از مرکزیورپ (رپورٹس)

تازہ ترین: مسجد فضل لندن کے سو سال۔ صد سالہ جشن کی پروقار تقریب

(لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل برطانیہ)

ایک صدی پر محیط اسلام، خلافت، امن اور محبت کے پیغام کا سفر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی ویڈیو پیغام

لندن کی پہلی مسجد، مسجد فضل، کے افتتاح کو ۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ایک سو سال مکمل ہوگئے۔ اس تاریخی موقع پر مسجد فضل میں صد سالہ جشن کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں برطانیہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے احباب جماعت کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ، مقامی سیاسی و انتظامی شخصیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معززین اور دیگر مہمانان نے شرکت کی۔

مسجد فضل محض ایک عمارت یا عبادت گاہ نہیں بلکہ برطانیہ میں اسلام اور احمدیت کی ایک صدی پر محیط تاریخ کی ایک روشن علامت ہے۔ گزشتہ سو سال کے دوران اس مسجد نے اسلام کی حقیقی تعلیمات، خلافت سے وابستگی، امن و محبت، رواداری اور خدمتِ انسانیت کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

صد سالہ جشن کے لیے خصوصی انتظامات

صد سالہ جشن کے سلسلہ میں دن کے وقت بھی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کا اہتمام کیا گیا۔ دوپہر ۲ بجے سے ۴ بجے تک خصوصی اسٹریٹ فوڈ پارٹی منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں احباب جماعت اور خاندانوں نے شرکت کی۔ مختلف کھانے اور ریفریشمنٹ کے انتظام کے ساتھ شرکائے تقریب کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا۔ بچوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ کینڈی فلاس، باونسی کاسل اور مہندی لگانے کا اہتمام کیا گیا جس سے بچوں نے بھرپور لطف اٹھایا۔ مہمانوں اور شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہنے کے لیے منتظمین موجود تھے اور ہر آنے والے کی سہولت کا خصوصی خیال رکھا گیا۔

اس موقع پر مسجد فضل کے احاطہ، مسجد کی عمارت اور دیگر جماعتی عمارات کو خوبصورت چراغاں سے سجایا گیا تھا، جس سے پورا ماحول نہایت دلکش اور پُروقار نظر آ رہا تھا۔ جماعت احمدیہ اور مسجد فضل لندن کی ایک صدی پر محیط تاریخ، خدمات اور اہم واقعات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی تاریخی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں مسجد فضل کے قیام سے لے کر آج تک کے اہم ادوار اور جماعتی خدمات کو نمایاں کیا گیا۔ اس نمائش نے آنے والے مہمانوں اور احباب کو مسجد فضل کے تاریخی کردار اور جماعت احمدیہ کی ایک صدی پر محیط خدمات سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مقامی کونسل کی خصوصی اجازت سے تقریب کے دوران مسجد فضل کے سامنے والی سڑک کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا جس سے شرکائے تقریب کو باہمی میل ملاقات اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ایک پُرسکون اور محفوظ ماحول میسر آیا۔

مرکزی تقریب

مرکزی تقریب میں شرکت دعوت نامہ کے ذریعہ تھی۔ سیکرٹری امورِ خارجہ جماعت احمدیہ یوکے مکرم فرید احمد صاحب نے بتایا کہ اس موقع پر مجموعی طور پر ۶۵۰؍ دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔ شرکائے تقریب میں برطانیہ کے علاوہ بعض دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ اور معزز مہمان بھی شامل تھے۔ مرکزی تقریب کی کمپیئرنگ کی ذمہ داری مکرم فرید احمد صاحب نے ادا کی۔ تقریباً شام ساڑھے سات بجے محترم امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیرِ صدارت پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم کی سعادت مکرم عثمان بٹ صاحب مربی سلسلہ نے حاصل کی جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ مکرم بلال ایٹکنسن صاحب نے پیش کیا۔

مسجد فضل — ایک صدی سے حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کی ترجمان

محترم امیر صاحب نے اپنے خطاب میں مسجد فضل کی صد سالہ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج سے سو سال قبل اسی دن اس مسجد کا افتتاح ہوا تھا۔ یہ مسجد آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو دنیا بھر میں پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ یہاں سے پیار، محبت، نیکی اور امن کا پیغام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مسجد فضل کی تعمیر کے لیے احمدی احباب کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر میں کئی احمدی احباب نے اپنے وقت اور مال کی قربانیاں پیش کیں۔ چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ اور نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا بھی اس مسجد سے گہرا تعلق رہا۔ دونوں عظیم شخصیات مسجد فضل سے مسلسل رابطے میں رہے اور مقامی کمیونٹی کی راہنمائی اور مدد میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ۱۹۸۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پاکستان سے ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بعد مسجد فضل کو ایک منفرد تاریخی حیثیت حاصل ہوئی اور یہ ایک عرصہ تک قصرِ خلافت بن گئی۔ اسی مسجد سے ایم ٹی اے کا آغاز ہوا اور خلافتِ احمدیہ کا پیغام دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے لگا۔ اسی مسجد میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے انتخاب کا تاریخی مرحلہ بھی پیش آیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سولہ سال اسی مسجد فضل سے وابستہ رہتے ہوئے گزارے اور اس دوران اسلام اور احمدیت کا پیغام دنیا بھر میں مزید وسیع پیمانے پر پہنچا۔ محترم امیر صاحب نے کہا کہ مسجد فضل اپنے آغاز سے آج تک ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا پیغام دے رہی ہے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت تک اپنے عظیم مقاصد کی تکمیل کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

تقریب کے دوران وزیراعظم برطانیہ اور عزت مآب بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے مسجد فضل کی صد سالہ تکمیل کے موقع پر بھجوائے گئے تہنیتی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ بعد ازاں مسجد فضل کی تاریخ، اس کے قیام اور گزشتہ ایک صدی کے دوران اس سے وابستہ اہم تاریخی واقعات پر مشتمل ایک خصوصی ویڈیو حاضرین کو دکھائی گئی۔

معزز مہمانوں کے خطابات

تقریب سے مختلف معزز شخصیات نے خطاب کیا جن میں ڈپٹی لیفٹیننٹ آف گریٹر لندن مکرمہ کولین ہیرس صاحبہ، کونسلر میئر وانڈز ورتھ ایملن اوینز صاحبہ، ہائی شیرف لندن مکرم دھرو پٹیل صاحب، ممبر آف پارلیمنٹ سٹن اینڈ چیم مکرم لوک ٹیلر صاحب اور ممبر آف پارلیمنٹ مچم اینڈ مورڈن مکرمہ ڈیم شیوبہن میکڈونخ صاحبہ شامل تھیں۔ تمام مقررین نے مسجد فضل کے سو سال مکمل ہونے پر جماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کی اور مسجد فضل کے ذریعہ مقامی کمیونٹی، پڑوسیوں اور وسیع تر معاشرے کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر مکرم دھرو پٹیل صاحب، ہائی شیرف لندن، نے محترم امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کو مسجد فضل کے ذریعہ مقامی کمیونٹی اور پڑوسیوں کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کے اعتراف میں ایک خصوصی High Recognition Award بھی پیش کیا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام

تقریب کا سب سے اہم اور روح پرور حصہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی ریکارڈ شدہ پیغام تھا جو ویڈیو کے ذریعہ حاضرین کو دکھایا گیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسجد وہ مقام ہے جہاں نہ صرف عبادت کی جاتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ ایک حقیقی مسجد کبھی منافرت کا پیغام نہیں دے سکتی بلکہ ہمیشہ مختلف کمیونٹیز کے درمیان، بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب، پیار، محبت اور امن کو فروغ دیتی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے مذہب کو تبدیل کروانے کی کوشش کرے۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس عقیدے پر چاہے ایمان رکھے۔ بحیثیت مسلمان اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہر مذہب اور ہر نبی کا احترام کیا جائے۔حضور انور نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مسجد فضل کی بنیاد رکھتے ہوئے بیان کیے گئے اس اصول کا بھی ذکر فرمایا کہ یہاں ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرسکتا ہے، بشرطیکہ وہ یہاں کی روایات کو برقرار رکھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کو بھول گئی ہے اور آج دنیا تیسری جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ آپ ہمیشہ دنیا کے لیڈروں کو امن قائم کرنے کا پیغام دیتے رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ ہر سال جلسہ سالانہ منعقد کرتی ہے جس میں ہزاروں احمدی اور غیر احمدی افراد شریک ہوتے ہیں اور جہاں امن و محبت کا پیغام دیا جاتا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ آج ہمیں صرف اپنی خواہشات کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ کسی مذہب کے نبی نے نفرت اور لڑائی کا پیغام نہیں دیا بلکہ ہر مذہب کی اصل اور بنیادی تعلیم محبت اور امن ہی ہے۔

