جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کا سینتیسواں جلسہ سا لانہ ۲۰۲۶ء
٭… جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام
٭… حکومت کے نمائندگان اور ملک کی سیاسی و دیگرشخصیات کی آمد ٭… ۹۲۴؍احباب کی شمولیت
محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کو اپنا ۳۷واں جلسہ سالانہ ’’خلافت-عالم بدامنی کے درمیان امن کا سر چشمہ‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۲۳و۲۴؍جنوری ۲۰۲۶ء کو منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ چونکہ جماعت کی تعداد اب پہلے سے کافی بڑھ چکی ہے اس ليے اوکلینڈ شہر میں ایک بڑے کنوینشن سنٹر کو کرائے پر لیا گیا۔ یہ سنٹر وسیع ہونے کے علاوہ موٹر وے کے قریب ہونے کی وجہ سے جلسہ کے ليے ہر لحاظ سے بہت موزوں رہا۔

جلسہ سالان میں شمولیت کے لیے ملک بھر سے احباب جماعت قافلہ در قافلہ ایک دن قبل روانہ ہوئے اور رات گئے تک ان وفود کی مسجد بیت المقیت میں آمد ہوتی رہی جہاں پر احباب کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ قریبی شہروں سے بعض قافلے جمعہ کی صبح پہنچے۔ ڈیوٹی پر مردو خواتیں آنے والے احمدی بھائیوں اور بہنوں کا گرم جوشی سے استقبال کرتے اور انہیں ان کی رہائش گاہوں تک پہنچاتے۔ رات کے جس حصہ میں کوئی قافلہ پہنچا اس کے ليے کھانا مہیا کیا جاتا رہا۔
جائزہ انتظامات جلسہ:مورخہ ۲۲؍جنوری بروز جمعرات شام پانچ بجے مکرم بشیر احمد خان صاحب نیشنل صدر جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ نےافسر جلسہ سالانہ، افسر جلسہ گاہ، افسر خدمت خلق، مبلغ انچارج اور دیگر عہدیداران کی معیت میں جلسہ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ آپ نے لنگر خانہ، جلسہ گاہ، رہائش گاہوں، نمائش، ہیومینٹی فرسٹ سٹال، سوشل میڈیا آفس اور دیگر تمام شعبہ جات اور دفاتر کا دورہ کیا۔
پہلا روز:صبح سوا چار بجے باجماعت نماز تہجد سے دن کا آغاز ہوا جو مکرم غیور احمد صاحب مبلغ سلسلہ ماسٹرٹن نے پڑھائی۔ جلسہ میں شامل ہونے والے وفود گذشتہ روز دور دراز سے سفر کرکے آئے تھے۔ بعض قافلے سارے دن کا طویل سفر کر کے جلسہ گاہ پہنچے تھے۔ اس کے باوجود احباب وخواتین نماز تہجد میں شوق سے شامل ہوئے۔ بعد از نماز فجر مکرم مستنصر احمد قمر صاحب مبلغ سلسلہ ویلنگٹن نے درس دیا۔

نماز جمعہ: مکرم شفیق الرحمٰن صاحب مبلغ انچارج نے ڈیڑھ بجے نماز جمعہ پڑھائی۔ آپ نے خطبہ جمعہ میں جلسہ سالانہ کےمقاصد، آداب اور نظم و ضبط کے بارے میں حاضرین کو نصائح کیں۔
تقریب پرچم کشائی:دوپہر سوا دو بجے تقریب پرچم کشائی منعقد ہوئی۔ مکرم مبلغ انچارج صاحب نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ نیوزی لینڈ کا قومی پرچم مکرم صدر صاحب نے لہرایا۔ فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی۔ بعدہٗ صدر صاحب نے اجتماعی دعا کرائی۔
افتتاحی اجلاس: اڑھائی بجے افتتاحی اجلاس کی کارروائی بصدارت مکرم مبلغ انچارج صاحب نیوزی لینڈ شروع ہوئی جس میں تلاوت قرآن کریم معہ اردو ترجمہ مکرم زاہد احمد تنویر صاحب نے پیش کی اور منظوم کلام حضرت مسیح موعودؑ ’’تجھے حمدو ثنا زیبا ہے پیارے‘‘ سے منتخب اشعار مکرم محمود احمد صاحب نے خوش الحانی کے ساتھ پڑھے۔ مکرم صدر صاحب نے انگریزی زبان میں افتتاحی تقریر کی۔ تقریر کا اردو ترجمہ ساتھ ساتھ سکرین پر دکھایا گیا۔ آپ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام حاضرین کو پڑھ کر سنایا۔
بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’اللہ تعالیٰ کی صفات: ناصر و نصیر (حقیقی مددگار)‘‘ انگریزی زبان میں از مکرم مستنصر احمد قمر صاحب مبلغ سلسلہ ویلنگٹن، ’’قناعت اور سادگی-اسوۂ رسولﷺ کی روشنی میں‘‘ اردو زبان میں از مکرم مغفور احمد منیب صاحب اور ’’عائلی زندگی اور قرابت داروں کے حقوق کی بابت خلافت کی راہنمائی‘‘ انگریزی زبان میں از مکرم ملک لطف الرحمٰن صاحب۔ یہ اجلاس چائے کے وقفہ کے ليے شام ساڑھے چار بجے ختم ہوا۔
