متفرق مضامین

رمضان کیسے گزاراجائے

(ظہیر احمد طاہر۔ جرمنی)

رمضان کا مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے جس میں قدرتی طورپر نیک ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔اس مہینے میں ایک مومن دوسرے مومن کو نیکیوں کی خاص طور پرترغیب دلاتا ہے۔اس طرح نیکیوں میں سبقت لے جانے کی دوڑ خود بخود شروع ہوجاتی ہے گویا رمضان میں نیکی کے متعدد محرکات ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے بلکہ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس مہینے میں نیکی کی ہر راہ اختیار کی جائے اور ہر بدی کو بیزار ہوکر ترک کیا جائے تاکہ پورا مہینہ نیکیوں کی دوڑ میں شامل رہ کر اُن کی عادت پختہ ہوجائے۔ اس مہینے میں کثرت سے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور انوار ِسماوی موسلا دھار بارش کی طرح نازل ہوتے ہیں۔اس لیے اس پاکیزہ ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ رمضان کی تمام برکات کو سمیٹا جاسکے۔اس مہینہ کی فضلیت کی وجہ سے اسے”شَھرٌ مبارک“ یعنی مبارک مہینہ اور”سیّد الشھور“ تمام مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے۔اس مہینہ میں انسان کا ہر نیک عمل اُسے دس سے سات سو گنازیادہ اجر عطاکرتا ہے۔بعض روایات سے پتا چلتاہے کہ جوں جوں رمضان کے دن قریب آتے جاتے، لقائے الٰہیکے اشتیاق میں نبی کریم ﷺ کی تڑپ بھی بڑھتی جاتی۔ رمضان کے لیے آنحضرت ﷺ کے دلی شوق کا اندازہ اس ارشادِ مبارک سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں آپ ؐنے فرمایا:اَ حْصُوا ھِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ(الجامع الکبیر للترمذی أبواب الصوم بَاب ماجاء فی اِحْصَاءِ ھِلَالِ شَعْبَانَ لِرَمْضَانَ حدیث:۶۸۷) رمضان کے لیے شعبان کے چاند کے دن گنتے رہو۔اس مہینے کا اوّل حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی ہے۔ پس رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی نیت و ارادہ اور تیاری کرلینی چاہیے کیونکہ اچھی نیتیں اور پاک ارادے نیکیوں کے پھل کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔یاد رہے کہ رمضان ایک طرح سے ٹریننگ کا مہینہ ہے جس میں نیکیوں کی عادات کو پختہ کیا جاتا ہے تاکہ سارا سال اُن پرعمل ہوسکے۔اب ماہِ صیام کی برکات سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے چند طریق بیان کیے جاتے ہیں۔
نماز باجماعت کا قیام: نمازاسلام کا بنیادی رکن اور تمام عبادتوں کی جان ہے۔ قرآن کریم میں بار بار نماز باجماعت کے قیام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے: جان لو تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر نماز ہے اور وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مومن ہی۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الطھارہ وسننھا، بَاب الْمُحَافَظَۃُ عَلَی الْوُضُوءِ حدیث نمبر۲۷۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”قرآن کریم کی آیات کو دیکھ کر کہ جب بھی نماز کا حکم بیان ہوا ہے نماز باجماعت کے الفاظ میں ہوا ہے تو صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک نماز صرف تبھی ادا ہوتی ہے کہ باجماعت ادا کی جائے سوائے اس کے کہ ناقابل علاج مجبوری ہو۔“ (تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ۱۰۵،شائع کردہ نظارت نشرواشاعت قادیان،فروری ۲۰۰۴ء)
نبی کریم ﷺنے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اکیلے پڑھی جانے والی نماز سے باجماعت نماز کا ثواب ستائیس گنا زیادہ ملتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:”نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی کرو۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنی مسجدوں کو آباد کریں اور پانچ وقت نماز کے لیے مساجد میں آئیں۔ اور نہ صرف خود آئیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی مساجد میں نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور ہماری مساجد اتنی زیادہ نمازیوں سے بھری ہونی شروع ہوجائیں کہ چھوٹی پڑجائیں۔ خدا کرے کہ ہم اس کے عابد بندے بن سکیں اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرنے والے ہوں۔“ (خطبات مسرور جلد ۲صفحہ ۲۲۹)
