ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۶)(قسط ۱۴۱)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
کارسینوسن
Carcinosin
(کینسرکے مادہ سے تیار کردہ ایک دوا)
کارسینوسن سینے کے کینسر میں بہت مفید ہے۔ اگر ٹانگوں میں نیلے خون کی رگیں بڑھ جائیں تو ان کو بھی کارسینوسن سے افاقہ ہوتا ہے۔ اگر انتڑیوں میں کینسر کا رجحان ہو تو کارسینوسن کے اثر سے مریض کی انتڑیوں سے خارج ہونے والے مواد پر پلنے والے کئی قسم کے چمونے اور دیگر کیڑے فضلے میں نکلنے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے مریضوں کو جن میں خاندانی طور پر کینسر کی روایات ملتی ہیں جب بھی کارسینوسن دی جاتی ہے اگر ان کے اندر کینسر کا دبا ہوا مادہ ہو گا تو ضرور ان کے گلوں کے غدود پھول جاتے ہیں جو بہت پر درد ہوتے ہیں۔ یہ بہت قطعی علامت ہے جو اگرچہ کتابوں میں نہیں لکھی ہوئی مگر مجھے اپنے تجربہ سے معلوم ہوئی ہے۔ اس امر کا کسی مخصوص ملک علاقے یا آب و ہوا سے تعلق نہیں بلکہ یہ بات دنیا بھر پہ یکساں اطلاق پاتی ہے۔ جن لوگوں میں یہ رد عمل ظاہر ہو ان کو یہ دوا دیتے رہنے سے اس بیماری میں نمایاں فائدہ ہوتا ہے۔(صفحہ۲۵۵)
ڈاکٹر کینٹ نے کارسینوسن کے بارے میں لکھا ہے کہ اس سے کینسر کے درد کی شدت، چبھن اور جلن میں کمی آجاتی ہے۔ مریض کئی سال چین سے زندہ رہتا ہے۔کینٹ کے نزدیک اگرچہ مکمل شفا نہیں ہوتی مگر کینسر پھیلنے کی رفتار بہت کم ہو جاتی ہے اور تکلیف کافی حد تک قابو میں آ جاتی ہے۔ ڈاکٹر کینٹ کی باتیں اکثر درست ہوتی ہیں۔ اس لیے غالباً ان کا یہ تبصرہ بھی درست ہو گا۔ لیکن میں نے کینسر کے بعض مریضوں میں کارسینوسن کو اس طرح کامیابی سے استعمال کیا ہے کہ پھر سالہا سال تک ان میں کینسر کی کوئی علامت لوٹ کر نہیں آئی مگر مریضوں کی اکثریت کے معاملہ میں کینٹ کا بیان ہی درست ہے۔(صفحہ۲۵۵۔۲۵۶)
کارڈس میریانس
Carduus marianus
بائیں جانب لیٹنے سے دائیں طرف درد ہوتا ہے جیسے کوئی نیچے کی طرف گھسیٹ رہا ہو۔یہ علامت اور بھی بعض دواؤں میں ملتی ہے۔(صفحہ۲۵۹)
دائیں کولہے کی ہڈی اور جوڑ میں بھی درد ہوتا ہے جو نیچے ٹانگ تک پھیلتا ہے۔ تشنج بھی ہوتا ہے۔ اگر کولہے کی تکلیفیں حرکت سے بڑھیں تو اس میں کارڈس میر یانس بہت مفید دوا ہے کارڈس میر یانس میں ویریکو زوینز (Vericose Veins) ابھرنے کا رجحان بھی ملتا ہے۔ وہ تمام دوائیں جن میں سیاہ خون بہنے کی علامت پائی جاتی ہے ان میں نیلی رگوں کے جالے بننے کا رجحان بھی ملتا ہے۔ پاؤں متورّم ہو جاتے ہیں۔ پاؤں اور پنڈلیوں میں تشنج ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے چلنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر تیز چلنے سے تشنج ہو تو برا ئیونیا اور آرنیکا ملا کر دینے سے بہت فائدہ ہو تا ہے۔ کارڈس میر یانس کے مریضوں کی تکلیف جب بڑھ جائے تو چند قدم چلنے سے بھی تشنج ہونے لگتا ہے۔ پاؤں میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے کارڈس میر یانس ایسے انفلوئنزا میں بھی مفید ہے جس میں جگر متاثر ہو۔ (صفحہ۲۶۰)
کولو فائیلم
Caulophyllum
کولو فائیلم ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے جوڑوں میں نقرس یعنی Gout کی وجہ سے درد اور سختی پیدا ہونے کا اچھا علاج ہے۔ نقرس نہ بھی ہو تو ہاتھ پاؤں کی انگلیوں اور جوڑوں کے عمومی درد میں اور جگہ بدلتے رہنے والے دردوں میں بہت کار آمد ہے عام طور پر ماؤف حصوں میں تشنج کا رجحان ملتا ہے۔(صفحہ۲۶۱)
کاسٹیکم
Causticum
