حضرت مصلح موعودؓ سلطان البیان کی حیثیت میں
گھنٹوں کے خطابات میں نہ ربط ٹوٹتا، نہ مضمون بکھرتا اور نہ تاثیر میں کمی آتی۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی عظیم مقصد کے لیے کسی کو چنتا ہے تو اسے غیر معمولی قوتوں اور تائیدات سے بھی نوازتا ہے
اللہ تعالیٰ کا انسان کو بیان سکھانا
اَلرَّحۡمٰنُ۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ۔ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ۔ عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ۔ (الرحمٰن:۲-۵)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ بیان کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے ذوقِ بیان کو اسی الٰہی عطا کا مظہر کہا جا سکتا ہے، کیونکہ آپؓ کا بیان محض سیکھا ہوا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی فطری قوت تھا۔
یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا(البقرۃ: ۲۷۰)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان میں حکمت نمایاں تھی۔آپؓ کا ہر خطاب سنجیدہ فکری ترتیب، گہرے مفہوم اور عملی راہنمائی پر مشتمل ہوتا، جو اس آیت کی عملی تصویر محسوس ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جب کسی عظیم مقصد کے لیے کسی بندے کو چنتا ہے تو اسے غیر معمولی اوصاف سے بھی نوازتا ہے۔ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جنہیں تاریخ حضرت مصلح موعود کے نام سے یاد کرتی ہے، اُن برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قیادت، علم، فہمِ قرآن اور ذوقِ بیان جیسی اعلیٰ صفات عطا فرمائیں۔آپؓ کا ذوقِ بیان محض خطابت یا الفاظ کی خوب صورتی تک محدود نہ تھا بلکہ وہ اصلاحِ نفس، تعمیرِ جماعت اور بیداریٔ امت کا طاقتور ذریعہ تھا۔
ذوقِ بیان کی فطری بنیاد
حضرت مصلح موعودؓ کا ذوقِ بیان تصنّع یا محنتِ محض کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک فطری اور ودیعت شدہ صلاحیت تھی جو پیشگوئی مصلح موعود کے نتیجے میں بچپن ہی سے آپؓ میں نمایاں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو ایسا ذہن عطا فرمایا جو خیالات کو فوراً منظم کر لیتا اور انہیں نہایت مؤثر انداز میں بیان کر دیتا۔
قرآنِ کریم سے گہرا تعلق
آپؓ کے ذوقِ بیان کی اصل روح قرآنِ کریم تھا۔
حضرت مصلح موعودؓ قرآن کو صرف پڑھتے ہی نہیں تھے بلکہ آپ کے خطابات میں قرآن بولتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
آیاتِ قرآنی کو اس سیاق و سباق کے ساتھ بیان فرماتے کہ سامع پر اُن کا زندہ اثر قائم ہو جاتا اور پیشگوئی کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ جلوہ گر ہوتی محسوس ہوئی اور تفسیر، استدلال اور عملی قوت تینوں پہلو آپؓ کے بیان میں بیک وقت جلوہ گر ہوتےنظر آتے۔
سادگی اور گہرائی کا حسین امتزاج
حضرت مصلح موعودؓ کے ذوقِ بیان کی ایک عظیم خوبی یہ تھی کہ آپؓ انتہائی گہرے مضامین کو بھی ایسی سادہ زبان میں بیان فرماتے کہ ایک عام آدمی بھی سمجھ لیتا۔نہ ثقالت، نہ پیچیدگی بلکہ ایسا بیان جو دل میں اتر جائے اور عقل کو روشن کر دے۔
دلائل کی ہمہ گیری
آپؓ کا بیان محض جذباتی نہیں ہوتا تھا بلکہ قرآن، حدیث، تاریخ، عقل اور مشاہدہ سب کو یکجا کر کے پیش کیا جاتا تھا۔اسی لیے حضرت مصلح موعودؓ کا ذوقِ بیان قائل بھی کرتا تھا اور متاثر بھی۔مخالفین بھی آپؓ کے استدلال کی قوت کے معترف تھے۔
سامعین کی نفسیات پر گرفت
حضرت مصلح موعودؓ کو یہ غیر معمولی ملکہ حاصل تھا کہ وہ سامعین کی ذہنی سطح، علمی معیار اور روحانی حالت کو فوراً بھانپ لیتے۔چنانچہ عوام سے خطاب میں سادگی،علماء کے سامنے گہرائی،نوجوانوں میں جوش اور ولولہ پیدا کرنے والا اسلوب اختیار فرماتے۔
جذبات کا متوازن استعمال
آپؓ کے ذوقِ بیان میں جذبات ضرور ہوتے تھے مگر بے قابو نہیں۔ جہاں اصلاح مطلوب ہو، وہاں درد جہاں تنبیہ ضروری ہو، وہاں جلال اور جہاں تسلی مقصود ہو، وہاں شفقت یہ توازن حضرت مصلح موعودؓ کے بیان کو دلوں پر اثرانداز بناتا تھا۔
فی البدیہہ خطابت
حضرت مصلح موعودؓ کی خطابت کا ایک درخشاں پہلو فی البدیہہ بیان تھا۔اکثر بغیر تحریر کے گھنٹوں خطاب فرماتے،نہ ربط ٹوٹتا، نہ مضمون بکھرتا، نہ اثر کم ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور بلند ذوقِ بیان کی روشن دلیل ہے۔
