جماعت احمدیہ بینن کے چونتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کابابرکت و کامیاب انعقاد
٭… حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کے موقع پر ارسال کردہ خصوصی پیغام
٭… نماز تہجد، پنجوقتہ نمازوں، دروس اور علمائے سلسلہ کی مختلف موضوعات پر تقاریر کا اہتمام
٭…گھانا، ٹوگو اور یوکے سے تشریف لائے مہمانوں سمیت ۳۹۴۲؍احباب کی شمولیت
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ بینن کو ۱۹؍ تا۲۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء اپنا ۳۴؍واں جلسہ سالانہ ’’امن اور قومی اتحادپر اسلامی نکتۂ نظر‘‘ کے مرکزی موضوع پر بینن کے ریجن پوبے کے علاقہ کیتو(Ketou) میں موجود جماعتی اراضی ’بستان مہدی‘ میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

جلسہ سالانہ کی تیاریاں تقریباً ایک ماہ قبل شروع ہو گئی تھیں۔ ملک بھر میں جلسہ سے متعلق پوسٹرز اور دعوت نامے ارسال کیے گئے۔ ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعہ جلسہ کی دعوت نہ صرف احباب جماعت کو دی گئی بلکہ ائمہ اور دوسرے مذاہب کے راہنمائوں اور اعلیٰ افسران کو بھی جلسہ کی دعوت دی گئی۔ اس کے علاوہ مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب مبلغ انچارج بینن نے نیشنل جنرل سیکرٹری مکرم راجی محمد شہود صاحب کے ہمراہ ملک کے تمام ریجنز کا دورہ کیا جس میں مبلغین کرام، لوکل مشنریز اور صدران جماعت نیز ریجنل صدران سے میٹنگز کیں جن میں انہیں جلسہ میں شمولیت کے لیے بھرپور کوششیں کرنے کی اور زیادہ سے زیادہ احباب جماعت اور غیر از جماعت مہمان جلسہ پر لانے کے لیے حکمت عملی کے ساتھ کوشش کرنے کی تلقین کی۔
احباب جماعت جمعرات ۱۸؍دسمبر کو ہی مختلف علاقوں سے جلسہ گاہ میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔ گھانا سے مکرم امیر صاحب گھانا کی قیادت میں انصاراللہ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ گھانا کے وفود، ٹوگو سے ایک تین رکنی وفد جبکہ یوکے سے ڈاکٹر طارق مدثر صاحب جلسہ سالانہ بینن میں شمولیت کے لیے تشریف لائے۔

جلسہ سالانہ کا پہلا دن: ۱۹؍دسمبر کو نماز تہجد باجماعت جلسہ گاہ میں ادا کی گئی جس کے بعد مکرم محمد لقمان بصیریو صاحب امیر جماعت احمدیہ بینن نے نماز فجر پڑھائی جس کے بعد احباب کو جلسہ میں خوش آمدید کہا۔
پرچم کشائی: شام پانچ بجے پرچم کشائی کی تقریب ہوئی جس میں امیر صاحب بینن نے تمام شاملین کے ساتھ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم پڑھتے ہوئے بینن کا پرچم جبکہ مکرم مبلغ انچارج صاحب نے لوائے احمدیت لہرایا جس کے بعدمکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔ بعد ازاں تمام معزز مہمانان جلسہ گاہ میں تشریف لے آئے۔
پہلا اجلاس: جلسہ سالانہ بینن کے پہلے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت امیر صاحب بینن نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو کہ حافظ تونو داؤدا صاحب نے کی جس کے بعد مدرسۃ الحفظ بینن کے طلبہ نے قصیدہ ’’یاقلبی اذکر احمدًا‘‘ خوش الحانی کے ساتھ پڑھا اور فرانسینی ترجمہ بھی پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ بینن کے پہلے اجلاس میں ۶؍مختلف مہمانان اور اعلیٰ سیاسی افسران نےشمولیت کی اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
ان تمام مہمانان نے جماعت احمدیہ کو اپنے ۳۴؍ویں جلسہ سالانہ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی نیز جماعت احمدیہ کی ملک بھر میں خصوصاً جبکہ دنیا بھر میں عموماً انسانیت کی خدمات کو سراہتے ہوئے جماعت احمدیہ کی امن کے قیام کے لیے کاوشوں کا اعتراف کیا۔

محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت احمدیہ بینن کے جلسہ سالانہ کے لیے خصوصی پیغام ارسال فرمایا جو کہ مکرم امیر صاحب بینن نے پڑھ کر سنایا جس کا فرنچ ترجمہ مکرم پوکولا قاسم صاحب افسر جلسہ سالانہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد امیر صاحب نے جلسہ کے مرکزی موضوع پر فرانسیسی زبان میں تقریر کی جس میں قرآن کریم کی تعلیمات اور آنحضورﷺ کے نمونہ کو قیام امن کے ليے احسن رنگ میں پیش کیا۔ اس تقریر کا مقامی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا گیا۔ اس کے بعد نماز مغرب و عشاء ادا کی گئیں۔
