قرارداد تعزیت

قرارداد تعزیت بروفات مکرم بشارت احمد صابر صاحب

سابق صدر مجلس انصار اللہ ناروے از طرف نیشنل مجلس عاملہ مجلس انصاراللہ ناروے

۸؍مارچ ۲۰۲۶ء کو بر موقع اجلاس مجلس عاملہ مجلس انصاراللہ ناروے، مکرم بشارت احمد صابر (سابق صدر مجلس انصاراللہ ناروے)کی وفات پر قرارداد تعزیت پیش کی گئی۔

آپ مورخہ ۳؍مارچ۲۰۲۶ء کو تقریباً دوہفتے بیمار رہنے کے بعد ۷۳؍سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

آپ ہر دلعزیز، نہایت مخلص، منکسر المزاج، ملنسار اور محنتی تھے۔ نظام جماعت کی عزت کرنے والے اور ہر ممکن حد تک اس پر عمل کرنے والے تھے۔ خلافت کے ساتھ مضبوط تعلق اور والہانہ محبت تھی۔ مرکزی عہدیداران کا بہت احترام کرتے اور ان کی ہدایات پر فوری عمل کرنے کی کوشش کرتے۔

آپ کواپریل ۲۰۰۸ء سےدسمبر ۲۰۱۳ء عرصہ تقریباً چھ سال بطور صدر مجلس انصاراللہ ناروے خدمت کی توفیق ملی۔ اپنی صدارت کے دوران انہوں نے رسالہ ’’انصاراللہ ناروے‘‘ کا آغاز کیا۔ اس سے قبل آپ نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ ناروے، نیشنل سیکرٹری تربیت، سیکرٹری مال، اور پھر کئی سال تک افسر جلسہ سالانہ ناروے بھی خدمت کی توفیق پائی۔ قربانی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مسجد بیت النصر اوسلو ناروے کی تعمیر کے دوران جب جماعت کو مالی مشکلات کا سامنا تھا تو مرحوم نے غیر معمولی جذبۂ  قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اہلیہ سے مشورہ کے بعد اپنا گھر فروخت کر کے اس کی رقم مسجد کی تعمیر کے ليے پیش کردی۔ جب ایم ٹی اے کی نشریات کا آغاز ہوا تو انہوں نے اس خواہش کے تحت کہ ہر احمدی گھر تک ایم ٹی اے پہنچے، ڈش اینٹینا نصب کرنے کا کام خود سیکھا اور بڑی محنت اور خلوص کے ساتھ احباب جماعت کے گھروں میں ڈش لگاتے رہے اور اگر کسی کو مالی مشکلات درپیش ہوتیں تو وہ اپنی جیب سے بھی مدد کردیتے۔ مضبوط جسم کے مالک تھے۔ روزگار کے ليے ایک لوہے کی فیکٹری میں کام کرتے رہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی وقف کرنے کی توفیق پائی۔ گذشتہ کچھ سال سے آپ جماعت احمدیہ ناروے میں سیکرٹر ی تعلیم القرآن و وقف عارضی کی خدمت پر مامور تھے۔ قرآن کریم سے خاص محبت تھی۔ کئی سال سے تجوید کی کلاس خود لیتے تھے۔ اسی طرح کچھ پارے زبانی یاد تھے اور نماز تراویح بھی پڑھایا کرتے تھے۔ انہیں متعدد افراد کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق ملی، بعض غیر احمدی خاندانوں کے بچوں کو بھی انہوں نے قرآن کریم پڑھایا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خوش الہانی سے نوازا تھا۔ اکثر جماعتی پروگراموں میں تلاوت کیا کرتے تھے، نظم بھی خوش الہانی سے پڑ ھتے۔ جلسہ سالانہ پر پُرجوش نعرے لگاتے۔ جمعہ کے موقع پر اکثر آپ ہی اذان دیتے تھے۔ اکثر مواقع پر آپ ہی تہجد کی نماز کی امامت کرواتے۔ آپ ایک نڈر انسان تھے اور مہذب انداز سے اختلاف رائے کا اظہار بھی کرتے تھے۔ آپ ہمہ وقت جماعت اور مسجد کے کاموں میں مصروف رہتے۔ آپ کی وفات بھی خدمتِ دین کے دوران ہی ہوئی۔ ۱۶؍فروری ۲۰۲۶ء کو مسجد کے احاطے میں ٹریکٹر کے ذریعے برف صاف کر رہے تھے تاکہ رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر مسجد آنے والے نمازیوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی دوران انہیں برین ہیمرج ہوا جوآخر کار آپ کی وفات کا باعث بنا۔

آپ پیدائشی احمدی تھے۔ آپ کے والد محترم مکرم غلام محمد صاحب نے اپنے سسر مکرم لال محمد صاحب کی تبلیغ پر حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓکے دَور میں احمدیت قبول کی۔ آپ کا تعلق سرائے عالمگیر سے تھا۔ آپ تقریباً سولہ سال کی عمر میں ۱۹۷۱ء میں ناروے آئے۔سرائے عالمگیر کی مسجد میں پہلا لاؤڈسپیکر بھی آپ نے ہی لگوایا تھا۔

اللہ کے فضل سے آپ موصی تھے اور آپ کی تدفین ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء کو مقبرہ موصیان اوسلو میں ہوئی۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑے ہیں۔

اراکین مجلس عاملہ مجلس انصاراللہ ناروے آپ کی وفات پر مرحوم کے اہل و عیال و دیگر لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ ناروے کو اس مخلص کا نعم البدل عطا فرمائے اور ان کی قربانیاں قبول کرتے ہوئے ناروے میں امن اور محبت، بھائی چارے اور احمدیت کے غلبے کے سامان فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button