ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۱۰)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

ندوۃ العلماء اور اصلاح کا صحیح طریق

سلسلہ کلام میں ندوہ کے متعلق ذکر آیاکہ وہ بحث مباحثہ سے الگ رہ کر اصلاح چاہتے ہیں۔ اس پر فرمایا: ’’اگر ندوہ کا دعویٰ اصلاح ہے تو امر تنقیح طلب یہ ہے کہ اصلاح کس طرح ہوسکتی ہےاورکن راہوں سے ہورہی ہے اور اسلام پر کیا حملہ ہورہا ہے؟اس کی مدافعت اور انسداد کی تدابیر کا سوال بے محل اور ایسا دعویٰ خیالی دعویٰ ہوگا۔ پھر قابل غور امر یہ ہے کہ ان ساری خرابیوں کا انسداد ارضی طاقت سے ہوسکتاہے یا آسمانی تائیدات سے ؟ اگر ندوہ والے یہ چاہتے ہیں کہ لوگ پڑھ کر یعنی انگریزی تعلیم حاصل کرکےنوکر ہوجائیں اور ان کو ملازمت کےلئے آسانیاں ہوں تو یہ دین کا کام نہیں ہے۔یہ تو قوم کو غلام بنانے کی تدابیر ہیں۔ اور اگر ان کی غرض دینی اصلاح ہے تو پھر یادرکھیں کہ

خدا را بخدا تواں شناخت

اس اصل کو چھوڑ کر جو شخص چاہتاہے کہ دینی اصلاح ہوجاوے۔ وہ کبھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس خشک اور خیالی اصلاح سے کیا فائدہ ہوگا جس کےساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں نہیں ہیں۔ وہ باتیں جو نری لفاظی کے طور پر بیان کی جاویں یا قصہ اور کہانی کی طرح گذشتہ امور پر جس کا حوالہ ہو۔ ان کی پہلے سے کیا کمی ہے۔ جو ایک خاص جماعت اپنا وقت اور غریب مسلمانوں کا روپیہ لے کر صرف کرے اور نتیجہ کچھ بھی نہ ہو۔ میں اس قسم کی کارروائیوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ ایسی باتوں سے ریا کاری اور نفاق کی بو آتی ہے۔ کیونکہ یہ طریق اس مطلب اور غرض کے حصول سے کوسوں دور ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیاہے اور جس طرح دنیا کی اصلاح ہوا کرتی ہے وہ رنگ اس میں موجود نہیں ہے۔

اصلاح کا طریق ہمیشہ وہی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اذن اور ایماء سے ہو۔ اگر ہر شخص کی خیالی تجویزوں اور منصوبوں سے بگڑی ہوئی قوموں کی اصلاح ہو سکتی تو پھر دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے وجود کی ہی کچھ حاجت نہ رہتی۔ جب تک کامل طور پر ایک مرض کی تشخیص نہ ہو اور پھر پورے وثوق کے ساتھ اس کا علاج معلوم نہ ہولے کامیابی علاج میں نہیں ہوسکتی۔

اسلام کی جو حالت نازک ہورہی ہے وہ ایسے ہی طبیبوں کی وجہ سے ہورہی ہے جنہوں نے اس کی مرض کو تو تشخیص نہیں کیا اور جو علاج اپنے خیال میں گذرا اپنے مفاد کو مدّنظر رکھ کر شروع کردیا۔ مگر یقیناًیاد رکھو کہ اس مرض اور علاج سے یہ لوگ محض ناواقف ہیں۔ اس کو وہی شناخت کرتاہے جس کو خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لیے بھیجا ہے اور وہ میں ہوں۔

