الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
محترم ماسٹر عبدالقدوس شہید
رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد۲۰۱۴ء نمبر۱ میں مکرم ماسٹر عبدالقدوس صاحب شہیدکا ذکر خیر مکرمہ صبیحہ محمود صاحبہ کے تعاون سے مکرمہ امینہ شاہدہ صاحبہ نے تحریر کیا ہے۔
مکرم علم دین صاحب شہید قادیان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ اُن کی اہلیہ مکرمہ بیگم بی بی صاحبہ نے ۸؍سال اور ایک بیٹی محترمہ شریفہ بیگم صاحبہ نے قریباً۴۳؍سال دفترمصباح ربوہ میں خدمت کی توفیق پائی۔ دوسری بیٹی مکرمہ صدیقہ بیگم صاحبہ لمبا عرصہ ربوہ کے ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچر رہیں۔ جبکہ بیٹوں میں مکرم مولوی جلال الدین قمر صاحب،مکرم سردار احمدصاحب اور مکرم محمد ابراہیم صاحب (خادم حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ) شامل ہیں۔
عزیزم عبدالقدوس شہید ۲؍اپریل۱۹۶۸ء کو مکرم مبارک احمد صاحب اور مکرمہ صدیقہ بیگم صاحبہ کے ہاں لویری والہ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کی دو بہنیں بھی ہیں۔ چونکہ وہ ہماری پھوپھو کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے سب کے لاڈلے تھے۔ پھوپھو نے اپنے تینوں بچوںکوبہت محنت سے پالا اور ان کی بہت اچھی تربیت کی۔ ایک بیٹی کی شادی مبلغ سلسلہ سے کی جو افریقہ میں متعین ہیں۔
پھوپھو نے مجھے بتایا تھا کہ عزیزم عبدالقدوس جب بہت چھوٹے تھے تو انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ بہت اونچا ایک درخت ہے جس پر ’’عظمت‘‘ لکھا ہوا ہے اور تم مجھ سے کہتی ہو کہ یہ عبدالقدوس کا نام ہے۔
میری خالہ مکرمہ امۃالحکیم صاحبہ انچارج دفتر مصباح بہت نیک تھیں۔ وہ پھوپھو سے کہا کرتی تھیں کہ تیرا یہ بیٹا بڑا ہو کر خوب نام کمائے گا۔ اس طرح کی کئی باتیں ہیں جو پہلے عجیب لگتی تھیں لیکن اُن کی حقیقت اب معلوم ہوئی ہے۔ اسی طرح شہید مرحوم بچپن میں اکثر اپنی والدہ سے بڑی حیرت سے ذکر کیا کرتے تھے کہ مولانا عبدالمالک خاں صاحب مجھے جب بھی دیکھتے ہیں تو سائیکل سے اتر کرمجھے سلام کرتے ہیں۔
شہید مرحوم اپنی والدہ صاحبہ سے بہت محبت و احترام سے پیش آتے تھے اور بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ عبدالقدوس بہت محبت کرنے والا، نہایت ملنسار، ہمدرد اور دُعا گو تھا۔ سب کا بہت خیال رکھتا۔ ان کے ایک بہنوئی جب افریقہ چلے گئے تو ان کی بہن بچوں کے ساتھ کوارٹر میں اکیلی رہتی تھیں۔ عبدالقدوس روزانہ مجھے (اپنی والدہ کو) شام کو بہن کے گھر چھوڑنے اور صبح واپس لینے جاتا۔ یہ اُس کی روزانہ کی ڈیوٹی تھی جس سے وہ کبھی نہیں گھبرایا۔ وہ ہمیشہ میرا بہت احترام کرتا تھا اور میری ہر خواہش کو پورا کرتا تھا۔ میرے ہرکام کو ترجیح دیتا تھا۔ اُس نے کبھی میرے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی۔ اپنی اہلیہ اور اپنے بچوں کو بھی میری عزت اور احترام کرنے کی تلقین کرتا تھا۔
