نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۸؍فروری ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم غلام احمد ناصر صاحب ابن مکرم میاں نیک عالم صاحب (لندن۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم غلام احمد ناصر صاحب ابن مکرم میاں نیک عالم صاحب (لندن۔یوکے)

19؍فروری 2026ء کو 90سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق گجرات سے تھا۔ محکمہ کسٹمز میں ملازم رہے۔دورانِ ملازمت ہمیشہ احمدیت کو اپنا طرہ امتیاز بنایا اور کبھی اپنے احمدی ہونے کو نہیں چھپایا۔آپ نے دیانت، جرأت اور اصول پسندی کے ساتھ زندگی گزاری۔ 1996ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد آپ اہلِ خانہ سمیت ربوہ منتقل ہو گئےاور طویل عرصے تک رحمان کالونی کی مسجد بیت الاحد میں امام الصلوٰۃ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ تہجد گزار، نمازوں کے پابند اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ قرآنِ کریم سے آپ کو غیر معمولی عشق تھا اور قرآن کریم کا بہت سا حصہ حفظ بھی تھا۔ نماز فجرکے بعد بڑی خوش الحانی سے تلاوت آپ کی زندگی کا مستقل معمول تھا۔ 2013ء میں آپ اپنی بڑی بیٹی اور داماد کے پاس لندن منتقل ہو گئے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم میجر (ر) راشد احمد طاہر صاحب کو 2019ء میں پاکستان کے چوتھے بڑے سول اعزاز( تمغۂ امتیاز ) سے نوازا گیا۔ آپ کی بیٹی مکرمہ ناجیہ ملک صاحبہ بطور نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ آئر لینڈ اور داماد مکرم شہزاد احمد ملک صاحب بطورنیشنل صدر مجلس انصار اللہ آئرلینڈ و نیشنل جنرل سیکرٹری جماعت آئرلینڈ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ آپ کے دوسرے داماد مکرم موسیٰ ستار خان صاحب واقف زندگی ہیں اور ریویو آف ریلجینز کےمرکز ی دفتر میں کام کررہے ہیں۔اسی طرح بڑے داماد مکرم عزیز الرحمٰن صاحب لندن کے ایک حلقہ کے صدرہیں۔ آپ مکرم ناصر احمد شمس صاحب …کے ماموں تھے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم ماسٹر رحمت علی ظفر صاحب ابن مکرم محمد شریف صاحب (جماعت لوراخ۔ جرمنی)

یکم جنوری 2026ء کو 91 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جوانی سے ہی تہجد اور صوم و صلوٰۃ کے پابند، بڑے متقی، پرہیزگار اور درویش صفت انسان تھے۔ مرحوم واقفِ زندگی تھے۔ جامعہ احمدیہ ربوہ میں بھی چار سال تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں صدرانجمن احمدیہ کے تحت سندھ میں بطور استاد خدمت کی توفیق پائی۔ اس کے علاوہ روزنامہ الفضل ربوہ سے بھی منسلک رہے اور 14؍سال بطور انسپکٹر خدمت کی توفیق پائی۔خلافت اور نظام جماعت کے ساتھ آپ کا تعلق مثالی تھا۔ خلافتِ ثالثہ اور خلافتِ رابعہ کے دَور میں دو مرتبہ نیشنل اجتماع انصاراللہ میں شرکت کے لیے سندھ سے ربوہ تک کا سائیکل سفر بھی کیا۔ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ قصیدہ حضرت مسیح موعودؑ زبانی یاد تھا۔ زندگی کے آخری سالوں میں بینائی ختم ہونے کے باوجود قرآن کریم کا کچھ حصہ سن سن کر زبانی یاد کرلیا تھا۔ 2016ء سے جرمنی میں اپنے بیٹے ریحان احمد صاحب کے پاس مقیم تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم رشید احمد ظفر صاحب (مربی سلسلہ وکالت تبشیر اسلام آباد۔ یوکے) کے والد تھے۔

۲۔مکرمہ حسن پری صاحبہ اہلیہ مکرم محمد امیر خان صاحب مرحوم (بازید خیل۔ پشاور)

14؍جنوری 2026ء کو 98سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، مہمان نواز، بڑی ہمدرد، ملنساراور مخلص خاتون تھیں۔ گاؤں کی سب عورتیں آپ کا بہت احترام کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم منظور احمد خان صاحب جماعت میلبرن ایسٹ (آسٹریلیا) میں بطورسیکرٹری تعلیم القرآن ووقف عارضی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۳۔مکرم بشارت احمد صاحب ابن مکرم چودھری فتح دین صاحب (اوکاڑہ)

16؍جنوری 2026ء کو 74 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ باجماعت نمازوں کے پابند، ایک نیک اور باوفا انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ محبت اور اطاعت کا بہت مضبوط تعلق تھا۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ نے احمدیوں کوسائیکل چلانے کی تحریک فرمائی اور کہا کہ ایسے نوجوان ہونے چاہئیں جو 100 کلو میٹر سائیکل چلا سکیں تو اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے آپ اور آپ کے آٹھ بھائیوں نے اسی وقت سے سائیکلوں پر تقریباً 150 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے جلسہ سالانہ ربوہ میں شرکت کرنی شروع کر دی۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ دریافت بھی فرمایا کہ ’’وہ آٹھ بھائی کہاں ہیں جو ربوہ تک سائیکل چلا کر آتے ہیں؟‘‘مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم عامر احمد صاحب ہیومینٹی فرسٹ انٹرنیشنل میں بطور Compliance آفیسر اور اپنی مقامی جماعت میں مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۴۔مکرم عبد الشکور ناصر صاحب (جرمنی) ابن مکرم عبدالمنان انور صاحب مرحوم (آف کنری)

29؍جنوری 2026ء کو 63سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، بڑے دیندار، خوددار، غیرت مند، خلافت سے بے پناہ محبت اور عقیدت کا تعلق رکھنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ کسی بھی قسم کی جماعتی خدمت ہو توہمیشہ بڑی خوشی سے بجالاتے۔ آپ کی زندگی اگرچہ مختلف تکلیفوں اور پریشانیوں میں گزری لیکن آپ نے ہمیشہ صبر وہمت اور بڑے حوصلہ کامظاہرہ کیا۔ مرحوم موصی تھے۔ آپ کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی بیوی سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاہ دو بیٹے اورچار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم لئیق احمد بلال صاحب (مربی سلسلہ شعبہ امو رعامہ جرمنی) اور مکرم عزیز احمد بلال صاحب (مربی سلسلہ۔وکالت تبشیر اسلام آباد یوکے) کے ماموں تھے۔

۵۔مکرمہ Kamila Kelley صاحبہ (امریکہ)

9؍جنوری 2026ءکو 95 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ اپنی والدہ اور نانی کے ہمراہ 1940ء کی دہائی میں اسلام احمدیت میں داخل ہوئیں اور پھر اپنی وفات تک نہایت اخلاص و وفا اور استقامت کے ساتھ جماعت اور خلافت سے وابستہ رہیں۔ نمازاورروزہ کی پابند، معاملہ فہم، نرم مزاج،بڑی دعا گو، دینی فرائض کا خیال رکھنے والی اور تقویٰ اور شکرگزاری کے ساتھ زندگی بسر کر نے والی مخلص خاتون تھیں۔ اکثر گفتگو کا آغاز “الحمد للہ” سے کرتی تھیں۔ ایم ٹی اے باقاعدگی سے دیکھتیں اور حضور انور کے خطبات بڑی توجہ کے ساتھ سنتی تھیں۔ خلافت سے قبل 1976ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اپنے امریکہ کے سفر کے دوران کلیولینڈ میں مرحومہ کے گھر بھی تشریف لے گئے جس کا آپ ہمیشہ بڑی خوشی اور فخر کے ساتھ ذکر کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ جماعتی خدمت میں بڑی فعال تھیں۔ اجلاسوں اور پروگراموں کے بعد مسجد کی صفائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔ چندہ جات باقاعدگی سے ادا کرتیں بلکہ مقررہ شرح سے بڑھ کر بھی قربانی پیش کرتی رہیں۔ مسجد فنڈاور دیگر جماعتی تحریکات میں جوش و خروش سے حصہ لیتی تھیں۔ جماعت کے عہدیداران کا بے حد احترام کرتیں اور ہر فرد کے ساتھ ہمدردی اور شفقت سے پیش آتیں۔ عیدین اور خوشی کے موقعوں پر بچوں کے لیے تحائف لایا کرتی تھیں۔مرحومہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جماعتی کاموں میں سرگرم رہیں اور خدمتِ دین کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹے مکرم عبدالرحمٰن صاحب اور نو پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔

۶۔مکرم شہید احمد صاحب ابن مکرم امجد علی پرودھان صاحب (احمد نگر۔بنگلہ دیش)

17 ؍جنوری 2026ء کو 86سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ 1947ء میں پارٹیشن کے وقت ہجرت کر کے بنگلہ دیش کے ضلع کشور گنج کے ایک گاؤں میں رہائش پذیر ہوئے۔ جب یہاں شدید مخالفت شروع ہوئی تو 1957ء میں دوبارہ ہجرت کر کے احمد نگر چلے گئے۔ 1962ء سے 1970ء تک بحیثیت معلم وقف جدید مختلف جماعتوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ بعدازاں مقامی جماعت کے سیکرٹری امور عامہ کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم سات سال تک اپنے علاقے کے کو نسلر اور احمد نگر ہائی سکول کے نائب صدر بھی رہے۔ آپ کے گھر پر مخالفین نے تین دفعہ حملہ کیا لیکن آپ نے ہمیشہ صبر وشکر سے کام لیا اورشدید مخالفت کے باوجوداپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔ مرحوم نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، بڑے دعا گو، نیک اور مخلص انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے دو بیٹے واقف زندگی ہیں جن میں سے ایک بیٹےجناب محمود احمد صاحب شومن (معلم وقف جدید) مرکزی بنگلہ ڈیسک ڈھا کہ میں خدمت کررہے ہیں اور دوسرے بیٹے جناب نوید احمد صاحب لیمن (مربی سلسلہ) …عربی زبان کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button