متفرق مضامین

ایک نصیحت آموز بات

(مطہرہ فاروقی۔ (کینیڈا ))

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے : وَمَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ( الحج : ۳۳ )
اور جو کوئی شعائراللہ کو عظمت دے گا تو یقیناً یہ بات دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہاں ہر طرف ہمیں ہر کام کے کرنے میں جلدی کی فکر ہوتی ہے۔ اور شارٹ کٹ ڈھونڈنا بہت ہی ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔ خواہ ہماری دنیوی مصروفیات ہوں، عبادات ہوں، یا سوشل میل ملاپ کی بات ہو۔ جدید ٹیکنالوجی کی مصروفیات کے باعث آپس کے رشتوں میں سلام دعا بھی فون پر ہی ہو جائے تو کافی لگتا ہے۔
ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی ایک حدیث حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے مروی ہے۔ آپؓ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ اے لوگو ! سلام کو رواج دو، ضرورت مند کو کھانا کھلاوٴ۔ صلہ رحمی کرو اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ (اگر تم ایسا کرو گے) تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاوٴگے۔(ترمذی،کتاب صفۃ القیامہ والرقائق،۲۴۸۵)
اسی ضمن میں خاکسار آج جس چھوٹی سی نصیحت آموز بات کا ذکر کرنا چاہتی ہے وہ اگرچہ خاکسار کی زندگی کا حصہ پہلے ہی سے تھی۔ لیکن کئی سال پہلے کی یہ ایک نصیحت آج بھی اسی طرح ہر لمحہ دل میں تازہ رہتی ہے اور پھر یہ کہ ہماری بلکہ ہماری آنے والی اگلی نسلوں کی تربیت کے لیے یہ نہایت اہم ہے۔تو وہ چھوٹی سی نصیحت کچھ یوں ہے کہ کئی سال پہلے نیشنل سیکرٹری تربیت لجنہ اماءاللہ کینیڈا کی طرف سے تمام جماعتوں میں لجنہ کو ایک ہدایت دی گئی تھی اور وہ یہ کہ جب ہم فون پر پیغامات لکھتے ہیں تو السلام علیکم لکھنے کی بجائے صرف AOA یا WA لکھ دیتے ہیں۔ جبکہ ہمیں مکمل الفاظ السلام علیکم لکھنے چاہئیں۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات آج ہم تو جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ لیکن کیا ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کی نسلیں بھی اس’اے او اے ‘یا ’ڈبلیو اے‘ کو سمجھ پائیں گی کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کیا یہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا متبادل ہے ؟
یہ یقیناً ہم سب کےلیے لمحہ فکریہ ہے۔ جو رحمت، برکت اور سلامتی کی دعا ہم زبانی یا لکھ کر’ السلام علیکم ‘کے الفاظ کے ذریعہ دوسروں کو دیتے ہیں۔ کیا ’اے او اے‘ لکھنا یا پھر بالکل بھی کچھ نہ لکھنا اور اپنے مطلب کی بات شروع کر دینا، کیا یہ اسلامی شعائر سے دور ہٹنا نہیں؟
آئیے! ہم اپنا جائزہ لیں اور اس پیاری سی دعا کو اپنی زندگیوں میں شامل رکھیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پیارے آقا حضرت محمدﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے خواہ کسی کو کتنی ہی بار سامنے پاتے اور ملتے تو فوراً ہر بار السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے۔ اور یہی نصیحت آپؑ اپنے صحابہؓ کوبھی فرماتے۔ آپؑ کا طریق تھا کہ ہمیشہ خط وکتابت میں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مکمل تحریر فرماتے۔
حضرت حکیم مولانا نورالدین خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں:” آٹھویں صدی ہجری میں ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں ہند میں آیا تو مسلمانوں میں السلام علیکم کا رواج نہیں تھا۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ اب بالکل تباہ ہو جائیں گےکیونکہ ان میں سلامتی کی دعا نہیں رہی۔ ہند میں یہ رواج بہت ہی کم ہے۔ رامپورکی طرف میں نے دیکھا ہے یوں ہوتا ہے کہ ایک کہتا ہے خان صاحب دوسرا کہتا ہے میاں۔ بس سلام ہو گیا۔ گھروں میں تو بالکل ہی سلام علیکم نہیں کہتے۔ حتّٰی کہ میاں بی بی کو اور بی بی میاں کو نہیں کہتی۔حالانکہ سورہ نورمیں صریحاً لکھا ہے۔ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ۔( النور : ۶۲ ) یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اکثر گھر دکھ اور مصیبت کے گھر بن گئے ہیں۔“ ( ارشادات نور جلد دوم صفحہ۱۱۹-۱۲۰)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنے گھروں کو دکھوں اور مصیبتوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں سلامتی اور برکتوں سے بھری اس دعا کو اپنی زندگیوں کا خاص حصہ بناناچاہیے۔
اسی ضمن میں ایک اور حدیثِ مبارکہ پیش خدمت ہے۔ جس سے درجہ بدرجہ بڑھنے والے ثواب کے حصول کا پتاچلتا ہے۔
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں۔ کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ جب وہ بیٹھ گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :اس شخص کو دس گنا ثواب ملا ہے۔ پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃاللہ کہا،حضورﷺ نے سلام کا جواب دیا۔ جب وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :اس کو بیس گنا ثواب ملا ہے۔ پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔ آپؐ نے انہی الفاظ میں اس کو جواب دیا۔ جب وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس شخص کو تیس گنا ثواب ملا ہے۔ (ابو داود،کتاب الادب ابواب السلام،۵۱۹۵)
ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپﷺ کا اسوہ موجود ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم کہلائیں تو مسلمان، لیکن السلام علیکم کہنا یا لکھنا ہم پہ بار ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس چھوٹی سی نصیحت کو جو خاکسار کے دل میں اتر گئی، ہمیشہ یاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

مزید پڑھیں:حقوق اللہ کےساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button