصوم مظلوم کا دکھوں سے چُور جسم۔ دونوں خاموش، مگر جذبات دکھی دھنوں میں گنگناتے ہوئے۔

جہاں تک فنی شہ پارہ ہونے کی بات ہے۔ تو کیا ہی بات۔ مگر سالک کسی اور خیال میں تھا۔ اس کے ذہن میں مذہبی علامتیت یا religious symbolism سے متعلق خیالات گردش کررہے تھے۔ ہر مذہب میں اس کے عقائد سے متعلق علامات ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مگر ان علامات کے گرد پراپیگنڈا انہیں کچھ کا کچھ بنادیتا ہے۔ یہ اطالوی فن کاروں کا ہی تحفہ تھا جنہوں نے عیسیٰؑ کی قومیت کو تبدیل کردیا۔ ایک فلسطینی نژاد کو کب سنہرے بال دے دیے گئے۔ وہ بال گھنگریالے سے کب سیدھے پٹے بن کر ان کے شانوں تک آنے لگے۔ کب ان کے مصلوب جسم کو ایک جدید دور کے نوجوان کی خواہش کی طرح six pack والا جسم دے دیا گیا۔ اس بارے میں اب کوئی نہیں سوچتا۔ یہ ہے فن کی طاقت کہ جب یورپ نے عیسائیت کی گرتی دیوار کو تھامنا چاہا، تو ان علامات، بالخصوص مریم اور ابنِ مریم کو یورپی رنگ ڈھنگ اور بُو باس دے کر انہیں وہ بنادیا جو وہ نہیں تھے۔ بس یہ یورپی آنکھ کو مانوس لگتے تھے اور یورپی جمالیات کے تصور پر پورا اترتے تھے۔ اسی طرح کلیساؤں کو رنگین شیشوں سے مزین کیا گیا تا جو روشنی اندر چھن کر آئے، وہ غیر مرئی محسوس ہو۔ چھتیں اس قدر بلند کر دی گئیں کہ سرگوشی بھی یوں گونجے گویا فلک سے آتی کوئی آواز ہو۔ کلیسا کی عمارت ایسی بلند ہو کہ آپ گردن کو جتنا بھی اوپر کو موڑ لیں، آپ کی آنکھ اس کا احاطہ نہ کرسکے۔اوریوں کلیسا کی ظاہری عمارت بھی کہیں افلاک میں کھو جاتی ہوئی دکھائی دے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ سالک گردن اٹھا کر نہیں بلکہ اس عمارت کے بلند ترین مقام پر جاکر اسے نیچے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ نہیں کہ اسے دوسرے مذاہب کا احترام نہیں۔ بس وہ اس انسانی کوشش کو شکست دینا چاہتاتھا جس میں مذہبی علامات کو فنی نقش و نگار اور پیچ و خم کا بگھار لگا کر انسان کو اس مذہب میں قید رکھنے کی کوشش کی گئی۔ کوشش تو ناکام گئی، مگر فنی شاہکار باقی رہ گئے۔ مگر کچھ اور بھی تھا جو سالک کو گنبدکی بلندی کی طرف کھینچتا تھا۔
گنبد پر جانے والے راستے پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ۴۵۰؍فُٹ بلند اس گنبد پر جانے والی لفٹ کام نہیں کررہی تھی۔ یوں بھی لفٹ صرف کلیسا کی چھت کے اوپر تک لے جاتی ہے۔ گنبد کی تمام بلندی خود ہی پیدل سر کرنا ہوتی ہے۔ ساڑھے پانچ سو سیڑھیاں۔ سالک نے ایک بار تو پلٹ جانے کا سوچا۔ مگر کچھ تھا جو اسے پہلی سیڑھی تک لے گیا۔ اس کے قدم خود بخود اٹھنے لگے۔ سیڑھیاں خاصی کشادہ تھیں جس سے اسے حوصلہ ملا اور وہ قدم اٹھاتا گیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ ہر منزل کے ساتھ سیڑھیاں تنگ ہوتی جائیں گی۔ اور گنبد کی دیوار کی گولائی سیڑھیوں پر تنگ ہوتی جائے گی۔ اور ایک ایسا مقام آئے گا جہاں سالک ہمت ہار جائے گا۔

