صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۸)(قسط ۱۳۳)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

آرسینیکم سلفیوریٹم فلیوم

Arsenicum sulfuratum flavum

آرسینک سلف فلیوم عموماً برص میں کام آنے والی دوا ہے۔ یہ ہر قسم کی خارش، برص اور جلد پر آتشک کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے دانوں کے لیے بھی بہت مؤثر ہے۔ سینہ کے اندر سے چبھن دار درد کے کوندے باہر کی طرف لپکیں نیز پیشانی میں دائیں طرف کان کے پیچھے چبھن ہو تو آرسینک سلف فلیوم کی یہ نمایاں علامات ہیں۔ اس میں اکثر درد سوئی کی طرح چبھن پیدا کرتا ہےاور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے۔تمام جسم میں چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہوتا ہے۔تشنج اور عضلات کا کپکپانا بھی پایا جاتا ہے۔گرمی کے احساس کے ساتھ نبض تیز اور بے قاعدہ ہوجاتی ہے۔چلنے یا دوڑنے سے درد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دردیں بہت شدید اور ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ (صفحہ۱۰۵)

اس کی علامات صبح اور شام کو بڑھتی ہیں۔مریض کھلی ہوا پسند نہیں کرتا اور اس کی تکلیفوں میں کھلی ہوا میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۱۰۵-۱۰۶)

آرم ٹرائی فلم

Arum triphyllum

(Indian Turnip)

یہ دوا عام طور پر چہرے، سر اور ناک کے بائیں حصہ پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ چھاتی کی تکلیفوں کے دوران پیشاب کم مقدار میں آتا ہے۔ اگر اس دوا کے استعمال سے افاقہ ہو تو پیشاب بہت کھل کر آنے لگتا ہے۔ جلسیمیم میں مریض کا پیشاب عموماً کھلا اور بے رنگ ہو تا ہے۔ آرم ٹرائی فلم میں پیشاب عموماً تھوڑا اور رنگ دار ہو گا۔ جب یہ اثر دکھائے تب پیشاب بہت کھل جاتا ہے اور بے رنگ ہو جاتا ہے۔ (صفحہ۱۰۸)

ایسا فیٹیڈا

Asafoetida (ہینگ)

ایسا فیٹیڈا میں مریض بہت زود حس ہوتا ہے۔رات کو تکلیف بڑھ جاتی ہے۔کھلی ہوا،حرکت اور دباؤ سےکمی محسوس ہوتی ہے۔ (صفحہ۱۰۹)

آرم میٹیلیکم

Aurum metallicum

آرم میٹیلیکم کا سب سے زیادہ تعلق مریض کے ذہنی رجحانات سے ہے۔ اس کی اکثر بیماریاں بھی ذہنی تکالیف کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ ذہن پر پڑنے والے بد اثرات جسمانی بیماریوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔(صفحہ۱۱۱)

آرم میٹ میں بائی کی درد یں بھی پائی جاتی ہیں۔ جوڑوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔ ہڈیوں کے اردگرد پائی جانے والی باریک جھلی میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں اور بعض اوقات بھر بھری ہو جاتی ہیں۔ کرکری ہڈیوں یعنی لچک دار ہڈیوں میں بھی کمزوری واقع ہوجاتی ہے۔ ہڈیوں کے ریشوں میں سختی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ارجنٹم نائٹریکم سے مشابہ ہے۔ ہڈیوں میں چاقو لگنے کی طرح کا درد ہو تا ہے۔ بعض اوقات جو ڑوں کو حرکت دینا مشکل ہو جا تا ہے جیسے کندھے کا جو ڑ ہلتا ہی نہیں۔ اسے عموما Frozen Shoulder کہتے ہیں۔ بسااوقات چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی جو ڑ ہلانا جلانا مشکل ہو تا ہے لیکن اگر بائی کی دردوں کی وجہ سے جوڑ حرکت نہ کرے تو آرم میٹ بہترین دوا ہے۔ (صفحہ۱۱۲)

آرم میٹیلیکم میں خون کی وریدیں موٹی ہونے لگتی ہیں۔ ان میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور خون کی رگوں میں دھڑکن اور تپکن پیدا ہو جاتی ہے۔ خون کے سرخ ذرّات جوڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں جس سے جوڑوں کی تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں۔ دل اور جگر کی خرابی کی وجہ سے جسم کے کچھ حصے اور جسم کی ہر جگہ کی غدودیں پھول جاتی ہیں۔ عورتوں میں ٹانگوں اور ٹخنوں کے گرد سوجن نمایاں ہوتی ہے کیونکہ حمل کے دوران انہیں بہت بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور کمزوری کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔ اس لیے ٹانگوں اورٹخنوں پر سب سے پہلے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں اور بھی کئی دوائیں کام آ سکتی ہیں مگر ان کی معین علامتیں آرم میٹیلیکم سے الگ موجود ہونا ضروری ہے۔ (صفحہ۱۱۲۔۱۱۳)

ہو میو پیتھک طریقہ علاج میں آرم میٹ کا پرانے دبے ہوئے سفلس سے جو تعلق بتایا جاتا ہے اس کی تصدیق میں ایلوپیتھک محققین کے سامنے نئے شواہد آئے ہیں۔ امریکہ میں جب بعض ایڈز کے مریض زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گئے تو ان میں سفلس کی علامتیں بھی ظاہر ہو گئیں جو پہلے قطعاً موجود نہیں تھیں۔ مزید چھان بین پر یہ انکشاف ہوا کہ ایسے مریضوں کے آباء واجداد میں سے بعض کو یقینی طور پر سفلس ہوا تھا جو اس وقت کے علاج سے بظاہر ٹھیک ہو گیا تھا۔ آرم میٹ کی ایک علامت یہ ہے کہ ناک کے اوپر نیلے رنگ کی وریدوں کا جال بن جاتا ہے اور ان میں خون جمنے کا رجحان بھی ہوتا ہے جیسے ویری کوز وریدوں (Vericose Veins) کا مرض ہو۔ آرم میٹ میں ناک کے علاوہ ہونٹ بھی نیلے ہو جاتے ہیں۔ (صفحہ۱۱۵)

