سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

سچی بات تویہ ہے کہ ایک باربراہین احمدیہ کے قلزم معارف میں غواصی شروع کردی جائےتو محاسن ومعارف کے ہیرے موتی ایک سے بڑھ کرایک ایسے ملنے شروع ہوجائیں کہ جوختم ہونے میں نہیں آتے

(گذشتہ سے پیوستہ) نبی کریم ﷺ کے اخلاق فاضلہ کابیان کرتے ہوئے براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں:’’ان کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کرکے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۔ (القلم:۵) الجزو نمبر ۲۹ یعنے تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنے اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متمم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔ مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہوسکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سے باہر ہو۔ اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسنِ اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت (جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے بلکہ خَلق بفتح خا اور خُلق بضم خا دو لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔ خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی۔ جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔ اور خُلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنے خواص اندرونی ہیں جن کی رُو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔ پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن مابہ الامتیاز ہیں۔ اُن سب کا نام خُلق ہے۔ اور چونکہ شجرۂ فطرتِ انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے۔ اور ہریک افراط و تفریط سے جو قویٰ حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منز ّہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔ (التین:۵)الجزو نمبر۳۰۔ اس لئے خُلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں۔ اور وہ اخلاق فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے۔ تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پائے جاتے ہیں جیسے عقلِ ذکا۔ سرعتِ فہم۔ صفائی ذہن۔ حسنِ تحفظ۔ حسنِ تذکر۔ عفت۔ حیا۔ صبر۔ قناعت۔ زہد۔ تورع۔ جوانمردی۔ استقلال۔ عدل۔ امانت۔ صدق لہجہ۔ سخاوت فی محلّہ۔ ایثار فی محلّہ۔ کرم فی محلّہ۔ مروت فی محلّہ۔ شجاعت فی محلّہ۔ علوہمت فی محلّہ۔ حلم فی محلّہ۔ تحمل فی محلّہ۔ حمیت فی محلّہ۔ تواضع فی محلّہ۔ ادب فی محلّہ۔ شفقت فی محلّہ۔ رافت فی محلّہ۔ رحمت فی محلّہ۔ خوف الٰہی۔ محبت الٰہیہ۔ انس باللہ۔ انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ) اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ (یعنے عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقعہ کہ الہام سے پہلے ہی خودبخود روشن ہونے پر مستعد تھے) نورعلیٰ نور۔ نور فائض ہوا نور پر (یعنے جب کہ وجودِ مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نور جمع تھے سو ان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الٰہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔‘‘(براہین احمدیہ صفحہ ۱۷۹، ۱۸۰ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۹۴،۱۹۵ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱)

سچی بات تویہ ہے کہ ایک باربراہین احمدیہ کے قلزم معارف میں غواصی شروع کردی جائےتو محاسن ومعارف کے ہیرے موتی ایک سے بڑھ کرایک ایسے ملنے شروع ہوجائیں کہ جوختم ہونے میں نہیں آتے ۔ اس کتاب کی ضخامت اور اگراصل مضمون سے دورہوجانے کاخدشہ نہ ہوتا تویہی عالم ہوتا کہ سینکڑوں صفحات اسی بیان پرصرف ہوجاتے۔ اس لیے مجبوراً صرف عناوین پرہی اکتفاکیاجاتاہے اور افسوس سے کہناپڑتاہے کہ یہ سرسری سی ایک جھلک ہے مضامین کی وگرنہ تین سوسے زائد توصرف عناوین ہی موجودہیں۔

