الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خانصاحبؓ

حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کی پاکیزہ سیرت کے حوالے سے محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب سابق امام مسجد فضل لندن کی ایمان افروز تصنیف کا تعارف مجلس انصاراللہ برطانیہ کے مجلّہ ’’انصارالدین‘‘ جلد۲۰۱۴ء نمبر۴و۵ میں خاکسار محمود احمد ملک کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ یہ کتاب پہلی بار اپریل۱۹۸۷ء میں ربوہ سے شائع کی گئی تھی جسے حکومت پاکستان نے (از راہ تعصّب) ضبط کرلیا۔ پھر اس کا دوسرا اور تیسرا ایڈیشن لندن سے شائع کیا گیا ۔

تاریخی تصاویر سے مزین اس کتاب کا مطالعہ جہاں ایک عظیم شخصیت کی سیرت کا مطالعہ ہے وہاں تاریخ کے ایک بھرپور دَور کا ادراک ہے اور اعلیٰ اخلاق کا ایسا جامع اظہار بھی ہے جسے ہر احمدی کو اپنی زندگی میں جاری کرنا چاہیے۔

حضرت چودھری صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ آپؓ کی زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا جب آپؓ کا ہاتھ حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک میں اطاعت و غلامی کا اقرار کرنے کی سعادت حاصل کررہا تھا۔ پس یہی وہ شرف تھا کہ عاجزی کے اِس پیکر کو خلافتِ احمدیہ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی طور پر ایسے عظیم الشان مناصب عطا فرمائے جن کے ذریعے نہ صرف بین الاقوامی اور قومی سطح پر بلکہ انفرادی حیثیت میں بھی آپؓ کو بنی نوع انسان کے لیے غیرمعمولی خدمات بجالانے کی توفیق عطا ہوئی اور انہی خدمات کی وجہ سے آپؓ کا اسم گرامی تاریخ احمدیت میں ہی نہیں بلکہ تاریخ انسانیت میں بھی ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب رقمطراز ہیں کہ

٭…مَیں گاڑی چلا رہا تھا۔ حضرت چودھری ظفراللہ خان صاحبؓ میرے ساتھ اگلی سیٹ پر تشریف فرما تھے۔ آپؓ کی عادت تھی کہ ڈرائیور کو کار چلانے کے سلسلہ میںنہ تو کوئی مشورہ دیتے اور نہ ہی ٹوکتے۔ ایک کار میرے آگے جارہی تھی۔ میں نے تین چار مرتبہ اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن جونہی میںاس کار سے آگے نکلنے کے لیے اپنی رفتار تیز کرتا تو اس کار کا ڈرائیور بھی اپنی رفتار تیز کرکے مجھے آگے نکلنے سے روک دیتا۔ یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہا حتّٰی کہ وہ کار ایک طرف کو مُڑگئی۔ میں نے محسوس کیا کہ جب تک وہ کار نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی، حضرت چودھری صاحبؓ کی نظریں مسلسل اُس کا تعاقب کرتی رہیں۔ پھر آپؓ فرمانے لگے: امام صاحب! جب تک آپ اس کار سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے رہے میں یہ دعا کرتا رہا کہ آپ اس سے آگے نہ نکل سکیں۔ اُس کار کی نمبر پلیٹ پر ALHکے الفاظ نمایاں تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ الفاظ اللہ (ALLAH)کا مخفف ہیں۔ میرے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ آپ اس کار سے آگے نکل جائیں اور مَیں یہی دعا کرتا رہا۔