قیام اللّیل:رمضان المبارک کے دنوں میں خاص طور پرقیام اللّیل یعنی نماز تہجد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نماز تہجد کے بارہ میں فرمایا ہے:وَمِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ (بنی اسرا ئیل:۸۰) اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔ یہ تیرے لیے نفل کے طورپر ہوگا۔قرآن کریم کے ایک اور مقام پر فرمایا ہے: اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِیۡلًا (المزمل:۷) رات کا اُٹھنا یقیناً(نفس کو) پاؤں تلے کچلنے کے لیے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔ قیام اللّیل،رسول کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺرمضان میں اور رمضان کے علاوہ بھی آٹھ رکعات نمازِ تہجد ادا فرماتے تھے۔ احادیث میں نماز تہجد کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔تہجد کی نماز خدا تعالیٰ سے لقاء کا بہترین ذریعہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے:”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کرلیں جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے،کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا۔ اُس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے، کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو۔اُس وقت تک ایک شخص خوابِ راحت سے بیدار کب ہوسکتا ہے؟پس اس وقت کا اُٹھنا ہی ایک درد دل میں پیدا کردیتا ہے جس سے دعا میں رقّت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیتِ دعا کا موجب ہوجاتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳صفحہ ۲۴۵،ایڈیشن ۲۰۰۳ء)
سو جاننا چاہیے کہ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ اور روحانیت میں ترقی ہے۔یہ مہینہ خاص طور پر نیکیوں کی جاگ لگانے والا مہینہ ہے۔ نیکیوں کی عادت پختہ کرنے والا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ سستیوں کو دُور کرنے والا، بیداری اور بیدار مغزی کے ساتھ نیکیوں میں سبقت لے جانے والا مہینہ ہے۔ اس لیے جہاں خود نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہئیں وہیں اپنے بچوں کو بھی نیکیوں کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ اُنہیں نیکیوں کی جاگ لگے اور وہ بھی نیکیوں کے سفر پر رواں دواں ہوجائیں۔ پس رمضان میں جہاں ہم خود دیگر عبادات کے ساتھ نوافل کی طرف خاص توجہ دینے والے ہوں وہیں اپنے بچوں کو بھی سحری سے پہلے جگائیں تاکہ وہ بھی نوافل ادا کرلیں۔اس کے بعد جنہوں نے روزہ رکھنا ہے وہ روزے کی نیت سے سحری کھائیں اور باقی افراد سحری کی برکت سے فائدہ اُٹھا لیں۔ نبی ﷺنے فرمایا ہے: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الصوم باب بَرَکَۃُ السَّحُوْرِ مِنْ غَیْرِ اِیْجَابٍ حدیث:۱۹۲۳)حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ رمضان میں نماز تہجد کی اہمیت وضرورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”دوسری بات رمضان میں یہ ہے کہ بچوں کو سحری کے وقت اُٹھا کر کھانے سے پہلے نوافل پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ قادیان میں یہی دستور تھا جو بہت ہی ضروری اور مفید تھا۔ جسے اب بہت سے گھروں میں ترک کردیا گیا ہے۔ قادیان میں یہ بات رائج تھی کہ روزہ شروع ہونے سے پہلے بچوں کو عین اس وقت نہیں اُٹھاتے تھے کہ صرف کھانے کا وقت رہ جائے بلکہ لازماً اتنی دیر پہلے اٹھاتے تھے کہ بچہ کم سے کم دو چار نوافل پڑھ لے۔ چنانچہ مائیں بچوں کو کھانا نہیں دیتی تھیں جب تک پہلے نفل پڑھنے سے فارغ نہ ہوجائیں۔ سب سے پہلے اُٹھ کر وضو کرواتی تھیں اور پھر ان کو نوافل پڑھاتی تھیں تاکہ اُن کو پتا لگے کہ روزہ کا اصل مقصد روحانیت حاصل کرنا ہے۔تہجد پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں پھر وہ کھانے پہ بھی آئیں اور اکثر اوقات اِلّا ماشاء اللہ تہجد کا وقت کھانے کے وقت کے بہت زیادہ قریب ہوتا تھا۔ کھانا تو آخری دس پندرہ منٹ میں بڑی تیزی سے بچے کھا کر فارغ اور جاتے ہیں اور تہجد کے لیے ان کو آدھا گھنٹہ پون گھنٹہ اتنا ضرور مہیا کردیا جاتا تھا۔“ (خطبات طاہر جلد ۵صفحہ ۳۹۲،خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍مئی ۱۹۸۶ء)
