حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قلمی جہاد
اسلام پر معاندین اسلام کے جارحانہ حملوں کے جواب میں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسلوبِ جہاد تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جو رہتی دنیا تک اہلِ انصاف کے لیے حجت، اہلِ علم کے لیے دلیل اور اہلِ ایمان کے لیے یقین و اطمینان کا سرچشمہ بنا رہے گا
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے خداداد اور الٰہی مشن کی تبلیغ کا حق پوری جرأت، حکمت اور استقامت کے ساتھ ادا فرمایا۔ آپؑ نے ہر وہ ذریعہ بروئےکار لایا جو حق کے پیغام کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر جب مخالفین حق دشمنی تعصب، ہٹ دھرمی اور جہالت کی انتہاؤں کو چھونے لگے اور دلیل کی بجائے دشنام، تمسخر اور بہتان کو اپنا ہتھیار بنا لیا تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے دنیا کو علمی اور روحانی میدان میں اتمامِ حجت کے لیے کھلے عام للکارا۔
یہ وہ تاریخی اور غیر معمولی چیلنجز تھے جنہوں نے روحانی دنیا میں حیرت انگیز انقلابات برپا کیے اور جن کے نتیجے میں الٰہی نشانات کا ایسا ظہور ہوا کہ عقلیں دنگ رہ گئیں۔ یہی وہ چیلنجز تھے جو آنحضرتﷺ کی اُس عظیم پیشگوئی کا ایک درخشاں مصداق بنے کہ مسیح و مہدی مال تقسیم کرے گا، مگر لینے والا کوئی نہ ہوگا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مخالفین کو نہایت جلال اور اعتماد کے ساتھ میدانِ مقابلہ میں آنے کی عام دعوت دی اور سینکڑوں علمی و روحانی چیلنجز کے ساتھ خطیر رقوم پر مشتمل انعامات کا اعلان فرمایا۔
حضرت مسیح موعودؑ کے یہ چیلنجز اس زمانے کے تمام معروف مسلمان علماء، عیسائی پادریوں، ہندو پنڈتوں، آریہ سماجی راہنماؤں بلکہ ہر اس شخص کے سامنے رکھے گئے جو اسلام، بانیٔ اسلامﷺ، قرآنِ کریم اور حضرت مسیح موعودؑ کے حق میں ظاہر ہونے والے الٰہی نشانات کے خدائی ہونے میں ذرا سا بھی شک رکھتا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان چیلنجز کے سامنے کوئی بھی مخالف ٹھہر نہ سکا اور بالآخر حق کی صداقت نمایاں ہو کر سامنے آئی۔
اسلام کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ جب بھی اس دینِ حق پر بیرونی طاقتوں نے فکری یا عسکری یلغار کی،گذشتہ صدیوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے علماء و اولیاءپیدا فرمائے جنہوں نے نہایت جرأت، بصیرت اور استقامت کے ساتھ دفاعِ اسلام کا فریضہ سرانجام دیا۔لیکن ان مجاہدینِ حق کی درخشاں صف میں سب سے نمایاں اور روشن نام حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے۔ آپؑ نے انیسویں صدی کے آخری نصف میں، جب یورپ اور برصغیر کے معاندین اسلام نے نہایت زہریلے، بے باک اور منظم فکری حملے شروع کر رکھے تھے، قلمی جہاد کی بنیاد ازسرِنو استوار فرمائی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ موجودہ زمانے کا حقیقی جہاد تلوار سے نہیں بلکہ دلائل، براہین اور علمی نور کے ذریعے سے ہونا مقدر ہے۔
مسیحی مشنریز نے لاکھوں کی تعداد میں پمفلٹس، کتابیں اور رسائل شائع کر کے اسلام، قرآنِ کریم اور آنحضرتﷺ کے خلاف طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا تھا۔ آریہ سماج کے لیڈران نے اسلام پر تحقیر آمیز اور گمراہ کن اعتراضات کی بھرمار کر دی تھی۔ نیچریت اور الحاد کی تحریکیں مسلمانوں کے بنیادی عقائد کو متزلزل کرنے کے درپے تھیں۔ ایسے نازک اور کٹھن وقت میں مسلمان علمی اور دینی لحاظ سے نہایت کمزور حالت میں تھے اور کوئی مؤثر مدافع نظر نہیں آتا تھا۔
