حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

براہین احمدیہ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب

حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے سے میں ذکر کرتا ہوں کہ جب براہین احمدیہ آپؑ نے تحریر فرمائی اور آپؑ نے شروع میں یہ بیان فرمایا کہ اتنی تعداد میں میں لکھوں گا۔ لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ماموریت کا جو مقام عطا فرمایا تو آپؑ نے فرمایا کہ یہ باتیں اب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، یہ کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور وہ حسبِ حالات جو مضامین سکھاتا رہے گا وہ میں بیان کرتا رہوں گا تو مخالفین نے یہ اعتراض کر دیا کہ آپؑ کو کوئی لکھ کر دیتا تھا اور آپؑ بیان کر دیتے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس بارے میں ایک تقریر میں بیان فرمایا ہے اس زمانے میں ایک اخبار ہوتا تھا ’زمیندار‘ اور ’احسان‘ ایک دوسرا اخبار تھا یہ مخالف اخبارات یہ بھی لکھتے رہتے ہیں کہ کوئی مولوی چراغ علی صاحب حیدر آبادی تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ مضامین لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ جو آپؑ براہین احمدیہ میں شائع کر دیتے تھے۔ اورجب تک ان کی طرف سے مضامین کا سلسلہ جاری رہا آپ علیہ السلام بھی کتاب لکھتے رہے۔ مگر جب انہوں نے مضمون بھیجنے بند کر دیے تو آپؑ کی کتاب بھی ختم ہو گئی۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہ سمجھ میں نہیں آتاکہ مولوی چراغ علی صاحب کو کیا ہو گیا۔ لوگ کہتے ہیں ناں وہ لکھ کے دیا کرتے تھے۔ کیا ہو گیا انہیں کہ جو اچھا نکتہ سوجھتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھ کر بھیج دیتے اور اِدھر اُدھر کی معمولی باتیں اپنے پاس رکھتے۔ آخر مولوی چراغ علی صاحب مصنف ہیں۔ براہین احمدیہ کے مقابلہ میں ان کی کتابیں رکھ کر دیکھ لیا جائے۔ ان کی بعض کتابیں ہیں، ان کو براہین احمدیہ کے مقابلے میں رکھ لوکہ آیا کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟ کہاں براہین احمدیہ اور کہاں ان کی تصنیف۔ پھر وجہ کیا ہے کہ دوسروں کو تو ایسا مضمون لکھ کر دے سکتے تھے جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی اور جب اپنے نام پر کوئی مضمون شائع کرنا چاہتے تو اس میں وہ بات ہی پیدا نہ ہوتی۔ پس اوّل تو انہیں ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مضمون لکھ لکھ کر بھیجتے۔ اور اگر بھیجتے تو عمدہ چیز اپنے پاس رکھتے اور معمولی چیز دوسرے کو دے دیتے۔ جیسے ذوق کے متعلق، ذوق بھی شاعر ایک گزرے ہیں، ان کے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ ظفر کو، بہادر شاہ ظفر کو نظمیں لکھ لکھ کر دیا کرتے تھے۔مگر ’’دیوانِ ذوق‘‘ اور’’دیوانِ ظفر‘‘آج کل دونوں پائے جاتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر صاف نظر آتا ہے کہ ذوق کے کلام میں جو فصاحت اور بلاغت ہے وہ ظفر کے کلام میں نہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ظفر کو کوئی چیز دیتے بھی تھے تو اپنی بچی ہوئی دیتے تھے، اعلیٰ چیز نہیں دیتے تھے۔ حالانکہ بادشاہ ظفر تھا۔ غرض ہر معمولی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر مولوی چراغ علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مضامین بھیجا کرتے تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ معرفت کے عمدہ عمدہ نکتے اپنے پاس رکھتے اور معمولی علم کی باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھ کر دیتے۔مگر مولوی چراغ علی صاحب کی کتابیں بھی موجود ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں بھی۔ انہیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھ لو۔ کوئی بھی ان میں نسبت نہیں ہے۔ انہوں نے یعنی مولوی چراغ علی صاحب نے تو اپنی کتابوں میں صرف بائبل کے حوالے جمع کیے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے وہ معارف پیش کیے ہیں جو تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کو نہیں سوجھے اور ان معارف اور علوم کا سینکڑواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی ان کی کتابوں میں نہیں۔(ماخوذ از فضائل القرآن (۶)، انوار العلوم جلد ۱۴ صفحہ ۳۵۰)(خطبہ جمعہ ۱۵؍مارچ۲۰۲۲ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۵؍اپریل۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: اسلام میں پہلے ہی جو اتنے فرقے ہیں تو پھر ایک نیا فرقہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button