متفرق مضامین

درختوں کی شرماہٹ Crown Shyness

عالم شہود پر کئی ایسے مظاہر موجود ہیں جن کی حتمی توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ Crown Shyness بھی ایسا ہی ایک مظہر ہے جس میں درخت ایک دوسرے سے اس طرح درمیانی فاصلہ بنا لیتے ہیں کہ ان کی شاخیں آپس میں نہیں ٹکراتیں۔ گرم مرطوب آب و ہوا اور گھنے جنگلات Crown Shyness کے لیے بہت سازگار ہوتے ہیں۔

اس مظہر کا ظہور دنیا میں متعدد جگہوں پر دیکھا گیا ہے جن میں ملائیشیا کے بارانی جنگلات ، آسٹریلیا ، جاپان، شمالی اور جنوبی امریکہ شامل ہیں۔ جن درختوں میں ایسا ہوتا ہے ان میں یوکلپٹس ، ڈیپروکارپ، پائن، بلیک منگروو اور کیمفر کے درخت شامل ہیں۔ ایسا صرف ایک ہی نسل اور عمر کے درختوں کے درمیان ہوتا ہے۔

جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا گیا ہے کہ ہم اب تک اس کے بارے میں حتمی طور پر نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لیکن اب تک کی تحقیق اور مشاہدہ کی بنا پر ہم ایک رائے ضرور رکھتے ہیں۔

ایک سادہ اور عام فہم نظریہ یہ ہے کہ ہوا چلنے سے درختوں کی شاخیں آپس میں ٹکرانے سے ٹوٹ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں Crown Shyness وجود میں آتی ہے۔

اس کی ایک نمایاں خصوصیت درختوں کے درمیان موجود وہ باریک خلا ہیں جو شاخوں کے نہ ملنے کی وجہ سے بنتے ہیں۔ یہ خلا بعض اوقات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ اوپر سے دیکھنے پر پورا جنگل کسی نقشے یا پزل کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس مظہر نے ماہرینِ نباتات کو طویل عرصے سے متجسس کر رکھا ہے اور اس کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ درخت سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ اپنی نشو و نما کے دوران درخت باہمی فاصلہ رکھتے ہیں تا کہ روشنی کی رسائی یکساں اور اچھے طریقے سے ہو پائے اور انہیں روشنی سے توانائی کے حصول میں آسانی رہے۔ اس نظریہ کی بنیاد اس مشاہدہ کی بنا پر ہے کہ جہاں درخت زیادہ گھنے ہیں وہاں Crown Shyness زیادہ ہوتی ہے۔

کچھ سائنسدان یہ بھی مانتے ہیں کہ درخت اپنے اردگرد موجود دوسرے درختوں کو کیمیائی اشاروں کے ذریعے محسوس کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی بڑھوتری کو منظم کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا، لیکن جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پودے ماحول کے مختلف اشاروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنے کی وجہ سے بیماریاں اور ضرر رساں کیڑے مکوڑوں کی رسائی ایک درخت سے دوسرے تک آسانی سے نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہتے ہیں۔

جینیاتی ترتیب کو بھی Crown Shyness کی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے۔ Crown Shyness پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق یہ درختوں کی بقا کے لیے اپنائی گئی حکمت عملی کا نتیجہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے درختوں کو بہتر انداز میں پنپنے میں مدد ملتی ہے۔ باقی درختوں کی نسبت Crown Shyness رکھنے والے درختوں میں نشو و نما بہتر دیکھی گئی جو اس ثبوت کی ایک دلیل مانی جاتی ہے۔

Crown Shyness کی معیّن وجہ ابھی تک ایک راز ہے، ممکن ہے کہ مسلسل تحقیق ہمیں کسی حتمی نتیجے پر پہنچا دے۔زمین اور فضا سے Crown Shyness والے درختوں کا نظارہ دلفریب ہوتا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ درختوں نے ایک دوسرے کے احترام میں جگہ چھوڑی ہے۔ یہی وجہ ہے اس دلچسپ فطری مظہر کو Crown Shyness یعنی درختوں کی شرماہٹ کا نام دیا ہے۔

یہ مظہر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت کے نظام میں ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے تحت قائم ہے، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگے۔

(مدثر ظفر)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ایپسٹائن فائلز ۔ دجال کا ایک فتنۂ عمیق

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button