حاصل مطالعہ
قبولیت دعا کی چار شرائط
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ قبولیت دعا کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے…شرطِ اوّل یہ ہے کہ اتّقا ہو … دوسری شرط … دل میں درد ہو…تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصفٰی میسر آوے…چوتھی شرط یہ ہے کہ پوری مدت دعا کی حاصل ہو۔‘‘(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۲۷ تا ۲۲۹، ایڈیشن ۲۰۲۲)
نماز میں سوز پیدا کرنے کی دعا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز میں سوز پیدا کرنے کے لیے ایک دعا سکھلائی ہے۔ اگر توجہ پیدا نہ ہو تو پنج وقت ہر یک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں بعد ہر ایک رکعت کے کھڑے ہو کر یہ دعا کریں: ’’اے خدائے قادر ذوالجلال میں گنہگار ہوں اور اس قدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ و ریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں ہو سکتا۔تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تا کہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میں میسر آوے۔‘‘(فتاویٰ مسیح موعودؑ صفحہ۴۱)
احمدی اطباء کے لیے ایک نسخۂ کیمیا
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’خدا کا فرستاده مسیح موعود علیہ السلام جسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ أُجِيبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ – جس سے وعدہ تھا کہ میں تیری سب دعائیں قبول کروں گا، سوائے ان کے جو شرکاء کے متعلق ہوں۔ وہ ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ کے موقع پر مجھے جس کی عمر صرف ۹ سال کی تھی دعا کے لئے کہتا ہے۔ گھر کے نوکروں اور نوکرانیوں کو کہتا ہے کہ دعائیں کرو۔ پس جب وہ شخص جس کی سب دعائیں قبول کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا تھا، دوسروں سے دعائیں کرانا ضروری سمجھتا ہے اور اس میں اپنی ہتک نہیں سمجھتا تو ایک ڈاکٹر کا دوسرے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا، کس طرح ہتک کا موجب ہو سکتا ہے۔ پس دیانت، ایمان اور دین کے لحاظ سے ایک معالج کا فرض ہے کہ جب حالت خطرناک دیکھے تو مشورہ دے کہ کسی اور کو بلا لیا جائے۔ ‘‘ ( خطبات محمود جلد ۱۴ صفحہ۱۳۱-۱۳۲)
خلافت کے احترام کا ایک حسین انداز
ایک بچی نے سوال کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے بچپن میں کسی بزرگ یا کسی صحابیؓ کے ساتھ کوئی یادگار واقعہ ہو تو حضور بتائیں۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہمارے دادا ( حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ) جب فوت ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، اُس وقت میری عمر گیارہ سال تھی۔ تو دو سال پہلے انہوں نے ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے ملنے جانا تھا۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ تو یہ نہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے چھوٹے بھائی تھے اس لئے گھر کے اندر چلے گئے۔ آپؓ نے ایسا نہیں کیا بلکہ گھر کے باہر کھڑے رہے اور مجھے اندر بھیجا کہ جا کر بتاؤ کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں اوپر گیا اور چھوٹی آپا ( حضرت مریم صدیقہ صاحبہ مرحومہ ) کی وہاں ڈیوٹی تھی۔ میں نے ان کو بتایا کہ وہ ملنے آرہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ لیٹے ہوئے تھے تو حضورؓ کے Bed کے ایک طرف انہوں نے کرسی رکھ دی۔ پھر میں نیچے آیا اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو اوپر لے گیا۔ چنانچہ آپ نے او پر جا کر کرسی ایک طرف کر دی اور نیچے فرش پر بیٹھ گئے۔ اُس زمانے میں کارپٹ تو نہیں ہوتے تھے عام دریاں ہوتی تھیں جو فرش پر بچھی ہوتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے جو باتیں کرنی تھیں کیں۔ میں تو آٹھ، نوسال کا تھا مجھے علم نہیں کہ کیا باتیں ہو ئیں۔ بہر حال اس کے بعد بڑے ادب سے اٹھے اور پیچھے ہوتے ہوئے چلے گئے۔ تو وہ ایک سبق میرے ذہن میں ابھی بھی ہے۔ خلافت کا احترام کس طرح کرنا چاہیے۔ خواہ بھائی ہو لیکن خلافت کا ادب و احترام مقدم ہے۔ اس طرح بعض بزرگوں کی باتیں ہوتی ہیں جو ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ اُس وقت سے، بچپن سے ہی میرے دماغ میں یہ واقعہ یاد ہے اور یہ یاد ہے کہ خلافت کا احترام کرنا ہے۔ (الفضل انٹرنیشنل ۱۵؍نومبر ۲۰۱۳ء تا ۲۱ نومبر ۲۰۱۳ء)
قرب الٰہی کا ایک ذریعہ
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ اگر دلوں کی سختی کو دور کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے تو ذکر اس کی ایک اہم شرط ہے… قرآن کریم کو بھی خداتعالیٰ نے ذکر کہا ہے… اس کو پڑھنا بہت ضروری ہے تاکہ اس کو پڑھنے سے انسان کی، ایک مومن کی نیک فطرت اس نُور سے منور ہو کر مزید روشن ہو… اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم رکھنے کے لئے ایک بہت بڑا حکم نماز کا قیام ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ ۲۵؍دسمبر ۲۰۰۹ء)
شفا یابی کا ایک عظیم الشان معجزہ
حضرت منشی ظفر احمدصاحب کپور تھلویؓ بیان فرماتے ہیں: جب میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الٰہی بخش اکونٹنٹ کی کتاب سے الہامات نکال کر دیے۔ تو اس دوران میں ایک طالب علم محمد حیات کو پلیگ ہوگیا۔ اس کو فوراً باغ میں بھیج کر علیحدہ کر دیا گیا۔ اور حضور نے مولوی نور الدین صاحب کو بھیجا کہ اس کو جاکر دیکھو۔ اس کے چھ گلٹیاں نکلی ہوئی تھیں اور بخار بہت سخت تھا۔ اور پیشاب کے راستہ خون آتا تھا۔ حضرت مولوی صاحب نے ظاہر کیا کہ رات رات میں اس کا مرجانا اغلب ہے۔ اس کے بعد ہم چند احباب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ محمد حیات کی تکلیف اور مولوی صاحب کی رائے کا اظہار کر کے دعا کے لئے عرض کی۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ میں دعا کرتاہوں اور ہم سب روتے تھے۔ میں نے روتے روتے عرض کی کہ حضور دعا کا وقت نہیں رہا۔ سفارش فرمائیں۔ میری طرف مڑ کر دیکھ کر فرمایا۔ بہت اچھا۔ مسجد کی چھت پر میں، منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب سوتے تھے۔ دو بجے رات کے حضرت صاحب اوپر تشریف لائے اور فرمایا کہ حیات خاں کا کیا حال ہے ؟ ہم میں سے کسی نے کہا کہ شاید مرگیا ہو۔ فرمایا کہ جاکر دیکھو۔ اسی وقت ہم تینوں یااور کوئی بھی ساتھ تھا۔ باغ میں گئے۔ توحیات خاں قرآن شریف پڑھتا اور ٹہلتا پھرتا تھا۔ اور اُس نے کہا میرے پاس آجاؤ۔ میرے گلٹی اور بخار نہیں رہا۔ میں اچھا ہوں۔ چنانچہ ہم اس کے پاس گئے توکوئی شکایت اس کو باقی نہ تھی۔ ہم نے عرض کی کہ حضور اس کو تو بالکل آرام ہے۔ غالباً صبح کو آگیا۔ چونکہ اس کے باپ کو بھی تاردیا گیاتھا۔ اور ہم تینوں یہ عظیم الشان معجزہ دیکھ کر اجازت لے کر قادیان سے روانہ ہوگئے۔ نہر پر اس کا باپ ملا جو یکہ دوڑائے آرہا تھا۔ اس نے ہمیں دیکھ کر پوچھا کہ حیات کاکیا حال ہے؟ ہم نے یہ سارا واقعہ سنایا۔ وہ یہ سن کر گر پڑا۔ دیر میں اُسے ہوش آیا۔ اور پھر وہ وضو کر کے نوافل پڑھنے لگ گیااورہم چلے آئے۔‘‘(سیرت المہدی، جلد ۲، حصہ چہارم، روایت نمبر:۱۰۹۷)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا




