اب خلافت عالمِ کُل کے لیے ہے سائباں

دل سے دل ملنے لگے اور فاصلے کم ہو گئے
قرب کی راہیں کھلیں اور دُور سب غم ہوگئے
قریہ قریہ بسنے والے ایک عالم ہو گئے
یہ خلافت کی ہے برکت کیا تھے کیا ہم ہو گئے
اب خلافت ہی جہانِ نو کی اک تقدیر ہے
کذب کے ہر وار پر یہ برہنہ شمشیر ہے
سارے عالم میں حقیقی دین کی تصویر ہے
ہاں خلافت سے ہی دین اور دنیا کی توقیر ہے
مشرق و مغرب میں پھیلی جا رہی ہے یہ صدا
آؤ لوگو کہ یہیں پاؤ گے تم نورِ خدا
پھر زمانِ مصطفیٰؐ کی چل پڑی بادِ صبا
ہے خلافت کی یہ برکت پائی ہے رب کی لقا
فرق مٹتے جا رہے ہیں رنگوں نسلوں کے یہاں
فیض کے دریا سے اپنا کاسہ بھرتا ہے جہاں
جو تھے مُردہ پھر سے زندہ ہوتے جاتے ہیں یہاں
ہاں خلافت سے ملی ہے زندگی اک جاوداں
ایک پرچم کے تلے سب پرچموں کی ہے اماں
ورنہ جاہ و حشمتیں سب ہوتی جائیں گی دھواں
در بدر ٹھوکر زدہ کا ہے خلافت آشیاں
اب خلافت عالمِ کُل کے لیے ہے سائباں
(ابو بلال)
مزید پڑھیں: دنیا میں تجھ سا مَیں نے دیکھا نہیں حسیں