اصلاح اور عمل کی دعوت
حضرت مصلح موعودؓ کا بیان صرف سننے کے لیے نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ عمل پر آمادہ کرنے والا ہوتا تھا۔آپؓ کے خطبات اور تقاریر سن کرلوگوں کی زندگیاں بدلیں،سوچیں سنوریںاور قربانی، اطاعت اور خدمت کا جذبہ پیدا ہوا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے علمی کارناموں کی بےشمار مثالیں تاریخ احمدیت کا روشن باب ہیں۔ آپؓ نے اپنے باون سالہ دَور خلافت میں ایسے لاتعداد کارنامے سرانجام دیےجنہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔اگر آپ کے علمی کارناموں پرہی نگاہ ڈال لی جائے تو ہر صاحب ِشعور انسان جان سکتا ہے کہ اس قدر عظیم الشان علمی کارنامے جن میں حد درجہ یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے کوئی باعزم،صاحبِ استقامت اور اولوالعزم انسان ہی انجام دے سکتا ہے۔مستقل بیماری، نقاہت اور کمزوری،آنکھوں کی تکلیف،جماعتی کاموں کا بوجھ اوراندرونی وبیرونی دشمنوں سے برسرپیکار ایک شخص ایسے ایسے علمی و دینی مسائل حل کردیتا ہے جو چودہ سوسال سے لا یَنْحَل مسائل میں شمار ہوتے تھے۔ پس آپؓ کی تحریرات، خطبات وخطابات، منظومات،ملفوظات،تفسیر ودروسِ قرآن کریم آپ کی اولوالعزمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک مرتبہ حضور رضی اللہ عنہ کے علمی کارناموں کی مختصر جھلک دکھاتے ہوئے فرمایا:’’ آپ کے جو کام ہیں ان کی ایک جھلک جو ہے میں آپ کو بتا دیتا ہوں …اس وقت انوارالعلوم کی ۲۶ جلدیں شائع ہوچکی ہیں ان چھبیس جلدوں میں کل چھ سو ستّر(۶۷۰)کتب لیکچر ز اور تقاریر آچکی ہیں۔ خطبات محمود کی اس وقت تک کل ۳۹ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن میں ۱۹۵۹ء تک کے خطبات شائع ہوگئے ہیں۔ ان جلدوں میں ۲۳۶۷ خطبات شامل ہیں۔ تفسیر صغیر دس سو اکہتر(۱۰۷۱)صفحات پر مشتمل ہے۔ تفسیر کبیر دس(۱۰)جلدوں پر محیط ہے اس میں قرآن کریم کی ۵۹ سورتوں کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ تفسیر کبیر کی دس جلدوں کے صفحات کی تعداد پانچ ہزار نو سو سات(۵۹۰۷)ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے درس القرآن جو کہ غیرمطبوعہ تفسیر تھے وہ ریسرچ سیل نے کمپوز کرنے کے بعد فضل عمر فاؤنڈیشن کے سپرد کردیئے ہیں۔ اس کے ۳۰۹۴ صفحات ہیں۔ اس کے بعد اب ریسرچ سیل کو میں نے کہا تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ کی تحریرات اور فرمودات سے تفسیر قرآن اکٹھی کی جائے جس پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب تک نو ہزار(۹۰۰۰)صفحات پر مشتمل تفسیر لی جاچکی ہے اور اس پر مزید کام جاری ہے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍فروری ۲۰۲۰ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۳؍مارچ ۲۰۲۰ءصفحہ ۸تا۹)
پھر گذشتہ سال خطبہ جمعہ میں حضور انور نےفرمایا:’’تفسیر کبیر پرانی پہلے دس جلدوں میں تھی اور اب آپؓ کے نوٹس سے اس میں مزید کچھ شامل کیا گیا ہے تو پندرہ جلدوں میں نئی چھپ چکی ہے اور مضامین مزید تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ پھر اور مزید سورتوں کی تفسیر میں بھی بعض نوٹس آپ کے ملے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شاید جب ان کو شائع کیا جائے تو اس کی بھی تیس جلدیں بن جائیں گی کیونکہ تیس ہزار صفحات ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۲۰۲۵ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۴؍مارچ۲۰۲۵ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے صرف دینی معاملات میں ہی دنیا کی راہنمائی نہیں فرمائی بلکہ معاشی، اقتصادی اور سیاسی میدان میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’ آپ کے علمی کارنامے ایسے ہیں جو دنیا کو نیا انداز دینے والے ہیں جس کا دنیا نے اقرار کیا…معاشی، اقتصادی، سیاسی، دینی، روحانی سب پہلوؤں پر آپ نے بھی قلم اٹھایا ہے یا تقریر کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، یا مشوروں سے امتِ محمدیہ یا دنیا کی راہنمائی فرمائی تو کوئی بھی آپ کے تبحر ِعلمی اور فراست اور ذہانت اور روحانیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ آپ مصلح موعود ؓ تھے، دنیا کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا، جس میں روحانی، اخلاقی اور ہر طرح کی اصلاح شامل تھی۔ ‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۱۳؍مارچ ۲۰۲۰ءصفحہ ۹)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ذاتِ بابرکات سے جہاں دنیا ہر قسم کے علوم وفنون سے مستفید ہوئی ہے وہیں آپ نے قرآن کریم میں پنہاں بے شمار علوم کے خزانے نکال کر دنیا کے سامنے پیش فرمائے ہیں۔ قرآن کریم کا معیاری ترجمہ اور اُس کے تفسیری نکات کا بیان انتہائی توجہ طلب اور کٹھن کام ہے۔تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر لکھتے وقت آپ پر ایک ہی دھن سوارتھی کہ کسی طرح یہ اہم کام جلد از جلد مکمل ہوجائے۔ دن رات اسی کام میں مگن رہتے۔ کھانے پینے اور آرام کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرتے۔ ۱۳؍دسمبر ۱۹۴۰ء کے خطبہ جمعہ میں تفسیر کبیر کے کچھ حصوں کے ترجمہ اور تفسیر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل رہتی ہے اور چونکہ قرآن شریف کے ترجمہ اور تفسیر کے کام کا بہت بڑا بوجھ ان دنوں ہے…آج کل اکثر ایام میں رات کے تین چار بلکہ پانچ بجے تک بھی کام کرتا رہتا ہوں۔ اس لیے اس قسم کی جسمانی کمزوری محسوس کرتا ہوں کہ اس قدر بوجھ طبیعت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتی۔ (خطبات محمود جلد ۲۱صفحہ ۴۷۱)
نیز فرمایا: اس کام کی وجہ سے دوماہ سے انتہائی بوجھ مجھ پر اور ایک ماہ سے میرے ساتھ کام کرنے والوں پر پڑا ہے۔ یہ بوجھ عام انسانی طاقت سے بڑھا ہوا ہے اور زیادہ دیر تک برداشت کرنا مشکل ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور تصرف نہ ہو۔ (خطبات محمود جلد ۲۱صفحہ ۴۷۴)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ذوقِ بیان محض ایک فنی مہارت یا اکتسابی صلاحیت نہ تھا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا، پیشگوئی مصلح موعود کی عملی تعبیر اور قرآنی وعدہ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ کا زندہ مظہر تھا۔
آپؓ کا بیان حکمت، بصیرت، تاثیر اور عملی راہنمائی کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے دلوں کو مسخر کیا، اذہان کو روشن کیا اور افراد و جماعت دونوں کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
حضرت مصلح موعودؓ کی خطابت اور تحریر میں قرآنِ کریم محض حوالہ نہیں بلکہ روح کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپؓ کا بیان سن کر یوں محسوس ہوتا تھا گویا قرآن عصرِ حاضر سے ہم کلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کے خطابات وقتی جوش کا باعث بننے کے بجائے دیرپا فکری و عملی انقلاب کا ذریعہ بنے۔ سادگی اور گہرائی، جذبات اور عقل، جلال اور جمال، سب ایک کامل توازن کے ساتھ آپؓ کے بیان میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔
اسی ذوقِ بیان نے آپؓ کو فی البدیہہ خطابت میں بھی وہ مقام عطا کیا کہ گھنٹوں کے خطابات میں نہ ربط ٹوٹتا، نہ مضمون بکھرتا اور نہ تاثیر میں کمی آتی۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی عظیم مقصد کے لیے کسی کو چنتا ہے تو اسے غیرمعمولی قوتوں اور تائیدات سے بھی نوازتا ہے۔
آپؓ کے علمی کارنامے، بالخصوص قرآنِ کریم کی تفاسیر، خطبات، دروس اور بے شمار تحریرات، اس ذوقِ بیان کی عملی اور تحریری صورت ہیں۔ شدید بیماری، جسمانی کمزوری اور جماعتی ذمہ داریوں کے بے پناہ بوجھ کے باوجود اتنا عظیم علمی ذخیرہ پیش کرنا انسانی طاقت سے ماورا معلوم ہوتا ہے، سوائے اس کے کہ اسے الٰہی فضل و نصرت کا نتیجہ تسلیم کیا جائے۔
پس یہ نتیجہ بلا تردد اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بحقِ معنی سلطانُ البیان تھے۔ آپؓ کا ذوقِ بیان اصلاحِ نفس، تعمیرِ جماعت اور ہدایتِ عالم کا طاقتور ذریعہ ثابت ہوا، اور آپؓ کی ذات اس قرآنی صداقت کی روشن مثال ہے کہ جسے اللہ حکمت عطا کرے، اُسے خیرِ کثیر عطا کی جاتی ہے۔
(بشیر الدین قادر ؔمربی سلسلہ ہفت روزہ اخبار بدر قادیان)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: صحیح طریق سے کوشش کرنے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے




