حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ناصرات الاحمدیہ بیلجیم کی نیشنل مجلس عاملہ و ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفدکی ملاقات

ہماری دعائیں تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کو عقل دے اور سمجھ دے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والے ہوں، اس کی عبادت کرنے والے ہوں اور اسلام دنیا میں پھیلے۔ یہ ہماری تعلیم ہے، یہ اگر ہمارے ذہنوں میں ہوگا تو جب تم وہاں (خانہ کعبہ)جاؤ گی تو تمہارے ذہن میں پہلی جو دعا کا اظہار ہو گا، وہ یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو غلبہ عطا فرمائے

مورخہ۱۱؍ مئی ۲۰۲۵ء بروز اتوار امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ناصرات الاحمدیہ بیلجیم کی نیشنل مجلسِ عاملہ و ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں قائم ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےبیلجیم سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔بعد ازاں دورانِ ملاقات تمام شاملینِ مجلس کو حضور انورسے مختلف نوعیت کے متفرق سوالات کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

ایک لجنہ ممبرنے حضورِانور سے راہنمائی طلب کی کہ ہم جماعتی لٹریچر کو نئی نسل کےلیے کیسے دلچسپ بنا سکتے ہیں؟

حضورِانور نے فرمایاکہ جو contemporary issues کے اوپر سوالات ہیں یا ایسے سوال جو زیادہ پوچھے جاتے ہیں، اسے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے یا ایسے مذہبی سوالات جن کی ضرورت ہو، ایسے سوالات جن کا لجنہ اور عورتوں یا ناصرات اور لڑکیوں سے تعلق ہے یا ایسے سوالات جن کا خدا تعالیٰ کے وجود سے تعلق ہے یا ایسے سوالات جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے تعلق ہے، صحابیاتؓ کی سیرت سے تعلق ہے یا ایسے سوالات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے متعلق ہیں اور جو سوالات مختلف خلفاء نے مختلف وقتوں میں بیان کیےہوئے ہیں یا مَیں بیان کرتا رہتا ہوں، ان کو compileکر لو، ایک bookletسی بنا لیں یا کتاب بنا لیں یا ڈائری بنا لیں، اس کا ترجمہ کریں اور اس کو اپنے طور پر ایک چھوٹی سی ٹیکسٹ بُک کے طور پر پرنٹ بھی کرا لیں۔ فرنچ اور فلیمش (Flemish)میں اس کا ترجمہ کر کے دے دیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ فلیمش (Flemish) بیلجیم کی تین سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے، جن میں فرانسیسی (French) اور جرمن (Deutsch) بھی شامل ہیں۔ فلیمش، بیلجیم کے شمالی حصّے فلیندرز (Flanders) میں بولی جاتی ہے۔ اگرچہ فلیمش دراصل ڈچ زبان ہی کی ایک قسم ہے، تاہم اس میں لہجے، الفاظ کے استعمال اور تلفظ کے اعتبار سے کچھ نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔]

اسی طرح حضورِانور نے اہم اور ضروری موضوعات نیز مقامی مسائل کی ترجیحی بنیاد کے حوالے سے توجہ دلائی کہ ضروری نہیں ہے کہ ساری کتابوں کو دیا جائے۔ وہ مسائل جو وہاں کے ہیں، ہر ایک کو تو ان مسائل کی ضرورت نہیں، فی الحال دیکھیں کہ بنیادی طور پر کیا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی موجودگی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی، ختم نبوت، اسلامی مسائل، عورتوں کے مسائل، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عورتوں کے متعلق کیا rights دیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاrights دیے۔ یہاں آجکل کا یہی issue زیادہ ہوتا ہے کہ Women’s rights کیا ہیں۔ لڑکیوں کو پتا لگے، لجنہ کو خاص طور پر جوتیرہ چودہ سال کی ہو جاتی ہیں کہ یہ یہrights ہیں اور اس پرمَیں بہت ساری تقریریں بھی قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے سےکر چکا ہوںانہی کو ترجمہ کر کے اگر دے دو تو contemporary issues انہی میں سے بیان ہو جاتے ہیں۔