ایسے ہی تاریک اور پُرفتن دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ دشمنانِ اسلام کے فکری حملوں کا رُخ موڑ دیں، اسلام کی عظمت اور حقانیت کو دلائلِ قاطعہ سے ثابت کریں اور دنیا کو یہ دکھا دیں کہ اسلام زندہ مذہب ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسلوبِ جہاد
جہاد کی تعلیم مومن کی زندگی کے ہر لمحے سے تعلق رکھتی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد بچپن سے شروع ہوا اور بڑھاپے تک جاری رہا۔یہ جہاد جبلِ نور پہ غار حرا میں اس شان سے جاری تھا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی عش عش کررہے تھے۔یہ جہاد اس وقت بھی جاری تھا جب آپؐ اکیلے خانہ کعبہ میں جا کر اپنے ربّ کریم کے ساتھ راز و نیاز کیا کرتے تھے۔یہ جہاد طائف کی بستی میں اُس وقت بھی جاری تھا جب آپؐ بے سروسامانی کے عالم میں خون میں لت پت اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَکی دعا میں مصروف تھے اور غار ثور میں بھی یہی جہاد جاری تھا اور یہ جہاد راتوں کے اس لمبے قیام کے دوران بھی جاری تھا جب کہ روایات کے مطابق لمبے قیام کی وجہ سے آپؐ کے پاؤں متورم ہو کے پھٹ جایا کرتے تھے اور یہ جہاد اس وقت اپنی انتہا اور اپنے انجام کو پہنچا جب آپؐ ہر آنکھ کو اشک بار چھوڑ کے في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد،صفحہ ۱تا۲)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس زمانہ میں بڑے بڑے مشکلات کا سامنا تھا۔ آپؐ کے بہت سے جان نثار اور عزیز دوست ظالم کفار کے تیروتفنگ کا نشانہ بنے اور طرح طرح کے قابل شرم عذاب ان لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پہنچائے حتیٰ کہ آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کر لیا۔ چنانچہ آپ کا تعاقب بھی کیا۔ آپ کے قتل کرنے والے کے واسطےانعام مقرر کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔ تعاقب کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی گئی۔ مگر یہ تو خدا کا تصرف تھا کہ آپ کو ان کی نظروں سے باوجود سامنے ہونے کے بچا لیا اور ان کی آنکھوں میں خاک ڈال کر خود اپنے رسول کو ہاتھ دے کر بچا لیا۔ آخر کار جب ان کفار کے مظالم کی کوئی حد نہ رہی اور مسلمانوں کو ان کے وطن سے باہر نکال کر بھی وہ سیر نہ ہوئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد نازل ہوا: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدیۡرُ(الحج:۴۰)خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار اُٹھانے کی اجازت دی اور اس اجازت میں یہ ثابت کر دیا کہ واقع میں جو لوگ ظالم تھے۔ اور شرارت ان کی حد سے بڑھ چکی تھی اور مسلمانوں کا صبر بھی اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکا تھا۔ اب خدا نے فرمایا کہ جن لوگوں نے تلوار سے مقابلہ کیا وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاویں اور گو یہ چند اور ضعیف ہیں مگر میں دکھا دوں گا کہ میں بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں ان کی نصرت کروں گا اور تم کو ان کے ہاتھ سے ہلاک کراؤں گا۔ چنانچہ پھر اس حکم کے بعد ان ہی چند لوگوں کی جو ذلیل اور حقیر سمجھے گئے تھے اور جن کا نہ کوئی حامی بنتا تھا اور نہ مددگار اور وہ کفار کے ہاتھ سے سخت درجہ تنگ اور مجبور ہو گئے تھے ان کی مشارق اور مغارب میں دھاک بندھ گئی اور اس طرح سے خدا نے ان کی نصرت کر کے دنیا پر ظاہر کر دیا کہ واقعی وہ مظلوم تھے۔ غرض ہر طرح سے، ہر رنگ میں اور ہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھ لو واقع میں اس وقت مسلمان مظلوم تھے یا کہ نہیں۔ اگر خدا ایسے خطرناک اور نازک وقت میں بھی ان چند کمزور مسلمانوں کو اپنی حفاظت جان کے واسطے تلوار اُٹھانے اور دفاعی طور سے لڑائی کرنے کی اجازت نہ دیتا تو کیا ان کو دنیا کے تختہ سے نابود ہی کر دیتا؟ تو پھر اس حالت میں ان کا تلوار اُٹھانا جبکہ ہر طرح سے ان کا حق تھا کہ وہ تلوار اُٹھاتے کیا تو شرعاً اور کیا عرفاً۔ مگر وہ بھی آج تک نشانۂ اعتراض بنا ہوا ہے اور متعصّب اور جاہل دشمن اب تک اس کو نہیں بھولتے تو کیا اب یہ لوگ خونی مہدی کا عقیدہ پیش کر کے ان کے ان اعتراضوں کو پھر تازہ کرتے اورمسلمانوں سے متنفّر کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھو مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے خود صاف فرمادیا ہے کہ یضع الحرب وہ جنگ کا خاتمہ کر دے گا اور وہ جنگ ایک علمی جنگ ہوگا۔ قلم تلوار کا کام کرے گا اور اسرارِ روحانی، برکات سماوی اور نشانات اقتداری سے دنیا کو فتح کیا جاوے گا اور دلائل قاطع اور براہین ساطع سے اسلام کا غلبہ ثابت کیا جاوے گا۔ اور تازہ بتازہ غیبی پیشگوئیوں اور تائیدات خدائی سے سچے مذہب کو ممتاز کر کے دکھایا جاوے گا۔ یہ کہہ دینا کہ معجزات سابقہ ہمارے پاس موجود ہیں کافی نہیں۔ یاد رکھو کہ ہندوؤں کے پستکوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کے قصّے کہانیوں سے بڑھ کر تمہارے پاس بھی کچھ نہیں۔ اگر تم قصّے پیش کرو گے تو وہ تم سے بڑھ چڑھ کر قصے پیش کر سکتے ہیں۔ اگر اسلام کی سچائی کا معیار بھی صرف قصے کہانیوں کی بنا پر رہ گیا ہے تو پھر یاد رکھو کہ یہ امر مشتبہ ہے۔
اسلام میں فرقان ہے۔ خدا نے ہمیشہ سے اسلام میں ایک امر خارق رکھا ہے اور تازہ بتازہ نشانات ہیں۔ نشان کا نام سُن کر آج کل کے فلسفہ پڑھنے والے کچھ کشیدہ خاطر ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کے وجود کا پتہ لگانے کے واسطے نشانات اور انبیاء کے وجود کی کیا ضرورت ہے؟
مگر یاد رکھو کہ اس نظام شمسی اور اس ترتیب عالم سے جوکہ ایک ابلغ اور محکم رنگ میں پائی جاتی ہے۔ اس سے نتیجہ نکالنا کہ خدا ہے یہ ایک ضعیف ایمان ہے۔ اس سے خدا کے وجود کے متعلق پوری تسلی نہیں ہو سکتی، امکان ثابت ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یقیناً خدا ہے اگر اس میں یقینی اور قطعی دلائل ہوتے تو پھر لوگ دہریہ کیوں ہوتے؟بڑے بڑے محقق کتابیں تالیف کرتے ہیں مگر ان کے دلائل ناطقہ اور براہین قاطعہ نہیں ہوتے۔ کسی کا منہ بند نہیں کر سکتے اور نہ ان سے یقینی ایمان تک انسان پہنچ سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ان امور سے خدا کی ہستی کے دلائل بیان کرے گا تو ایک دہریّہ اس کے خلاف دلائل بیان کر دے گا۔
در اصل بات یہ ہے کہ اس طرح اتنا ثابت ہو سکتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ’’ہے‘‘۔ ہونا چاہیے اور ہے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ’’ہے‘‘ مشاہدہ کو چاہتا ہے۔ مگر دوسرا حصّہ جو وجود باری تعالیٰ کے واسطے انبیاء نے پیش کیا ہے کہ زبردست نشانات معجزات اور خدا کی زبردست طاقت کے ظہور سے اس کی ہستی ثابت کی جاوے۔ یہ ایک ایسی راہ ہے کہ تمام سر اس دلیل کے آگے جُھک پڑتے ہیں۔ اصل میں بہت سے عرب دہریہ تھے جیساکہ قرآن شریف کی آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے۔ اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا (المومنون:۳۸) کیا عرب جیسے اجڈ اور بےباک، بے قید، بےدھڑک لوگ تلوار سے آپؐ نے سیدھے کئے تھے۔ اور ان کی آپؐ کی بعثت سے پہلی اور پچھلی زندگی کا عظیم الشّان امتیاز اور فرق اس وجہ سے تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تلوار کا مقابلہ نہ کر سکے تھے؟ یا کیا صرف سادہ اور نری اخلاقی تعلیم تھی جس سے ان کے دلوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا ہو گئی تھی؟ نہیں ہر گز نہیں۔ یاد رکھو کہ تلوار انسان کے ظاہر کو فتح کر سکتی ہے مگر دل کبھی تلوار سے فتح نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ وہ انوار تھے جن میں خدا کا چہرہ نظر آتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسے ایسے خارق عادت نشانات دکھائے تھے کہ خود خدا ان لوگوں کے سامنے آموجود ہوا تھا اور انہوں نے خدا کے جلال اور جبروت کو دیکھ کر گناہ سوز زندگی اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی تھی۔(ملفوظات جلد ۱۰صفحہ ۲۶۷ تا ۲۷۰ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
آپؑ نے بارہا فرمایا کہ آج کے زمانے کا جہاد تلوار سے نہیں بلکہ قلم سے ہے۔چنانچہ آپؑ نے اس فکری میدان میں جو خدمات سرانجام دیں، وہ تاریخِ اسلام کا درخشاں باب ہیں۔
قرآن کریم کا دفاع اور اس کی صداقت کا روشن اظہار
آپؑ نے اپنی کتب میںقرآن کو کامل اور غیر محرف کتاب ثابت کیا،قرآن کے اعجازِ علمی، روحانی اور اخلاقی پہلو کھول کر بیان کیےاور مخالفین کے قرآن پر اعتراضات کو علمی رنگ میں رد کیا۔آپؑ کی کتاب براہین احمدیہ اس میدان میں ایک سنگِ میل ہے جسے علما ء نے ’’علومِ اسلامیہ کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ قرار دیا۔
آنحضرتﷺ کی سیرت اور عظمت کا بےمثال دفاع
حضرت مسیح موعودؑ نے مخالفین کے گستاخانہ حملوں کا نہایت حکیمانہ، تحقیقی اور مدلل جواب دیا۔آپؑ کی کتب سیرۃ النبیؐ کے دفاع میں مثلاً چشمہ معرفت، براہین احمدیہ، نورالحق، سرمہ چشمِ آریہ اور دیگر کتب آج بھی اسلام کے وقار اور رسول کریمﷺ کی عظمت کے زندہ ثبوت ہیں۔آپؑ نے ثابت کیا کہ دشمن جتنے بھی اعتراض اٹھائے، آنحضرتﷺ کی ذاتِ اقدس نور کا وہ مینار ہے جسے کوئی طوفان بجھا نہیں سکتا۔
مذاہبِ باطلہ کی علمی کمزوریوں کا انکشاف
حضرت مسیح موعودؑ نےمسیحیت کے تراشیدہ عقائد،آریہ سماج کے توہمات،برہمو تحریک اور نیچریت کے نظریات کا انتہائی گہرے استدلال کے ساتھ ردّ کیا۔مثلاًسرمہ چشم آریہ میں آریہ عقائد کی منطقی کمزوریاں نمایاں کیں۔ازالہ اوہام میں پادریوں کے اعتراضات کا سائنسی و عقلی جواب دیا۔تحفہ گولڑویہ اور فتح اسلام میں ثابت کیا کہ اسلام ہی وہ زندہ مذہب ہے جو زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
روحانی تجدید: وحی، دعا اور نشانوں کا جہاد
قلم کے ساتھ ساتھ آپؑ نے روحانی جہاد بھی کیا۔ الہامات،پیشگوئیوں، قبولیتِ دعاکے ذریعے معاندین پر یہ واضح کیا کہ خدا آج بھی زندہ ہے اور اسلام اس کی زندہ نشانی ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کے نشان مخالفین کی ساری تدابیر پر غالب آگئے۔گولڑوی، لیکھرام، آتھم، ڈوئی اور دیگر معاندین خدا کی پکڑ میں آئے اور اسلام کے خلاف ان کی زبانیں خاموش ہو گئیں۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اعلان فرمایا کہ اسلام کی اصل قوت علمی و روحانی غلبہ ہے، نہ کہ تلوار یا جبر۔