خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍مارچ 2026ء
’’انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔‘‘(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
’’مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں
کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہے‘‘۔
’’اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو۔‘‘ (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍مارچ 2026ء بمطابق 20؍امان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آج عید کا خطبہ بھی مَیں نے دیا ہے اس لیے اس وقت میں مختصر خطبہ دوں گا۔ اس کے لیے میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا ایک اقتباس لیا ہے جس کی طرف ہمیں ہمیشہ توجہ دینی چاہیے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ
’’مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہے‘‘۔
دنیا کے وسیع تعلقات بھی اس لیے اچھے ہوتے ہیں کہ اگر ان کا مقصد دین ہو، یعنی دنیا کے جو تعلقات ہیں ان کا مقصد بھی دین ہونا چاہیے۔ یہ مومن کی نشانی ہے
’’اور دنیا، اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو۔ بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو۔‘‘
دنیا بھی کماؤ تو غرض یہ ہونی چاہیے کہ ہمارا دین بہتر ہو۔ ہم نے دین کی خدمت کرنی ہے۔
دنیا بھی کمانی ہے تو دین کی بہتری کے لیے
نہ کہ غلط کام کر کے اپنی دنیا و آخرت بگاڑنے کے لیے بلکہ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اور اپنا دین سنوارنے کے لیے ہمیں دنیا کمانی چاہیے۔ اور فرمایا کہ ’’ اور
ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔ جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتی ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔‘‘
یہ ساری چیزیں جو ہم سفر میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ساتھ لیتے ہیں اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آرام سے سفر کٹ جائے اور ہم منزل مقصود پہ پہنچ جائیں نہ یہ کہ ان سے ہم سفر میں لطف اندوز ہوں۔ فرمایا ’’اسی طرح پر
انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:202) کہ اے اللہ ہمیں دنیا کی حسنات سے بھی نواز اور آخرت کی حسنات سے بھی نواز۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً (البقرۃ:202)۔ اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔ لیکن کس دنیا کو؟ ‘‘پہلے دنیا رکھی ہے لیکن کیوں؟ کون سی دنیا رکھی ہے؟ ’’حسنة الدُّنیا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جاوے۔‘‘ ایسی دنیا جس کو حاصل کر کے آخرت میں بھی فائدہ ہو ایسی دنیا کی چیزیں ملیں جو آخرت کی حسنات کا موجب ہو جائیں نہ یہ کہ ہمیں آخرت میں شرمساری کا سامنا کرنا پڑے۔ جب بالکل دنیا میں پڑ جائیں گے تو شرمساری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آپؑ فرماتے ہیں’’ اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حسنات الآخرت کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور ساتھ ہی حسنة الدُّنیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصولِ دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصولِ دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہیے۔ دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔ نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو، نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث ۔ ایسی دنیا بےشک حسنۃالآخرت کا موجب ہوگی۔‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 91-92۔ ایڈیشن 1984ء)
ایسی دنیا کماؤ جس سے نہ صرف تمہیں فائدہ پہنچ رہا ہو بلکہ انسانیت کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہو اور دنیا میں ایسی حرکتیں نہ ہوں جو تمہارے لیے شرم کا باعث بنیں۔ تمہارے خاندان اور تمہارے قریبیوں کے لیے شرم کا باعث بنیں بلکہ پاک صاف زندگی ہو، نیکی اور تقویٰ پر چلنے والی زندگی ہو اور جب ایسی زندگی ہوگی اور تم ایسی دنیا کمانے کے لیے اپنی زندگی صرف کرو گے تو وہ تمہیں دنیا وآخرت دونوں میں نوازے گی۔
پس آج جب کہ دنیا عمومی طور پر اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول میں پڑی ہوئی ہے، ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر قوموں کو دیکھیں تو انہیں صرف اپنی قوم کی فکر ہے، انسانیت کی نہیں اور اس پر پڑ کر یہ لوگ اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ سے دنیاوآخرت کی حسنات مانگنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں ایسے حالات میں اس طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی دنیا وآخرت سنوار سکیں اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ رہ سکیں۔ دنیا تباہی کے گڑھے میں جا رہی ہے جیسا کہ میں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ اللہ کرے کہ ہمیں اپنے اعمال بھی بہتر کرنے کی توفیق ملے اور اس لحاظ سے دعائیں کرنے کی بھی توفیق ملے جیسا کہ ابھی خطبہ میں مَیں نے کہا تھا
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقت میں ان حسنات کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بہترین دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں قبول بھی فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 13؍مارچ 2026ء




