متفرق شعراء

خلافت نورِ چشمِ مُرسلیں ہے

خلافت نورِ چشمِ مُرسلیں ہے

اسی کے دم سے روشن یہ زمیں ہے

خدا کا فضل ہے، اُس کا کرم ہے

سراپا برکتوں کی یہ امیں ہے

یہ حبلُ اللہ ہے دنیا کے اندر

جو دل سے دور کرتی بغض و کیں ہے

جماعت کی بقا اس سے جڑی ہے

یہی اک حصنِ محکم اور حسیں ہے

خدا نے خود کیا روشن جسے ہے

یہ نورِ حق کا اب روئے مبیں ہے

جو اس رسی کو مضبوطی سے تھامے

وہی سچا فدائی اور امیں ہے

خلافت اک تجلی ہے خدا کی

یہ دولت سب سے بڑھ کر دلنشیں ہے

ہدایت کا بنی ہے یہ منارہ

مسافر کے لیے خلدِ بریں ہے

دعا ہے دورِ آخر تک رہے یہ

سلامت اس سے ہی دینِ مبیں ہے

الٰہی! اس کو رکھنا تُو سلامت

یہی بشریٰؔ کا ایمان و یقیں ہے

(بشریٰ سعید عاطف۔ مالٹا)

مزید پڑھیں: غصّے کے نقصانات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button