صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’اب بعض لوگ اچھے بھلے اپنے کاروبار ہونے کے باوجود دوسروں کے پیسوں پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور کئی کم تجربہ کار اپنی بے عقلی سے زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ میں ایسے لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور پھر اپنے پیسوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور پھر نظام جماعت کو لکھتے ہیں یا مجھے لکھتے ہیں کہ فلاں احمدی کو ہم نے اس طرح اتنی رقم دی تھی وہ سب کچھ کھا گیا اور اب ہم خالی ہاتھ ہو گئے ہیں تو ہماری مدد کی جائے اور رقم ہمیں واپس دلوائی جائے۔ تو ایسے لوگوں کو یہ پہلے سوچنا چاہیے کہ واقعی یہ کاروبار اس طرح ہو بھی سکتا تھا کہ نہیں یا صرف کسی نے باتوں میں لگا کے، چکنی چوپڑی سنا کے، بتا کے تمہارے سے پیسے اور رقم بٹور لی۔ اگر قناعت کرتے رہتے اور کم منافع پر بھی کماتے رہتے تو کم از کم ایسے حالات تو نہ پیدا ہوتے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا سرمایہ کئی گنا زیادہ ہو چکا ہوتا۔ اس کے بعد جو رقم ضائع ہوگئی، منافع تو کیا ملنا تھا رقم بھی گئی، اصل سرمایہ بھی گیا۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍اپریل ۲۰۰۴ء، خطبات مسرور جلد دوم صفحہ ۲۸۳-۲۸۴)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




