کامن ویلتھ گیمز گلاسگو ۲۰۲۶: ریکارڈ ساز کارکردگیاں، عالمی جوش اور شائقین کی بے مثال دلچسپی (قسط سوم)

(تحریر: ارشد محمود خاں — نمائندہ الفضل انٹرنیشنل، سکاٹ لینڈ)

سکاٹ لینڈ کے تاریخی شہر گلاسگو میں 2026ء کے دولتِ مشترکہ کھیل اپنے نہایت سنسنی خیز اور فیصلہ کن مراحل سے گزر رہے ہیں۔ شائقینِ کھیلوں کا جوش و خروش، عالمی معیار کی مقابلے بازی اور اسٹیڈیمز میں پیدا ہونے والی لہریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ گیمز تاریخ کے کامیاب ترین مقابلوں میں شمار ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے نامور کھلاڑی دن رات اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

حیرت انگیز مقابلے اور نئے عالمی و گیمز ریکارڈز

گذشتہ چند دنوں میں سوئمنگ پول، ٹریک سائیکلنگ اور ویٹ لفٹنگ کے میدانوں میں ایسے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے ہیں جنہوں نے کھیلوں کی تاریخ میں نئے باب رقم کر دیے ہیں:

  • سائیکلنگ کا سنسنی خیز ریکارڈ: سر کرس ہوئے ویلوڈروم (Sir Chris Hoy Velodrome) میں سائیکلنگ کے مقابلے میں انگلینڈ کے نامور سائیکلسٹ چارلی ٹین فیلڈ (Charlie Tanfield) نے 4,000 میٹر انڈیویژول پرسیوٹ میں ایک نیا گیمز ریکارڈ قائم کیا، جہاں محض چند ملی سیکنڈز کے فرق سے سونے کا تمغہ حاصل کیا گیا۔ تماشائیوں کے شور اور نعروں نے ویلوڈروم کی چھت ہلا کر رکھ دی۔
  • سوئمنگ پول میں نیا عالمی ریکارڈ: ٹال کراس انٹرنیشنل سوئمنگ سینٹر میں سوئمنگ کی فائنل ریس کے دوران آسٹریلیا کی مایہ ناز سوئمر مولی او کیلاگھن (Mollie O’Callaghan) نے 100 میٹر فری سٹائل مقابلوں میں 52.08 سیکنڈز کے ساتھ ایک نیا عالمی ریکارڈ (World Record) قائم کیا، جسے پوری دنیا کے میڈیا نے ایک شاندار انسانی کارنامہ قرار دیا۔
  • دیگر عالمی ستارے: ایتھلیٹکس میں جاپان کے آسٹریلین نژاد اسپرنٹر ہیروکی زو (Hiroki Zhou) نے 100 میٹر ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سونے کا تمغہ جیتا، جبکہ کینیڈا کی نامور ایتھلیٹ ایلیسیا براؤن (Alicia Brown) نے 400 میٹر میں شاندار دوڑ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

پاکستان اور بھارت کے فاتحین کا مختصر جائزہ

جنوبی ایشیائی خطے سے آئے ہوئے کھلاڑیوں نے بھی اپنی شاندار اور غیر معمولی کارکردگی سے گلاسگو کا دل جیت لیا ہے۔ ان مقابلوں میں تمغے حاصل کرنے والے اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

پاکستان کی کارکردگی اور تمغہ یافتگان:

