متفرق مضامین

شجرِ معرفت سینچنا

سوال یہ نہیں کہ رمضان آیا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہمارے دل نے رمضان کے اس فیضان کو کس حد تک جذب کیا؟

(نعیم اللہ باجوہ، آسٹریلیا)

رمضان محض ایک مہینہ نہیں بلکہ نزولِ رحمت کا ایک ایسا روحانی انقلاب ہے جو انسان کے باطن میں برپا ہوتا ہے۔ یہ وہ ساعتِ خاص ہے جب آسمانِ کرم سے فیوض و برکات کی بارش دل کی بنجر زمین پر یوں اترتی ہے کہ صدیوں کی سختی لمحوں میں تحلیل ہونے لگتی ہے۔ مگر یہاں ایک نہایت اہم نکتہ پوشیدہ ہے: بارش کا برسنا اپنے آپ میں کمال نہیں بلکہ اس بارش کے پانی کو محفوظ رکھنا، اس سے نمو پانا اور اسے ثمر آور بنانا اصل کمال ہے۔

فطرت کا اصول ہے کہ بارش ہر زمین پر یکساں برستی ہے مگر ہر زمین یکساں طور پر سرسبز نہیں ہوتی۔ کہیں یہی پانی گل و گلزار پیدا کرتا ہے اور کہیں یہی پانی محض بہ کر ضائع ہوجاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ رمضان آیا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہمارے دل نے رمضان کے اس فیضان کو کس حد تک جذب کیا؟

دراصل روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی سرکشی کو توڑنے اور شعورِ بندگی کو بیدار کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ جب انسان اپنی جائز خواہشات کو بھی اللہ کے حکم پر ترک کرتا ہے تو اس کے اندر اطاعت کا وہ جوہر پیدا ہوتا ہے جو اسے معصیت سے دُور اور معرفت کے قریب لے جاتا ہے۔ یوں ہر روزہ دل کی زمین کو نرم کرتا ہے، ہر سجدہ اس میں عاجزی کا بیج بوتا ہے اور ہر توبہ اس بیج کو زندگی بخشتی ہے۔

لیکن یہاں ایک اَور حقیقت بھی قابلِ غور ہے: کیفیت کا دوام، کیفیت کے حصول سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ رمضان میں عبادت کی طرف مائل ہونا نسبتاً آسان ہوتا ہے، کیونکہ ماحول، وقت اور روحانی فضا سب معاون ہوتے ہیں۔ مگر جب یہ فضا رخصت ہو جاتی ہے تب انسان اپنے اصل باطن کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شجرِ معرفت کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔

اگر دل نے رمضان کی بارش کو محض ایک وقتی تاثیر سمجھ کر گزر جانے دیا تو وہی زمین دوبارہ سخت ہو جائے گی بلکہ پہلے سے زیادہ بے حس ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر انسان اس نمی کو سنبھال لے، اسے اپنے اعمال کی حرارت سے خشک نہ ہونے دے اور مسلسل ذکر، فکر اور عملِ صالح کے ذریعے اسے برقرار رکھے تو یہی نمی شجرِ معرفت کی جڑوں کو مضبوط کرتی چلی جاتی ہے۔

یہ شجر چند بنیادی اصولوں پر قائم ہوتا ہے:

صبر: جو جڑوں کو گہرائی عطا کرتا ہے تاکہ آزمائشوں کے طوفان اسے اکھاڑ نہ سکیں۔

شکر: جو تنے کو مضبوط بناتا ہے تاکہ نعمتوں کا بوجھ اسے جھکا نہ دے۔

استقامت: جو شاخوں کو توازن دیتی ہے تاکہ حالات کی ہوا اسے منتشر نہ کر سکے۔

عشقِ الٰہی: جو اس کے پھلوں میں وہ مٹھاس پیدا کرتا ہے جو دلوں کو تسکین عطا کرے۔

یہاں ایک فکری پہلو اَور بھی ہے: معرفت کوئی جامد شے نہیں، بلکہ ایک مسلسل بڑھنے والا شعور ہے۔ اگر اسے سینچا نہ جائے تو یہ مرجھا جاتا ہے اور اگر اس کی نگہداشت کی جائے تو یہ انسان کے پورے وجود کو منور اور روشن کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین رمضان کو اختتام نہیں بلکہ آغاز سمجھتے ہیں، ایک ایسی ابتدا جس کے بعد بندگی کی اصل راہ کھلتی ہے۔

پس اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے رمضان میں کتنی عبادت کی بلکہ یہ ہے کہ رمضان نے ہمیں کتنا بدل دیا؟ اگر یہ تبدیلی ہمارے رویّوں، ہمارے اخلاق، ہماری نیتوں اور ہمارے تعلقِ باللہ میں باقی رہتی ہے تو سمجھ لیجیے کہ شجرِ معرفت نے جڑ پکڑ لی ہے۔ ورنہ یہ سب محض ایک موسمی کیفیت تھی جو آئی اور گزر گئی۔

دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم اس بارش کو ایک عارضی سکون نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک دائمی انقلاب میں ڈھال دیں۔ کیونکہ جس دل میں شجرِ معرفت راسخ ہو جائے وہاں کبھی بنجر پن لوٹ کر نہیں آتا وہ دل پھر ہر موسم میں سرسبز رہتا ہے، ہر حال میں مطمئن اور ہر لمحہ اپنے رب کی قربت سے معمور۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: روحانی وابل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button