دوسرا اجلاس: یہ اجلاس مکرم مستنصر احمد قمرصاحب کی صدارت میں ساڑھے پانچ بجے شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم مبشر احمد مان صاحب نے پیش کی اور نظم مکرم احتشام احمد صاحب نے خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائی۔ بعدہٗ ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’نظام جماعت کی برکات اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ از مکرم غیور احمد مبلغ سلسلہ ماسٹرٹن، ’’حضرت مسیح موعودؑ-اس زمانہ کا حصن حصین‘‘ از خاکسار (مبلغ سلسلہ) اور ’’خاتم النبیین کا حقیقی مفہوم‘‘ از مکرم یونس حنیف صاحب نائب نیشنل صدر و افسر جلسہ سالانہ۔ پونے سات بجے شام کے کھانے کے ليے یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
اجلاس شبینہ: نماز مغرب اور عشاء جمع کر کے ادا کی گئیں۔ اس کے بعد شعبہ تربیت کی طرف سے دوران سال جن کتب کا مطالعہ اور امتحانات ہوئے تھے، ان میں اول، دوم اور سوم آنے والوں کو انعامات دیے گئے۔
دوسرا روز:جماعتی روایات کے مطابق آج اکثر احباب باجماعت نماز تہجد میں شامل ہوئے جو مکرم مستنصر احمد قمر صاحب نے پڑھائی اور نماز فجر کے بعد درس مکرم آصف منیر صاحب مبلغ سلسلہ وائیکاتو نے دیا۔
دوسرے روز کا پہلا اجلاس: یہ اجلاس مکرم آصف منیر صاحب مبلغ سلسلہ کی صدارت میں صبح دس بجے تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جو مکرم مصور احمد صاحب نے پیش کی۔ اس کے بعد مکرم پرویز احمد گوندل صاحب نے خوش الحانی سے نظم سنائی۔ بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’شہدائے احمدیت کی قربانیاں اور ہمارا عہد‘‘ از ڈاکٹر ندیم احمد صاحب اور ’’اس ڈیجیٹل دور میں اپنی اقدار کا تحفظ‘‘ (انگریزی زبان میں) از مکرم اعجاز بشیر خان صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نیوزی لینڈ۔ یہ اجلاس سوا گیارہ بجے چائے کے وقفہ کے ليے اختتام پذیر ہوا۔
دوسرے روز کا دوسرا اجلاس: یہ اجلاس جلسہ سالانہ کا خاص اجلاس ہوتا ہے جس میں حکومتی نمائندگان اور ملک کی سیاسی و دیگرشخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز ساڑھے گیارہ بجے مکرم صدر صاحب جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کی زیر صدارت ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم حافظ رضوان الٰہی صاحب نے کی۔ اس کا ماؤری اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ مکرم ابو بکر میتھیو ہاؤل صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم آصف منیر صاحب نے اس سال کے جلسہ کے مرکزی موضوع پر تقریر کی۔
اس تقریر کے بعد چند مدعو کی گئی شخصیات کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا۔ سب سے پہلے نیشنل پارٹی کی رکن پارلیمنٹ آنریبل ریما نخلے (Rima -Nakhle) جو ماؤری کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن اور جسٹس کمیٹی کی بھی ممبر ہیں کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ آپ نے کہا کہ مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔ مجھے پاکستان میں آپ کی جماعت کے حالات کے متعلق جان کر بہت دکھ ہوا۔
ان کے بعد ا نگلیکن چرچ کے پادری مسٹر الفرڈ کمار صاحب نے کہا کہ میں آپ کی جماعت کو چند سالوں سے جانتا ہوں اور مجھے علم ہے کہ آپ لوگ امن پسند ہیں اور انسانی خدمت کرنے والی جماعت ہیں۔
آخر میں صدر صاحب نے جماعت احمدیہ کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ جماعت دنیا بھر میں بلا امتیاز انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔ آپ نے جلسہ سالانہ کے مرکزی موضوع کے حوالے سے کہا کہ موجودہ حالات میں نظام خلافت اتحاد، امن اور امید کی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔
دعا کے ساتھ یہ اجلاس ختم ہوا جس کے بعد مہمانان کی کھانے سے تواضع کی گئی۔