آپؑ نے ایک نئے دور کا آغاز فرمایاتھا کہ ہمیں خدا نے تلوار سے نہیں بلکہ دلائل سے بھیجا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی قلمی کاوشوں کے نتیجے میںاسلام کی علمی و روحانی برتری جب دنیا پر پوری آب و تاب کے ساتھ منکشف ہوئی تو مخالفین کے اعتراضات خود بخود دم توڑ گئے۔ باطل کے ایوان دلیل و برہان کے سامنے لرز اٹھے اور حق کی صداقت ایسی شان سے جلوہ گر ہوئی کہ مسلمانوں کو ازسرِنو عزت، استحکام اور استدلال پر مبنی اعتماد نصیب ہوا۔ بالخصوص جماعت احمدیہ کے ذریعہ حقیقی اسلام کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے تک اس شان سے پہنچنے لگا کہ دلوں میں نئی زندگی اور اذہان میں نئی بیداری پیدا ہو گئی۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کر دی کہ اصل جہاد تلوار سے نہیں بلکہ قلم، دعا اور اعلیٰ اخلاق سے ہوتا ہے۔ آپؑ کا اسوہ اس بات کی عملی تفسیر تھا کہ فکری معرکے دلیل سے، روحانی جنگیں دعا سے اور دلوں کی فتح اخلاق سے سر کی جاتی ہے۔ یہی وہ جہاد تھا جس نے صدیوں کے زنگ آلود تصوّرات کو توڑا اور اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے رکھ دی۔
تاہم افسوس کہ وہ علماء جو روحانی نور سے محروم تھے، انہوں نے قرآن و حدیث کے روشن دلائل کو قبول کرنے کی بجائے انکار و عناد کی راہ اختیار کی۔ حضرت سلطانُ القلم علیہ السلام کی علمی و روحانی عظمت انہیں برداشت نہ ہو سکی اور وہ مخالفت پر کمربستہ ہو گئے۔ دلیل پر دلیل پیش کی گئی، حجت تمام کی گئی، مگر جن دلوں پر تعصب کی مہر لگ چکی ہو وہاں نورِہدایت کیسے اترتا؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے باوجود تبلیغ کا حق پوری دیانت، صبر اور حکمت کے ساتھ ادا فرمایا۔ آپؑ نے علماء، مشائخ اور سجادہ نشینوں کو نہایت دردِ دل کے ساتھ حق کی طرف بلایا اور اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’انجامِ آتھم‘‘ میں اس وقت کے مسلم علماء و مذہبی پیشواؤں کو مباہلہ کی دعوت دی۔ یہ دعوت کسی ذاتی غلبے یا شہرت کے لیے نہ تھی بلکہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن امتیاز قائم کرنے کے لیے تھی، تاکہ اللہ تعالیٰ خود سچائی کو نمایاں فرما دے۔
یوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ جرأت مندانہ اور خالصتاً روحانی پیش قدمی تاریخِ اسلام میں ایک درخشاں باب کی حیثیت رکھتی ہے جو آج بھی اہلِ انصاف کے لیے دعوتِ فکر اور اہلِ حق کے لیے سرچشمۂ یقین ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو!! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اگرچہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فئہ قلیلہ ہے اور شائد اس وقت تک چار ہزار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی تاہم یقیناًسمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے خدا اس کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہوگا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچا دے۔ اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔ کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔ پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہتا-اسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے مباہلہ کی درخواست پیش کروں۔‘‘(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد۱۱صفحہ۶۴)
