مکتوب جنوبی امریکہ(فروری۲۰۲۶ء)
(بر اعظم جنوبی امریکہ کےتازہ حالات و واقعات کا خلاصہ)
کولمبیا کے جنگل میں منشیات کے خلاف نہ ختم ہونے والی جنگ
عالمی نشریاتی ادارے کے نمائندوں نے کولمبیا کے سپیشل آپریشن پولیس یونٹ کے ہمراہ گھنے جنگلات کا دورہ کیا جہاں یہ یونٹ منشیات کے خلاف بر سر پیکار ہے، مگر یہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ اس خصوصی یونٹ کو امریکی حکومت نے جدید ہتھیار فراہم کیے ہیں اور برطانوی ماہرین نے انہیں تربیت دی ہے۔
بھاری ہتھیاروں سے لیس کمانڈوز کے ہمراہ یہ وفد بلیک ہاک ہیلی کاپٹر پر سوار ایکواڈور کی سرحد سے متصل گھنے جنگل میں پہنچا جو کولمبیا میں’’ کوکا ‘‘کی کاشت کا مرکزہے۔ یہ ملک دنیا کی سپلائی کا تقریباً ۷۰؍فیصد کوکا پیدا کرتا ہے۔
جنگل میں اترنے کے بعد کمانڈوزان نمائندوں کو کوکین کی ایک ابتدائی لیبارٹری کی طرف لے گئے جو جزوی طور پر کیلے کے باغات میں چھپی ہوئی تھی۔یہ ایک جھونپڑی سے کچھ بڑی ہوگی، لیکن اس میں تمام اہم اجزاء کیمیکل کے ڈرم اور کوکا کے بہت سے تازہ پتے، کوکا پیسٹ میں تبدیل کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس دوران درختوں میں سے دو عورتیں اور ایک مرد نمودار ہوئے۔ خواتین میں سے ایک نے پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان سب کے پاؤں میں ربڑ کے جوتے تھے۔ کمانڈوز ان سے مختصر پوچھ گچھ گی لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا۔ کیونکہ کولمبیا کی انسداد منشیات کی حکمت عملی اس کاروبار کے سرغنوں پر مرکوز ہے نہ کہ سپلائی چین کے نیچے غریب کسانوں پر۔کمانڈوز نے اس لیبارٹری کو آگ لگائی جس سے فصل اور کیمیکل تباہ ہو گئے۔وہ یہ آپریشن دن میں کئی بار کرتے ہیں۔منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں ۱۶؍سال کا تجربہ رکھنے والےمیجر کرسٹیان سیڈانو ڈیاز نے اپنے جوانوں کے ہمراہ اس مشن کو انجام دیا۔
واپسی کے سفر میں ان سے سوال کیا گیا کہ’’ڈرگ لیب کو کتنی جلدی دوبارہ بنایا جا سکتا ہے؟ ‘‘ تو ان کا جواب تھا: فوری، ایک دن میں۔ پھرایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ موصوف نے وضاحت کی کہ یہ صرف اس کے مقام کو تبدیل کرنے یا اسے چند میٹر کے فاصلے پر منتقل کرنے کا معاملہ ہے۔ ہم بہت بار اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ بعض اوقات جب ہم ان علاقوں میں واپس آتے ہیں جہاں آپریشنز کیے گئے تھے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نئے ڈھانچے صرف چند میٹر کے فاصلے پر دوبارہ تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کا اصرار ہے کہ ایک کے بعد دوسری لیبارٹری کو تباہ کرنے کا ایک مقصد ہے۔ ان کے بقول ہم جرائم پیشہ گروہوں کے منافع کو متاثر کر رہے ہیں۔ وہ انہیں لاتعداد بار دوبارہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن وہ کوکا کی فصل کو کھو رہے ہیں اور ان کی ضرورت کے کیمیکل کی ترسیل کا راستہ روکا جا رہا ہے۔ ۳۷؍سالہ میجرسیڈانوڈیاز تسلیم کرتے ہیں کہ کوکین کے خلاف جنگ شاید ان کی زندگی میں ختم نہ ہو۔ مگرمیں اس دن کا خواب دیکھتا ہوں اور تصور کرتا ہوں کہ ہماری اولاد اسے دیکھے گی اور ان لوگوں کو یاد کرے گی جنہیں ہم نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کھو دیا ہے۔
میجر نےانتہائی افسوس کے ساتھ بتایا کہ ہمیں اپنے بہت سے ساتھی ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنا پڑے اور انہیں بتانا پڑا کہ وہ اب ہمارے ساتھ نہیں رہے۔ وہ کہتے ہیں میں انہیں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کو لڑتے رہنے پر فخر کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔
۲۰۲۴ء میں شائع ہونے والے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (UNODC) کے اعداد و شمار کے مطابق یہ فصلیں اب گریٹر لندن کے سائز سے تقریباً دوگنا اور نیویارک کے سائز سے چار گنا زیادہ رقبہ پر محیط ہیں۔ ملک کے صدر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی مقدار ضبط کی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی ۲۰۲۵ء ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق اس کی مدت کے دوران کوکین کی پیداوار بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
کولمبیا کے وزیر دفاع پیڈرو سانچیز نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر چالیس منٹ میں کوکین کی لیبارٹریوں کو تباہ کرتے ہیں۔ اور پچھلے ساڑھے تین سالوں میں ہم نے ۲۸۰۰؍ٹن کوکین پکڑی ہے۔ یہ کوکین کی ۴۷؍بلین خوراکوں کے برابر ہے جو کبھی غیر ملکی منڈیوں تک نہیں پہنچی۔وہ دلیل دیتے ہیں کہ کوکین کی طلب بھی ایک مسئلہ ہے، نہ کہ صرف سپلائی۔ وہ کہتے ہیں یورپ میں کوکین کے استعمال میں اضافے کے ساتھ یہاں سپلائی کو ختم کرنا بہت مشکل ہے۔یورپی ڈرگ ایجنسی کے مطابق بھنگ کے بعدکوکین یورپ میں دوسری سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غیر قانونی دوا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ منشیات کی دستیابی اور استعمال میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
توانائی کے بحران کی وجہ سے کیوبا سگار فیسٹیول منسوخ کر دیا گیا
کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں سالانہ سگار فیسٹیول امریکی ناکہ بندی اور ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا۔ فیسٹیول ڈیل حبانو(Festival del Habano) کے نام سے موسوم یہ پانچ روزہ میلہ ہر سال فروری کے آخر میں منعقد ہوتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ فیصلہ پیچیدہ اقتصادی صورت حال کی وجہ سے کیا گیا ہے جو کیوبا کو امریکہ کی طرف سے معاشی، تجارتی اور مالیاتی ناکہ بندی کی وجہ سے درپیش ہے۔ کیوبا کے سگاروں کو دنیا کے بہترین سگاروں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن طویل عرصے سے امریکی تجارتی پابندیوں کی وجہ سے یہ صنعت بحران کا شکار ہے اور کیوبن سگار کا استعمال امریکہ میں غیر قانونی ہے۔
تقریباً ۷۰؍ممالک سے ۱۳۰۰؍سے زیادہ افراد ہر سال کیوبا کے تمباکو کے باغات اور کارخانوں کا دورہ کرنے کے لیے حبانو میلہ میں شرکت کرتے ہیں۔ مگر امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس جزیرے تک بین الاقوامی سیاحت انتہائی محدود ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کے راہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدہ کریں یا غیر معینہ مدت تک تلخ نتائج کا سامنا کریں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کیوبا کی تیل کی درآمدات پر واشنگٹن کی پابندیوں کو یکطرفہ اقتصادی جبر کی انتہائی شکل قرار دیا ہے۔
وینزویلا کے وہ قصبے جہاں اربوں بیرل تیل کے کنویں ہونے کے باوجود افلاس کا سایہ ہے
۱۹۷۰ء کی دہائی میں وینزویلا سے ہر روز ۳۵؍لاکھ بیرل تک تیل نکلتا تھا جو عالمی پیداوار کا سات فیصد سے زیادہ تھا۔اُس وقت تیل کی پیداوار کا انتظام غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا جن میں بہت سی امریکی کمپنیاں تھیں۔ ۱۹۷۶ء تک حکومت ان کمپنیوں کو رعایات فراہم کرتی رہی لیکن پھر تیل کی صنعت قومیا کر سرکاری ادارے پی ڈی وی ایس اے کے حوالے کردی گئی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو وینزویلا معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ خسارہ کم کرنے کے لیے حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات متعارف کرائے تو ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔
۱۹۹۰ء کی دہائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اصلاحات لائی گئیں اور ۱۹۹۹ءمیں بھی یہ ملک ایک دن میں ۳۲؍لاکھ بیرل تیل ہی نکال رہا تھا۔ اس پیداوار کا تقریباً آدھا حصہ ماراکائیبو جھیل کے اطراف موجود زولیا ریاست سے آرہا تھا۔لیکن ۲۰۲۵ء کے آخر میں تیل کی پیداوار آٹھ لاکھ ۶۰؍ہزار بیرل یومیہ تک گر چکی تھی۔ یہ کروڈ آئل کی عالمی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم تھا۔
گذشتہ ۱۳؍سال میں وینزویلا کی معاشی تنزلی کا ذکر کرتے ہوئے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ کوئی دور تھا ہم بیمار ہوتے تو ہسپتال جاتے جہاں ہمارا بہترین علاج کیا جاتا۔ کچرا ہر دوسرے دن اٹھایا جاتا تھا اور بجلی بھی بند نہیں ہوتی تھی۔اب کچرا کبھی کبھار ہی اٹھایا جاتا ہے اور تیل کے ذخائر کے باوجود خطہ ایک دہائی سے توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ بجلی بند ہونے کی خبریں ہر روز ہی ملتی ہیں۔مشرقی ساحل کوسٹا اوریئنٹل کا خاموش سا علاقہ وینزویلا میں تیل کی صنعت کے مرکز میں واقع ہے۔ ایک وقت میں وینزویلا کو لاطینی امریکہ کے امیر ملکوں کی صف میں لانے میں مدد کرنے والا یہ علاقہ قومی خوشحالی کی علامت تھا، مگر اب حسرت و یاس کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس قصبے کے بہت سے مکین یہاں سے جا چکے ہیں، گھروں کا سامان لوٹ لیا گیا ہے، کھڑکیاں توڑ دی گئی ہیں اور بجلی کی تاریں تک نوچ لی گئی ہیں۔ اس ملک میں دنیا کے تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر ہیں جن کا تخمینہ ۳۰۳؍ارب بیرل کے قریب لگایا گیا ہے۔مگر اس ملک کے باشندوں کے حالات کب سدھریں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
کیری کام ممالک کے سربراہان کی پچاسویں سالانہ میٹنگ
جنوبی امریکہ اور جزائر غرب الہند کے ممالک پر مشتمل تنظیم ’’ کیربیئن کمیونٹی‘‘ کے سربراہان کا پچاسواں سالانہ اجلاس فروری کے تیسرے ہفتے میں سینٹ کٹس(St. Kitts and Nevis) میں منعقد ہوا۔ اس چار روزہ کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ دس سال کے وقفے کے بعد تنظیم کے تمام رکن ممالک کے سربراہان اس اجلاس میں شامل ہوئے۔ علاقے کے پندرہ ممالک اس تنظیم کے مستقل جبکہ پانچ ممالک اعزازی رکن ہیں۔ میزبان ملک کے وزیر اعظم Dr. Terrance Drew نے اجلاس کی صدارت کی۔ اس کانفرنس کا موضوع Beyond Words: Action Today for a Thriving, Sustainable CARICOM تھا۔ اجلاس کے آخر پر جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق شرکا نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کیوباکی امداد، صنعتی پالیسی کی بہتری کے اقدامات، ہنر مندوں کو بہتر معاوضے کی ادائیگی اور ماحولیاتی تبدیلی سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے عملی کوشش کے عزم کا اعادہ کیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دولت مشترکہ تنظیم کی سیکرٹری جنرلShirley Botchwey نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔
جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کے لیے پولیس کا انوکھا روپ
برازیل کے مشہور شہرریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے معروف Carnival میں مقامی پولیس نے بھیس بدل کر موبائل فون چوروں کو گرفت میں لینے اور جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کی کارروائی کی۔ متعدد پولیس افسران فینسی لباس پہن کر عام افراد میں گھل مل گئے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والا یہ میلہ ہر سال لاکھوں زائرین اور مقامی لوگوں کو اپنی اسٹریٹ پارٹیوں اور پریڈوں کی طرف راغب کرتا ہے، لیکن اس دوران اکثر چھوٹے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب لاطینی امریکی افسران نے مشتبہ مجرموں کو پکڑنے کے لیے فینسی ڈریس کا استعمال کیا ہو۔
پیرو کی پولیس ویلنٹائن ڈے، ہالووین اور کرسمس جیسے مواقع پر اپنے ایجنٹوں کو مختلف لباس پہنانے کا طریق استعمال کرتی ہے۔گذشتہ سال نومبر میں افسران نے اسپائیڈر مین کے لباس میں ایک ٹرک سے کوکین برآمد کی۔
گیانا میں رمضان ویلج
امسال مسلسل تیسری مرتبہ گیانا میں نیشنل رمضان ویلج قائم کیا گیا ہے۔ مسلم یوتھ آرگنائزیشن (MYO) کے وسیع و عریض میدان میں قائم ہونے والے اس خوبصورت گاؤں کا افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر محمد عرفان علی نے کیا۔ اس تقریب میں ایک ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ مملکت نے کہا کہ رنگ نسل مذہب اور عقیدے کے فرق کے بغیر یہ تقریب متحدہ گیانا کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ گاؤں ایک بار پھر ثقافت، رفاقت اور سیکھنے کا موقعہ فراہم کرے گا۔ یہ گاؤں ہمارے اندر عقیدہ، ورثہ اور برادری کا ایک متحرک احساس اجاگر کرے گا۔
امسال رمضان ویلج میں بیت المقدس کی طرز پر انتہائی شاندار خیمہ مسجد بنائی گئی ہے۔ ایک وسیع پنڈال میں روزانہ افطار اور صلوٰۃ الترا ویح کا انتظام کیا گیا ہے۔ نیز ۸۰ سے زیادہ دکاندار روایتی اسلامی لباس، خوشبودار پکوانوں اور تعلیمی نمائشوں سے بھرے اسٹالز کے ساتھ پنڈال کی رونق بڑھائیں گے۔
رمضان گاؤں ملک کے موجودہ صدر کی اختراع ہے۔ اور موصوف نے کہا کہ جب میں دنیا بھر میں سفر کرتا ہوں یہاں تک کہ مشرق وسطیٰ میں بھی تو لوگ رمضان ویلج کے تصور کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور مقام