آخر میں حضورِانور نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کے حوالے سے خصوصی توجہ دلائی کہ باقی خلفاء کی تو اور بات ہے، حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بہت ساری باتیں بیان کی ہوئی ہیں، ان کو مَیں کئی دفعہ تقریروں میںquoteکر چکا ہوں یا ان کی کتابوں میں سے خود دیکھ لو۔ تو یہ نکال کے ایک چھوٹی سی bookletبنا لو تو اس کوان کو دے دو، اسی سے ان کے سوال حل ہو جائیں گے۔

ایک ناصرہ نے حضورِانور سے عرض کیا کہ مختلف ملاقاتوں کے دوران آپ سے جو سوالات پوچھے جاتے ہیں، آپ ان تمام سوالات کے جواب کس طرح دے پاتے ہیں؟

حضورِانور نے انتہائی عاجزی کے ساتھ اس پر جواب دیا کہ مجھے ہر سوال کا جواب تو نہیں آتا، جتنا آتا ہے، وہ مَیں دے دیتا ہوں اور جو نہیں آتا، وہ کہہ دیتا ہوں کہ تم لکھ کے دے دو، مَیں دیکھ کے اورپڑھ کے پھر اس کا جواب تمہیں دے دوں گا۔

ایک سوال حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ جب خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑے تو جو دعا کریں، وہ قبول ہوتی ہے، پیارے حضور ! ہمیں کون سی دعا مانگنی چا ہیے؟

حضورِانور نے اس کے جواب میں سمجھایا کہ یہ تو تمہارے دل کی بات ہے، جو تمہارے دل میں دعا آتی ہے، وہ فوری طور پر کرو۔ مثلاً حضرت خلیفہ اوّل ؓنے لکھا ہے کہ مَیں نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ مَیں جو بھی دعائیں کروں، وہ قبول کر لے، یہ بہت بڑی comprehensive دعا ہے۔

حضورِانور نے دعا کی فلاسفی کے مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ دعا تو وہ چیز ہے جو دل سے نکلے۔رٹی رٹائی باتیں کرنے سے تو دعا نہیں ہوتی۔دعا تو وہ ہوتی ہے جس میں تمہیں دل کے جذبات کا خیال ہو۔ دعا دل سے نکلے گی، تمہارے جذبات کا اظہار ہو گا، تمہارا ذہن اس طرف توجہ کرے گا، تمہاری آنکھوں میں آنسو آئیں گے، تمہارے جذبات کا اظہار ہو گا، تو پھر وہ دعا اللہ تعالیٰ سنتا ہے۔ اس لیے وہ دعا کرو جو دل سے نکلے۔ تو ہر ایک اپنے اپنے انداز میں دعا کرتا ہے۔ ہماری دعائیں تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کو عقل دے اور سمجھ دے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والے ہوں، اس کی عبادت کرنے والے ہوں اور اسلام دنیا میں پھیلے۔ یہ ہماری تعلیم ہے، یہ اگر ہمارے ذہنوں میں ہوگا تو جب تم وہاں جاؤ گی تو تمہارے ذہن میں پہلی جو دعا کا اظہار ہو گا، وہ یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو غلبہ عطا فرمائے۔ باقی دل کی دعائیں ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل ؓنے دعا کی اور حضرت خلیفہ اوّل ؓکی دعائیں کیا تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت قائم ہو اور دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو۔ اس لیے انہوں نے بھی ایک ہی دعا کر لی کہ اللہ تعالیٰ میری دعائیں قبول کر لے۔

ایک ناصرہ نے حضورِانور سے دریافت کیا کہ غیر احمدی مسلمان اُن آیات کا ترجمہ جماعتِ احمدیہ سے مختلف انداز میں کیوں کرتے ہیں کہ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے؟