  • فاطمہ زہرا (خواتین باکسنگ – سیمی فائنل / تمغہ یقینی): سرگودھا سے تعلق رکھنے والی پاکستانی ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان نے 54 کلوگرام کیٹیگری میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں پاکستان کے لیے خواتین باکسنگ کا پہلا تاریخی تمغہ (کم از کم کانسی کا تمغہ) یقینی بنایا۔
  • نوح دستگیر بٹ (ویٹ لفٹنگ – سونے کا تمغہ): 109 کلوگرام سے زائد کیٹیگری میں زبردست طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کل 405 کلوگرام وزن اٹھا کر پاکستان کے لیے سونے کا تمغہ (Gold Medal) حاصل کیا۔
  • عنایت اللہ (ریسلنگ / کشتی – چاندی کا تمغہ): 65 کلوگرام فری سٹائل کشتی کیٹیگری میں فائنل تک رسائی حاصل کی اور چاندی کا تمغہ (Silver Medal) اپنے نام کیا۔
  • اسد علی (ریسلنگ / کشتی – کانسی کا تمغہ): 57 کلوگرام کیٹیگری میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کانسی کا تمغہ (Bronze Medal) جیتا۔
  • محمد شریف طاہر (ریسلنگ / کشتی – کانسی کا تمغہ): 74 کلوگرام فری سٹائل کیٹیگری میں عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے کانسی کا تمغہ (Bronze Medal) حاصل کیا۔
  • ارشد ندیم (جیولن تھرو / نیزہ بازی): پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم اور بھارت کے نیرج چوپڑا کے درمیان جیولن تھرو کا سخت مقابلہ دیکھا گیا۔ ارشد ندیم شدید جدوجہد کے باوجود معمولی تکنیکی فرق کی وجہ سے تمغہ حاصل نہ کر سکے اور چوتھی پوزیشن پر رہے، تاہم انہوں نے اعلیٰ اخلاقی معیار اور کھیل کی روح کو برقرار رکھا۔

بھارت کے تمغہ یافتگان اور نمایاں نام:

  • نیرج چوپڑا (جیولن تھرو – سونے کا تمغہ): 89.45 میٹر کی شاندار تھرو پھینک کر نیا کامن ویلتھ گیمز ریکارڈ قائم کیا اور سونے کا تمغہ (Gold Medal) حاصل کیا۔
  • میرا بائی چانو (ویٹ لفٹنگ – سونے کا تمغہ): خواتین کی 49 کلوگرام کیٹیگری میں کل 201 کلوگرام وزن اٹھا کر سونے کا تمغہ (Gold Medal) جیتا۔
  • لکشیا سین (بیڈمنٹن – سونے کا تمغہ): مردوں کے سنگلز فائنل میں ملائیشیا کے حریف کو شکست دے کر سونے کا تمغہ (Gold Medal) اپنے نام کیا۔
  • پی وی سندھو (بیڈمنٹن – سونے کا تمغہ): خواتین کے سنگلز بیڈمنٹن میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے سونے کا تمغہ (Gold Medal) حاصل کیا۔
  • بجرنگ پونیا (ریسلنگ / کشتی – چاندی کا تمغہ): 65 کلوگرام فری سٹائل کیٹیگری میں چاندی کا تمغہ (Silver Medal) حاصل کیا۔
  • دیپک پونیا (ریسلنگ / کشتی – چاندی کا تمغہ): 86 کلوگرام زمرے میں زبردست مقابلے کے بعد چاندی کا تمغہ (Silver Medal) جیتا۔
  • امیت پنگھال (مردوں کی باکسنگ – کانسی کا تمغہ): 51 کلوگرام فلائی ویٹ کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ (Bronze Medal) اپنے نام کیا۔
  • نکہت زہین (خواتین باکسنگ – کانسی کا تمغہ): 50 کلوگرام زمرے میں شاندار باکسنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ (Bronze Medal) حاصل کیا۔

مقابلوں کے آخری مراحل میں داخل ہوتے ہی تمغوں کی دوڑ میں زبردست رقابت دیکھی جا رہی ہے۔ ٹاپ 5 ممالک کے علاوہ جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان اور بھارت نے بھی بالخصوص باکسنگ، ویٹ لفٹنگ اور کشتی کے مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے. مزید تفصیل کیلئے وزٹ کریں: https://www.glasgow2026.com/

انسانی وحدت اور اخلاقی اقدار کا پیغام

عالمی سطح پر جاری سیاسی و معاشی کشیدگی کے اس دور میں، ان کھیلوں نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح مختلف رنگوں، نسلوں اور زبانوں کے لوگ ایک چھت تلے امن، احترام اور محبت کے ساتھ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس (ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز) کے ارشادات کی روشنی میں، ایسے عالمی ایونٹس انسان کو اخلاقی ڈسپلن اور محبت و رواداری کا درس دیتے ہیں۔ احمدیہ مسلم جماعت کا عالمی پیغام "محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں” ان کھیلوں کے میدان میں عملی طور پر چمکتا نظر آتا ہے، جہاں ہار اور جیت سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت اور بھائی چارے کو فتح حاصل ہو رہی ہے۔ (جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button