آر م میٹ کی اکثر علامتیں ارجنٹم میٹیلیکم سے ملتی ہیں لیکن بعض فرق کرنے والی علامتیں بھی ہیں۔ ارجٹنم میٹ میں جسم کی تکلیفوں کے دورن نرم اور آہستہ حرکت سے آرام آتا ہے جبکہ آرم میٹ میں ایسی حرکت سے تکلیف ہوتی ہےخصوصاً تیز چلنے سے دل پر خون کا دباؤبڑھ جاتا ہےاور دل میں جکڑن اور گھٹن کا احساس ہوتا ہےلیکن ارجنٹم میں اس سے بالکل برعکس کیفیت ہوتی ہے۔(صفحہ۱۱۵)

آرم میور

Aurum muriaticum

آرم میور سونے کے نمک سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔ اس کی اکثر تکلیفیں دل کے گرد گھومتی ہیں اور آرم میٹیلیکم کی طرح اس میں جگر اور دل کی بیماریاں اکٹھا حملہ کرتی ہیں۔ پیشاب میں یوریا بھی آتا ہے۔ یہ دوا غدودوں کی بیماریوں میں بھی اثر انداز ہوتی ہے۔چنانچہ اسے غدودوں کے کینسر میں بھی مفید بتایا گیا ہے۔اگر اس کی علامتیں موجود ہوں تو یہ دوا خطرناک کینسر میں بھی شفا بخش ثابت ہوتی ہے۔ (صفحہ۱۱۷)

آرم میور کی خاص علامت جلن دار دردیں ہیں۔جسم میں جہاں بھی درد ہوگا وہاں جلن پائی جائے گی۔اس کی تکلیفیں ٹھنڈے بھیگے ہوئے موسم میں آرام پاتی ہیں۔جبکہ بھیگا ہوا گرم موسم آرم میور کی تکلیفوں میں اضافہ کردیتا ہے۔آرم میٹیلیکم کی طرح اس میں بھی خود کشی کا رجحان پایا جاتا ہےلیکن مریض اپنی ذات کی تنہائی میں قید ہونے کی بجائے بدمزاج،چڑچڑا اور جھگڑالو ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۱۱۷)

آرم میور کی تکلیفوں میں دھڑکن پائی جاتی ہے۔ اگر آنکھوں میں آ تشک (Syphilis) سے مشابہ علامتیں پائی جائیں یعنی ہڈیاں گلنے اور کھوکھلی ہونے کا رجحان ہو تو اس میں مفید ہے۔(صفحہ۱۱۷)

آرم میور میں موسیقی سننے سے تکلیفوں کو آرام ملتا ہے۔ اس علامت کا تعلق کانوں سے ہے۔ کان کی تکلیفوں کو موسیقی سے آرام آئے تو پھر یہ دوا مفید ہو گی۔(صفحہ۱۱۷)

بپٹیشیا

Baptisia

بپٹیشیا روز مرہ کی تکلیفوں میں کام آنے والی بہت معروف اور مجرب دوا ہے۔اس کا تعلق تعفّنات سے ہے۔ اگر انتڑیوں میں بہت زیادہ تعفن پایا جائے خصوصاً ٹائیفائیڈ کی بیماری میں ایسے اسہال آتے ہوں جن میں انتہائی خطرناک بدبو ہو تو بپٹیشیا سے بہتر اور کوئی دوا نہیں ہے۔ ایسے اسہال کی یہ اوّلین دوا ہے لیکن اس میں کھلے اسہال نہیں ہوتے، معمولی یا درمیانے درجے کے،لئی کی طرح کے اسہال ہوتے ہیں جن میں شدید بدبو ہوتی ہے۔ (صفحہ۱۲۱)

خون میں زہر پھیل جائے اور رحم یا جسم کے کسی دوسرے عضو میں زخم متعفن (Septic) ہوں تو ان میں بھی بپٹیشیا بہت اچھی ہے لیکن سلفر ۲۰۰ اور پائیرو جینم ۲۰۰ ملا کر دی جائے تو یہ سب سے اچھا علاج ہے۔ ہاں بپٹیشیا کی علامتیں ہوں تو ان دونوں دواؤں کی مددگار کے طور پر اسے ۳۰ طاقت میں ساتھ دیا جائے تو سونے پر سہاگے کا کام کرے گی۔ (صفحہ۱۲۱)

بپٹیشیا میں منہ میں زخم ہوتے ہیں جو گینگرین کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ اکثر زخموں میں درد نہیں ہو تا البتہ منہ کا مزہ خراب ہو جا تا ہے۔ بپٹیشیا کے زخم کے اردگرد فالجی علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور اردگرد کے ماحول سے زخم کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ بہت خطرناک علامت ہے۔ جس زخم کے ارد گرد کا حصہ ماؤف ہو جائے تو اسی نسبت سے وہاں ہومیوپیتھک دوا کا پیغام پہنچنے میں دقت ہو سکتی ہے۔ اس لیے مرض کو بروقت پہچان کر دوا دینی چاہیے تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھ جائے۔ (صفحہ۱۲۳-۱۲۴)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(نوٹ: ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۷)(قسط ۱۳۲)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button