متفرق مضامین

نمازِ تراویح

(امۃ القیوم انجم۔کینیڈا)

اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رحمتوں کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ تراویح کی ادائیگی ہے۔ اس عبادت کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر نماز فجر سے پہلے تک ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے .شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ (البقرۃ:۱۸۶) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا۔یعنی رمضان کا مہینہ وہ ہے کہ اس کا قرآنِ کریم کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔پس رمضان میں نماز تراویح کی ادائیگی کرنی چاہیےجس میں عام طور پر حفاظ قرآن پورے قرآن کریم کا ایک دور مکمل کرتے ہیں اور مقتدی اس قرآن کو سن کر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ پاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الاعراف : ۲۰۵ )
حدیث میں آتا ہے۔مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (صحیح بخاری، کتاب الایمان حدیث ۱۹۰۱) کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی نیت سے ( نماز میں ) کھڑا رہا تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
تراویح ایک نفل عبادت ہے اور اس کے معنی آرام سے یا ٹھہر کر پڑھنے کے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان کی ایک رات آنحضرت ﷺ نے مسجد میں نماز تراویح ادا کی۔ لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسری رات آپ ﷺپھر مسجد میں تشریف لائے تو آپﷺ کے ساتھ صحابہ کی تعداد پہلی رات سے زیادہ ہو گئی۔ تیسرے دن پھر تشریف لائے تو تعداد اور بڑھ گئی مگر چوتھی رات اور بعد میں آپؐ تشریف نہ لائے تاکہ اسے فرض ہی نہ سمجھ لیا جائے۔ اسی سنت رسول کو زندہ رکھنے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باجماعت نمازتراویح کا باقاعدہ نظام جاری فرمایا۔(صحیح بخاری، حدیث ۲۰۱۲)
حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر رمضان میں اُس وقت تک جتنا قرآن نازل ہو چکا ہوتا تھا اُس کی دہرائی آپ ﷺ کے ساتھ کرتے تھے اور آخری رمضان میں دو دفعہ سارے قرآن کی دہرائی کروائی ( صحیح بخاری، باب فضائل القرآن حدیث ۴۹۹۸)پس ایک مومن بھی اللہ تعالیٰ کے ارشادفَاقۡرَءُوۡامَاتَیَسَّرَمِنْہُ (المزمل :۲۱)پس قرآن میں سے جتنا میسرہو پڑھ لیا کرو کے مطابق جس قدر ممکن ہو نماز تراویح میں قرآن کی دہرائی کرتا ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے حضور ﷺ نےصحابہ کرام سے فرمایا۔ اے لوگو ! تم پر ایک عظیم الشان برکتوں والا مہینہ شروع ہونے والا ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کے روزے اللہ نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوںمیں نمازیں پڑھنا بہت زیادہ خیروبرکت ہے…اس مہینہ میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ” خدا تعالیٰ نے دینِ اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰة، صدقات، حج اور اسلامی دشمن کا رداور دفع خواہ وہ سیفی ہو خواہ قلمی ہو… ( ملفوظات جلد دوم صفحہ۴۳۳)
پس ایک مومن خداکی عبادت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور رمضان میں وہ اپنی عبادتوں کو نقطہ معراج تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور ان تمام مجاہدات سے اپنے ربّ کی خوشنودی حاصل کرنےکی کوشش میں رہتا ہے۔ دن کو وہ روزہ رکھ کر اور رات کو خدا کے حضور کھڑے ہو کر اس کی عبادت میں مصروف رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر یہ خاص فضل ہے کہ جہاں وہ سارا سال اللہ تعالیٰ کے فرمان (بنی اسرائیل: آیت ۸۰) اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجّد پڑھا کر پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں رمضان کے بابرکت مہینے میں خاص طور پر نماز تراویح کی ادائیگی کے ذریعے بھی اللہ کے وصال اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی توفیق پاتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ رمضان شریف میں رات کو اُٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے لیکن عموماً محنتی، مزدور، زمیندارلوگ جو ایسے اعمال کے بجا لانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اوّل شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھا دی جائیں تو کیا یہ جائز ہو گا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے جواب میں فرمایاکچھ حرج نہیں، پڑھ لیں ( فقہ المسیح، صفحہ ۲۱۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی اس عبادت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

مزید پڑھیں: نماز تہجد و تراویح (قسط دوم۔ آخری)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button