متفرق شعراء

’’الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں‘‘

نظر دوڑا کے دیکھو ہر زماں میں
ہے رخنہ کیا، کوئی کون و مکاں میں

زمیں کا حسن، صحرا اور دریا
ہیں روشن چاند تارے آسماں میں

غنیمت ہے کہ مل بیٹھے یہاں سب
بہت سے اور بھی ہیں کارواں میں

زمانے کو نہیں فرصت ذرا بھی
رکھا کیا ہے بھلا عِشقِ بتاں میں

جنوں میں ہوش کی باتیں اگر ہوں
کوئی گہرا سبق ہو داستاں میں

مری یادوں میں آ کر شور کرنا
نہیں آداب اس آہ و فغاں میں

رہی اک شاخِ دل اب تک ہری ہے
ہیں پتّے زرد ورنہ گلستاں میں

’’الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں‘‘
ہیں اتنے چاہنے والے جہاں میں

تری سب خواہشیں پوری ہوں طارقؔ
نہاں ہو جائے گر یارِ نہاں میں

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

مزید پڑھیں: واقفینِ زندگی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button