وقف نو کا پروگرام: نمازوں کی ادائیگی کے فوراً بعد وقف نو کے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں تلاوت قرآن کریم عزیزم زبیر عبد العزیز (واقف نو) نے کی اور فرانسینی ترجمہ پیش کیا، نظم عزیزم طاہر مصطفیٰ (واقف نو)نے پڑھی، حدیث عزیزم فرید احمد مبارک (واقف نو)نے پڑھی اور ساتھ فرانسینی ترجمہ پیش کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی واقفین نو کو نصائح پر مشتمل اقتباس عزیزم میسو توفیق (واقف نو) نے پڑھ کر سنایا اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی واقفین نو سے توقعات پر مشتمل ۲۱؍نکات عزیزم عبد العزیز آچیدے (واقف نو) نے پڑھ کر سنائے۔ مکرم امیر صاحب بینن نے واقفین نو کو اپنے وقف کی روح کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی تلقین کی۔ آخر پر امیر صاحب نے دعا کروائی اور پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
اس کے ساتھ ہی پہلے دن کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔ فالحمدللہ علیٰ ذٰلک
دوسرا دن:جلسہ سالانہ بینن کے دوسرے دن کا آغاز بھی نماز تہجد سے ہوا جو کہ حافظ حلیم احمد صاحب نے پڑھائی۔ نماز فجر عزیزم گومینا ناصر نے پڑھائی اور ’’اطاعت نظام جماعت اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر درس دیا جس کا مختلف لوکل زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔
دوسرا اجلاس: جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس کی صدارت مکرم مبلغ انچارج صاحب بینن نے کی۔ پروگرام کا آغاز حسب روایت تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو حافظ عبد الکبیر صاحب نے کی جس کے بعد نظم بویاگی علی صاحب نے پیش کی۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’نظام حکومت اور اسلام میں حاکم/عہدیدار کے انتخاب کا معیار‘‘ از مکرم عبد العزیز ابراہیم صاحب ریجنل مشنری اور ’’نظام خلافت اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ از صدر اجلاس۔
وقفہ میں نماز ظہر و عصر باجماعت ادا کی گئیں جس کے بعد تمام حاضرین کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔
تیسرا اجلاس: جلسہ سالانہ کے تیسرے اجلاس کی صدارت مکرم امیر صاحب گھانا نے کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم آلاموں رمضان نے کی اور فرانسینی ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد عزیزم موریسو جلیل نے اردو نظم پڑھی۔ بعدازاں خاکسار (مبلغ سلسلہ) نے ’’تیسری جنگ عظیم سے متعلق پیشگوئیاں اور اس سے بچنے کے حل‘‘ کے موضوع پر اور مکرم مظفر احمد ظفر صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’عائلی مسائل اور ان کا حل‘‘ کے موضوع پر فرانسینی زبان میں تقاریر کیں۔ اس کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
نماز مغرب و عشاء کے بعد جلسہ گاہ مستورات میں ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں تلاوت قرآن کریم کے بعد نظم ہوئی اور ناصرات نے ترانہ پیش کیا۔ جنرل سیکرٹری صاحبہ نے ’’جماعت احمدیہ کی ترقی میں لجنہ اماءاللہ کا کردار‘‘ کے موضوع پر تقریر کی اور نیشنل صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ نے لجنہ اماء اللہ کو اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے خود کو خدمت دین کے ليے پیش کرنے اور مالی قربانی میں پہلے سے بڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی۔
اس کے ساتھ ہی بینن کی روایت کے مطابق مختلف مقامی زبانوں میں جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ چونکہ دُور دراز علاقوں سے احباب جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے آتے ہیں اور فرانسینی زبان سمجھنے میں جن کو مشکل ہوتی ہے ان کے لیے مقامی زبان میں ایک خاص موضوع پر جلسہ کا انعقاد کیا جاتا ہےجن میں فولانی اور فونگبے زبان شامل ہیں۔ جلسہ کا عنوان ’’آمد امام مہدی کی ضرورت و اہمیت‘‘ تھا۔ فولانی زبان میں جلسہ کی صدارت الحاج ڈیکو محمود صاحب اور مکرم آدم ناصر صاحب مبلغ سلسلہ نے کی جبکہ فونگبے میں مکرم تونو حبیب صاحب مبلغ سلسلہ اور مکرم راحیمی زکریا صاحب نے صدارت کی۔
