آیت اللہ علی خامنہ ای شہید

تاریخِ عالم میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی اور جدوجہد ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ ایسی شخصیات کا ذکر صرف سیاسی تاریخ تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کی فکر، نظریات اور خدمات نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔ عصرِ حاضر میں ایسی ہی ایک نمایاں شخصیت آیت اللہ علی خامنہ ای صاحب کی تھی جنہوں نے طویل عرصہ تک ایران کی قیادت کرتے ہوئے سیاسی، مذہبی اور فکری میدان میں گہرا اثر چھوڑا۔اور بالآخر شہادت کا مقام پایا۔
آپ ایرانی شیعہ عالم دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں شہید ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدربھی رہے۔بطور سپریم لیڈر خامنہ ای صاحب 36سال اقتدار میں رہے۔
ولادت و ابتدائی تعلیم
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای صاحب ۱۹؍اپریل ۱۹۳۹ء کوایران کے شہر مشہدمیں مقامی مذہبی شخصیت جواد خامنہ ای کے گھر پیدا ہوئے جہاں انہوں نے غربت میں پرورش پائی، اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ انہوں نے مشہد میں ایک مدرسہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایران کے شہر نجف سے فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں وہ معروف عالم روح اللہ خمینی* کے طالب علم رہے اور روح اللہ خمینی کے خیالات سے متاثر رہے۔
استاد روح اللہ خمینی
روح اللہ خمینی ایران کے ایک مشہور مذہبی راہنما اور سیاست دان تھے۔ وہ ۱۹۰۲ءمیں ایران کے شہر خمین میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامی تعلیم حاصل کی اور بعد میں ایران کے شاہی نظام کے خلاف تحریک کی قیادت کی۔ ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ ایران کے سپریم لیڈر بنے۔ امام خمینی کو جدید ایران کی اسلامی حکومت کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ امام خمینی نے ولایتِ فقیہ کا نظریہ پیش کیا جس کے مطابق ایک فقیہ کو بہت سے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اہلِ تشیع کے علمی اور روحانی سلسلے کا آخری عہدہ آیت اللہ ہے۔

روح اللہ خمینی
ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے کا منظر
۱۹۷۹ءکے اسلامی انقلاب سے پہلے ملکِ ایران مغرب کی آنکھ کا تارا تھا جہاں میوزک اور شاعری کے دل دادہ لوگ رہتے تھے۔ خواتین اسکرٹس پہنتی تھیں اور مغربی طرزِ زندگی کا اثر معاشرے میں نمایاں تھا۔
ایران میں نائٹ کلبز کی بھرمار تھی جس کی وجہ سے تہران کو پارٹی سٹی بھی کہا جاتا تھا۔ ایران میں بننے والی وائن پوری دنیا میں سپلائی کی جاتی تھی۔ اس وقت ایران میں محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی۔

محمد رضا پہلوی ۔انقلابِ ایران سے پہلے ایران کے آخری بادشاہ
مدت بادشاہت: ۱۹۴۱ء تا ۱۹۷۹ء
عوام کو دی گئی ان تمام آزادیوں کے باوجود طرزِ حکومت ایسا تھا کہ بہت سے لوگ ملک میں جمہوریت چاہتے تھے اور بادشاہت کے خلاف تھے۔ ایران کے مذہبی علماء اور مذہب سے رغبت رکھنے والا طبقہ یہ سمجھتے تھے کہ شاہِ ایران محمد رضا پہلوی کی حکومت اسلامی تعلیمات اور روایات کے مطابق نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انقلاب کے وقت قوم پرست، اسلام پسند اور بائیں بازو کے دانشور سبھی ایک ہو گئے۔ان سب کو ایک کرنے اور بہت مہارت سے واحد لیڈر بن کر ابھرنے والی شخصیت روح اللہ خمینی تھے جو بعد میں امام خمینی کہلائے۔اس سلسلہ میں دینی درسگاہوں کے مراکز میں درس و تدریس کے دوران ہی وہ ایران کے شاہی سیاسی نظام کی مخالفت کرنے لگے اور اس کے برعکس ایک اسلامی نظام کا نظریہ پیش کیا۔
قارئین کرام اب ہم واپس اپنے مضمون کی طرف آتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای صاحب نے فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر اور حدیث جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔آپ نے اپنے اساتذہ کے دروس پر کمنٹریز لکھیں اور بہت سی کتابیں بھی تحریر اور ترجمہ کیں، جن میں عربی سے فارسی میں ترجمے بھی شامل ہیں۔
