متفرق شعراء

اپنے پیارے اخبار الفضل کے نام

پھول خوشبو چاند تارا باخدا الفضل ہے
ایسا اجلا، ایسا پیارا باخدا الفضل ہے

اے جہاں والو کوئی تو ایسا دکھلا دو ہمیں
جیسے اپنا اک شمارہ باخدا الفضل ہے

ایک ننھا سا تھا پودا قدرت ثانی میں جو
اب گلستاں کا نظارہ باخدا الفضل ہے

ہر نیا دن لے کے آتا ہے نئی دلچسپیاں
علم و عرفاں کا منارا باخدا الفضل ہے

باخدا رہتے ہیں سارے بس اسی کے منتظر
مرد و زن، کیا طفل یارا باخدا الفضل ہے

اس کے آنے سے ہے مہکا میرے دل کا یہ نگر
ہو نہ جس کے بن گزارا باخدا الفضل ہے

تم نہ چھو پاؤ گے اس کو اے ہمارے حاسدو
وہ فلک کا اک ستارا باخدا الفضل ہے

ہم نے زاہدؔ اپنے سجدوں میں خدا سے یہ کہا
ہم پہ احساں یہ تمہارا باخدا الفضل ہے

(سید طاہر احمد زاہد)

مزید پڑھیں: عزت اسے ملتی ہے جسے میرا خدا دے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button