ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے
قبولیتِ دعا کا تجربہ ہراحمدی کی زندگی کا حصہ ہے
۱۹۷۱ء کی ہندو پاک جنگ کے دوران راقم الحروف چھمب جوڑیاں کے محاذ پر دریائے توی کے اس پار رات کے حملہ کے دوران شدید زخمی ہوگیا۔ ۱۵؍گھنٹے کے گھمسان کے رن کے بعد زخمی ہونے کی وجہ سے قیدی بنالیا گیا۔ اودھم پور سے ہوتے ہوئے سی ایم ایچ دہلی کے جلدی امراض کے وارڈ کے کمرہ نمبر ۲ میں اندازاً دوماہ تک رہا۔ قبولیتِ دعا کا یہ قصہ اسی عرصہ کے دوران پیش آیا۔ ہم تین پاکستانی قیدی یہاں الگ الگ کمروں میں رکھے گئے تھے۔

سنگینوں کے سخت کڑے پہرے میں دن رات گزرنے لگے۔ گزارے کا نام نہاد علاج بھی ہوتا رہا۔ ہمارے اس وارڈ کا انچارج ایک بنگالی ہندو ڈاکٹر میجراے جی گپتا تھا۔ اس کے چارج پر ہم تین کے علاوہ اس کی اپنی فوج کے کوئی ۱۰۰ کے قریب زخمی افسرشامل تھے۔ جو ایک بڑا مشکل اور تھکا دینے والا کام تھا۔ ایک دن صبح ۱۰،۹ بجے ڈاکٹر میرے کمرے میں راوٴنڈ پر آیا۔ شکل سے پریشانی اور تھکاوٹ عیاں تھی۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ کرنل صاحب میں نے جوانی آوارگی اور بے کار شغلوں میں گزار دی۔ والدین نے پکڑ پکڑا کر شادی کرادی۔ بھگوان نے پیاری سی بیٹی عطا کی۔ اس بچی کو عرصہ سے کالی کھانسی کی شدید تکلیف ہے۔ سارا دن زخمی افسروں کو دیکھتے ہوئے تھک جاتا ہوں۔ رات کو جب گھر جاتا ہوں تو بیوی بچی کو گود میں لیے بیٹھی ہوتی ہے۔ اس کا کھانس کھانس کر برا حال ہوتا ہے۔ اور بیوی اپنے اعصاب پر ناگوار بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ سخت پریشان ہوں۔ کوئی دوا دارو کام نہیں کرتا۔ حالانکہ میں خود چائلڈ سپیشلسٹ ہوں۔ اب ایک احمدی کو دعا کرنے کا اس سے زیادہ اچھا موقع بھلا کیا ہوسکتا تھا۔ میں نے اسے فلسفہٴ دعا کے متعلق کچھ کچھ بتایا۔ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا تعارف کرایا اور بتایا کہ آج بھی خدا (پرماتما) سنتا اور مدد کرتا ہے۔ وہ یہ ساری باتیں سن کر بڑا حیران ہوا۔ میں نے اسے لکڑی کے سٹول پر بیٹھ جانے کو کہا جو میرے بیڈ کے پاس پڑا ہوا تھا۔ وہ بیٹھ گیا۔ میں نے اس کے بعد اسے کہا کہ اگر وہ خواہش کرے تو میں اس کی بیمار بچی کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کروں؟ اس اضطراری حالت میں ہوتے ہوئے ایک گاؤ ماتا کے پجاری کے لیے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ میں نے کہا کہ اس کی مرضی ہے کہ وہ میرے ساتھ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے یا ویسے چپ سادھے خاموش بیٹھا رہے۔ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے دعا شروع کی اور ذرا اونچی آواز سے پہلے سورہ فاتحہ پڑھی پھر درود شریف کا ورد کیا۔ پھر بارگاہِ ایزدی میں عرض کی کہ بارِ الٰہ میں اس مشرک کو دین کی دہلیز تک تو لے آیا ہوں۔ آگے تیری مرضی ہے کہ اس کو اس طرف آنے کی توفیق عطا فرما دے۔ رحم فرما اور اس کی بیمار بچی کو شفا دے دے۔ آمین۔
دورانِ دعا مجھ پر رقت طاری ہو گئی۔ اور یہ ہندو ڈاکٹر ہاتھ پر ہاتھ رکھے بڑے احترام اور غور سے میری طرف دیکھتا رہا۔ آخر پر آمین کہنے پر کہنے لگا کہ کیا اب بچی ٹھیک ہو جائے گی؟ میں نے کہا دعا کرنا ہمارا کام ہے۔ اس کو قبول کرنا اس ذات باری کا کام ہے۔ خیر بات ختم ہو گئی۔ اگلے روز صبح سویرے میرے کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا۔ وہی ڈاکٹر بڑے جذباتی انداز میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کرنل صاحب تمہاری Prayer (دعا) منظور ہو گئی ہے۔ میں کل رات جب گھر گیا تو کالی کھانسی کی مریضہ بچی ماں کی گود میں آرام سے سو رہی تھی۔ اور میری بیوی بھی ایک عرصہ کے بعد سو رہی تھی۔ میں نے جگا کر وجہ معلوم کی تو کہنے لگی کہ کل صبح ۱۰؍بجے سے بچی کو اچانک آرام آگیا اور اس وقت سے بڑے آرام سے سو رہی ہے۔ پھر اس نے اسے دعا کی کہانی سنائی۔
خیر بات آئی گئی ہو گئی۔ پہلے پہل ہمارے وارڈ میں عام زائرین کا آنا جانا ہوتا تھا۔ پھر حفاظتی نقطہ نظر کے تحت ہر طرح کے ملنے والوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ ایک دن بعد دوپہر میں وہیل چیئر پر برآمدہ میں بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا کہ وہ ڈاکٹر گپتا پھر آن وارد ہوا۔ کہنے لگا کرنل صاحب ! میں دو ماہ کی رخصت پر گھر جا رہا ہوں۔ ڈیوٹی پر موجود افراد کے علاوہ اور کسی کو وارڈ میں آنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ میری بیوی اور بچی باہر مین گیٹ پر کھڑی ہیں۔ میں آپ کی وہیل چیئر کو گھما پھرا کر ایسی پوزیشن میں لانا چاہتا ہوں کہ وہ آپ کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔ میرا دل وفور جذبات سے لبریز ہو گیا اور حمد الہٰی کرتے آنسوؤں کا تانتا بندھ گیا۔ کہ خدا کے مامور نے ہمیں فلسفہ دعا اور اس کی بےپناہ طاقت سے کس شان سے متعارف کروا دیا ہے۔ سب تعریف اس ذات عالی جناب کے لیے ہے۔ وہ ڈاکٹر گپتا کلکتہ کے ایک نواحی گاؤں اِنڈا کا رہنے والا تھا۔ ممکن ہے اس کو یہ واقعہ آج تک یاد ہو۔
( لیفٹیننٹ کرنل ( ر) بشارت احمد مرحوم۔ لاہور۔ کینٹ)