تلاوت قرآن کریم: رمضان اور قرآن کا بہت گہرا تعلق ہے۔رمضان میں قرآن کریم کا نزول شروع ہوا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”رمضان کا مہینہ ان مقدس ایام کی یاد دلاتا ہے جن میں قرآن کریم جیسی کامل کتاب کا دنیا میں نزول ہوا۔“ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۳۹۱، سورۃ البقرۃ زیر آیت۱۸۶) اس لیے رمضان المبارک کے مہینہ میں خاص طور پر کلامِ پاک کی تلاوت کی طرف توجہ دینی چاہیے۔نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق قرآن کریم کا کم از کم ایک دور مکمل کرناچاہیے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہﷺ کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دَورکیاکرتے تھے لیکن جس سال آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی اس میں انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ دَورمکمل کیا۔(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن،باب تَأْلِیفِ الْقُرْآنِ حدیث:۴۹۹۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”قرآن شریف میں وہ نکات اور حقائق ہیں جو روح کی پیاس کو بجھا دیتے ہیں۔ کاش دنیا کو معلوم ہوتا کہ روح کی لذت کس چیز میں ہے اور پھر وہ معلوم کرتی کہ وہ قرآن شریف اور صرف قرآن شریف میں موجود ہے۔“(ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۲۸۴۔ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ رمضان کے تعلق میں تلاوت ِ قرآن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”رمضان کلام الٰہیکو یاد کرنے کا مہینہ ہے۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم نے فرمایا کہ اس مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت زیادہ کرنی چاہیے۔ اور اسی وجہ سے ہم بھی اس مہینہ میں درس قرآن کا انتظا م کرتے ہیں۔ دوستوں کو چاہیے کہ اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کیا کریں اور قرآن کریم کے معانی پر غور کیا کریں تاکہ ان کے اندر قربانی کی روح پیدا ہو جس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔“ (تفسیر کبیر جلد ۶صفحہ ۳۹۳، سورۃ البقرۃ زیر آیت ۱۸۶)
دعائیں کریں، دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں:یہ وہ مبارک الفاظ ہیں جو ہمارے پیارے امام نے خلیفۃ المسیح کےمقام پرفائزہوتےہی جماعت سے پہلے خطاب میں ارشاد فرمائے تھے۔ اس کے بعد سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسلسل ہمیں دعاؤں کی طرف متوجہ فرمارہے ہیں۔رمضان المبارک کا مہینہ خاص طور پر قبولیتِ دعا کا مہینہ ہے اس لیے اس مہینہ میں خاص طور پر دعاؤں کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے آدمیوں کی دعا ردّ نہیں کی جاتی، عادل حکمران اور روزہ دار کی دعا یہاں تک کہ وہ افطار کرلے اور مظلوم کی دعا،اللہ تعالیٰ اُسے قیامت کے دن بادل سے بھی اوپر اُٹھا لے گا۔ اس (کی دعا) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتےہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بِعِزَّتِیْ لَاَ نْصُرَنَّکِ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:”رمضان کا مہینہ مبارک مہینہ ہے دعاؤں کا مہینہ ہے۔“ (الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۱ء) کوشش کرنی چاہیے کہ خاص طوپر افطاری سے پہلے اپنا وقت کسی اور مصروفیت یا باتوں کی بجائے دعاؤں میں گزارا جائے۔افطاری سے کچھ منٹ پہلے تنہائی میں بیٹھ کر دعا کرنی چاہیے۔دیگر دعاؤں کے علاوہ اپنی دعاؤں میں خاص طورپر اپنے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت وسلامتی اور مقاصد عالیہ کی کامیابی، اشاعتِ اسلام، اسیرانِ راہِ مولیٰ، شہداء کے پس ماندگان،مظلوم احمدیوں کے دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے،دنیا کی امن وسلامتی اورخدمت دین کرنے والوں کو شامل کرنا چاہیے۔
