ہنسنامنع ہے!
پرہیز علاج سے بہتر ہے
مریض: حکیم صاحب! دوا کھا کر پرہیز نہ کروں تو کیا ہوگا؟
حکیم: کچھ نہیں ہوگا، بس دوائی کا خرچہ ہی ہوگا، فائدہ تو صفر ہو گا!
کچل ڈالو
چار چو ہے درخت کی شاخوں پر بیٹھے گپیں ہا نک رہے تھے کہ جنگل کے درختو ں میں سے ہاتھی نمودار ہوگیا اور اس درخت کے نیچے سے گزرا جس درخت پر چوہے بیٹھے تھے۔
اچا نک ایک چوہے کا پاؤں پھسل گیا اور وہ ہاتھی پر جابیٹھا۔یہ دیکھ کر تینو ں چوہے پرجوش ہو گئے اور چلانے لگے: کچل ڈالو کچل ڈالو اس نے ہمارے بہت سے ساتھی کچلے ہیں۔
زحمت
گاہک کافی کا انتظار کرتے ہوئے تھک گیا اورہوٹل سے جانے لگا تو اتنے میں بیرا دوڑا دوڑا آیا اور میز پر کافی رکھ کر بولا: بھائی ناراض نہ ہونا میں بہت مزے دار کافی لایا ہوں یہ امریکہ کی مشہور کافی ہے۔
گاہک بولا:بھائی خوامخواہ آپ نے زحمت کی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم میری خاطر اتنی دور جاؤ گے۔
آواز
ایک بار ایک غائب دماغ پروفیسر ڈاکٹر کے پاس گئی اور بولی:ڈاکٹر صاحب مجھے ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے ۔
ڈاکٹر صاحب نے پوچھا:بی بی کیا مسئلہ درپیش ہے آپ کو؟
پروفیسر:مجھے آواز سنائی دیتی ہے لیکن شکل نظر نہیں آتی۔
ڈاکٹر:اچھا ایسا کب کب ہوتا ہے آپ کے ساتھ؟
پروفیسر نے کہا :جب جب میں ٹیلی فون سنتی ہوں۔
بلڈ ٹیسٹ
سلیم ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس کاعنوان تھا بلڈ ٹيسٹ
کلیم نے پوچھا :تم يہ کتاب کيوں پڑھ رہے ہو؟
سلیم نے جواب ديا : ڈاکٹر نے کہا ہے کہ دو دن کے بعد تمہارا بلڈ ٹيسٹ ہو گا ۔
چالاک دوست
دو دوست بہت چالاک تھے۔ایک بار انہیں اپنے دوست کے پاس لاہور جانا تھا۔رات کی آخری ٹرین تھی۔ اس میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔انہوں نے ایک ترکیب سوچی۔ انہوں نے شور مچا دیا کہ بوگی میں سانپ آگیا ہے۔تمام مسافر خوف کے مارے ڈبے سے اتر گئے۔وہ دونوں جلدی سے ڈبےمیں سوار ہوئے اور برتھ پر سو گئے۔جب ان کی آنکھ کھلی تو سامنے ایک قلی کھڑا تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا: بھائی صاحب کیا لاہور آ گیا ہے؟
قلی حیرت سے: لاہور؟جناب! رات اس ڈبے میں سانپ گھس آیا تھا۔اس لیے یہ ڈبہ ٹرین سے کاٹ دیا گیا تھا۔ٹرین چلی گئی اور یہ یہاں ہی کھڑا ہے۔