۱۔مذکورہ بالادونوں مضامین کی اصل یعنی ہستیٔ باری تعالیٰ

۲۔اسی ضمن میں الہام کی بابت تفصیلی بحث

۳۔الہام کے بالمقابل عقل اورنیچر

۴۔فیضانِ محمدمصطفیٰ ﷺ

۵۔ اعجاز وتاثیرات قرآن کریم

۶۔حضرت اقدس بانئ سلسلہ احمدیہ کاالہام سے مشرف ہونا

۷۔آپؑ کے رؤیاوکشوف والہامات

۸۔آپؑ کے الہامات پرنکتہ چینی کرنے والے اوران کاجواب

۹۔عیسائیت کاردّ

۱۰۔آریہ سماج کاردّ

۱۱۔برہمو سماج کے وساوس اوران کاجواب

۱۲۔دہریت کاردّ

۱۳۔مختلف متفرق مضامین : تفسیرقرآن

۱۴۔امت محمدیہ کی فضیلت

۱۵۔اولیاء کی ضرورت وحکمت

۱۶۔اہل اللہ اور نجومی

۱۷۔بدظنی

۱۸۔نیک ظنی

۱۹۔ترقیات ثلاثہ،فنا،بقا،لقا

۲۰۔فصاحت وبلاغت

۲۱۔بولیاں یعنی زبانیں

۲۲۔پادری اور ہندوستان

۲۳۔پیشگوئیوں کی اہمیت اور غرض وغایت

۲۴۔پیغمبروں کی علت غائی

۲۵۔تالیف اور مذہبی تالیف کانازک منصب

۲۶۔تثلیث کاعقیدہ

۲۷۔علم طب اور اس کی اہمیت

۲۸۔افرادبشریہ میں تفاوت مراتب اور اس میں حکمت

۲۹۔تلاوت قرآن کریم کی برکات

۳۰۔توبہ کی ضرورت اور اہمیت

۳۱۔توحید

۳۲۔شرک

۳۳۔سچی تہذیب کاحصول کیسے ممکن ہے ؟

۳۴۔جزاسزا

۳۵۔جوڑبنانے میں حکمت الٰہی

۳۶۔جہادکی حقیقت

۳۷۔حقائق اشیاء کی حکمت

۳۸۔حیات ظاہری اور باطنی

۳۹۔خَلق اور خُلق اور اس میں فرق

۴۰۔خواص الاشیاء،گلاب کے پھول کاذکر

۴۱۔درودشریف کی برکات

۴۲۔دعااور قبولیت دعا

۴۳۔دنیا اور دنیا کےمدوجزرکی حقیقت

۴۴۔دیوتا اور ان کی حقیقت

۴۵۔روح

۴۶۔لیلۃ القدر

۴۷۔شرک

۴۸۔شریعت

۴۹۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

۵۰۔عبادت کی فضیلت

۵۱۔عقل

۵۲۔علم اور علماء

۵۳۔غضب اور اس کی حقیقت

۵۴۔غیب

۵۵۔قانون قدرت

۵۶۔قرب الٰہی

۵۷۔گائے کاگوشت

۵۸۔گورنمنٹ کی اطاعت

۵۹۔مچھر،مکھی کی بناوٹ اور خلقت کوہستی باری تعالیٰ کی ایک دلیل کے طورپرپیش کیاگیا۔

۶۰۔محدث

۶۱۔معجزات

۶۲۔معرفت

۶۳۔نبوت

۶۴۔نجات

۶۵۔نفس

۶۶۔بائبل

۶۷۔وید

۶۸۔اوردیگرمذہبی کتب

۶۹۔نیکی

۷۰۔یہود

۷۱۔ہندوستان میں مختلف اسلامی انجمنوں کی رہنمائی اور کسی بھی کام کے لئے ایک رہنمااصول

۷۲۔اشاعت دین کی ضرورت واہمیت

۷۳۔منظوم کلام

۷۴۔براہین احمدیہ کی ضرورت

۷۵۔براہین احمدیہ کی طباعت واشاعت کی تفصیلات

۷۶۔براہین احمدیہ میں اعانت کرنے والوں کاشکریہ اورذکر

۷۷۔براہین احمدیہ کے مخالفین

۷۸۔حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ کی سیرت وسوانح کے مختلف پہلو

۷۹۔اسلام کی صداقت اور فضیلت وبرتری

۸۰۔اوراس پردس ہزارروپے کاانعام

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: روحانی وابل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button