سالک ایک منزل پر رک گیا۔ سانس بھی پھول گیا تھا۔ سیڑھیاں بھی اس قدر تنگ ہو گئی تھیں کہ اسے claustrophobia کا احساس بھی ہونے لگا تھا۔ مگر یہ احساس ہر دو جانب قدم اٹھانے میں تھا۔ اس نے واپسی کے لیے قدم اٹھایا تو بھی یہ احساس نہ گیا۔ وہ اپنی غلطی پر پچھتاتا واپسی کو بڑھا ہی تھا کہ واپسی بھی ناممکن ہوگئی۔ کچھ تو کلاسٹروفوبیا اور کچھ یہ کہ ان تنگ ترین سیڑھیوں پر ایک تنومند خاتون اوپر چڑھی آتی تھی۔ گویا سیڑھیاں واپس جانے والوں کے لیے بند تھیں۔ خاتون نے ہانپتے ہوئے پوچھا: ’’واپس جانا ہے؟ ‘‘ اور پھر ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ سالک کو کیسے راستہ دیا جائے۔ کیونکہ دونوں کے ایک دوسرے کے ساتھ سے گزرنے کا کوئی شریفانہ راستہ نہ بچا تھا۔ پھر یکدم اس خاتون نے اس کی مشکل حل کر دی:’’دیکھو اگر میں اوپر جاسکتی ہوں، تو تم بھی جاسکتے ہو!‘‘
اور سالک جیسے تیسے اوپر کی طرف رواں دواں تھا۔ گنبد کے سرے تک پہنچتے پہنچتے سیڑھیاں تنگ ترین ہو گئیں اور ایک آدمی بھی سیدھا نہیں، بلکہ آڑا ترچھا ہو کر گزسکتا تھا۔ سالک لکھتا ہے کہ اللہ بھلا کرے اس خاتون کا۔ ورنہ روم روز روز کہاں آنا ہوتا ہے کہ آدمی پھر کسی وقت یہ معرکہ سر کرلے۔
سالک کے سامنے سارا روم بچھا ہوا تھا۔ روم کی سب تاریخی عمارات اور عجوبے اس کے سامنے تھے۔ چاروں طرف بہت حسین نظارہ تھا۔ اب تو بس مشہور تاریخی مقامات پر جانے کی ضرورت صرف اس قدر تھی جس قدر ان سیاحوں کو ہوتی ہے جنہیں ان عمارات کے سامنے کھڑے ہو کر سیلفی لینی ہو اور انسٹاگرام پر سب کو بتانا ہو کہ
’’Been there! Done it!‘‘
مگر یہ نظارہ بھی اس احساس کے سامنے ماند پڑتا تھا جو سالک کو اپنی مرضی اورسیڑھیوں میں پیدا ہونے والی گھبراہٹ کے باوجود اس صلیب سے قریب تر لے آیا تھا جو اس گنبد کے اوپر نصب تھی۔ اب وہ اس سے قریب تر ین تھا۔ وہ بہت سا وقت گنبد پر بنی گیلری میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر جاتا رہا۔ سامنے پورا روم بچھا تھا۔ وہ روم جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک دن میں نہیں بن گیا تھا۔ روم کے ساتھ وہ صدیاں بھی سالک کے سامنے بچھی تھیں جن میں روم بنا تھا۔ اور وہ سوچتا تھا کہ روم ایک دن میں بنتا نہیں تو ایک دن میں ٹوٹتا بھی تونہیں۔

کتنی صدیاں لگیں سلطنتِ روم کو بنتے بنتے۔ پھر عروج حاصل کرتے۔ مگر پھر پہلے مغربی بازو مفلوج ہوئی اور بازنطینی یعنی مشرقی بازو باقی رہ گئی۔ پھر وہ بازو بھی سلطان محمد الفاتح نے سلطنتِ عثمانیہ کے وجود کا حصہ بنا لی۔ اور سمجھا گیا کہ غلبۃ الروم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔
مگر سالک اس پیشگوئی کو معمولی خیال نہ کرتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ آیت، یعنی غلبۃ الروم، تب نازل ہوئی جب ساسانیوں کو رومیوں پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ یہ قریب ۶۱۵ء کی بات ہے۔ جب مکہ میں ایک نئی آسمانی کتاب نازل ہو رہی تھی اورمٹھی بھر لوگ اس پر ایمان لا چکے تھے۔ ان پر مشرکین بے پناہ مظالم توڑ رہے تھے۔ ایسے میں یہ چھوٹی سی جماعت اپنے نبیؐ کے حکم پر حبشہ ہجرت کرجانے کی تیاری میں تھے۔ حبشہ میں سلطنت اکسوم کی علمداری تھی جو عیسائی تھی اور رومی پشت پناہی پر پنپتی تھی۔ ایسے میں رومیوں کو جب شکست ہوئی تو مکہ کے مشرکوں نے جشن منائے کہ یہ اہل کتاب کاخدا تو اپنے ماننے والوں کے لیے کچھ بھی نہ کرسکا۔ پس تم جو نئی کتاب کے ماننے والے ہو، تم بھی اسی طرح بے آسراہو اور اسی طرح شکست کھاؤگے۔ اس پر ابوبکر صدیقؓ نے ابوجہل سے شرط لگائی کہ یہ پیشگوئی تین سال کے اندر اندر پوری ہوگی۔ رسول اللہؐ کے علم میں بات آئی تو آپ نے توجہ دلائی کہ بضع سنین کے الفاظ نو برس پر اطلاق پاتے ہیں۔
ایسے میں یہ آیات نازل ہوئیں کہ اگرچہ رومی مغلوب ہوگئے، مگر سَیَغۡلِبُوۡنَ میں خوش خبری دے دی کہ وہ جلد غالب آئیں گے۔ پس ایک عیسائی سلطنت میں پناہ لینا جب کہ بظاہر دانش مندانہ اقدام نہ لگتا تھا، اس حوصلہ افزا پیش خبری سے فیصلہ برقرار رکھا گیا اور یوں ہجرتِ حبشہ واقع ہوگئی۔
پھر ساسانیوں اور رومیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور بہت سے اتار چڑھاؤ آئے، یہاں تک کہ شاہِ روم ہرکولیس نے ساسانیوں کو شکست دے دی اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا۔ یہ واقعہ غزوۂ بدر کے موقع پر پیش آیا اور یوں دونوں اہلِ کتاب گروہ فتح مند ٹھہرے اور خدا تعالیٰ کی دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ یعنی سَیَغۡلِبُوۡنَ کے مطابق رومی فتح یاب ہوئے اور اسی روز بدر کے معرکہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور یَفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ کے الفاظ بھی پورے ہوگئے۔
مگر سالک نے اپنے مرشد سے یہ سیکھ رکھا تھا کہ کبھی بھی قرآنی پیشگوئیوں کو محدود نہ سمجھا جائے۔ پس وہ اس پر شوکت پیشگوئی کو بھی ماضی تک محدود نہیں کرپارہا تھا۔ اس کا ذہن روم کو علامت سمجھتا تھا مغربی تہذیب و تمدن کی۔ جو اس وقت تمام دنیا پر غلبہ پا چکا ہے۔ روم لاکھ عیسائیت کا مرکزی مقام ہو،عیسائیت تو دم توڑ چکی ہے۔ مگر تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے مغربی دنیا آج بھی روم کے طلسم سے آزاد نہیں۔ جدید قومی ریاستوں کی بنیاد رومی ریپبلکن نظام پر ہے۔ یورپی زبانیں آج بھی لاطینی زبان کی مرہون منت ہیں۔ رومی مذہب یعنی عیسائیت کے عقائد کے نتیجے میں جس دہریت نے جنم لیا، وہ بادِ سموم مغرب بھر میں آزادانہ چلتی ہے اور مغربی طرز فکر اسی لادینیت پر استوار ہے۔