حضورِانور نے اس پر راہنمائی فرمائی کہ بہت سارے جو پرانے بزرگ علماء اسلام کے اندر ہی گزرے ہیں، انہوں نے یہی ترجمہ کیا ہوا ہے جو ہم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے مَیں نے اپنی طرف اُٹھا لیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا درجہ بلند کیا۔

حضورِانور نے قرآن کریم اور پرانے علماء کی تفسیر کی روشنی میں اس اہم مسئلے کی مزید وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ قرآنِ کریم میں بیان فرمایا ہے کہ کوئی انسان زندہ آسمان پر نہیں جا سکتا۔ایک طرف تم مانتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے اور سب سے پیارے نبی ہیں۔ ان کو تو اللہ تعالیٰ نے زندہ نہیں اُٹھایا لیکن عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھا لیا اور پھر دو ہزار سال سے وہاں رکھا ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ساری باتیں سمجھنے والی ہیں۔ پرانے علماء نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے تھے انہوں نے اس کو سمجھا۔انہوں نے بھی وہی ترجمہ کیا جو ہم کرتے ہیں۔ یہ ترجمہ صرف ہم نہیں کرتے، ہماری کتابوں اور لٹریچر میں پرانے لوگوں کے ریفرنس ہیں۔دیکھو کہ انہوں نے بھی وہی ترجمہ کیا ہے، جو ہم کر رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو زندہ آسمان پر نہیں لے کر جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اسی زمین پر تم رہو گے، اسی زمین پر تم مَرو گے اور یہیں انسان مرتے ہیں اور دفن ہوتے ہیں۔کوئی زندہ آسمان پر نہیں جاتا۔اس لیے عیسیٰ علیہ السلام کوئی خاص چیز نہیں تھے۔

حضورِانور نے آخر پر توجہ دلائی کہ ان سے بحث کرو کہ دو ہزار سال گزر گئے، اب عیسیٰ ؑنے آنا تھا، آتا کیوں نہیں ہے؟ اس لیے وہ ترجمہ جوپُرانے لوگوں کا ہے اگر وہ تفسیر تم پڑھو تو اس میں بھی یہی لکھا ہوا ہے جو ہم کہتے ہیں۔ ایک آدھ بات میں اختلاف ہے۔اسے کہو دلیل کیا ہے؟حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ تیس آیتیں ہیںجن سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور وہ تیس آیتیں یہ ثابت کرتی ہیں۔ان کو تم کس طرح justifyکرو گے؟

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے وفاتِ مسیح ؑیعنی حضرت مسیح ابنِ مریمؑ کی وفات کے ثبوت کے طور پر ان مذکورہ تیس آیات کا اپنی تصنیفِ لطیف ازالہ اوہام حصّہ دوم روحانی خزائن جلدسوم صفحہ ۴۲۳تا ۴۳۸ میں تذکرہ فرمایا ہوا ہے۔احباب اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔]

ایک ناصرہ نے حضورِانور سے راہنمائی طلب کی کہ کیاقیامت کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ دنیا بنائے گا یا ہمیشہ لوگ جنّت اور دوزخ میں رہیں گے؟

حضورِانور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ پتا نہیں۔ان لوگوں کو تو نہیں بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس روحوں کی کوئی کمی تو نہیں ہے کہ انہی کو بھیجے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب بلیک ہول(Black Hole)میں ایک دفعہ چلا جائے گا، جب قیامت آئے گی، پھر جس طرح پہلے بِگ بینگ (Big Bang) ہوا تھا اور دنیا قائم ہوئی تھی پھر سے ایک اَور دفعہ ہو گا اور دنیا دوبارہ بنے گی۔ وہ کس طرح بنے گی، وہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اس کا ہمیں نہیں پتا۔قرآنِ شریف یہی کہتا ہے کہ مَیں دنیا کو لپیٹوں گا اور اس کو ہم سائنس کی زبان میں بلیک ہول کہتے ہیں، اس میں وہ چلا جائے گا۔پھر دوبارہ کہتا ہے کہ مَیں دنیا کو قائم کروں گا جس کو ہم سائنس کی زبان میں بِگ بینگ کہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ بنائے گا اور وہ کون لوگ ہوں گے وہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ہم تو وہیں ختم ہو جائیں گے۔ہم تو جو اس دنیا کے لوگ ہیں وہ ختم ہو گئے۔دوبارہ دنیا میں موجیں کرنے کے لیے نہیں آنا۔