اس کے ساتھ ہی دوسرے دن کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک
تیسرا دن:تیسرے دن کا بابرکت آغاز نماز تہجد سے ہوا جو کہ حافظ الاموں مسرور صاحب نے پڑھائی جس کے بعد نماز فجرمکرم سکندر جلال مبلغ سلسلہ نے پڑھائی اور ’’نظام وصیت میں شمولیت ہر احمدی کے لیے کیونکر لازم ہے؟‘‘کے موضوع پر درس دیا جس کا مختلف مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔
اختتامی اجلاس:جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس کی صدارت مکرم امیر صاحب بینن نے کی۔ پروگرام کا آغاز حسب روایت تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو کہ حافظ فضل اللہ صاحب نے کی جس کے بعد نظم موریتالا محمد صاحب معلم سلسلہ نے پڑھی۔ مکرم رانا یاسر صاحب ریجنل مشنری نے ’’عالمی امن کے قیام کے ليے ایک مصلح کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی جس کا تین مختلف مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ مختلف اعلیٰ افسران اور دو بادشاہوں نے جلسہ میں شمولیت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے نظم و ضبط کی تعریف کی اور جلسہ کے بابرکت انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب بینن نے ’’حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے خلفائے کرام خاص حفاظت الٰہی کے حصار میں‘‘ کے موضوع پر واقعات کی روشنی میں تقریر کی جس کے بعد مکرم امیر صاحب گھانا نے جلسہ سالانہ کے بابرکت انعقاد پر تمام شاملین جلسہ کو مبارکباد پیش کی نیز کہا کہ اس سال ہم گھانا سے ۲۰؍کی تعداد میں شامل ہوئے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ہماری تعداد میں مزید اضافہ ہوگا، ان شاءاللہ۔ ٹوگو اور گھانا سے آنے والے وفود نے مختلف نظمیں اور لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا ورد کیا جو کہ تمام شاملین جلسہ نے ان کے ساتھ دہرایا۔ اس کے بعد یوکے سے آئے ہوئے مہمان ڈاکٹر مدثر طارق صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کے بعد امیر صاحب بینن نے جلسہ سالانہ کے شاملین کی تعداد کا اعلان کیا جو کہ ۳۹۴۲؍رہی، فالحمدللہ علیٰ ذالک۔ اس کے ساتھ ہی جلسہ گاہ کی فضا نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی جس کے بعد تمام شاملین نے ایک ساتھ مخصوص افریقن طرز پر لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا ورد کیا جس سے جلسہ گاہ کی تمام فضا معطر ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی جلسہ سالانہ بینن ۲۰۲۵ء کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک
امسال جلسہ سالانہ کے موقع پر قرآن و دیگر جماعتی کتب کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جو شاملین جلسہ کے ليے توجہ کا باعث بنی۔ اس کے علاوہ ہیومینٹی فرسٹ کی جانب سے ایک خصوصی سٹال کا اہتمام کیا گیا جس میں خلفائے کرام کی خوبصورت اور لیمینیٹ کی گئی تصاویر، Key Chains، ٹی شرٹ اور ٹوپیوں کے علاوہ کھانے کا سٹال لگایا گیا جو کہ احباب جماعت کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ کی کارروائی بینن کے مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات میں نشر کی گئی۔ اللہ تعالیٰ تمام شاملین جلسہ کو ان بابرکت دنوں میں سمیٹی گئی برکات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:مرزا فرحان احمد بیگ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے جلسہ سالانہ بینن ۲۰۲۵ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
پیارے احباب جماعت احمدیہ بینن،
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنا ۳۴واں جلسہ ۲۰،۱۹و۲۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بہت کامیاب کرے اور سب شاملین بےپناہ برکتیں حاصل کریں، اور ہمارے دین اسلام کے عقائد اور اس کی خوبصورت تعلیمات نیز ہمارے پیارے نبی آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے متعلق اپنے علم کو بڑھائیں۔