٭…۱۹۶۴ء میں خاکسار امام مسجد فضل لندن مقرر کیا گیاتو حضرت چودھری صاحبؓ سے تعلق بہت بڑھ گیا۔ جب آپؓ لندن تشریف لاتے تو میرے ہاں قیام فرما ہوتے۔ پھر ریٹائرمنٹ کے بعد آپؓ نے اپنی باقی ماندہ زندگی کاملاً خدمت دین کے لیے وقف کر دی اور لندن مشن کی عمارت کے ایک حصہ میں رہائش اختیار فرمائی۔ دونوں وقت کا کھانا ہم ساتھ کھاتے۔ سفر و حضر میں ساتھ رہتے اور میری زندگی کا یہ قیمتی ترین عرصہ قریباً دس سال پر محیط رہا۔ آپؓ کا معمول تھا کہ روزانہ صبح نماز کے بعد لمبی سیر کیا کرتے تھے۔ ایک روز آپؓ سیر سے واپس تشریف لائے تو مَیں نے محسوس کیا کہ آپؓ کی آنکھوں میںنمی ہے اور طبیعت گداز ہے۔ وجہ دریافت کرنے پرپہلے تو ٹالتے رہے۔ میرے اصرار پر فرمایا:جب میں سیر کو نکلاتو تسبیح و تحمید اور درود شریف کے ورد سے فارغ ہونے کے بعد میری طبیعت حمد الٰہی کی طرف متوجہ ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے جو مجھ پر بے شمار احسانات ہیں ان کو دیکھ کر اور اپنی کمزوریوں پر نظر کر کے مَیں نے سوچنا شروع کیا تو بےاختیار میری زبان سے نکلا میرے مولیٰ تُونے مجھ پر جو احسانات کیے ہیں اور جس طرح اپنے ہاتھ سے میری پرورش کی اوراپنی نعمتوں سے مجھے جس قدر نوازا ہے اس کا عشر عشیر بھی کوئی باپ اپنے بیٹے کے لیے نہیں کر سکتا۔ ان خیالات میں مَیں جتنا جتنا غرق ہوتا گیا اتنا اتنا اظہار تشکرسے میرے آنسوؤں کی جھڑی تیز ہوتی گئی۔ یہ کہتے ہوئے آپؓ کی آواز پھر بھرا گئی اور آپ بغیر بات پوری کیے اپنے کمرہ میں چلے گئے۔

٭…حضرت نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات سے محبت کا وہ عالم تھا کہ جس کے اظہار پر ہندوستان بھر میں آپ کی دھوم مچ گئی۔ جب توہین عدالت کے ایک مقدمے میں آپؓ نے عدالت کے سامنے ببانگ دہل کہا تھا کہ آنحضرتﷺ کی عزت کے تحفظ کے لیے اگر ہائی کورٹ کے ججوں کی بےعزتی بھی کرنی پڑے تو ہم اس کے لیے ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔ اور اس واقعہ کا تو مَیں عینی شاہد ہوں کہ ایک دفعہ پاکستان کے ایک مشہور مؤرخ آپ کو ملنے آئے جو آپؓ کے بڑے مداح اور عقیدت مند بھی تھے۔ باتوں باتوں میں وہ ایک ایسی بات کہہ گئے جس سے آنحضرتﷺ کی شان میں گستاخی کا پہلو نکلتا تھا۔ آپؓ فوراً غصہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے کہا آپ ابھی یہاں سے نکل جائیں اور آئندہ مجھے نہ ملا کریں، مَیںکسی ایسے شخص سے ہرگز ملنے کو تیار نہیں جو مسلمان ہو کر آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ یہ کہہ کر آپؓ چلے گئے۔ پھر ایک لمبے عرصے تک اُن سے نہ ملے۔ بالآخر بار بار معافی مانگنے پر آپؓ نے معاف کردیا۔

٭…حضرت چودھری صاحبؓ کا خلفائے کرام کے ساتھ تعلق غیرمعمولی تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی خدمت میں بار بار حاضر ہونے اور حضورؓ کے خصوصی الطاف کا مورد بننے اور دعائیں حاصل کرنے کا اعزاز آپؓ کے حصے میں آیا۔ حضرت مصلح موعودؓ سے بھی آپؓ کا تعلق خصوصی اور نمایاں تھا۔ آپؓ کو ابتداء سے ہی حضورؓ کے خصوصی معاون اور مشیر کی حیثیت حاصل تھی۔ حضورؓ نے آپؓ کو (یورپ میں زیرتعلیم) اپنے صاحبزادگان کانگران اور سرپرست مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے آپؓ کو تب سے خصوصی تعلق تھا جب حضورؒ بطور طالب علم آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل فرمارہے تھے۔ اس کے بعد زندگی بھر حضورؒ سے خصوصی تعلق رہا۔ حتیٰ کہ خلافتِ ثالثہ کی پہلی بابرکت تحریک فضلِ عمر فاؤنڈیشن کااعلان کرنے کی غیرمعمولی سعادت بھی حضورؒ نے آپؓ کی جھولی میں ڈال دی۔ ۱۹۷۸ء میں لندن میں کسر صلیب کانفرنس میں حضورؒنے اپنے بارہ حواریوں کا اعلان فرمایا جن میں آپؓ کو بھی شامل فرمایا۔ جب بھی حضورؒ کی طرف سے کوئی حکم موصول ہوتا آپؓ اس کی فوری تعمیل کرتے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ حکم موصول ہوا کہ فلاں مضمون کا ترجمہ کردیں یا فلاں صاحب کو خط لکھیں تو آپؓ حکم ملتے ہی کاغذ قلم لے کر بیٹھ جاتے۔ دو ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ کل صبح یہ کام کرلیں تو فرمایا: کام ابھی شروع کردیتے ہیں خواہ ختم کل ہی ہو۔