سالک کو اچانک اس صلیب کا خیال آگیا جو اب اس کے بہت قریب تھی۔ مگر اس کے نبی ؐنے کہا تھا کہ آخری وقتوں میں صلیب ٹوٹ جائے گی۔ مسیحؑ خود اس صلیب کو توڑ دے گا۔ اسے خیال آیا کہ صلیب تو ٹوٹ چکی ہے۔ غلبۃ الروم کا نظارہ تواب ایک اور رنگ میں ظاہر بھی ہوچکا۔ اب جو اس گنبد پر لگی صلیب ہے، یہ علامتی ہے۔ جیسے دل ٹوٹ جانے سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ انسانی جسم میں لگا دل واقعی ٹوٹ گیا۔ نہ ہی ارادہ یوں ٹوٹا کرتا ہے کہ اس کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ملیں۔ وہ تو بس ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ اور صلیب بھی بس ٹوٹ چکی۔ سالک کو جیسے حق الیقین کی ضرورت تھی۔ اس کے قدم ان تنگ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے جو اسے واپس زمین پر اورعیسائیت کے افسانے سے زمینی حقائق کی طرف لے جانے والی تھیں۔
شام کا کچھ وقت سالک نے اگلے روز کی تیاری کرتے ہوئے گزارا، اورکچھ وقت باہر گلیوں میں گھوم کر اور کھانا کھانے میں صرف ہوا۔ اس کی تفصیل ضروری نہیں۔
اگلے روز بھی سالک کے دن کا آغاز بہت صبح سے ہوگیا۔ آج وہ اٹلی کے مرکزی آرکائیوز میں گیا۔ وہاں پر خاطر خواہ نتائج نہ نکلے مگر وقت بہت سا لگ گیا۔ اس ملال اور ذہنی تھکاوٹ میں وہ اپنی اگلی منزل کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ ٹیکسی میں بیس پچیس منٹ کا سفر طے کر کے وہ اصحابِ کہف کے غاروں کے سامنے موجود تھا۔ ٹکٹ لیا اور انہوں نے ساتھ ایک گائیڈ خاتون بھی کر دی۔ گائیڈ کی سہولت آپ کو بن مانگے ملتی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ زائر کے فائدے سے زیادہ ان کے اپنے فائدے کے لیے ہے کیونکہ غاروں کے اندر تصویر کھینچنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ مگر زائر کا فائدہ ہی ہے کیونکہ قریب ۱۷؍کلومیٹر پر محیط ان غاروں میں جو چار منزلیں ہیں وہ عام منزلوں کی طرح نہیں۔ وہاں تو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے راستہ نیچے نکل گیا اور کب دوبارہ آپ کسی اوپر کی منزل میں آپہنچے اور یہ بھول بھلیاں یوں ہی چلتی رہتی ہیں۔
ان غاروں یعنی catacombs میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ایک چرچ ہے۔ یہ غار دوسری صدی عیسوی سے عیسائیوں کی پناہ گاہ تھے۔ ان پر شاہِ روم کے مظالم نے حقیقی معنوں میں زمین تنگ کررکھی تھی اور وہ ان غاروں میں پناہ لیتے اوراپنے مردے بھی یہیں زیر زمین دفنا یا کرتے تھے۔
یہاں سالک کے کانوں میں قرآن کی کچھ اور آیات گونجنے لگیں جن میں روم کا نام لے کر ذکر تو نہیں، مگرروم کے ان پوشیدہ غاروں کی طرح بین السطور روم کا ذکر موجود ہے۔ سورۃ الکہف میں خدا تعالیٰ رسول اللہؐ کو مخاطب کرتا ہے، اور آپ کے تعجب کا حوالہ دیتا ہے ان عیسائیوں کےبارے میں جو ان غاروں میں پوشیدہ ہوگئے تھے۔ قرآن انہیں اصحاب کہف تو کہتا ہی ہے مگر اصحاب الرقیم بھی قرار دیتا ہے۔
