بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایت

علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھو

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’پرانے زمانہ میں لوگوں کو یہ عادت تھی کہ وہ بعض ہنر مخفی رکھتے تھے۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہنر اُن کے ساتھ ہی چلے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے زخموں کو اچھا کرنے کا ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نسخہ معلوم تھا دُور دُور سے لوگ اس کے پاس علاج کے لئے آتے۔ اور فائدہ اٹھاتے۔ مگر وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنے بیٹے کو بھی مرہم کا نسخہ نہ بتا تا اور کہتا کہ یہ اتنا بڑا ہنر ہے کہ اس کے جاننے والے دو آدمی ایک وقت میں نہیں ہو سکتے۔ بیٹے نے بہتیری منتیں کیں اور کہا کہ مجھے یہ نسخہ آپ بتا دیں مگر وہ یہی جواب دیتا کہ مرتے وقت تمہیں بتائوں گا۔ اِس سے پہلے نہیں بتا سکتا۔ بیٹا کہتا کہ موت کا کوئی پتہ نہیں وہ کس وقت آجائے۔ آپ مجھے ابھی یہ نسخہ بتادیں مگر باپ آمادہ نہ ہوا۔ آخر ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور سخت نازک حالت ہوگئی۔ بیٹا کہنے لگا باپ مجھے اب تو نسخہ بتا دیں مگر وہ جواب دیتا کہ میں مرتا نہیں اچھا ہو جائوں گا۔ پھر اور حالت خراب ہوئی۔ تو بیٹے نے پھر منتیں کیں مگر اُس نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا تُو سمجھتا ہے میں مرنے لگا ہوں میں تو ابھی نہیں مرتا۔ غرض اسی طرح وہ جواب دیتا رہا یہاں تک کہ مر گیا اور اُس کا بیٹا جاہل کا جاہل ہی رہا ۔یہ چیز ایسی ہے جسے اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔ اسلام کہتا ہے کہ تم علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھو بلکہ اُسے وسیع کرو اور دوسرے لوگوں میں بھی پھیلائو۔ ‘‘

(تفسیر کبیرجلد 8 صفحہ 544 جدید ایڈیشن)

٭…٭…٭

سوال جواب از ملاقات

طبیعت میں تبدیلی

٭… جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ جب آپ خلیفہ بنے تھے اور اُس وقت سے لے کر اب تک آپ کی طبیعت میں کوئی ایسی تبدیلی آئی ہو جس کو آپ نے خود بھی نوٹِس کیا ہو ؟

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ جو دوسرے دیکھنے والے ہیں ان کو پتہ ہونا چاہئے۔ تبدیلی تو دس منٹ کے بعد ہی آ جاتی ہے۔ کیونکہ

اللہ کا خوف زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

پہلے دس پندرہ منٹ پتہ ہی نہیں لگتا کہ ہو کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پھر خیال آ جاتا ہے کہ

اللہ تعالیٰ آپ ہی سنبھال لے گا اور پھر سنبھال لیتا ہے۔ باقی میں تو جیسا پہلے تھا ویسا اب ہوں۔

٭…٭…٭

حضور کے خطاب کا غیروں پر اثر

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ حضور کے غیراز جماعت احباب کے ساتھ جو خطاب ہوتے ہیں ان کے بعد ان کا کیا تاثر ہوتا ہے؟

اس پر حضور انورنے فرمایا: جو میرے پاس ملنے آئے وہ یہی کہہ رہے تھے کہ آپ نے بڑے اچھے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ایک سردار جی کہہ رہے تھے کہ آپ بڑی طاقتوں کو اور بڑی حکومتوں کو یو این او (UNO) وغیرہ کو بھی سب کچھ کہہ دیتے ہیں تو وہ بہت جذباتی ہو کر اس بارے میں میرے سامنے رو پڑے۔ تو بعض لوگوں پر اس طرح بھی اثر ہوتا ہے۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ میں کہوں اور سب لوگ میری بات مان لیں۔ بعض صرف ادب کی وجہ سے اچھے اخلاق دکھانے کے لئے سب کچھ اچھا کہہ دیتے ہیں لیکن بعض لوگوں کے چہروں سے ظاہر ہو رہا ہوتا ہے کہ ان پر اثر ہو رہا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سو فیصد جو تعریف کر رہا ہوتا ہے وہ واقعی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔

اصل تعریف تو تب ہے جب اُس پر عمل ہو۔ جب عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی فائدہ نہیں۔ میں ہر ہفتہ اتنی باتیں کرتا ہوں، کچھ نہ کچھ نصیحت تو ہر ایک کے لئے ہوتی ہے۔ تم مجھے بتاؤ تمہارے پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن ایک گھنٹہ مجلس میں بیٹھ کر بہت اثر ہو جائے۔

٭…٭…٭

نماز میں سوز اور تڑپ پیدا کرنا

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ اپنی نمازوں میں سوز اور تڑپ کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ لمبا عرصہ پریکٹس کروگے تو سوز پیدا ہوگا۔ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ رونے والی شکل بناؤ تو ایک وقت رونا آ جائے گا۔

کوئی ایسی چیز جس سے تمہیں درد محسوس ہو۔ جس کے بارہ میں تم دعا کرنا چاہتے ہو، اس کے بارہ میں دعا کرو، دل سے جب دعانکلتی ہے تو اوروں کے لئے بھی سوز آ جاتا ہے۔

ایک پرانے مربی تھے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں عمرہ یا حج پر گیا اور وہاں مسجد نبوی میں بیٹھا تھا۔ تو سجدہ کیا لیکن رقت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ سوز پیدا ہو۔ تو اتنے میں ایک ریلا آیا اور میری کمر پر اتنی زور سے لات ماری کہ میری چیخ نکل گئی۔ تو اس چیخ کے بعد میری ایسی ہائے نکلی کہ جب میں سجدہ میں گیا تو سوز پیدا ہو گیا۔ اور مزہ آ گیا۔ اس سے پہلے کہ کسی کی ٹانگ تمہیں پڑے تم خود ہی سوز پیدا کرو۔

٭…٭…٭

نماز میں توجہ پیدا کرنا

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ نماز کے دوران ذہن کبھی کبھی اِدھر اُدھر چلا جاتا ہے۔ اِس کا کیا حل ہے؟

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ وقفِ نو کی کلاس میں بھی کسی نے کہا تھا کہ کبھی کبھی خیالات نماز میں ہٹ جاتے ہیں۔ اگرکبھی کبھی ایسا ہوتا ہے تو تم بڑے نیک آدمی ہو۔ لوگوں کے تو اکثر چلے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما یا ہے کہ قیام نماز کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ جب ذہن اِدھر اُدھر جائے تو اس کو واپس لاؤ، وہیں جہاں سے چھوڑا تھا۔ رکن نماز کا اگر ہو گیا سجدہ میں تھے پھر کھڑے ہو گئے اگر اسی رکن میں تھے تو شیطان سے پناہ مانگو اور پھر دوبارہ اسی جگہ کو دوہراؤ۔ اگر دوسری حالت میں آ گئے ہو

دوبارہ توجہ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔

ایسا کروگے تو آہستہ آہستہ عادت ہو جائیگی۔

لیکن اس کی طرح نہ کرو کہ پوری نماز ہی سفر میں گزر جائے۔ جس شخص کا سفر دہلی سے شروع ہوا اور کلکتہ سے ہوتے ہوئے بخارا پہنچا اور لاکھوں کا کاروبار کرکے مکہ آ گیا۔ اتنانہیں ہونا چاہئے۔ خیال جلدی بدل جانا چاہئے۔

(الفضل انٹرنیشنل 06؍جنوری 2017ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button