سیاست میں قدم
آیت اللہ سید علی خامنہ ای صاحب کے گھر کے ماحول میں دینی اور سیاسی سرگرمیاں موجود تھیں، جنہوں نے انہیں بعد کی زندگی میں دینی و سیاسی کاموں کے لیے تیار کیا۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ جوانی میں مشہد میں ایک طالبِ علم تھے اور وہاں ان کی ملاقات مشہور اسلامی انقلابی شخصیت Sayyid Mojtaba Navab Safavi سے ہوئی۔ اس ملاقات نے ان پر گہرا اثر ڈالا اور اسی سے ان کی سیاسی جدوجہد کی ابتدا ہوئی۔
انقلابِ ایران میں کردار
۱۹۷۹ءمیں ایران میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی آئی جسے تاریخ میں Iranian Revolution کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں شاہی نظام کا خاتمہ ہوا اور Islamic Republic of Iran قائم ہوا۔

جنوری 1979ء کو تہران کے ٹریفک سرکل میں گرا ہوا شاہ کا مجسمہ۔ 18 انقلابِ ایران کے بعد
انقلاب کے بعد آیت اللہ خامنہ ای صاحب نے ریاستی نظام میں مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور انقلاب کے استحکام میں کردار ادا کیا۔
صدارتِ ایران
۱۹۸۱ءمیں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور ۱۹۸۹ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی صدارت کے دوران ایران کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً ایران اور عراق کے درمیان جنگ جس نے ملک کو شدید معاشی اور سیاسی مشکلات میں مبتلا کر دیا۔
اس سنگین دور میں انہوں نے ریاستی استحکام اور سیاسی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
سپریم لیڈر
۱۹۸۹ءمیں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای صاحب کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس منصب پر فائز ہو کر وہ ملک کے سب سے اعلیٰ سیاسی و مذہبی راہنما بن گئے۔
سپریم لیڈر کے طور پر ان کی ذمہ داریاں درج ذیل تھیں:
• مسلح افواج کی اعلیٰ کمان
• ریاستی پالیسیوں کی نگرانی
• اہم سرکاری اداروں کی راہنمائی
• ملکی و بین الاقوامی امور میں نظریاتی سمت کا تعین
تقریباً تین دہائیوں تک انہوں نے ایران کی سیاست اور خارجہ پالیسی پر گہرا اثر ڈالا۔
عالم اسلام کے لیے خدمات
آیت اللہ علی خامنہ ای صاحب نے مختلف مواقع پر مسلم دنیا کے مسائل پر اپنی آراء پیش کیں اور امتِ مسلمہ میں اتحاد اور بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے خطابات میں اکثر درج ذیل موضوعات نمایاں رہے:
• اسلامی تہذیب و ثقافت کا تحفظ
• مسلم دنیا میں اتحاد اور یکجہتی
• فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت
• دینی اقدار اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری
انہوں نے اسلامی فکر، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے علمی و ادبی سرگرمیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
شہادت اور عالمی ردِعمل
۲۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو حملوں کا ایک سلسلہ جاری ہوا جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای صاحب شہید ہو گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے تھے جس کے بعد ایران میں چالیس دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد لاکھوں افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں ایران کی آزادی اور خودمختاری کی علامت قرار دیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای صاحب ایک ایسے لیڈرتھے جنہوں نے اسلامی وقار اور امتِ مسلمہ کی عزت کے لیے ثابت قدمی کے ساتھ قیادت کی اور بالآخر اسی راستے میں شہادت کو گلے لگا کر تاریخ میں اپنی جدوجہد کو ہمیشہ کے لیے رقم کر دیا۔