ایک مرتبہ حضورؒ نے انگلستان میں قیام کے دوران رات کے دس بجے خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ اگر چودھری صاحب جاگ رہے ہوں تو انہیں بلاؤ لیکن اگر سوئے ہوئے ہوں تو ہرگز انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ مَیں دبے پاؤں آپؓ کے فلیٹ میں گیا۔ ہماری یہ انڈرسٹینڈنگ تھی کہ آپؓ اپنے کمرہ کا دروازہ بند نہیں کیا کریں گے۔ چنانچہ مَیں آہستگی سے کمرے میں داخل ہوا۔ دیکھا کہ آپؓ سورہے تھے۔ میں واپس مُڑنے کو ہی تھا کہ آپؓ کی آنکھ کھل گئی۔ پوچھا: کیسے آئے ہو؟ مَیں نے عرض کیا کہ حضورؒ کا ارشاد ہے کہ ا گر آپ سو رہے ہوں تو ڈسٹرب نہ کیا جائے اس لیے میں جاکر عرض کردوں گا کہ آپ بستر پر تشریف لے جا چکے ہیں۔ میری بات سنتے ہی آپؓ تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جلدی جلدی ڈریسنگ گاؤن پہننے لگے اور فرمایا کہ اگر حضورؒ نے یاد فرمایا ہے تو پھر سونے کا کیا سوال۔ مَیں نے دوبارہ عرض کرنے کی کوشش کی مگر آپؓ میری بات کی طرف توجہ دینے سے کاملاً بے نیاز ہوچکے تھے۔ چنانچہ فوری طور پر حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ سے بھی آپ نے خصوصی عقیدت کا تعلق برقرار رکھا۔ اکثر مسائل کے بارہ میں حضورؒ کو لکھا کرتے۔ ایک بار کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس منصبِ جلیلہ پر فائز کرنے کے بعد حضورؒ کو کس قدر تبحر علمی عطا کردیا ہے کہ بڑے بڑے پیچیدہ مسائل کو آپ یوں حل کرتے چلے جاتے ہیں کہ گویا اُن میں کوئی مشکل تھی ہی نہیں۔ پھر حضورؒ کی انگریزی زبان کی قابلیت، انگریزی زبان بولنے میں حضورؒ کی مہارت اور روانی کا بالخصوص تذکرہ فرمایا۔

٭…اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ حضرت چودھری صاحبؓ کی طویل زندگی کا راز کیا ہے تو میں بلا تامّل سورۃالرعد کی یہ آیت پیش کروں گا: جو زیادہ نافع الناس ہوتا ہے وہ دنیا میں زیادہ عرصہ رہتا ہے۔ (الرعد:۱۸)