شہید مرحوم کی اہلیہ عزیزہ روبینہ بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند کا یہ جملہ ’’فیر میں تینوں یاد آواں گا ‘‘ میرے وجود اور میری روح میں ایسے بسا ہوا ہے کہ جیسے آپ کا وجود میرے ساتھ ساتھ ہے ۔ اُن میں بےشمار خوبیاں تھیں۔ بہت دھیمے مزاج کے پُر خلوص ، محبت کرنے والے، گلے شکووں سے دور رہنے والے ایسے غمگسار ساتھی تھے جن کے ساتھ میری رفاقت تقریباً پندرہ سال رہی مگر ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ وقت سلامتی، پاکیزگی، ملنساری اور محبت کے بے مثال نمونوں سے بھرا پڑا ہے۔ شہادت سے ایک روز قبل بچوں کو صبر، ہمت اور خلافت سے وابستگی کی تلقین کی۔ آخری لمحات میں بھی مجھے یہی نصیحتیں کیں کہ میری والدہ کا خیال رکھنا، بچوں کا خیال رکھنا۔ آپ باقاعدگی کے ساتھ تہجد ادا کیا کرتے تھے اور پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کرتے تھے۔ بچوں کو بھی صبح نماز کے لیے اُٹھاتے اور مسجد ساتھ لے کر جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ دورانِ اسیری آپ کا ایک بیٹا آپ سے ملنے کے لیے گیا تو یہ معلوم ہونے پر کہ وہ نماز پڑھے بغیر آگیا ہے، آپ نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ کو ئی نماز نہیں چھوڑنی۔
میری دو بھتیجیاں جو امتحانات کے دوران تیاری کی خاطر کئی دن پھوپھو کے پاس رہا کرتی تھیں، بیان کرتی ہیں کہ چچا عبدالقدوس بھی ہمیشہ پڑھائی میں ہماری مدد کرتے تھے اور جب وہ نماز پڑھ کر گھر واپس آتے اور ہمیں کھیلتے ہوئے دیکھتے تو پوچھتے کہ نماز پڑھی ہے یا نہیں؟ اُن کا مزاج بہت دھیما تھا۔ کبھی سخت مزاجی سے پیش نہیں آتے تھے۔ کوئی سخت بات بھی کرتا تو اسے آرام سے سمجھاتے۔
کئی سال پہلے چنیوٹ میں شرپسندوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک بار جلوس نکالا تھا جس میں ربوہ کے مکرم فرزند علی صاحب پر تشدد کیا گیا تھا جس سے اُن کو بار بار خون کی قے آتی تھی اور وہ بھی چند دن فضل عمر ہسپتال ربوہ میں داخل رہنے کے بعد شہید ہوگئے تھے۔ وہ رشتے میں عبدالقدوس شہید کے ماموں تھے۔ بہت سے خدام نے اُن کو خون دیا تھا۔تب عبدالقدوس شہید کی عمر صرف پندرہ سال تھی لیکن چھوٹی عمر ہونے کے باوجودبھی انہیںدو دفعہ خون دینے کی توفیق ملی۔ دراصل بچپن سے ہی خدمت خلق ان کی طبیعت کا حصہ رہی ہے۔ عطیہ خون کے ذریعہ انسانیت کی خدمت بھی آپ کو بہت پسند تھی۔ جب بھی کسی مریض کوخون کی ضرورت پڑتی تو بلاتردّد چلے جاتے۔ ایک دفعہ دریائے چناب پر کشتی رانی کے مقابلہ جات میں آپ سنگل کے فائنل میں پہنچ چکے تھے۔ کچھ وقت مقابلہ ہونے میں باقی تھا کہ اسی دوران کوئی آدمی آیا اور عطیہ خون کے لیے کہا۔ اس پر آپ نے انتظامیہ سے ایک ضروری کام کی اجازت لی اور خون دینے کے بعد واپس آکر مقابلے میں حصہ لیا اور جیت بھی گئے۔ آپ نے کسی سے خون دینے کا ذکر نہیں کیا کہ مبادااس خدمت میں رکاوٹ آئے یا مقابلے میں شرکت سے رہ جائیں۔
