تازہ ترین: ہماری اصل خوشی تو وہ ہوگی جب ہم تیری توحید اور تیری حکومت کو دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں گے (خلاصہ خطبہ عید الفطر ۲۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء)

٭…یہ عید تو دراصل ایک شکرانے کی عید ہے اور مَیں امید کرتا ہوں کہ احمدیوں کی اکثریت نے اسی رنگ میں رمضان کا بابرکت مہینہ گزارا ہوگا تاکہ وہ تقویٰ اور رشد و ہدایت میں بڑھیں۔
٭…یاد رکھو! روزے رکھنے کی توفیق بھی خدا سے ہی ملتی ہے۔ اگر ہم نے روزے رکھے ہیں تو ہم نے کوئی تکلیف نہیں اٹھائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے جو ہمیں نیکی کا موقع دیا ہے
٭…ہماری اصل خوشی تو وہ ہوگی جب ہم تیری توحید اور تیری حکومت کو دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں گے۔ آج مسلمانوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ پس جب ہم مسلمانوں کی حالت کو بدلتا ہوا دیکھیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور آپؐ کے غلام صادق کے مشن کو پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے اور دجالی قوتوں کو ہارا ہوا دیکھیں گے تو تب ہی ہماری حقیقی عید ہوگی
٭…عید کے موقع پر امّت مسلمہ کے لیے دعاؤں کی خصوصی تحریک
(اسلام آباد، ٹلفورڈ، ۲۰؍مارچ ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) رمضان المبارک کے اختتام کے بعد آج مورخہ یکم شوّال برطانیہ میں عید الفطر منائی جا رہی ہے۔
اس موقع پر جماعت احمدیہ کا مرکزی اجتماع مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ میں منعقد ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں احباب جماعت نے شرکت کی۔
حسب روایت عید کی تیاریوں میں خدام نے بھر پور وقار عمل کیا اور رات کو ہی انتظامات کافی حد تک مکمل ہو چکے تھے۔ اسی طرح آج صبح سے خدام احباب جماعت کی آمد سے قبل ہی اپنی مفوضہ ڈیوٹیاں ادا کرتے دکھائی دیتے رہے۔

نماز عید کی امامت کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ دس بج کر چھتیس منٹ پر مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ سنتِ نبویؐ کی متابعت میں حضور انور ایدہ للہ تعالیٰ نے پہلی رکعت میں سورة الاعلیٰ جبکہ دوسری رکعت میں سورة الغاشیة کی تلاوت فرمائی۔
بعد ازاں دس بج کر اڑتالیس منٹ پر حضور انور منبر پر رونق افروز ہوئے اور خطبہ عید ارشاد فرمایا

خلاصہ خطبہ عید الفطر
تشہد،تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
ہم آج رمضان کے مہینے سے گزر کر عید منارہے ہیں۔ لیکن یہ عید رمضان المبارک سے گزر کر خدا تعالیٰ کے شکرانے کی خوشی کی عید ہونی چاہیے۔ بہت سے لوگوں کو تہجد پڑھنے کی توفیق ملی، بڑی تعداد کو تراویح پڑھنے، قرآن کریم کی تلاوت کرنے، درس سننے، ذکرِ الٰہی کرنے کی توفیق ملی۔ بعض لوگوں کو اعتکاف بیٹھنے کا بھی موقع ملا۔
رمضان ان ہی برکات کے حصول کا نام ہے۔ اگر رمضان میں بھی ان نیکیوں کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوئی تو ایسے لوگوں کے لیے عید محض ایک تہوار ہے، یہ حقیقی عید کا مقصد نہیں۔
یہ عید تو دراصل ایک شکرانے کی عید ہے اور مَیں امید کرتا ہوں کہ احمدیوں کی اکثریت نے اسی رنگ میں رمضان کا بابرکت مہینہ گزارا ہوگا تاکہ وہ تقویٰ اور رشد و ہدایت میں بڑھیں۔
سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی پیغام دیا ہے کہ ہم نے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات کا ذکر ہے، اس کی شکر گزاری کا طریق سکھایا گیا ہے۔ ہدایت مانگنے کے لیے دعا سکھائی گئی ہے۔ انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہونے اور گمراہی اور غضب سے بچنے کے لیے دعا سکھلائی گئی ہے۔

اس دعا سے انسان کا مکمل انحصار خدا تعالیٰ پر ہو جاتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ پہل انسان کی طرف سے ہو۔
پس رمضان کے فیض سے حصہ پانے کے لیے انسان کو مسلسل کوشش کرنی ہوگی۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ کو تقدم اس لیے ہے کہ انسان دعا کے وقت تمام قویٰ سے کام لے کر اللہ کی طرف آتا ہے۔ یہ ایک بےادبی اور گستاخی ہے کہ قویٰ سے کام نہ لے کر اور قانونِ قدرت کے قواعد سے کام نہ لے کر آگئے۔ مثلاً اگر کسان تخم ریزی سے پہلے ہی یہ دعا کرے کہ الٰہی! اس کھیت کو ہرا بھرا کردے اور پھل لگا تو یہ شوخی اور ٹھٹھا ہے۔
فرمایا: یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا وہ اللہ کی آزمائش کرتا ہے اس لیے دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے۔
بعض لوگوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہم نے رمضان میں جو نیکیاں کردی ہیں اب اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ ساری زندگی نہیں تو کم از کم اگلے رمضان تک ہمیں ضرور اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے ہزار طریق اور ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ اس سے مانگنے کے لیے ضرور بے ادبی کا طریق اختیار کیا جائے۔