اس کے بعدیہ درخواست مباہلہ بذریعہ رجسٹری اس وقت کے مشہور ۸۳علماء ومشائخ اور ۴۸سجادہ نشینوں کے نام ارسال کی گئی۔ اس دعوت مباہلہ کے ساتھ ۲۰۹صفحات پر مشتمل فصیح وبلیغ عربی وفارسی مکتوب بھی تحریر فرمایا جس میں ۲۵۸اشعارپر مشتمل منظوم کلام بھی شامل تھا۔
مبا ہلے میں شرط کے طور پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ’’میرے مباہلہ میں یہ شرط ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم سے کم دس آدمی حاضر ہوں اس سے کم نہ ہوں اور جس قدر زیادہ ہوں میری خوشی اور مراد ہے کیونکہ بہتوں پر عذاب الٰہی کا محیط ہوجانا ایک ایسا کھلا کھلا نشان ہے جو کسی پر مشتبہ نہیں رہ سکتا۔ گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہواور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔‘‘(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۶۷)
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو براہِ راست بھی مختلف وقتوں میں الہاماً اس اہم امر کی طرف توجہ دلائی کہ صبر اور اعلیٰ اخلاق کا دامن ہمیشہ پکڑے رہنا اور چاہے جو بھی حالات ہو جائیں، دشمن چاہے جیسی بھی ذلیل اور گھٹیا حرکتیں کرے، نقصان پہنچانے کے چاہے جتنے بھی حیلے اور وسیلے تلاش کیے جائیں اور عملاً نقصان پہنچائے، تمہارا صبر اور استقامت کا دامن کبھی نہیں چھوٹنا چاہیے۔ دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے چلے جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے انتظار میں رہو۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ابتلااور آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے وہ بندے اُن کو اللہ کی خاطربرداشت کرتے ہیں۔ چنانچہ براہینِ احمدیہ میں آپؑ نے اس بارے میں اپنے ایک الہام کا ذکر فرمایا ہے جس کے الفاظ یوں ہیں کہ اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوالْعَزْمِ۔ اَلَآ اِنَّھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَمًّا۔ حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْرَمِ۔ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ۔ اس جگہ فتنہ ہے۔ پس صبر کر جیسے اولوالعزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔ خبردار ہو۔ یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ ایسی محبت کرے جو کامل محبت ہے۔ اُس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے۔ وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔ (براہین احمدیہ حصہ چہار،م روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۶۰۹-۶۱۰حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: نبوت کے دعوے سے بھی پہلے، بیعت لینے سے بھی پہلے بلکہ ابتدا میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کے اعلیٰ خُلق کی جوتلقین فرمائی تھی اس کا اظہار اور اس پر عمل آپ کی زندگی کے آخری لمحہ تک جاری رہا۔ جس کی بعض مثالیں جیسا کہ میں نے کہا مَیں پیش کروں گا۔
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ۱۸۹۸ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا ایک گالیوں کا بھرا ہوا رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور بھیجا۔ اپنی رپورٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ مَیں نے ۲۷جولائی ۱۸۹۸ء کے الحکم میں اس کیفیت کو درج کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ آج قریباً تیس سال ہوئے جب اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوصلہ، ضبطِ نفس اور توجہ الیٰ اللہ پر غور کرتے ہوئے پڑھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل جاتے ہیں۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از مولانا یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ ۴۶۲، ۴۶۳ )(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍نومبر۲۰۱۰ء)