سالک نے اپنے نبیؐ کے قُرب کو محسوس کیا۔ کیونکہ وہ بھی ان غاروں میں نیچے کی طرف اترتا جاتا اور ورطۂ حیرت میں ڈوبتا چلا جاتا۔ روم تو اوپر کہیں رہ گیا تھا۔ یہاں تو تاریکی تھی۔ گھٹن تھی۔ نمی اور ٹھنڈ کا احساس تھا۔ دیواروں میں بنی خالی قبریں تھیں۔ ان قبروں کے گردکچھ تصاویر تھیں۔ سالک ان تصاویر کو دیکھتا ہوا گائیڈ کے پیچھے چلتا چلا جاتا۔ ’’کیا یہ تصاویر دو ہزار سال پہلے بنی تھیں؟‘‘
’’ہاں!‘‘۔گائیڈ کے لیے یہ عام سی بات بن چکی تھی۔ سالک نے ان تصاویر کو چھوا تو خود کودوہزار سال پہلے کے زمانہ میں پایا۔ ان قبروں کے بیچوں بیچ بیٹھ کر اصحابِ کہف نے جو خوف اور دکھ محسوس کیا ہوگا، وہ ان تصویروں کے نقش و نگار میں دھڑک رہا تھا۔ مگر اس عزم کو بھی سالک نے محسوس کیا جس نے بے پناہ خوف کے باوجود بھی ان ابتدائی عیسائیوں کو استوار کیے رکھا۔اس کے کانوں میں ان دعاؤں کی پراسرار آوازیں گونجنے لگیں جو ان عیسائیوں نے ان تاریکیوں میں اپنی بے بسی کا واسطہ دے کر خدا کے حضور پیش کی ہوں گی۔
ان تصاویر میں زیادہ تر جنت کی خواہش کو نقش و نگارمیں ڈھالا گیا تھا۔ زیتون کی شاخ، پھول، خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بزرگان جو گویا مردے کا استقبال کررہے ہیں۔ سالک کویہ تصاویر کچھ عجیب لگ رہی تھیں، مگر اسے سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ عجیب بات کیا ہے۔ پھر ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اوراس نے گائیڈ کو پوچھ ہی لیا:’’ان تصویروں میں نہ عیسیٰؑ ہیں نہ مریم! نہ ان میں صلیب دکھایا گیا ہے۔یہ تو عیسائی نقاشی لگ ہی نہیں رہی؟‘‘
’’ہاں! یہ عیسائی عیسیٰؑ کی تصویر نہیں بناتے تھے۔ نہ ان کی والدہ مریم کی۔اور صلیب کو تو یہ لعنتی موت کی علامت خیال کرتے تھے۔‘‘
گائیڈ خاتون نے بڑے آرام سے یہ بتادیا اور مزید معلومات دیتے ہوئے کسی نچلی منزل کی طرف اتر گئی۔ سالک بھی ساتھ تو ہولیا، مگر اس کا ذہن اس بات میں اٹک گیا۔ یہ عیسائی تثلیث کے قائل نہ تھے۔ نہ عیسیٰؑ کی شبیہ بنانے کے قائل تھے۔ کہیں دو صدیوں بعد عیسیٰؑ کی تصویر بنائی تو ایک نوجوان لڑکے کے طور پر، وہ بھی کچھ اس طرح کے اس کے گرد بھیڑیں بنادیں تا کنایۃً معلوم ہو جائے کہ یہ good shepherd، یعنی عیسیٰ ؑکی طرف اشارہ ہے۔
سالک انہی خیالات میں الجھا ہوا تھا کہ گائیڈ نے اس کی توجہ چاہی۔’’اب یہ دیکھو۔ یہ ایک بچی کی قبر ہے۔ اس کا نام سنگ مرمر کی اس شکستہ تختی پر کرسٹینا درج ہے۔‘‘وہ یہ کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی کہ سالک نے اسے روک لیا۔
’’یہ اس پر کتے کا نقش کیوں کندہ ہے؟‘‘
اس نے قریب ہو کر دیکھا، اور کندھے اچکا دیے۔ ’’ہوسکتا ہے بچی کو اپنے پالتو کتے سے پیار ہو…‘‘
