متفرق شعراء

سو سال سے جاری جو محبت کا سفر ہے

سو سال سے جاری جو محبت کا سفر ہے
یہ پاک مسیحا کی دعاؤں کا ثمر ہے

منزل کو سفر اب بھی تسلسل سے ہے جاری
اس راہِ محبت میں لگے زخم بھی کاری

اشکوں سے کبھی، خون سے سینچا ہے چمن کو
تپتے ہوئے صحرا کو، کبھی کوہ و دمن کو

نکلے تھے کبھی گھر سے کبھی اپنے وطن سے
کیا جرم ہوا پوچھ ذرا چرخِ کہن سے

سو سال سے افلاک نے دیکھے ہیں نظارے
بڑھتے ہوئے ہر سمت وہ طوفان کے دھارے

شکوہ نہ کبھی غیر سے کرتے ہیں شکایت
مولیٰ کی ہر اک آن جو حاصل ہے حمایت

اِس راہ میں جو جان سے گزرا وہ امر ہے
انجام اگر یہ ہے تو کس بات کا ڈر ہے

(پروفیسر ڈاکٹر طارق بشیر)

مزید پڑھیں: حق کا ثبوت دیتا ہے قرآن کا سفر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button