یادرکھیں کہ یہ کوئی معمولی دنیاوی تقریب یا میلہ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںکہ جلسہ کا بڑا مقصد یہ ہے کہ جماعت کے مخلص افراد دینی استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو آگے بڑھائیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ مختلف دوستوں سے ملنے سے بھائی چارہ کا دائرہ وسیع ہوگا اور ان کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے۔(ماخوذ از آسمانی فیصلہ)
نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے احباب کے متعلق فرمایا ہے: ’’خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لیے اور اپنی قدرت دکھانے کے لیے پیداکرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دُنیا میں محبت الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلا وے۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۲۱۴)
لہٰذا اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور اپنے روحانی اور اخلاقی معیاروں کو بہتر کرنے کے لیے آپ کو جلسہ کی کاررائیوں سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔ یہ جلسہ آپ کے تقویٰ یعنی راستبازی کے معیار کو بڑھانے والا ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف آپ کے دلوں میں پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد اللہ کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔
لہٰذا ہمارے خالق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ذاتی تعلق قائم کرنے کی کوشش کریں۔ تمام شرائط بیعت کی پابندی کرنے کی کوشش کریں۔ یہ شرائط آپ کی زندگی کی مشعل راہ ہونی چاہئیں اور اگر آپ اپنے آپ کو ان شرائط کے مطابق ڈھالیں، خود احتسابی کرتے ہوئے اپنے روزمرہ کے کاموں اور اعمال کا دوبارہ جائزہ لیں گے تب ہی آپ زیادہ بہتر احمدی مسلمان بن سکتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں آپ دنیا میں ایک حقیقی روحانی انقلاب پیدا کرسکتے ہیں۔ ہر شرط بیعت اپنے اندر بے شمار حکمتیں رکھتی ہے۔ ایک احمدی کو اپنے ایمان کو زندہ رکھنے کے لیے ان میں سے ہر ایک شرط پر غور و فکر کرتے رہنا چاہیے۔
میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں۔ یقیناً جماعت کی ترقی، اسلام کی اشاعت اور درحقیقت عالمی امن کا قیام بھی بنیادی طور پرنظام خلافت سے جڑا ہو اہے۔ اس لیے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ خلیفۃ المسیح سے ایک مضبوط تعلق قائم کریں اور ہمیشہ وفادار رہیں ۔ آپ کو باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھنا چاہیے اور اپنے اہل خاص طور پر اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ خاص طور پر آپ کو میرے خطبات جمعہ، خطابات اور دیگر مواقع پر بیان کی گئی ہدایات کو باقاعدگی سے سننا چاہیے۔ یہ آپ کو خلافت سے ایک مضبوط تعلق اور وابستگی پیدا کرنے کا موقع دے گا۔
لہٰذا ان اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے جو کہ قرآن مجید کی تعلیمات، سنت اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ہیں اور جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور آپؑ کے خلفاء میں بخوبی دیکھے ہیں، آپ کو چاہیے کہ حکمت سے جامع منصوبہ بندی کریں تاکہ اسلام احمدیت کا پُرامن پیغام بینن کے تمام لوگوں تک مؤثر اور بہترین طریقے سے پہنچایا جا سکے۔ یاد رکھیں کہ یہ فکر کرنے کی بات نہیں کہ لوگ اسے قبول کریں یا نہ کریں۔ پیغام ہر شہری تک پہنچایا جائے، ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ ملک کے ہر شہری تک یہ پیغام پہنچائے۔ یہ وہ کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سپرد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس اعلیٰ مقصد میں بہت کامیابی عطا فرمائے۔
آخر پر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے جلسہ کی کارروائیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے اور آپ کے ایمان کو مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی زندگیوں میں مزید تقویٰ، نیک سلوک اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی طرف حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر فضل فرمائے۔