حضور انور نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مسجد فضل کو ہمیشہ امن و محبت کا پیغام پھیلانے اور انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آخر پر حضور انور نے اس تاریخی تقریب میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ بھی ادا فرمایا۔

دعا اور عشائیہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کے بعد محترم امیر صاحب نے دعا کروائی۔ بعد ازاں مہمانان اور تمام شرکائے تقریب کے لیے ایک پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ عشائیے کے دوران مہمانوں اور شرکائے تقریب کے درمیان باہمی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر مسجد فضل کی صد سالہ تاریخ اور اس کے ذریعہ گزشتہ ایک صدی کے دوران ہونے والی خدمات کا بھی ذکر ہوتا رہا۔

ایک صدی کا روشن سفر

مسجد فضل لندن کا صد سالہ سفر دراصل برطانیہ میں اسلام اور احمدیت کے ایک سو سالہ سفر کا ایک اہم باب ہے۔ اس مسجد نے مختلف ادوار میں تبلیغ، تربیت، خلافت سے وابستگی، خدمتِ انسانیت اور قیامِ امن کے پیغام کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔یہ وہ تاریخی مرکز ہے جس نے برطانیہ میں اسلام کے حقیقی پیغام کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ خلافتِ احمدیہ کی آواز کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتے دیکھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے بعد یہ مسجد ایک عرصہ قصرِ خلافت رہی، ایم ٹی اے کے ابتدائی سفر کا مرکز بنی اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے انتخاب کی بھی شاہد بنی۔آج مسجد فضل اپنی تاریخ کے دوسرے سو سال میں داخل ہوچکی ہے۔ صد سالہ جشن کا یہ موقع محض ایک تاریخی سنگِ میل کی یاد نہیں بلکہ گزشتہ ایک صدی کی قربانیوں، خدمات اور کامیابیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور آئندہ کے لیے نئے عزم کی تجدید کا موقع بھی تھا۔اللہ تعالیٰ مسجد فضل کو آئندہ صدی میں بھی خلافتِ احمدیہ کی رہنمائی میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ، امن و محبت کے قیام، انسانیت کی خدمت اور دنیا کو اپنے خالق سے جوڑنے کا ذریعہ بنائے، اور اسے قیامت تک اپنے عظیم مقاصد کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مسجد فضل لندن کے صد سالہ جشن پر مبارکباد

ادارہ الفضل انٹرنیشنل کی جانب سے جماعت احمدیہ عالمگیر کے تمام احباب کو مسجد فضل لندن کے افتتاح کے سو سال مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ مسجد فضل گزشتہ ایک صدی سے اسلام کی حقیقی تعلیمات، خلافتِ احمدیہ، امن و محبت اور خدمتِ انسانیت کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کا ایک عظیم مرکز رہی ہے۔ اس تاریخی مسجد نے خلافتِ احمدیہ کے کئی اہم ادوار دیکھے اور اسلام کے عالمی پیغام کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ مسجد فضل کو آئندہ صدی میں بھی اسلام، خلافت، امن اور انسانیت کی خدمت کا روشن مرکز بنائے اور جماعت احمدیہ عالمگیر کو اس تاریخی ورثے کی برکتوں سے ہمیشہ فیضیاب فرمائے۔ مسجد فضل لندن کے صد سالہ جشن پر تمام احباب جماعت کو دلی مبارکباد۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button