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ بلیک ہول(Black Hole): ایک فلکیاتی مظہر ہے، جو خلا میں اُس مقام کو ظاہر کرتا ہے، جہاں کششِ ثقل اس قدر شدید ہوتی ہے کہ کوئی شے، حتیٰ کہ روشنی بھی، اس سے فرار حاصل نہیں کرسکتی۔ بلیک ہول اپنے اطراف کی تمام شعاعوں اور مادے کو اس شدت سے جذب کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بِگ بینگ (Big Bang) کائنات کی تخلیق کا وہ سائنسی نظریہ ہے کہ جس کے مطابق یہ تقریباً ۱۳.۸؍ارب سال پہلے ایک نہایت گرم اور کثیف نقطے سے ایک زبردست دھماکے کے ذریعے وجود میں آئی اور اُس وقت سے مسلسل وسعت پذیر ہے یعنی پھیل رہی ہے۔]

سوالات کے آخر پر ناصرات کو حضورِانور کے دستِ مبارک سے از راہِ شفقت بطورِ تبرک قلم حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

بعد ازاں صدر صاحبہ لجنہ نے عرض کیاکہ بیلجیم میں حکومت مساجد اور ان میں ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہے، نیز اس تشویش کا اظہار کیا کہ ممکن ہے کہ انہیں مسجد میں منعقد ہونے والے پروگراموں کی تعداد کم کرنی پڑے۔

حضورِانور نے اس پر تاکید فرمائی کہ ڈرنے کی ضرورت کوئی نہیں ہے۔ ان کی نظر مدرسوں پر ہے، بعض نے مسجدوں میں مدرسے قائم کیے ہوئے ہیں۔ہمارا تو مدرسہ ہے کوئی نہیں۔ آپ تو ہفتے میں،weekendپر ایک گھنٹے کے لیے یا دو دن دو گھنٹے کےلیے کلاس لیتی ہیں،اس میں کوئی روک نہیں ہے، بےشک وہ پروگرام کریں۔

اس پر صدر صاحبہ نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں مزید عرض کیا کہ ہم عائشہ دینیات کلاس میں پاکٹ بُک استعمال کر رہے تھے، تو وہ بھی منع کر دیا تھا، تو ہم نے وہ نکال دی۔ تو پھر رکھ لیں؟

حضورِانور نے اس پرارشاد فرمایا کہ کوئی ہرج نہیں۔ آپ نے کوئی دہشت گردی کی تعلیم تو نہیں دینی۔آپ تو یہی کہہ رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو، اسلام کی تعلیم یہ ہے، اس میں ڈرنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے۔اگر کوئی آپ کو حکومت کی طرف سے روکے گا، آرڈر آئے کہ نہیں کرنا تو رُک جاؤ۔ تب رکنا ہے، نہیں تو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی پاکستان تونہیںجہاں مولویوں کے ڈر سے آپ لوگ ختم ہو جائیں۔آپ اپنا کیس فائٹ کریں۔بزدل بننے کی کیا ضرورت ہے؟

ملاقات کے اختتام پر حضورِانور نے تمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھاحمدی طالبات کی تنظیم احمدیہ مسلم ویمن سٹوڈنٹس ایسو سی ایشن(AMWSA)جرمنی کے ایک وفدکی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button