اصلاح احوال کے لیے آسمانی تدابیر کی ضرورت ہے

اسلام کے اندر ایک خطرناک پھوڑا ہوگیاہے اور ایک جذام باہر کی طرف سے اسے لگ رہا ہے۔ اندرونی پھوڑے کا باعث خود مسلمان ہوئے ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی پاک تعلیمات اور اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور رائے کے موافق اس میں اصلاح اور ترمیم شروع کردی۔ وہ باتیں جو کبھی آنحضرتﷺ کے وہم وگمان میں بھی نہ آئی تھیں آج عبادت قرار دی گئی ہیں اور زہد وریاضت کا بہت بڑا مدار انہیں پر رکھا گیا ہے۔ ان باتوں کو دیکھ کر بیرونی دشمنوں کو بھی موقع ملا اور وہ تیر وتفنگ لے کر اسلام پر حملہ آور ہوئے اور اس کے پاک وجود کو چھلنی کر دیا اور اسے ایسی مکروہ ہیئت میں دشمنوں نے دکھانا شروع کیا کہ غیر تو غیر تھے ہی اپنوں کو بھی متنفر کردیا۔ہر شخص نے اپنے طرز پر اس کی تصویر کو بھیانک بنانےکی فکر کی۔ ایسی صورت میں زمینی حربہ اور ارضی تدابیر کام نہیں دے سکتی ہیں۔ اس کے لئے آسمانی حربہ اور آسمانی تدابیر کی حاجت ہے۔ اس لئے جب تک آسمانی کشش آسمانی تائیدات کسی کو نہ دی جاویں کامیابی ہونہیں سکتی؟ ضرورت انبیاء کا یہی بڑا بھاری ثبوت ہے کیونکہ اگر بگڑے وقت اصلاح دنیا ہوسکتی تو ہر زمانہ میں فلاسفر اور دانشمند مدبر ہوتے ہی رہے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ ہوگذرے ہیں۔ اب بھی موجود ہیں۔ لیکن وہ فلاسفر اور ریفارمر خدا تعالیٰ سے اس قدر دور جاپڑے ہیں کہ ان کے نزدیک شاید خدا تعالیٰ کا نام لینا بھی ایک گناہ اور غلطی قرار دیا گیا ہے۔ پھر بتاؤ کہ یہ فلسفہ اور یہ اصلاح تمہیں کہاں تک لے جائے گی۔ اس سے کسی بہتری کی امید رکھنا خطرناک غلطی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ خداتعالیٰ نے یہی سنت رکھی ہے کہ اصلاح کے واسطے نبیوں کو مامور کرکے بھیجا ہے انبیاء علیہم السلام جب آتے ہیں تو بظاہر دنیا میں ایک فساد عظیم نظر آتا ہے۔ بھائی بھائی سےباپ بیٹے سے جدا ہوجاتاہے۔ہزاروں ہزار جانیں بھی تلف ہوجاتی ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلا م کے وقت طوفان سے ان کے مخالفوں کو تباہ کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت طاعون اور دوسرے کئی عذاب وارد ہوئے اور فرعون کے لشکر کو غرق کیا گیا۔

غرض خوب یاد رکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کرسکتی ہیں بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہیے۔ پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا؟

اَلَمْ یَأْتِکُمْ نَذِیرٌ۔کا جب سوال ہوگا تو پتہ لگے گا۔ اصل بات یہی ہے کہ ؏

خدا را بخدا تواں شناخت

اور یہ ذریعہ بغیر امام نہیں مل سکتا۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کا مظہر اوراس کی تجلیات کا مورد ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیاہے۔ من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ یعنی جس نے زمانہ کے امام کو شناخت نہیں کیا وہ جہالت کی موت مر گیا۔ (ملفوظات جلد۳ صفحہ ۲۳۶-۲۳۸)

تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں فارسی مصرع

خُدَا رَا بِخُدَا تَوَانْ شَنَاخْت

دو مرتبہ آیاہے۔

جس کا مطلب ہے خدا کو خدا کے ذریعہ شناخت کیا جاسکتاہے۔

لغوی بحث: خُدَا(خدا) رَا(کو) بِخُدَا(خدا کے ذریعہ) تَوَانْ شَنَاخْت(پہچانا جاسکتا ہے)

مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button