مگر یہ کتا جو اپنی ٹانگیں آگے کو پھیلائے ہوئے تھا، سالک کے لیے عام پالتو کتا نہ تھا۔ یہ یقیناً ان پالتو کُتوں کا عکاس تھا جو اصحابِ کہف اپنی حفاظت کے لیے رکھا کرتے۔ اور جس کی شہادت قرآن نے دی ہے۔ ان غاروں پر تحقیق کرنے والے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ ان غاروں میں بہت سے کتوں کے بھی مدفن ملے ہیں۔ بعض لوگوں کی قبروں میں ان کے ساتھ کسی کتے کا چھوٹا سا مجسمہ بھی سپردِ خاک کردیا جاتا جوان کی حفاظت کے خیال سے کیا جاتا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کتے حفاظت کی غرض سےرکھے جاتے تھے۔ اس کا ثبوت اس ۲۰۰۰؍سال پرانے mosaic سے بھی ملتا ہے جس پر کتے کی تصویر بنی ہے اور ساتھ لاطینی میں عبارت درج ہے:“cave canem”، جس کا مطلب ہے کتے سے ہوشیار۔یہ موزیک اسی زمانے کا ہے جب اصحابِ کہف غاروں میں پناہ گزین تھے۔
غار سے نکل کر سالک کو گائیڈ نے اسی چرچ میں چھوڑ دیا اور اسے رخصتی کلمات بولے۔ مگر سالک نے کچھ دیر اس کلیسا میں رکنے اور تنہا وقت گزارنے کی اجازت چاہی۔ گائیڈ اسے باہر جانے کا راستہ دکھا کر رخصت ہو گئی تو سالک نے بہت ہلکی سی آواز میں سورۃ الکہف کی تلاوت کی۔
سالک لکھتا ہے کہ اصحابِ کہف کے کہف میں بیٹھ کر سورۃالکہف کی تلاوت اور اس کے معانی پر غور کرنا ایک ایسا تجربہ تھا جسے بیان نہیں کیا جاسکتا، مگر ساری عمر اس کے ساتھ رہے گا۔اور اس کے ساتھ رہے گی اس آتش فشانی مٹی کی داستان گو مہک جس میں یہ ہزاروں سال پرانی سرنگیں آج بھی قائم ہیں۔ اور ساتھ رہیں گی خداتعالیٰ کی توحید اور تمجید بیان کرتی ان دعاؤں کی گونج جو ان غاروں میں گھومتے سالک کی سماعت میں کہیں سے گونجنے لگی تھیں۔ اور ساتھ رہے گا یہ احساس کہ خدا نے خود رسول اللہؐ کو جس عجوبہ نشان کی خبر دی اور رسول اللہؐ نے اسے چشمِ تصور سے دیکھا، سالک نے اسے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا۔ وہ لکھتا ہے کہ اپنے نبیؐ اور اپنے خدا سے ربط کا یہ احساس اچھوتا ہے اور کبھی فراموش ہونے والا نہیں۔
تیسرے دن سالک کی فلائٹ شام کو تھی۔ صبح کا کچھ وقت ایک آرکائیو میں گزرا۔اس کے بعد تھوڑا سا وقت تھا جسے اس نے مشہورِ زمانہ colosseum دیکھنے میں گزار لیا۔ اس کے بارے میں تو بہت سی معلومات اور تاریخی حقائق جابجا دستیاب ہیں لہٰذا سالک نے کچھ بھی ایسا غیر دلچسپ تحریر نہیں کیا۔
ایک صفحے پر ایک چھوٹا سا نوٹ ہے جس پر اس نے لکھا ہے کہ یہاں شاہِ روم انسان کا انسان سے غیر انسانی حد تک ظالمانہ مقابلہ کرواتے جو فتح یا شکست کانہیں بلکہ فتح یا موت کے درمیان فیصلہ کرتا۔ آج ہزاروں لوگ روزانہ یہ کولوسیئم دیکھنے آتے ہیں اور ہزاروں سال پرانے اس بہیمانہ فعل کا تصور کر کے کانپ جاتے ہیں۔ سالک اس کے آگے یہ دو شعر درج کرتا ہے،جن پر عنوان دیا ہے
’’چاہِ مرگ‘‘
آج بھی انسان ہی کرتا ہے انسانوں کا خوں
اب بھی چاہِ مرگ میں شاہوں کو ملتا ہے سکوں
کون کہتا ہے کہ آثارِ قدیمہ میں ہے دفن
طاقت و جبروت کا رقصاں بہیمانہ جنوں
سالک نے شاعر کا نام درج نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے یہ اس کے اپنے دکھ بھرے احساسات ہیں جو منظوم ہوگئے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مظاہرِ کائنات اور عرفانِ الٰہی