یاد رکھو! روزے رکھنے کی توفیق بھی خدا سے ہی ملتی ہے۔ اگر ہم نے روزے رکھے ہیں تو ہم نے کوئی تکلیف نہیں اٹھائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے جو ہمیں نیکی کا موقع دیا ہے۔
عید کے حوالے سے ہمیں یہی دعا کرنی چاہیے کہ اے خدا! تُو نے آج ہمیں عید منانے کی توفیق دی ہے ہمارے روزوں کے بعد تُو نے یہ فضل کیا ہے۔ پس اب اس رمضان سے جڑی وہ خوشیاں بھی ہمیں دکھا۔
ہماری اصل خوشی تو وہ ہوگی جب ہم تیری توحید اور تیری حکومت کو دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں گے۔ آج مسلمانوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ پس جب ہم مسلمانوں کی حالت کو بدلتا ہوا دیکھیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور آپؐ کے غلام صادق کے مشن کو پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے اور دجالی قوتوں کو ہارا ہوا دیکھیں گے تو تب ہی ہماری حقیقی عید ہوگی۔
سورہ فاتحہ کی آیات میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اے اللہ! ہم تو کمزور ہیں ہم تیری مدد کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے۔ سورۃ فاتحہ میں کبر اور غرور کو چھوڑنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! اپنے آپ کو مُردوں کی طرح سمجھو اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرو۔
اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ میں نفس امّارہ کی شرانگیزی کی شدت کی طرف اشارہ ہے جو نیکیوں کی طرف راغب ہونے سے دور بھاگتا ہے جیسے ان سدھی اونٹنی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم تجھ سے ہی کی مدد مانگتے ہیں۔ ذوق شوق، حضورِ قلب، بھرپور ایمان کے لیے، روحانی طور پر تیرے احکامات پر لبیک کہنے کے لیے سرور اور نور کے لیے اور معارف کے زیورات اور مسرت کے لباس سے دل کو آراستہ کرنے کے لیے تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔ تاہم تیرے فضل کے ساتھ یقین کے میدانوں میں سبقت لے جانے والے بن جائیں اور اپنے مقصد کو انتہا تک پہنچائیں۔
فرمایا: اے خدا! ہم تیری ذات کے سوا کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے اور تجھے ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں اور تیرے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کر رہے۔ ہم تجھے واحد و یگانہ ماننے والوں میں سے ہیں۔ اس آیت میں خدائے عزّ و جلّ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ دعا تمام بھائیوں کے لیے ہے۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو باہمی مصالحت، اتحاد اور دوستی کی رغبت دی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دعا میں یہ بھی سکھایا ہے کہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر اپنے بھائی کی بھلائی چاہو۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر ایسا ہو تو بہت سے امیر لوگ غریبوں کا خیال رکھنے والے بن جائیں اور عیدیں غریب لوگوں کے لیے بھی خوشی اور مسرت کا باعث بن جائیں۔ جو کس مپرسی کی حالت میں ہیں اگر ان کے لیے بھی ہم اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ کی دعا کریں گے تو بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہم بن جائیں گے۔ یہ بھی ایک عبادت ہے اور اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے۔
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اپنے بھائی کے درمیان کوئی فرق نہ کرے اور پوری طرح اس کا خیر خواہ بن جائے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ تاکیدی حکم دیتا ہے کہ اے میرے بندو! بھائیوں اور محبوں کے ایک دوسرے کو تحائف دینے کی طرح ایک دوسرے کو دعا کا تحفہ دیا کرو۔
حضور انور نے فرمایا کہ یاد رکھیں کہ
حقیقی عید اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے میں ہے اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کل مسلمانوں کی جو حالت ہے اور فتنہ و فساد کی وجہ سے جنگی حالات کی وجہ سے لوگ حکم پورا کرنے کے لیے تو عید کی نماز پڑھ رہے ہیں وگرنہ ظالمانہ حملوں کی وجہ سے ان کے گھر برباد ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ انہیں ظالموں کے ظلم سے بچائے۔ یہ دنیاوی خداؤں کے شکنجوں سے آزادی پانے والے ہوں۔ تمام دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کے لیے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ جب ہم سب کو دعا میں شامل کریں گے تو ہماری دعائیں بھی قبول ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ وہ دن لائے کہ ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہرائے اور خدا کی توحید قائم ہو۔ اللہ کرے کہ یہ صرف زبانی عید نہ ہو بلکہ حقیقی معنوں میں مبارک عید ہو جائے۔
بعض ممالک میں کل عید ہوگی۔ ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ عید مبارک کرے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ خاص طور پر پاکستان میں اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ہر شر سے بچائے۔ آمین
خطبہ ثانیہ کے بعد گیارہ بج کر سینتیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے اجتماعی دعا کروائی- نماز عید کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ان مقامات میں سے بعض پر تشریف لے گئے جہاں اسلام آباد میں نماز عید ادا کی گئی اور اس طرح مرد و خواتین کو اپنے پیارے امام کی زیارت نصیب ہوئی۔

ادارہ الفضل انٹرنیشنل کی جانب سے حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاور تمام احبابِ جماعت احمدیہ عالمگیر کوعید کی مبارکباد پیش ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنے پیارے امام کے ارشادات کی پیروی میں حقیقی عید کرنے کی توفیق پائیں۔ آمین
٭…٭…٭