میری ایک بہن کے میاں کویت میں تھےاور وہ بچوں کے ساتھ ربوہ میں اکیلی رہتی تھیں۔ اُن کے اکثر کام عزیزم عبدالقدوس ہی کیا کرتے تھے۔وہ بتاتی ہیں کہ عبدالقدوس بہت بہادر انسان تھے۔ نڈر اور بلند حوصلہ والے تھے۔ ایک بار مَیں نے چھت سے دیکھا کہ کوئی آدمی ہمارے گھر کے پیچھے درختوں کی جڑ میں کچھ چھپا رہا ہے۔ مَیںنے اپنے ہمسائے سے کہا کہ چاچا جی! جاکر دیکھیں تو سہی کہ وہ کیا چھپا کر گیا ہے۔ مگر انہوں نے انکار کردیا کہ خدا جانے اُس نے کوئی خطرناک چیز نہ چھپائی ہو۔ اس پر مَیں نے عزیزم عبدالقدوس کو فون کیا تووہ چند منٹ میں آگئے اور بلاجھجک جا کر وہاں سے مٹی کھودی تو ایسی چیزیں نکلیں جو چوری کے لیےاستعمال ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایک دفعہ گھر میں سانپ گھس آیا جو باہر گیٹ کے نیچے سے نالی میں گھس گیا ۔ مَیں نے عزیزم عبدالقدوس کو فون کیا تو انہوں نے جلدی سے آکر سانپ کو نکال کر مار دیا۔
شہید مرحوم میں خدمتِ دین کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ساری زندگی جماعتی خدمات کی توفیق ملتی رہی۔ لمبا عرصہ منتظم اطفال اور تقریباً دس سال بطور زعیم خدام الاحمدیہ خدمت کی توفیق پائی۔ بوقتِ وفات محلّہ نصرت آباد کے صدر اور دفتر حفاظتِ مرکز کے تحت ۲۰۰۲ء سے وفات تک سیکٹر انچارج رہے۔ کشتی رانی کا بھی بہت شوق تھا ، خود بھی بڑے اچھے کھلاڑی تھے۔ پنجاب روئنگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری تھے۔ آپ کی روئنگ کی ٹیم مقابلہ جات کے علاوہ خدمت خلق کا فریضہ بھی انجام دیتی اور ہنگامی صورتحال میں بڑی ذمہ داری سے لوگوں کی خدمت کرتی۔ دریا میں ڈوبنے والوں کی تب تک تلاش جاری رکھتے جب تک لاشیں نہ ڈھونڈ لیتے۔ اُن کے لواحقین کا بھی خیال رکھتے اور دلاسہ دیتے رہتے۔ لواحقین اتنا متاثر ہوتے کہ بعد میں بھی رابطہ رکھتے اور شکریہ ادا کرتے رہتے۔
شہید مرحوم کو شکار کا بھی بہت شوق تھا۔ مچھلی کے علاوہ پرندوں کے شکارپر بھی اکثر جایا کرتے تھے۔
آپ پیشہ کے لحا ظ سے ایک فرض شناس استاد تھے۔ اوراس ڈیوٹی سے کبھی غافل نہ ہوتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے اساتذہ ان کی سادہ طبیعت اور نیک فطرت کے قائل تھے جس کی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں میں ہردلعزیز تھے۔بچوں کو بڑے پیار سے پڑھاتے تھے، کبھی بھی سخت سزا نہ دیتے تھے۔ان کے اکثر ساتھی اساتذہ کے تأثرات یہ تھے کہ اس نے آج تک کسی کو دکھ نہیں دیا بلکہ ہر اک کا ہمدرد اور دکھ تکلیف دور کرنے والا تھا۔ معلوم نہیں یہ انسان تھا یا فرشتہ !
جب عزیزم عبدالقدوس کو ایک مقدمے میں جھوٹے طور پر ملوث کرکے ۱۰؍فروری۲۰۱۲ء کو گرفتار کیا گیا تو دورانِ اسیری اپنے ملنے والوں کو کہتے کہ میں تو یہاں اعتکاف کی حالت میں بیٹھا ہوں، دعائوں کا بہت موقع مل جاتا ہے۔
۱۷؍مارچ کو آپ کو پولیس نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جہاں سخت ترین اذیتیں دے کر مجبور کیا گیا کہ قتل کے جھوٹے مقدمے میں بعض اہم جماعتی عہدیداروں کے نام بھی لکھوائیں۔ شدید اذیّت میں بھی آپ کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہ آئی۔ تشدد کے بعد آپ کی حالت جب تشویشناک ہوگئی تو ۲۶؍مارچ کو پولیس نے آپ کو ربوہ کے ایک دوست کے سپرد کردیا جو آپ کو فضل عمر ہسپتال لے آئے۔ تب آپ نے بتایا کہ باوجود سخت تشدد اور ظلم و ستم کے پولیس مجھ سے جماعت کے خلاف ایک نقطہ بھی نہ لکھوا سکی ۔ اس نازک حالت میں جب آپ کو خون کی گیارہ بوتلیں لگ چکی تھیں تو کہنے لگے کہ مَیں نے اہل ربوہ کو بہت خون دیا ہے اور آج ربوہ مجھے میرا خون واپس کر رہا ہے۔
اگرچہ آپ کی زندگی بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی گئیں لیکن اندرونی چوٹوں کی وجہ سے ۳۰؍مارچ بعد نمازِ جمعہ آپ وفات پاگئے۔ آپ کی نماز جنازہ اور تدفین پر اہل ربوہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ربوہ کے تمام کاروبار بند تھے اور فضا سوگوار تھی۔ ہر زبان پر یہ ہی فقرہ تھا کہ شہید مرحوم بےحد ملنساراور پیاری شخصیت تھے۔ آپ کی بردباری، استقامت اور خدمت خلق کی تعریف ہر ایک نے کی۔
ان کی شہادت ہمارے لیے باعثِ عزت ہے لیکن اُن کی جدائی سے دل افسردہ بھی ہے۔ ہماری پھوپھو نے تو اُن کو کبھی ایک تھپڑ بھی نہیں مارا تھا مگر پولیس والوں نے وہ ظلم ڈھایا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے۔ بےشک عزیزم عبدالقدوس شہیدزندہ ہیں اور ان کی خوبصورت یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ آپ کی اس عظیم قربانی کی یاد میں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظور ی سے مجلس خدام الاحمدیہ مقامی ربوہ کے دفتر کو ’’ایوانِ قدوس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
لکھ دی پھر اہلِ صدق نے اک داستاں نئی
گردن کٹا کے عشق میں سجدہ کیے کیے
تاریخ آبروئے گلستاں لہو لہو
دامن میں ذکرِ عشقِ شہیداں لیے لیے
عزیزم عبدالقدوس شہید کا ذکرخیر ہمارے پیارے آقا سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۶؍اپریل ۲۰۱۲ء میں جس محبت سے فرمایا ہے، بےشک ہمارے الفاظ و جذبات اُس کے آگے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔
………٭………٭………٭………
لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (جلد۲۰۱۴ء) میں شہدائے احمدیت کی قربانیوں کے حوالے سے مکرمہ درثمین احمد صاحبہ کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:
جب ذکر ان کا سنتے ہیں تو جاں نکلنے لگتی ہے
بہتے ہیں اشک آنکھوں سے اور روح پگھلنے لگتی ہے
سچ ہے ظلم کی آندھی سے گھنگھور اندھیرا ہوتا ہے
جب حق کا سویرا ہوتا ہے ہر چیز نکھرنے لگتی ہے
ہر خون کی ہولی سے کیسے رنگ اچھلنے لگتے ہیں
جسم تو یاں پر خاک ہوئے پر روح مہکنے لگتی ہے
مزید پڑھیں: حدیث نبویﷺ میں لیکھرام سے متعلق پیشگوئی کا ذکر




