خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر ۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: غزوۂ بنو قریظہ کی تفصیل بیان ہو رہی تھی۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ بنو قریظہ میں قتل ہونے والے یہود کی تعداد کی بابت کیا بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا:ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ ان کی تعداد چھ سو تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد سات سو تھی۔ سُہَیلی کہتے ہیں ان کی تعداد آٹھ سو سے نو سو تھی۔ امام ترمذی اور امام نسائی نے چار سو جنگجو لکھا ہے۔ ابن سعد نے بھی چھ سو سے سات سو کےدرمیان بیان کیا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے جو اپنی مختلف تاریخوں سے تحقیق کی ہے اس کے مطابق وہ لکھتے ہیں کہ’’کم وبیش چار سو آدمی اس دن سعدؓ کے فیصلہ کے مطابق قتل کیے گئے اور آنحضرتﷺنے صحابہ کو حکم دے کران مقتولین کو اپنے انتظام میں دفن کروادیا۔‘‘مخالفینِ اسلام مبالغہ کی حد تک تعداد بیان کر کے پھر اسلام کو ظالم مذہب ہونا قرار دیتے ہیں، یہ کوشش کرتے ہیں جبکہ حقائق اور شواہد کو دیکھا جائے تو مستند تاریخوں کے مطابق چار سو کے قریب تعداد بنتی ہے، وہ بھی وہ جو جنگجو تھے۔ اور تبھی تو وہ ایک گھر میں خندق کھود کر اس میں دفن بھی کر دیے گئے۔اس زمانے کے ایک احمدی سکالر سید برکات صاحب نے بھی اس پر بڑی تحقیق کی ہے اور بڑا اچھا لکھا ہے انہوں نے۔ وہ اپنی کتاب ’’رسول اکرمؐ اور یہودِ حجاز‘‘ میں لکھتے ہیں کہ بنو قریظہ کے مقتولین کی تعداد کی بحث کو اگر دیکھا جائے تو، انہوں نے بعض سوال اٹھائے ہیں جن میں سے بعض کسی قدر معقولیت کا پہلو رکھتے ہیں۔ ایک تو وہی بنیادی اصول انہوں نے لیا ہے جو کہ بہت اہم اصول ہے کہ حدیث ہو یا تاریخ ان کی روایات ضعف و وضعی ہونے کی جرح سے خالی نہیں ہیں۔ اس لیے آنکھیں بند کر کے سب روایات کو مانتے چلے جانا کوئی دانشمندی نہیں۔ پھر چھ سو سے نو سو قتل ہونے والے مرد مع ان کی عورتوں اور بچوں کے جن کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق پانچ چھ ہزار سے کم نہیں ہو گی ان کے بارے میں یہ کہنا کہ مدینہ میں ان کو رسیوں سے باندھ کر لایا گیا اور دو گھروں میں رکھا گیا اور ان کے کھانے پینے کی سہولیات جبکہ مسلمان خود بھوکے پیاسے رہ رہے تھے، قضائے حاجت کے لیے اتنی بڑی تعداد کو لے جانا۔ اَور بھی ضروریات ہوتی ہیں اور کسی کا بھی فرار ہونے کی کوشش نہ کرنا نہ کوئی شورشرابہ کرنا اور راتوں رات مدینے کے ایک بازار میں ان چھ سو افراد کے قتل کے لیے گڑھے کھدوا دینا جبکہ ابھی نئی کھدی ہوئی خندق بھی موجود تھی پھر دو یا تین افراد یعنی حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کا ہی ان سب کو قتل کرنا اور ان دونوں اصحاب کا کبھی بھی اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا اور بخاری اور مسلم میں مقتولین کی تعداد کا ذکر نہ کرنا اس طرح کی کچھ دیگر باتیں راہنمائی کرتی ہیں کہ ان روایات پر ازسر نو غور کیا جانا چاہیے اور یہ دیکھا جائے کہ کہیں ان روایات میں زیادہ ہی مبالغہ آمیزی سے کام نہ لیا گیا ہو۔ لکھتے ہیں کہ درپردہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی یہود دشمنی کو ہوا دینے کے لیے ان واقعات میں بعد کے لوگوں نے رنگ بھر دیے ہیں کیونکہ بخاری میں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سعدؓ نے فیصلہ میں فرمایا تھا کہ تُقْتَلُ الْمُقَاتِلَہ۔ کہ ان کے مُقَاتِلَۃ یعنی جنگ کرنے والے قتل کر دیے جائیں۔ اب عام مؤرخین اور شارحین و سیرت نگاروں نے اس کا ترجمہ یہ کیا کہ ہر وہ مرد جو جنگ کرنے کے قابل تھا وہ قتل کیا جائے بلکہ انہوں نے اس لفظ کو اتنا وسیع کر لیا کہ جنگ کے قابل سے مراد ہر بالغ مرد لے لیا گیا اور بلوغت کا معیار بھی خود ایسا وضع کیا کہ کچھ لوگوں کو کھڑا کر دیا جو ہر مرد کے بالغ ہونے کی علامت کو باقاعدہ چیک کیا کرتے تھے اور اعلان کرتے کہ یہ بالغ ہے اور یوں یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔ اس حد تک مبالغہ ہے اس میں لیکن جن کا رجحان تھوڑی تعداد کی طرف گیا ہے انہوں نے مقاتلہ کے لفظ کا ترجمہ محدود رکھا ہے اور مراد صرف اس جنگ میں شامل ہونے والے مرد لیے جو کہ ان کی تحقیق کے مطابق بیس سے زیادہ نہیں۔ یہ انہوں نے اَور زیادہ کم کر دیے اور یہ کسی حد تک معقولیت کا پہلو لیے ہوئے ہے۔
سوال نمبر۳: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بنوقریظہ کے واقعہ کی نسبت آنحضرتﷺپر ہونے والے اعتراض کی بابت کیابیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: ’’بنوقریظہ کے واقعہ کے متعلق بعض غیر مسلم مؤرخین نے نہایت ناگوار طریقے پر آنحضرت ﷺکے خلاف حملے کیے ہیں اور ان کم وبیش چار سو یہودیوں کی سزائے قتل کی وجہ سے آپ کو ایک نعوذ باللہ ظالم وسفاک فرمانروا کے رنگ میں پیش کیا ہے۔…‘‘(اس اعتراض کےجواب میں حضرت مرزابشیراحمدصاحبؓ )لکھتےہیں اول تویہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بنوقریظہ کے متعلق جس فیصلہ کو ظالمانہ کہا جاتا ہے وہ سعدؓ بن معاذ کا فیصلہ تھا آنحضرتﷺکاہرگز نہیں تھا۔ اور جب وہ آپ کا فیصلہ ہی نہیں تھا تو اس کی وجہ سے آپ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ دوم یہ فیصلہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت ہرگز غلط اورظالمانہ نہیں تھا…’’جو حالات جن کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے کوئی ظالمانہ نہیں تھا۔‘‘سوم یہ کہ اس عہد کی وجہ سے جو سعدؓ نے فیصلہ کے اعلان سے قبل آپ سے لیا تھا آپ اس بات کے پابند تھے کہ بہرحال اس کے مطابق عمل کرتے۔ چہارم یہ کہ جب خود مجرموں نے اس فیصلہ کوقبول کیا اور اس پر اعتراض نہیں اٹھایا اور اسے اپنے لیےایک خدائی تقدیر سمجھا جیسا کہ حیی بن اخطب کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے جو اس نے قتل کیے جانے کے وقت کہے تو اس صورت میں آپ کا یہ کام نہیں تھا کہ خواہ نخواہ اس میں دخل دینے کے لیے کھڑے ہو جاتے۔سعدؓ کے فیصلہ کے بعد اس معاملہ کے ساتھ آپ کا تعلق صرف اس قدر تھا کہ آپ اپنی حکومت کے نظام کے ماتحت اس فیصلہ کو بصورت احسن جاری فرماویں اور یہ بتایا جاچکا ہے کہ آپﷺ نے اسے ایسے رنگ میں جاری فرمایاکہ جو رحمت و شفقت کا بہترین نمونہ سمجھا جاسکتا ہے۔یعنی جب تک تو یہ لوگ فیصلہ کے اجرا سے قبل قید میں رہے آپ نے ان کی رہائش اور خوراک کا بہتر سے بہتر انتظام فرمایا اور جب ان پر سعدؓ کا فیصلہ جاری کیا جانے لگا تو آپ نے اسے ایسے رنگ میں جاری کیا جو مجرموں کے لیے کم سے کم موجبِ تکلیف تھا۔ یعنی اول تو ان کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے آپ نے یہ حکم دیا کہ ایک مجرم کے قتل کے وقت کوئی دوسرا مجرم سامنے نہ ہو۔ بلکہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جن لوگوں کو مقتل میں لایا جاتا تھا ان کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں جب تک وہ عین مقتل میں نہ پہنچ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جس شخص کے متعلق بھی آپ کے سامنے رحم کی اپیل پیش ہوئی آپ نے اسے فوراً قبول کر لیا اور نہ صرف ایسے لوگوں کی جان بخشی کی بلکہ ان کے بیوی بچوں اور اموال وغیرہ کے متعلق بھی حکم دے دیا کہ انہیں واپس دیے جائیں۔ اس سے بڑھ کر ایک مجرم کے ساتھ رحمت وشفقت کاسلوک کیا ہوسکتا ہے؟ پس نہ صرف یہ کہ بنوقریظہ کے واقعہ کے متعلق آنحضرت ﷺپر قطعاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ یہ واقعہ آپ کے اخلاقِ فاضلہ اورحسنِ انتظام اورآپ کے فطری رحم وکرم کاایک نہایت بین ثبوت ہے۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بنو قریظہ کو دی جانے والی سزا کی بابت کیاوضاحت بیان فرمائی؟
جواب: فرمایا: ’’ امکانی طور پر صرف تین سزائیں ہی دی جا سکتی تھیں۔ اول مدینہ میں ہی قید یانظر بندی۔ دوسرے جلاوطنی جیسا کہ بنوقینقاع اور بنونضیر کے معاملہ میں ہوا تھا۔ تیسرے جنگجو آدمیوں کا قتل اور باقیوں کی قید یانظر بندی۔ اب انصاف کے ساتھ غور کرو کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت مسلمانوں کے لیے کون سا طریق کھلا تھا۔ ایک دشمن قوم کا اپنے شہر میں قید رکھنا اس زمانہ کے لحاظ سے بالکل بیرون از سوال تھا کیونکہ اول تو قید کے ساتھ ہی قیدیوں کی رہائش اور خوراک کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی جس کے برداشت کرنے کی ان میں ہرگز طاقت نہیں تھی۔ دوسرے اس زمانہ میں کوئی جیل خانے وغیرہ بھی نہیں ہوتے تھے اور قیدیوں کے متعلق یہی دستور تھا کہ وہ فاتح قوم کے آدمیوں میں تقسیم کر دئے جاتے تھے جہاں وہ عملاً بالکل آزاد رہتے تھے۔ ایسے حالات میں ایک پرلے درجہ کے معاند اور سازشی گروہ کا مدینہ میں رہنا اپنے اندر نہایت خطرناک احتمالات رکھتا تھا اور اگر بنوقریظہ پر یہ فیصلہ جاری کیا جاتا تو یقیناً اس کے معنے یہ ہوتے کہ فتنہ انگیزی اور مفسدہ پردازی اور شرارت اور خفیہ ساز باز کے لیے تو ان کو وہی آزادی حاصل رہتی جو پہلے تھی البتہ ان کے اخراجات کی ذمہ داری مسلمانوں پر آجاتی۔ یعنی پہلے اگر وہ اپنا کھاتے تھے اور مسلمانوں کاگلا کاٹتے تھے ‘‘ تو آئندہ اگر ان کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ یہاں شہر میں رہیں’’تو آئندہ وہ کھاتے بھی مسلمانوں کا ‘‘اگر قیدی بنا لیا جاتا تو مسلمانوں کا کھاتے اور’’(جن کے پاس اس وقت اپنے کھانے کے لیے بھی نہیں تھا) اور گلا بھی مسلمانوں کا کاٹتے۔‘‘ سازشیں تو انہوں نے کرنی ہی تھیں۔ ’’اور مسلمانوں کے گھروں میں اور ان کے ساتھ مخلوط ہوکر رہنے سہنے کی وجہ سے جو دوسرے خطرات ہو سکتے تھے وہ مزید برآں تھے۔‘‘حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اندریں حالات میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقلمند شخص یہ رائے رکھ سکتا ہے کہ بنوقریظہ کویہ سزا دی جاسکتی تھی‘‘ کہ ان کو وہاں رکھا جائے۔’’اب رہی دوسری سزا یعنی جلا وطنی۔ سو یہ سزا بے شک اس زمانہ کے لحاظ سے دشمن کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے ایک عمدہ طریق سمجھی جاتی تھی مگر بنونضیر کی جلاوطنی کا تجربہ بتاتا تھا کہ کم از کم جہاں تک یہود کاتعلق تھا یہ طریق کسی صورت میں پہلے طریق سے کم خطرناک نہیں تھا۔ یعنی یہود کو مدینہ سے باہر نکل جانے کی اجازت دے دینا سوائے اس کے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کہ نہ صرف یہ کہ عملی اور جنگجو معاندینِ اسلام کی تعداد میں اضافہ ہو جائے بلکہ دشمنان اسلام کی صف میں ایسے لوگ جا ملیں جو اپنی خطرناک اشتعال انگیز ی اور معاندانہ پراپیگنڈا اور خفیہ اور سازشی کارروائیوں کی وجہ سے ہر مخالف اسلام تحریک کے لیڈر بننے کے لیے بے چین تھے۔ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ یہود کے سارے قبائل میں سے بنوقریظہ اپنی عداوت میں بڑھے ہوئے تھے۔ پس یقینا ًبنوقریظہ کی جلاوطنی اس سے بہت زیادہ خطرات کا موجب ہو سکتی تھی جو بنونضیر نے غزوہ احزاب کو برپا کر کے مسلمانوں کے لیے پیدا کیے اور اگر مسلمان ایسا کرتے تو اس زمانہ کے حالات کے ماتحت ان کا یہ فعل ہرگز خود کشی سے کم نہ ہوتا۔ مگر کیا دنیا کے پردے پر کوئی ایسی قوم ہے جو دشمن کوزندہ رکھنے کے لیے آپ خود کشی پر آمادہ ہوسکتی ہے؟ اگر نہیں تو یقیناً مسلمان بھی اس وجہ سے زیر الزام نہیں سمجھے جا سکتے کہ انہوں نے بنوقریظہ کو زندہ رکھنے کے لیے خودکشی کیوں نہیں کی۔پس یہ ہر دوسزائیں ناممکن تھیں اور ان میں سے کسی کو اختیار کرنا اپنے آپ کو یقینی تباہی میں ڈالنا تھا۔ اور ان دو سزاؤں کو چھوڑ کر صرف وہی رستہ کھلا تھا جواختیار کیا گیا۔بے شک اپنی ذات میں سعدؓ کا فیصلہ ایک سخت فیصلہ تھا اور فطرت انسانی بظاہر اس سے ایک صدمہ محسوس کرتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بغیر کوئی اور راستہ کھلا تھا جسے اختیار کیا جاتا۔جب ایک سرجن اپنے کسی بیمار کاجس کے لیے وہ اس قسم کا آپریشن ضروری خیال کرے ہاتھ کاٹ دیتا ہے یاٹانگ جدا کردیتا ہے یا کسی اور عضو کو جسم سے علیحدہ کردینے پر مجبور ہوجاتا ہے تو ہر شریف انسان کے دل کو صدمہ پہنچتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا یعنی اگرحالات کی مجبوری اسے ضروری قرار نہ دیتی تواچھا تھا مگر حالات کی مجبوری کے سامنے جھکنا پڑتا ہے بلکہ ایسے حالات میں سرجن کایہ فعل قابلِ تعریف سمجھا جاتا ہے کہ اس نے تھوڑے یاکم قیمتی حصہ کی قربانی سے زیادہ قیمتی چیز کو بچا لیا۔ اسی طرح بنوقریظہ کے متعلق سعدؓ کا فیصلہ گو اپنی ذات میں سخت تھا مگر وہ حالات کی مجبوری کا ایک لازمی نتیجہ تھا جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔‘‘
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حیاتِ مبارکہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایک طائرانہ نظر