آپؓ ہزاروں روپے کی ماہوار آمد میں سے صرف چند سور وپے اپنے لیے رکھتے۔ باقی رقم یا تو جماعتی چندوں میں چلی جاتی تھی یا غرباء اور مستحقین کی امداد میں خرچ ہوتی تھی۔ اپنی روز مرّہ زندگی میں کس قدر مشقت اور تکلیف اُٹھاکر مستحقین کے دکھوں کو دُور اور ان کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے اس کا راز آپؓ کی حد تک پہنچی ہوئی کفایت شعاری میں تھا۔ آپؓ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے اپنی ذات کی ہر رنگ میں قربانی کرتے تھے۔ ایک دفعہ جب آپ امریکہ تشریف لے جارہے تھے تو میں نے آپ سے عرض کی کہ فلاں کمپنی کی بنی ہوئی دو قمیضیں جن کی قیمت دس پاؤنڈ فی قمیض تھی میرے لیے لیتے آئیں۔ فرمایا میں تو اپنے دوستوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ فضول خرچی کریں۔ دس پاؤنڈ میں تو کم از کم چار قمیضیں آنی چاہئیں۔ میں نے عرض کیا: آپ بھی کمال کرتے ہیں اڑھائی پاؤنڈ کی ایک قمیض کہاں سے ملے گی۔ فرمانے لگے: مَیں تو سالہا سال سے اسی قیمت کی قمیض خریدتا ہوں اور پہنتا ہوں، مجھے تو کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم نے سستی قمیض پہن رکھی ہے۔ اس لیے اگر تو میری طرح کی قمیض پسند ہو تو میں لیتا آؤں گا لیکن مہنگی قمیض نہیں لاؤں گا۔ مَیں نہیں چاہتا کہ آپ فضول خرچی کریں۔ اب مَیں پھنس چکا تھا۔ پیسے واپس مانگتا تو ناراضگی کا خدشہ تھا۔ لہٰذا نیم دلی سے کہا آپ جو چاہیں لے آئیں۔

ایک دفعہ آپ کے غسلخانے میں ایک صابن دیکھا جس کی کئی تہیں تھیں۔ میرے پوچھنے پر فرمانے لگے جب صابن استعمال کرتے کرتے باریک سا رہ جاتا ہے تومیں نئے صابن کے ساتھ اس کو جوڑ دیتا ہوں اس طرح بہت سے صابن جُڑتے جُڑتے یہ شکل بن گئی ہے۔

ایک بار مَیں نے کہا چودھری صاحب کفایت شعاری بجا! لیکن یہ معمولی دو اڑھائی پاؤنڈ کی بچت سے کیا بن جاتا ہے۔ فرمانے لگے تم جانتے ہو یہ پاکستان پہنچ کر کتنی رقم بن جاتی ہے؟ جانتے ہو اس رقم سے ایک غریب خاندان کا بچہ پاکستان میں ایک ماہ پڑھائی جاری رکھ سکتا ہے۔ میرے ذرا سی تکلیف اُٹھانے سے پاکستان میں کسی غریب بچے کا مستقبل سنور جائے تو مجھے اَور کیا چاہئے۔ پھر فرمایا کہ زندگی میں عام آسائشیں حاصل نہ کرنے سے ایک اور بڑا اہم فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کا نفس اس کے تابع رہتا ہے اور خصوصاً خدمتِ دین کے معاملے میں اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

ایک بار آپؓ کسی کو ساتھ لے کر جوتا خریدنے نکلے۔ آپؓ کو اپنی مرضی کا سستا جوتا نہ مل سکا تو اُس شخص نے تنگ آکر کہا چودھری صاحب !آپ اپنی پوزیشن کو بھی دیکھا کریں، جتنا سستا جوتا آپ چاہتے ہیں اس کو دیکھ کر لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ آپ نے فرمایا: جو شخص مجھے جانتا ہے کہ میرا نام ظفر اللہ ہے اس کی نظر کبھی میرے جوتے پرنہیں جائے گی اور جو شخص نہیں جانتا کہ میں کون ہوں اُس کو میں قیمتی جوتا پہن کر یہ نہیں بتانا چاہتا کہ میرا نام ظفر اللہ ہے۔ اس شخص نے ہار کرکہا آپ اپنی عمر کو بھی تو دیکھیں اس عمر میں آپ کو نرم اور آرام دہ جوتا چاہیے۔ فرمایا: میرے پیر کو کبھی بےآرامی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ میں نے اپنے پاؤں کو نرم جوتے کا عادی ہی نہیں بنایا۔ اور آپ جتنا مہنگا جوتا میرے لیے تجویز کررہے ہیں اس رقم کو بچاکر تو پاکستان میں کئی طالب علموں کی پڑھائی کا خرچہ پورا ہوسکتا ہے۔

میں کبھی سوچتا ہوں تو بےاختیار میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ کسی اَن دیکھے طالب علم ، کسی ناواقف اور انجان بیوہ یا مستحق کے لیے آپ کے دل میں کس قدر درد تھا!