کاسٹیکم ایک بہت گہرا اثر رکھنے والی دوا ہے جو عام روزمرہ کی بیماریوں میں بھی بہت فائدہ مندثابت ہوتی ہے۔ اسے عموماً فوری علاج کے لیے اور عضلاتی فالج خصوصاً لقوہ کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہےحالانکہ وہ امراض بہت ہیں جن میں کاسٹیکم مفید ہے۔کاسٹیکم کے اکثر امراض آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔ اگر سردی لگنے کی وجہ سے فالج ہوجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ اچانک ہوگیا ہے لیکن دراصل یہ سردی چند دن پہلے لگتی ہےاور رفتہ رفتہ جسم میں بے چینی، کمزوری اور تھکاوٹ کا احساس ہونے لگتا ہےپھر فالج کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔اچانک فالج کا مزاج ایکونائٹ میں پایا جاتا ہے۔کاسٹیکم میں دوتین دن پہلے یا کم از کم چوبیس گھنٹے پہلے سردی لگنے سے اس کے بداثرات آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا کر بیماری کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔(صفحہ۲۶۳)
کاسٹیکم کی بیماریوں میں اعصاب پر ایسا اثر ہوتا ہے جو اعضا کا مستقل حصہ بن جاتاہے۔ گلٹیاں سخت ہونے لگتی ہیں۔ اگر فالج کا بہت لمبا اثر ہو تو اعضا سخت ہو کر اکڑجاتے ہیں۔ اگر دیگر علامات بھی کاسٹیکم کی ہوں تو یہ بہترین علاج ہے۔(صفحہ۲۶۳)
ہسٹیریا بھی آہستہ آہستہ بڑھتا ہےاوراس کے دوروں میں رفتہ رفتہ شدت پیدا ہونے لگتی ہےیہاں تک کہ تشنج شروع ہوجاتا ہے۔کاسٹیکم کی علامات رکھنے والا مریض بہت حساس ہوتا ہے،شور اور ذرا سی لمس بھی برداشت نہیں کرسکتا، سردی اور گرمی دونوں ہی موافق نہیں۔عموماً اکیلے اکیلے عضلات پر تشنج کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔جوڑوں کے درد میں گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے، سوائے انگلیوں کے جوڑوں کے جہاں گرمی کی بجائے سردی سے آرام آتا ہے۔پس اگر مریض کا مزاج کاسٹیکم کا ہو تو اس کو عموماً گرمی سے تکلیف پہنچتی ہےسوائے گلے اور ہاتھوں کے کاسٹیکم بے چینی پیدا کرنے والی دوا ہے۔کاسٹیکم کا مرگی کے آغاز سے بھی تعلق ہے۔سر کی ساخت کی خرابیوں میں اور خطرناک حادثات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مرگی کسی علاج سے ٹھیک نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کاعلاج اگر ممکن ہے تو سرجری سے ممکن ہے۔(صفحہ۲۶۳-۲۶۴)
خواتین کے ماہانہ ایام کے دوران خون آنے سے پہلے اور بعد میں تشنج ہوتا ہےلیکن حیض کے دوران تشنجی علامات نہیں ہوتیں، اگر خون رک جائے تو تشنج ہوگا، چل پڑے تو تشنج ٹھیک ہوجائے گا۔(صفحہ۲۶۶)
سیانوتھس
Ceanothus
اس کی تکلیفیں عموماً بائیں طرف نمایاں ہوتی ہیں۔اس طرف بوجھ اور ابھار محسوس ہوتا ہے۔صرف جگر بڑھنے کے نتیجہ میں پیٹ کے دائیں طرف سختی ملتی ہےمگر تلی بھی خراب ہوجائے تو دونوں طرف محسوس ہوگی۔(صفحہ۲۶۷)
اس کی تکالیف میں حرکت کرنے اور بائیں طرف لیٹنے سے اضافہ ہوتا ہے۔(صفحہ۲۶۸)
کیمومیلا
Chamomilla
کیمومیلا غیر معمولی حساس مریضوں کی دوا ہے اس لیے اس میں اعصابی بے چینی سے جھٹکے بھی لگتے ہیں اور عضلات پھڑکتے ہیں۔ شکنجے پڑنے کا احساس بھی ہو تا ہے اور عضلاتی اور اعصابی نظام درہم برہم ہو جا تا ہے۔ کیمو میلا میں کافیا، نکس وامیکا اور او پیم کی بھی کچھ مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ کافیا اور نکس وامیکا کا مریض بھی کافی زود حس ہو تا ہے۔ اوپیم کا مریض بظاہر بے حس بے پرواہ اور غنودگی کی سی حالت میں رہتا ہے لیکن درحقیقت وہ اندرونی طور پر بہت حساس ہے۔ اوپیم اگر زہر کے طور پر کام کرے تو مریض کا دماغ سخت مشتعل، بے چین اور بے سکون ہو جاتا ہے۔ بڑی مقدار میں دی جائے تو پہلا ردعمل بے ہوشی کی صورت میں اور دو سرا اعصاب میں تناؤ اور خشکی کی صورت میں ظاہر ہو تا ہے اور کیمومیلا کی بعض علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے او پیم مزاج کے بعض مریضوں میں سخت غصہ پایا جاتا ہے۔ الگ تھلگ رہتے ہیں، تنہائی اور خاموشی کو پسند کرتے ہیں، ہر چیز ان کے اعصاب میں جھنجناہٹ پیدا کرتی ہے اور وہ بہت زود حس ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو معمولی سی تکلیفوں اور بخار وغیرہ سے تشنج ہو جائے، اگر مزاج کیمو میلا کا ہو تو فوری فائدہ دیتی ہے۔(صفحہ۲۷۰)
کیمومیلا میں اکثر درد گرمی سے آرام پاتے ہیں ماسوائے دانتوں، چہرے اور جبڑے کے اعصاب کے جنہیں ٹھنڈ سے آرام ملتا ہے۔کیمومیلا کے مریض کے اعصاب ڈھکے چھپے ہوں تو انہیں گرمی سے آرام آئے گا۔اگر اعصاب کے کنارے ننگے ہوں تو وہاں گرمی سے تکلیف ہوگی۔(صفحہ۲۷۱)
کیمومیلا کی تکلیفیں نیٹرم میور کی طرح صبح نو بجے زیادہ ہوجاتی ہیں۔بعض اوقات رات کے نو بجے علامات تیز ہوجاتی ہیں۔مریض کے کانوں میں شور کی آوازیں آتی ہیں،پٹاخے بجتے ہیں اور کان ہوا کے جھونکوں کے لیے بہت حساس ہوجاتے ہیں اور تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ویسے مریض کھلی ہوا کو پسندکرتا ہےلیکن کانوں کو ڈھانپ کر باہر نکلتا ہے۔جو لوگ عام طور پر مفلر باندھ کر باہر نکلتے ہیں وہ یا تو بہت سردی محسوس کرتے ہیں یا ویسے ہی ہوا سے نفرت کرتے ہیں لیکن کیمومیلا کا مریض اس سےمختلف ہےوہ صرف کان کو ہوا سے بچانا چاہتا ہے،چہرہ نہیں ڈھانپتا۔ (صفحہ۲۷۱-۲۷۲)
کیمومیلا میں دوران حمل اور وضع حمل کے وقت تشنج ہوجاتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعدبہت خون بہنے لگے تو اس میں بھی کیمومیلا کو یاد رکھنا چاہیے۔ بعض دفعہ یہ اکیلی ہی اس جریان خون کے لیے مفید ہوتی ہےجس کا بچے کی پیدائش سے تعلق ہو۔بعض عورتوں کو بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے جسم کے کسی حصہ میں تشنج ہوجاتا ہے۔اگر یہ تشنج بالخصوس ٹانگوں یا گردن میں ہو تو کیمومیلا کی ایک دو خوراکوں سے ہی فائدہ ہوگابلکہ یہ دوا بچے کے لیے بھی مفید ہوگی۔ دودھ پیتے بچے کو دوا دینی ہو تو اس کی ماں کو دی جائے۔ جب وہ دودھ پلائیں گی تو بچے کو بھی دوا پہنچ جائے گی لیکن بعض اوقات ایسا نہیں بھی ہو تا اس لیے براہ راست دوا دی جا سکے تو دینی چاہیے۔ اگر بچے کی بیماری کی علامتیں ایسی ہوں جو ماں کے عمومی مزاج کے مطابق ہوں یعنی ماں کو بھی ایسی بیماریاں ہوں تو پھر ماں کو دوا دینا ہی بہت کافی ہے۔ (صفحہ۲۷۲۔۲۷۳)
چیلی ڈونیم
Chelidonium
چیلی ڈونیم پتے کی پتھری میں بھی مفید ہے۔ اس کا درد پیچھے کمر کی طرف پھیل جاتا ہے جبکہ بربرس کے مریض کا درد چاروں طرف پھیلتا ہے۔چیلی ڈونیم کی برائیونیا سے بھی مشابہت ہے۔ اس کی تکلیفیں بھی عموماً دائیں طرف ہوتی ہیں اور حرکت کرنےسے تکلیف بڑھتی ہےلیکن فرق یہ ہے کہ برائیونیا میں جس طرف تکلیف ہو مریض اسی کروٹ لیٹتا ہے۔چیلی ڈونیم میں مریض اس کروٹ لیٹے تو تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔چیلی ڈونیم کے مریض کو گرمی سے سردرد میں اضافہ ہوتا ہے۔گرم ملکوں میں یہ دوا گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والے سردرد میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔(صفحہ۲۷۶)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(نوٹ: ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۵)(قسط ۱۴۰)