حضرت مرزامسروراحمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘ جو خامنائی صاحب تھے ان کو تو شہادت کا مقام مل گیا ہے اور اس شہادت کے مقام کی وجہ سے قوم میں ان کی اور عزت بڑھ گئی ہے۔ ان کے بچوں کو بھی مار دیا گیا، پورے خاندان کو مارا گیا یہ ظلم جو ہوا اس سے تو regime changeکیا ہونی تھی ان کی عزت و احترام اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ’ (خطبہ جمعہ بیان فرمودہ ۶ ؍مارچ ۲۰۲۶ء)
؎ کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے
ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے
حسن نعیم
اپنی موت کے متعلق خامنہ ای صاحب کے اپنے خیالات یہ تھے، وہ کہتے ہیں:
من جان نا قابلی دارم،جسم ناقصی دارم، ھمہ اینھا رو من کف دست کر فتم در راھی این انقلابِ و درراہ اسلام فدا خواھم کرد۔
اردو ترجمہ:
میری زندگی کی کوئی بڑی قیمت نہیں ہے، میرا جسم کمزور ہے۔ میں یہ سب کچھ ایک طرف رکھ کر، اس انقلاب اور اسلام کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔
؎ عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
(علامہ اقبال)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایرانی قوم کی تعریف کرتے ہوئےفرمایا:
ایران کے متعلق پہلے بھی میں بارہا کھلم کھلا یہ اقرار کر چکا ہوں کہ مذہبی عقائد سے اختلاف کے باوجود ایرانی قوم اسلام کے معاملے میں منافقت نہیں کرتی۔اسلام کی سچی عاشق ہے. ان کا اسلام کا تصور غلط ہو سکتا ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ شیعہ ازم میں بعض ایسے عقائد کے قائل ہوں جن سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسلام کے تصور میں جہاں تک سیاست کا تصور ہے ان کے خیال میں بہت سی غلطیاں ہوں یعنی اسلام کے سیاسی تصور میں ان کے خیال میں غلطیاں ہوں اور ہیں میرے نزدیک لیکن جان بوجھ کر اسلام سے غداری کریں یہ ایرانی قوم سے ممکن نہیں ہے اور ان کی تاریخ بھی خدمت اسلام کی عظیم کارناموں سے روشن ہے بلکہ جتنی علمی خدمت اسلام کی وسیع تر ایران نے کی ہے جس کا ایک حصہ اب روس کے قبضے میں ہے اس خدمت کو اگر باقی اسلام کی خدمت کے مقابل پر رکھیں تو آپس میں تول کرنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایران کی خدمت کسی طرح دوسری سب خدمتوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔الحمد للہ کہ ایران نے اپنی تو قعات کو پورا کیا اور باوجود اس کے کہ صدر صدام کی حکومت سے ایرانی حکومت کا شدید اختلاف تھا۔آٹھ سال تک نہایت خوفناک خونی جنگ میں یہ لوگ مبتلا رہے ہیں اور بہت ہی گہرے شکوے اور صدمے تھے۔اگر ایران، عراق کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا تو دنیا سمجھ سکتی تھی اور مؤرخ اس کو معاف بھی کر سکتا تھا کہ اتنی خوفناک جنگ کے بعد اگر ایران نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تو کوئی حرج نہیں ایسا ہو جایا کرتا ہے۔آخر انسانی جذبات ہیں جو بعض باتوں سے مشتعل ہو کر پھر قابو میں نہیں آتے۔اس وقت انسان گہری سوچوں میں نہیں پڑسکتا کہ اسلام کے تقاضے کیا ہیں، ملت کے تقاضے کیا ہیں۔جذبات میں بہ جاتا ہے تو یہ باتیں سوچ کر ایک مؤرخ کہہ سکتا ہے کہ اس پہلو سے یہ قابل معافی ہے مگر ایران نے اگر چہ ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ تو نہیں کیا لیکن اس ابتلا میں پوری طرح نیوٹرل (Neutral) رہتے ہوئے عراق کو عراق کی غلطی یاد کرائی اور مغربی طاقتوں کو ان کی غلطی یاد کروائی گویا کہ انصاف پر قائم رہا۔اس پہلو سے ایران کا نام انشاء اللہ اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ (خطبات طاہر جلد ۱۰،صفحہ ۷۶-۷۷)
ہم اپنے ربِ رحیم کی درگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ قوم جس کے لیڈر کو ایک خلیفہ نے شہید کہہ کر سرفراز کیا۔ اور دوسرے خلیفہ نے اس قوم کی اسلام سے وفا کا اعلان کیا۔ قادر مطلق خدا اس قوم کو مسیح محمدی کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور حضرت سلمان فارسی ؓ کے ذریعہ سے جو رشتہ محمد ﷺ نے جوڑا ہے اسے نبھانے کی توفیق بخشے۔آمین