شاید کوئی سوچے کہ جس طرح حضرت چودھری صاحبؓ خود کفایت کی زندگی گزارتے تھے اسی طرح کفایت سے وظائف بھی دیتے ہوںگے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ مانگنے والوں کی ضرورت سے بڑھ کر اُن کو دیتے کہ شاید کوئی اَور ضرورت بھی ہو جس کا اظہار نہ کرسکے ہوں۔

آپؓ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ عالمی عدالتِ انصاف میں بطور جج مقیم تھے تو آپ عموماً جمعہ کے دن ہیگ سے لندن تشریف لاتے اور سوموار کی صبح کو ہیگ پرواز کرجاتے۔ سوموار کی صبح کو ناشتہ پر جو ٹوسٹ اور انڈہ بچ جاتا اسے پیک کرکے ساتھ لے جاتے اور فرمایا کرتے کہ چونکہ مَیں ایئرپورٹ سے سیدھا کورٹ چلا جاتا ہوں اس لیے دوپہر کے کھانے کے لیے یہ ٹوسٹ اور ایک گلاس دودھ کفایت کرجاتا ہے۔ میں اصرارکرتا کہ باقاعدہ لنچ پیک کرکے ساتھ دیتا ہوں لیکن آپ نہ مانتے اور فرماتے کہ کھانے میں تکلّف مجھے پسند نہیں ہے۔ مجھے متواتر دس سال تک آپ کی خدمت کی توفیق ملی۔ اس دوران جو کھانا بھی سامنے رکھا، کھالیا۔ ایک بار بھی کوئی نقص نہیں نکالا۔ سبزیوں میں اروی بہت رغبت سے کھاتے تھے۔ کھانا بہت کم کھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ صوفیا ء نے جو لکھا ہے کہ روحانیت کے لیے کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا ضروری ہے تومیں کم کھانے اور کم سونے پر تو عمل کرتا ہوں البتہ کم بولنے پر ابھی میں عمل نہیں کرسکا۔

کھانے میں شہد آپ کو بہت پسند تھا۔ فرمایا کرتے تھے کہ حالانکہ مَیں شوگر کا مریض ہوں لیکن مجھے شہد نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا اور یہ قرآن کریم کی سچائی کی دلیل ہے کہ اس میں انسانوں کے لیے شفا موجود ہے۔

٭…آپؓ یادداشت کے معاملے میں طلسماتی اور مافوق البشرخصوصیات کے مالک تھے۔ قائد اعظم کی اِس بات پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ’’ظفر اللہ خان کا دماغ خداوند کریم کا زبردست انعام ہے۔‘‘ آپؓ کا حلقۂ احباب سینکڑوں یا ہزاروں احباب تک وسیع تھا لیکن کبھی کسی کا ٹیلیفون نمبر نوٹ نہیں کیا۔ یہ سارے نمبر آپ کے ذہن میں محفوظ رہتے تھے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے اپنے کسی جاننے والے کا ٹیلیفون نمبر کسی دوسرے سے پوچھا ہو۔ لوگ ملنے آتے ، آپ ان کا ٹیلیفون نمبر پوچھتے۔ یہ نمبر چند بار دہراتے اور بس۔ پھر یہ آپؓ کی طلسماتی یادداشت کا حصہ بن جاتا۔

ایک دفعہ دورانِ سفر آپؓ نے فارسی اور اردو کے اشعار سنانے شروع کیے اور عالم یہ تھا کہ ایک کے بعد دوسرا شعر روانی سے ادا ہو رہا تھا۔ اس حد تک تو شاید لوگ کسی کی ہمسری کادعویٰ کرسکیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ آپؓ فرمانے لگے اگر ہم جس راستے سے آئے ہیں اسی راستے سے واپس روانہ ہوں تو میں آپ کو یہ بھی بتاسکتا ہو ں کہ کس موڑ پر اور کس جگہ میں نے کون سا شعر سنایا تھا۔

اپنی تصانیف کے لیے آپ بہت کم حوالہ جات کی تلاش کرواتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر حوالے آپ کو زبانی یاد ہوتے تھے۔ آپؓ کی خود نوشت سوانح عمری کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۱ء میں شائع ہوا۔ جب آپؓ نے اپنی کتاب کا ضخیم مسودہ لکھا تو مجھ سے بھی رائے مانگی۔ مَیں نے عرض کیا کہ آپ نے یہ ساٹھ ستّر سال پرانے واقعات صرف اپنی یادداشت کے سہارے لکھے ہیں۔ ان میں جابجا معین تاریخیں، سن اور وقت بھی لکھا ہے اگر ان کی کسی طرح سے پڑتال ہو جائے تو بہتر ہے۔ آپؓ نے فرمایا: نہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ مَیں نے اصرار کیا تو فرمانے لگے: اچھا یوں کریں کہ ایک دو واقعات بطور ٹیسٹ نکال لیں اور ان کی پڑتال کریں۔ چنانچہ مَیں نے ایک مشہور شخصیت سے آپؓ کی ملاقات کے حصے کو اس مقصد کے لیے چنا۔ اس ملاقات کے ذکر میں آپؓ نے یہ بھی بیان فرمایا تھا کہ اس وقت ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ مجھے اُمید تھی کہ اس روز کی موسم کی خبر میں اس کا پتہ چل جائے گا۔ چنانچہ مَیں نے بڑی کوشش کرکے پرانے اخبارات نکلوائے تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب خبروں میں چودھری صاحب کی ملاقات کی تفصیلات کے علاوہ یہ پتہ بھی لگ گیا کہ اس وقت بوندا بوندی ہو رہی تھی۔

٭…حضرت چودھری صاحبؓ ان خدارسیدہ لوگوں میں شامل تھے جن کی دعاؤں کے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔ جن کی خاطر خدا تعالیٰ اپنی تقدیریں بھی ٹال دیتا ہے۔ جب آپؓ سے دعا کے لیے کہا جاتا تو آپ فوراً بالالتزام دعا شروع کردیتے۔ فرمایا کرتے کہ بارہا یوں بھی ہوا کہ کسی نے مجھے کہا کہ میرے ہاں زچگی متوقع ہے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکے سے نوازے۔ مَیں دعا میں لگ جاتا ہوں اور عرصہ بعد جب اسی شخص سے پوچھتا ہوں کہ بھئی میں تمہارے لیے دعا کررہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لڑکا دے تو وہ شخص جواب دیتا کہ میرے ہاں تو لڑکا پیدا ہوئے اب ایک سال ہونے کو ہے۔

آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ دعا تو کرتے ہیں لیکن دعا کے لیے جو شرائط ہیں ان پر عمل نہیں کرتے اس لیے قبولیت دعا سے مستفید نہیں ہوپاتے۔ اپنے ایک بزرگ کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ ان کی دعائیں بہت قبول ہوتی تھیں۔ قبولیت دعا کاراز انہوں نے یہ بیان فرمایا کہ میں دعا کے لیے اندھیری کوٹھڑی میں چلا جاتا ہوں ، دروازہ بند کرلیتا ہوں اور اللہ میاں کو جپھی ڈال لیتا ہوں کہ جب تک میری دعا کو قبول نہیں کرو گے میں نہیں چھوڑوں گا۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ دعا تبھی پایۂ قبولیت کو پہنچتی ہے جب انسان آستانہ الٰہی سے اس وقت تک چمٹا رہے جب تک قبولیتِ دعا کانشان نہ دیکھ لے۔

ایک بار فرمایا کہ جب میں اقوام متحدہ کے سترھویں سیشن کا صدر منتخب ہوا تو میرے دل میں اس بات پر تشویش پیدا ہوئی کہ میں نے تو اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا مطالعہ بھی نہیں کیا جبکہ افغانستان کے سفیر دن میں کئی کئی بار پوائنٹ آف آرڈر اُٹھانے میں مشہور تھے اور باربار صدر کو قواعد کی طرف متوجہ کرکے ان کو آگے نہیں چلنے دیتے تھے۔ مَیں نے بڑی تضرّع سے اپنے لیے دعا کی اور میرے مولیٰ نے میری تضرّعات کو یوں شرفِ قبولیت بخشا کہ میری صدارت کے دوران ایک سال کے عرصہ میں ایک بھی پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا گیا اور یوں یہ سیشن اس لحاظ سے بھی ایک تاریخی حیثیت اختیار کرگیا۔

(باقی آئندہ سوموار کے شمارے میں۔ ان شاءاللہ)

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ انڈونیشیا کے جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کا کامیاب انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button