نمازِ تراویح: رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ اصل تو نماز تہجد ہے لیکن نماز تراویح بھی ادا کرنی چاہیے۔ یہ حصول ثواب کا بہترین موقع ہے جس میں قرآن شریف سنایا جاتا ہے اور قرآن سننے کا الگ ثواب مقرر ہے۔اگرچہ نماز تراویح ایک سہولت تو ہے لیکن یہ نمازِ تہجد کا بدل نہیں۔ اس لیے جو لوگ نماز تراویح میں شامل ہوتے ہیں انہیں بھی چاہیے کہ نمازِ تہجد کے لیے اٹھیں کیونکہ تہجد بہت بڑے اجروثواب اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ رمضان میں نماز (تراویح) پڑھی۔(صحیح البخاری کِتَابُ صَلَاۃِ التَّرَاوِیْح بَاب فَضْلُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ حدیث:۲۰۱۱)
ذکرِ الٰہی، توبہ واستغفار: رمضان خاص طور پر رحمتوں، برکتوں اور بخششوں کا مہینہ ہے۔ اس لیے رمضان میں کثرت کے ساتھ ذکرِ الٰہیاور توبہ واستغفار کرناچاہیے۔بسا اوقات انسان توجہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا قیمتی وقت اِدھر اُدھر کی باتوں یا فضول مشاغل میں ضائع کردیتاہے جبکہ اسے ضائع ہونے سے بچانا چاہیے تاکہ اس وقت کو ذکر واستغفار میں صَرف کیا جاسکے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوااللّٰہَ قِیٰمًاوَّقُعُوۡدًاوَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ (النّسآء:۱۰۴) پھر جب تم نماز ادا کرچکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہونے کی حالت میں بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی۔رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جکڑ دیےجاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ پھر اُس کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے خیر کے طالب! آگے بڑھ۔ اور اے بدی کے طالب! لوٹ جا۔ اور اللہ کی خاطر بہت سے لوگ آگ سے آزادکیے جاتے ہیں اور ایسا ہر رات ہوتا ہے۔ (الجامع الکبیر للترمذی أبواب الصوم باب ماجاء فی فَضْلِ شَھْرِ رَمَضَانَ حدیث:۶۸۲) ایک اور روایت میں ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ ایک منادی کرنے والے فرشتے کو عرش سے فرش پر بھیجتا ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ اے خیر کے طالب آگے بڑھ۔ کیا کوئی ہے جو دعا کرے اور اس کی دعا قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو استغفار کرے اور اس کو بخش دیا جائے؟ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے اور اس کی توبہ قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو سوال کرے اور اس کے سوال کو پورا کیا جائے؟(شعب الایمان باب فضائل الصوم)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا: رمضان آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے مقفل کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ ہلاکت ہو اُس شخص کے لیے جس نے رمضان کو پایا اور وہ بخشا نہ گیا۔ وہ رمضان میں نہیں بخشا گیا تو پھر کب بخشا جائے گا۔ (الترغیب والترھیب،کتاب الصوم،الترغیب فی صیام رمضان) پس اس بابرکت مہینہ میں دعاؤں اور توبہ و استغفار کی طرف خاص توجہ کرنی چاہیے تاکہ یہ عادت ہمیشہ کے لیے پختہ ہوجائے۔