مندرجہ بالا حقائق، اقتباسات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جہاد نہ کسی سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے تھا، نہ تلوار و تشدد پر مبنی کوئی تحریک، بلکہ یہ ایک خالصتاً علمی، روحانی، اخلاقی اور الٰہی جہاد تھا جس کی بنیاد صبر، دعا، دلیل اور اعلیٰ اخلاق پر رکھی گئی تھی۔ آپؑ نے اسلام کے خلاف ہونے والے منظّم فکری حملوں کا مقابلہ اسی ہتھیار سے کیا جو اس زمانے میں سب سے زیادہ مؤثر اور فیصلہ کن تھا، یعنی قلم، برہان اور زندہ نشانات۔
حضرت مسیح موعودؑ نے نہ صرف یہ واضح کر دیا کہ آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانے میں جہاد کا حقیقی مفہوم جہاد یا تعلیم اور جہاد بالقرآن ہے اور ثابت کردکھایا کہ اسلام کی اصل طاقت اس کی زندہ سچائی، خدائی تائید اور روحانی تاثیر میں پوشیدہ ہے، نہ کہ جبر، تشدد یا تلوار کے زور میں۔ آپؑ کے علمی چیلنجز، مباہلات، پیشگوئیاں اور قبولیتِ دعا کے حیرت انگیز واقعات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ خدا آج بھی اسی طرح زندہ ہے جیسے پہلے تھا اور اسلام آج بھی اسی قوت اور صداقت کے ساتھ قائم ہے جیسے عہدِ نبویؐ میں تھا۔
یہ بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے نہایت شدید مخالفت، گالی گلوچ، بہتان طرازیوں، قتل کے مقدمات اور سازشوں کے باوجود صبر، حلم اور ضبطِ نفس کا ایسا بے مثال نمونہ پیش فرمایا جو آنحضرتﷺ کی سنت کا حقیقی عکس تھا۔ دشمنوں کی ہر اذیت کے مقابل آپؑ کی زبان سے دعا نکلی، ہر الزام کے جواب میں دلیل پیش کی گئی اور ہر فتنے کے سامنے اخلاق کی شمع روشن رکھی گئی۔ یہی وہ اسلوب تھا جس نے بالآخر باطل کو رسوا اور حق کو سرخرو کر دیا۔
مباہلہ کی دعوت، علمی مناظرے، قلمی تصانیف اور روحانی نشانات اس بات پر گواہی دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مامور تھے، جنہیں اسی مقصد کے لیے مبعوث کیا گیا تھا کہ آپؑ اسلام کی کھوئی ہوئی علمی و روحانی شان کو ازسرِنو زندہ کریں اور دنیا کو یہ دکھا دیں کہ اسلام زندہ مذہب ہے جو ہر دور کے اعتراضات کا جواب دینے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے۔
بالآخر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت نے نہ صرف مسلمانوں کو ایک نئی فکری زندگی عطا کی بلکہ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی جو دلیل، اخلاق اور روحانیت کے ذریعے دنیا کے سامنے حقیقی اسلام کی نمائندہ بنی۔ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کا یہ پیغام آج دنیا کے کناروں تک پہنچ رہا ہے اور یہ اسی خدائی وعدے کی عملی تکمیل ہے کہ اللہ اپنے دین کی حفاظت خود فرماتا ہے۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسلوبِ جہاد تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جو رہتی دنیا تک اہلِ انصاف کے لیے حجت، اہلِ علم کے لیے دلیل اور اہلِ ایمان کے لیے یقین و اطمینان کا سرچشمہ بنا رہے گا۔
(بشیر الدین قادرؔ۔ مربی سلسلہ ہفت روزہ بدر قادیان)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: رمضان کیسے گزاراجائے