اختتامی اجلاس: سہ پہر تین بجے نماز ظہر و عصر کے بعد جلسہ سالانہ کا اختتامی اجلاس تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جو مکرم جمیل احمد بٹ صاحب نے پیش کی۔ بعدہٗ مکرم مرتضیٰ احمد صاحب نےحضرت مسیح موعودؑ کی ایک نظم خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ مکرم ولید احمد قریشی صاحب نے ’’مالی قربانیاں حصول تقویٰ کا ذریعہ‘‘ کے موضوع پر انگریزی اور اردو میں تقریر کی۔ شام ساڑھے چار بجے مکرم مبلغ انچارج صاحب نے ’’دنیامیں بہشتی زندگی‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔
اس کے بعد ناصرات اور اطفال نے ترانے پیش کيے۔ مکرم نور الدین بوتینگ صاحب نیشنل سیکرٹری تعلیم نے تعلیمی اعزازات کا اعلان کیا۔
آخر میں صدر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ خلافت کی راہنمائی ہمیں اتحاد، نظم و ضبط اور روحانی برکت عطا کرتی ہے اور تفرقہ سے محفوظ رکھتی ہے۔ نیز خلافت کے زیر سایہ سادہ زندگی، روحانی ترقی اور ایمان و خدمتِ انسانیت کی اقدار مزید مضبوط ہوتی ہیں۔
آپ نے جماعت کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے وائیکاتو جماعت کے ليے پانچ ایکڑ زمین مع ایک خوبصورت گھر خریدی ہے اور دو نئی بیعتیں ہوئی ہیں جن میں ایک ماؤری قوم سے ہیں۔ نیز آپ نے اس جلسہ کی حاضری ۹۲۴؍ہونے کا اعلان کیا اور اختتامی دعا کروائی جس کے ساتھ یہ جلسہ سالانہ اپنے بابرکت اختتام کو پہنچا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے ایام میں قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم پر مشتمل ایک نمائش بھی لگائی گئی جسے احباب جماعت کے علاوہ مہمانان کرام نے بھی دیکھا اور جماعت کی خدمت قرآن کی تعریف کی۔ اسی طرح اہم مواقع کی تصاویر بھی نمائش کا حصہ تھیں جس سے احباب کو جماعت کے تاریخی واقعات کا علم ہوا۔ جماعت کی میڈیا ٹیم جلسہ کی کارروائی متواتر آن لائن نشر کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ اہم شخصیات کے جلسہ سالانہ سے متعلق انٹرویو بھی نشر کيے گئے۔
اللہ تعالیٰ اس جلسہ کے دُور رس اور شیریں ثمرات عطا فرمائے اور جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کو مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین
(رپورٹ:مبارک احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جلسہ سالانہ نیوزی لینڈ ۲۰۲۶ء
کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
پیارے احباب جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا ۳۷واں جلسہ سالانہ ۲۳و۲۴؍جنوری ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسے کو بے پناہ کامیابی سے نوازے اور تمام شرکاء کو بے انتہا برکات نصیب ہوں۔
میں نے اپنے حالیہ خطاب برموقع جلسہ سالانہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان الفاظ کی طرف یاد دہانی کروائی تھی۔ آپؑ نے فرمایا: ’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاءِ کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیارکی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
اسی طرح میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم پہلے سے اس عظیم پیشگوئی کی تکمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے میں جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور جیسا کہ پیشگوئی کی گئی تھی، مزید قومیں ان میں شامل ہو رہی ہیں۔ پس آپ کا یہ جلسہ جو نیوزی لینڈ میں منعقد ہو رہا ہے اس بات کی ایک واضح اور روشن دلیل ہے کہ ہمارے جلسوں کو اللہ تعالیٰ کی خاص تائید حاصل ہے۔
مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی برکات سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیے گئے اپنے عہد بیعت پر ثابت قدم رہیں۔ جو لوگ اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح پر توجہ نہیں دیتے وہ اس کی برکات سے مستفید نہیں ہوسکتے۔
جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر وضاحت کی تھی کہ بیعت کی حقیقی روح کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کی بے حیائی، فحاشی، بےانصافی، بے ایمانی، بدنظمی اور سرکشی سے اجتناب ضروری ہے۔ احمدیوں کو اپنے نفسانی خواہشات کے غلبے میں نہیں آنا چاہیے بلکہ خود پر قابو رکھنا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں جب ہم ایسے منفی اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیںگے ہم اپنی بیعت سے وابستہ ذمہ داریاں حقیقی معنوں میں ادا کر سکتے ہیں۔
میں نے مزید کہا تھا کہ آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میرے ساتھ عہد بیعت باندھا ہے تو پانچ وقت کی نمازیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ادا کرنی ہیں اور تہجد پڑھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو اور استغفار میں باقاعدگی اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو دل سے یاد کرو اور اس کی حمد کو اپنا ہر روزہ ورد بنا لو۔
یاد رکھیں کہ محض الفاظ بغیر عمل کے کسی فائدے کے نہیں۔ اگر آپ اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ اپنی بیعت کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تقویٰ کی صفت اپنانی ہوگی جو کہ راستبازی ہے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف پیدا کرنا ہوگا۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے مضبوط قلعے میں داخل ہو جائیں گے، یہ ایسا مضبوط قلعہ ہے کہ کوئی نقصان آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔
پس میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کریں اور بہترین احمدی مسلمان بننے کی کوشش کریں، اپنی دعاؤں میں اضافہ کریں اور اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہمیشہ قائم رکھیں۔
آج کی دنیا میں نئے ذرائع اور ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کر رہی ہے جو لوگوں کو اخلاقیات سے دور اور فحاشی و بے حیائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مثال کے طور پر انٹرنیٹ، ٹیلیویژن اور میڈیا سب کے سب بدی کے دروازے اور چھوٹے بڑے سب کو بگاڑنے کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایسی بے اخلاقی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر احمدی باقاعدگی سے استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر ہر قسم کی برائی سے اس کی مدد، رحمت اور پناہ مانگے۔
میں آپ کو خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کی عظیم اہمیت کی یاد دہانی کرواتا ہوں جو بے شمار برکات کا سرچشمہ ہے۔ آپ کو خلیفۃ المسیح کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرتے رہنا چاہیے اور ہمیشہ وفادار رہنا چاہیے۔ میں ہر احمدی کو نصیحت کرتا ہوں کہ کثرت سے ایم ٹی اے دیکھیں اور اپنی دینی سمجھ اور علم میں اضافہ کریں۔ خاص طور پر باقاعدگی سے میرے خطبات جمعہ اور دیگر تقاریب اور مواقع پر دیے گئے میرے خطابات سنیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں اسلام احمدیت کا پُرامن اور محبت بھرا پیغام دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ لہٰذا یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ لوگ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں، ہر احمدی کا فرض ہے کہ جس ملک میں وہ رہتا ہے وہاں کے باشندوں تک یہ پیغام پہنچائے۔ پس آپ کو اپنے اس عزم میں کبھی کمزور نہیں پڑنا چاہیے کہ نیوزی لینڈ کی تمام آبادی تک اسلام کا سچا اور پاکیزہ پیغام پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جلسے کی کارروائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ایمان کو مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگیوں میں مزید تقویٰ، نیک رویے، اچھے اعمال اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی جانب ایک حقیقی تبدیلی پیدا فرمائے۔اللہ تعالیٰ آپ سب پر رحم کرے۔
مزید پڑھیں: لائبیریا میں مسجد بیت السلام اور مسجد بیت الباسط کے بابرکت افتتاح