صدقہ وخیرات:رمضان کا ایک پیغام غریب پروری اور غریب نوازی ہے۔ نبی کریم ﷺ تمام دنیا کے انسانوں میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض تھے۔ آپ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔رمضان میں خاص طور پر ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری فرماتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بھلائی پہنچانے میں تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور زیادہ سخی جو ہوتے تو آپ ؐ ماہِ رمضان میں ہوتے۔ کیونکہ جبریل ؑ رمضان کے مہینہ میں ہر رات کو آپ ؐ سے ملاقات کرتے یہاں تک کہ وہ مہینہ گزر جاتا۔ رسول اللہؐ ان کو قرآن سنایا کرتے تھے اس لیے جب جبریل ؑ آپؐ سے ملتے تو آپؐ بھلائی پہنچانے میں بادِ بہار سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔ (صحیح البخاری،کتاب فضائل القرآن بَاب کَانَ جِبْرِیْلُ یَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ حدیث:۴۹۹۷) پس اس مہینہ میں خاص طورپر غرباء کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اس مہینہ کی برکت سے ہمیں نیکیوں پر دوام حاصل ہو۔
صدقۃ الفطر، فطرانہ:صدقۃ الفطر یعنی فطرانہ کی ادائیگی بھی رمضان المبارک کے شروع ہی میں کردینی چاہیے۔ آنحضرت ﷺ نے ہر مسلمان خواہ بچہ ہو یا بوڑھا مرد ہو یا عورت سب پر صدقۃ الفطر (زکوٰۃ الفطر) یا فطرانے کو واجب قرار دیا ہے۔
رمضان کا آخری عشرہ:یوں تو رمضان کا سارا مہینہ ہی عبادات اور روحانی جدوجہد کا مہینہ ہے مگر رمضان کا آخری عشرہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جب رمضان کاآخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنی کمر ہمت کس لیتے اور رات بھر جاگتے رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔(صحیح البخاری کِتَابُ فَضْلِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اَلْعَمَلُ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ حدیث:۲۰۲۴)
اعتکاف: رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھنا سنت نبوی اور نیکیوں کی ایک خاص راہ ہے جب انسان دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوکر خالصتاً للہ چند دن اپنے آپ کو وقف کردیتا ہے تاکہ ہمہ وقت اپنے ربّ کی یاد میں یہ دن گزار سکے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دہاکے میں مسجد میں گوشہ نشین ہوا کرتے (یعنی اعتکاف بیٹھا کرتے) تھے اور فرماتے: رمضان کے آخری دہاکے میں لیلۃ القدر کی جستجو کرو۔ (صحیح البخاری کِتَابُ فَضْلِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ بَاب تَحَرِّی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِحدیث:۲۰۲۰)
لیلۃ القدرکی تلاش: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو بجذبہ ایمان رضائےالٰہی کی غرض سے ماہ رمضان میں روزے رکھے تو اُس کے جو گناہ پہلے ہوچکے ہوں اُن کی مغفرت کی جائے گی اور جو لیلۃ القدر میں جوش ایمان میں رضائے الٰہیکی غرض سے رات کو اُٹھے تو اُس کے جو گناہ پہلے ہوچکے ہوں اُن کی مغفرت کی جائے گی۔ (صحیح البخاری کِتَابُ فَضْلِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ بَاب فَضْلُ لَیْلَۃِ الْقَدْرِحدیث:۲۰۱۴) لیلۃ القدر کی مبارک گھڑی پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان آخری عشرے میں نہ صرف خود عبادت و ذکر الٰہی میں پوری طرح مشغول ہوجائے بلکہ آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق افرادِ خانہ کو بھی اس میں شامل کرے اور سب مل کر توجہ الی ٰاللہ کے لیے ہمہ تن مصروف ہوجائیں تاکہ اُنہیں وہ گھڑی نصیب ہو جس کے حصول سے روح القدس کی تجلی اور ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور جس کے ملنے سے ظلمت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ رمضان کے دن رات ذکر و عبادت الٰہی اور رضائے الٰہی کے حصول کے دن ہیں۔ اس لیے گنتی کے ان چند دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان کی جملہ برکات اور فیوض سے متمتع فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں: رمضان المبارک کے بارے میں حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ارشادات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button